Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ہم پاکستان کے جغرافیہ میں رہتے ہوئے قانون کے تحت اپنے حقوق حاصل کرناچاہتے ہیں، الطاف حسین


ہم پاکستان کے جغرافیہ میں رہتے ہوئے قانون کے تحت اپنے حقوق حاصل کرناچاہتے ہیں، الطاف حسین
 Posted on: 4/30/2018
ہم پاکستان کے جغرافیہ میں رہتے ہوئے قانون کے تحت اپنے حقوق حاصل کرناچاہتے ہیں، الطاف حسین
مہاجروں کابچہ بچہ کٹ مرے گا لیکن علیحدہ صوبہ لے کررہے گا،
مہاجروں نے ہی پاکستان بنایا، مہاجروں کوکچلنے اورختم کرنے کی سوچ ذہنوں سے نکال دی جائے
ہم نے آصف زرداری کی باتوں اوروعدوں پریقین کیالیکن انہوں نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا،
آج مہاجروں کے بارے میں زرداری کی نفرت بھی کھل کرسامنے آگئی ہے۔الطاف حسین
دس سال سے سندھ میں زرداری کی حکومت ہے ، مہاجروں پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بندہیں 
پیپلزپارٹی نے سندھ بھرسے لوگوں کولاکرلیاقت آبادمیں جلسہ کیا ، لیاقت آباد مہاجروں کاقلعہ ہے اوررہے گا
فوج کے جرنیل پہلے خود مارشل لاء لگاتے تھے لیکن آج یہ کام عدالتوں کے ذریعے لے رہے ہیں ۔الطاف حسین
جرنیلوں کاکام سرحدوں کادفاع کرناہے ، سیاست کرنانہیں، اگرانہیں سیاست کرنی ہے تووہ وردی اتارکربے شک سیاست کریں
پاکستان کوبچانے کیلئے ضروری ہے کہ مہاجروں، پشتونوں، بلوچوں، سرائیکیوں اورتمام لسانی اکائیوں کوان کے حقوق دیے
ایم کیوایم امریکہ کے لاس اینجلس چیپٹر کے زیراہتمام منعقدہ اجتماع سے براہ راست خطاب

متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ہم پاکستان کے جغرافیہ میں رہتے ہوئے قانون کے تحت اپنے حقوق حاصل کرناچاہتے ہیں، مہاجروں کابچہ بچہ کٹ مرے گا لیکن علیحدہ صوبہ لے کررہے گا،ابھی توہم کہہ رہے ہیں کہ سندھ میں’’ آدھاتمہارا ۔۔۔آدھاہمارا ‘‘ لیکن اگر علیحدہ صوبہ کی بات پر لڑائی اوردھمکی کاطرزعمل ترک نہ کیاگیاتو آدھے سے نکل کر پورے پربات ہوگی ۔ مہاجروں نے ہی پاکستان بنایا، مہاجروں کوکچلنے اورختم کرنے کی سوچ ذہنوں سے نکال دی جائے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے آصف زرداری کی باتوں اوروعدوں پریقین کیالیکن انہوں نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا، آج مہاجروں کے بارے میں ان کی نفرت بھی کھل کرسامنے آگئی ہے ۔فوج کے جرنیل پہلے خود مارشل لاء لگاتے تھے لیکن آج یہ کام عدالتوں کے ذریعے لے رہے ہیں ۔ جرنیلوں کاکام سرحدوں کادفاع کرناہے ، سیاست کرنانہیں، اگرانہیں سیاست کرنی ہے تووہ وردی اتارکربے شک سیاست کریں۔ جناب الطاف حسین نے ان خیالات کااظہاراتوارکی شب ایم کیوایم امریکہ کے لاس اینجلس چیپٹر کے زیراہتمام منعقدہ اجتماع سے وڈیولنک کے ذریعے براہ راست خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی جن میں نوجوانوں، بزرگوں اورخواتین کے ساتھ ساتھ بچے بھی شامل تھے ۔ جناب الطاف حسین کا وڈیو لنک کے ذریعے یہ خطاب ایک بڑی اسکرین پر حاظرین نے براہ راست ملاحظہ کیا ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے پہلے بھی کہاتھا اورآج بھی میرا یہی کہناہے کہ برصغیرکی تقسیم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی کیونکہ اس سے برصغیرکے مسلمان تین حصو ں میں تقسیم ہوگئے اوران کی طاقت کمزورہوگئی ۔ انہوں نے کہاکہ یہ تقسیم دراصل انگریزوں کی سازش تھی کیونکہ جنگ عظیم دوم کے بعد انگریزوں کااپنی کالونیوں پر قبضہ برقرار رکھناناممکن ہوگیاتھا۔انہوں نے کہاکہ مغربی پنجاب سے تعلق رکھنے والوں نے برصغیرپر قبضہ کے دوران انگریزوں کی سب سے بڑھ کرخدمت کی جس کے صلے میں انہیں جاگیریں اورزمینیں انعام میں ملیں،مغربی پنجاب کے فوجیوں نے ہی پہلی اوردوسری جنگ عظیم میں سلطنت برطانیہ کاہرطرح سے ساتھ دیاتھا ، دوسری جنگ عظیم میں حجاز پر قبضہ کے لئے خانہ کعبہ تک پر گولی چلانے سے گریز نہیں کیا۔ دوسروں کیلئے خدمات انجام دینے کایہ سلسلہ بعدمیں بھی جاری رہا، اردن میں جنرل ضیاء الحق کی سربراہی میں پاکستان کی فوج نے جاکرفلسطینیوں کے خلاف ایکشن کیا۔ اسی طرح جب امریکہ اور سوویت یونین کی سرد جنگ کے دوران سویوت یونین نے افغانستان پرقبضہ کیاتوامریکہ کے کہنے پر اسے کفرواسلام کی جنگ قراردیدیاگیا اورپاکستان کواس جنگ میں جھونک دیاگیا، امریکہ کے مفادات کی خاطر نوجوانوں کو اس جنگ پر بھیجنے کے لئے پورے ملک میں جہادی مدرسے قائم کئے گئے ۔ آج بھی جنرل راحیل شریف نے ریٹائرمنٹ سے قبل ہی سعودی عرب کی سرابرہی میں قائم ہونے والی کئی ملکوں کی فوج کی سربراہی قبول کرلی ، اس اتحادی فوج کی جانب سے یمن، شام اورایران کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں ۔انہوں نے سوال کیاکہ کیاافغانستان،یمن، شام اورایران میں مسلمان نہیں رہتے ؟انہوں نے کہاکہ 70سال سے عوام کوکشمیرکے نام پر استعمال کیا جارہا ہے ، جرات کامظاہرہ کرتے ہوئے کشمیرکوانڈیاکے قبضہ سے آزادکیوں نہیں کرایاجاتا؟
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں نے لاکھوں جانوں کانذرانہ دے کرپاکستان بنایالیکن یہ ستم ظریفی ہے کہ مہاجروں کوآج تک تسلیم نہیں کیاگیا، ان کے ساتھ آج تک غیروں جیسا سلوک کیاجارہاہے، مہاجروں کوزوراورزبردستی کے ساتھ سندھی بننے کی تلقین کی جاتی ہے اورکہاجاتاہے کہ مہاجرکوئی قوم نہیں ہوتی۔ انہو ں نے کہاکہ جب مہاجروں کی مادری زبان سندھی،پنجابی، پشتو، بلوچی، ہندکو، گلگتی یابلتی نہیں ہے تووہ لوگ جن کی مادری زبان اردو ہے وہ خود بخود دیگرزبانیں بولنے والوں سے ایک علیحدہ قوم ہیں خواہ کوئی مانے یانہ مانے ۔ جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب میں تاریخی حوالوں سے قیام پاکستان کے بعد مہاجروں کے ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں میں کی جانے والی ناانصافیوں اورزیادتیوں کی تفصیلات بیان کیں۔انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے آنے والے مہاجروں نے قائداعظم کی اپیل پر سول سروسز میں آکرپاکستان کے ابتدائی ڈھانچے کوتشکیل دیا، ملک کاانفرااسٹرکچرکھڑاکیا، ملک میں اسکول، کالج اورصنعتیں قائم کیں لیکن پاکستان کا ابتدائی ڈھانچہ تشکیل دینے والوں اورملک کواپنے پیروں پر کھڑاکرنے والے مہاجروں کوایک منصوبہ بندی کے تحت سول سروسز سے نکال دیاگیا۔انہوں نے کہاکہ ایک سازش کے تحت پہلے بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کوراستہ سے ہٹایاگیا، پھران کے دست راست خان لیاقت علی خان کوپنڈی میں قتل کردیاگیا۔ جنرل ایوب خان نے قائداعظم کی ہمشیرہ اورتحریک پاکستان کی عظیم رہنمامادرملت محترمہ فاطمہ جناح کوغداراورراکا ایجنٹ قراردیا۔ محترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب خان کی آمریت کوللکارااور1964ء کے صدارتی انتخاب میں ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑاتوانہیں دھاندلی کے ذریعے ہرادیاگیا، فاطمہ جناح کاساتھ دینے کی پاداش میں جنرل ایوب خان کے بیٹے گوہرایوب کی قیادت میں کراچی میں جشن فتح کے نام پر جلوس نکالاگیااورمہاجربستیوں پر حملے کئے گئے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جنرل ایوب خان کے دورمیں سول سروسز سے مہاجروں کوبیک جنبش قلم نکالاگیا، ملک کے دارالخلافہ کوکراچی سے اسلام آباد منتقل کردیاگیا۔ مہاجروں کے ساتھ تعصب کاسلوک کیاجانے لگا۔ انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان سے قبل سندھ کی 70فیصدزمینیں ہندوجاگیرداروں کے پاس تھیں ، 1951میں ہونے والے لیاقت نہروپیکٹ میں یہ طے ہواتھاکہ سندھ سے ہجرت کرکے انڈیاجانے والوں کی زمینیں اورمکانات انڈیا سے اپنی زمینیں، جائیدادیں،حویلیاں اورگھربارچھوڑ کر ہجرت کرکے پاکستان جانے والوں کودی جائیں گی ایک ساز ش کے تحت پہلے لیکن پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کے قتل کے بعدایک سازش کے تحت اس لیاقت نہرو پیکٹ پر عمل نہیں کیاگیا۔ذوالفقارعلی بھٹوجس نے جنرل ایوب خان کے زیرسایہ پرورش پائی اورجرنیلوں کی گودمیں بیٹھ کرجمہوریت کی بات کی ، اس نے 1972ء میں برسراقتدارآکرمہاجروں کے خلاف بڑے پیمانے پر ظلم وستم کاسلسلہ شروع کیا، اس کے دورمیں اردو زبان کوختم کرنے کیلئے سندھ اسمبلی میں قرارداد لائی گئی اورجب مہاجروں نے اس کے خلاف پرامن احتجاج کیاتوبھٹوحکومت نے ان پرگولیاں چلائیں اورکئی پرامن مظاہرین کوشہیدکردیا جن میں سے کچھ شہداء کی قبریں لیاقت آباد10نمبرکی مسجدشہداء میں آج بھی موجودہیں۔بھٹونے دیہی علاقوں کوآگے لانے کے نام پر سندھ میں شہری اوردیہی کوٹہ سسٹم نافذ کیااوراس طرح سندھ کے شہری علاقوں کے عوام پر ملازمتوں اورداخلوں کے دروازے بندکردیے گئے ۔ انہوں نے سوال کیاکہ دیہی علاقے تو پورے ملک میں ہیں پھردیہی اورشہری کوٹہ سسٹم صرف سندھ میں ہی کیوں نافذ کیاگیا؟ بھٹونے اپنے کزن اوراس وقت کے وزیراعلیٰ ممتازبھٹوکے ذریعے اندرون سندھ میں مہاجروں کاقتل عام کرایاگیا، لاڑکانہ اوراندرون سندھ کے دیگرعلاقے مہاجروں سے خالی کرالیے گئے ۔بھٹونے نیشنلائزیشن کے نام پر مہاجروں کی قائم کردہ صنعتیں،بینکس، انشورنس کمپنیاں اور تعلیمی ادارے سرکاری قبضہ میں لے لیں لیکن جب ڈی نیشنلائزیشن ہوئی تومہاجروں کے ادارے انہیں واپس نہیں کئے گئے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ بھٹوکی طرح انکی بیٹی بینظیربھٹونے بھی اپنے دورحکومت میں مہاجروں پر مظالم ڈھائے، انکے پہلے دورحکومت میں حیدرآبادکے پکاقلعہ میں ڈاکوؤں اورپولیس کے ذریعے آپریشن کرایاگیااورمہاجرنوجوانوں اورماؤں بہنوں کوسفاکی سے گولیاں مارکر شہید کیا گیا ، کراچی میں ظلم کئے گئے ۔ بینظیربھٹوکے دوسرے دورحکومت میں کراچی آپریشن کے نام پر ہزاروں مہاجرنوجوانوں کوجعلی پولیس مقابلوں کے نام پر ماورائے عدالت قتل کیاگیاجن میں میرے بڑے بھائی ناصر حسین اوربھتیجے عارف حسین بھی شامل ہیں جنہیں 6دسمبر1995ء کوگھرسے گرفتارکرکے تین روز تک تشددکانشانہ بنانے کے بعد شہیدکردیاگیا۔ بینظیربھٹونے مہاجرنوجوانوں کاقتل عام کرنے والے سفاک پولیس افسروں میں انعامات تقسیم کئے ۔ بالآخر بینظیربھٹوکومکافات عمل کاسامناکرناپڑا اورجس فوج کے ساتھ مل کر بینظیربھٹونے مہاجروں کاقتل عام کیا، اسی فوج نے بینظیربھٹوکاقتل کردیا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ 2008ء میں آصف زرداری کی حکومت آئی توزرداری نے لیاری گینگ وارکے ذریعے مہاجروں کاقتل عام کرایااور مہاجروں پر ملازمتوں کے دروازے بندرکھے جبکہ ہم اس وقت زرداری کے حلیف تھے۔ آج زرداری کہتاہے کہ مہاجروں کے ساتھ کیازیادتی ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ اگر مہاجروں کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی تو زرداری نے نائن زیروجاکرکس بات کی معافی مانگی تھی؟ زرداری ایم کیوایم کے شہیدوں کے قبرستان کس لئے گیا تھا؟انہوں نے کہاکہ زرداری نے بھی اپنے دورمیں مہاجروں پر بہت ظلم کیا، اللہ تعالیٰ ان سے اس ظلم کاحساب لے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے آصف زرداری کی باتوں اوروعدوں پریقین کیا اورانہیں اپنی طرح سیدھااورپرخلوص سمجھا لیکن انہوں نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا، آج مہاجروں کے بارے میں ان کی نفرت بھی کھل کرسامنے آگئی ہے ۔ دس سال سے سندھ میں زرداری کی حکومت ہے ، مہاجروں پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بندہیں،سندھ سیکریٹریٹ میں کوئی مہاجرڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ انہوں نے کہاکہ آج پیپلزپارٹی نے سندھ بھرسے لوگوں کولاکرلیاقت آبادمیں جلسہ کیا اور مہاجروں سے اپنی نفرت کااظہارکیا۔اس جلسہ میں لیاقت آباد کاکوئی نہیں تھا، لیاقت آباد مہاجروں کاقلعہ ہے اوررہے گا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ مہاجر علیحدہ صوبہ کی بات کرتے ہیں توہمیں سندھ سے نکالنے کی بات کی جاتی ہے اور کہاجاتا ہے سندھ کابچہ بچہ کٹ مرے گالیکن سندھ میں علیحدہ صوبہ نہیں بنے گا، جو لوگ ایساکہتے ہیں میں ان سے کہتاہوں کہ مہاجروں کابچہ بچہ کٹ مرے گا لیکن علیحدہ صوبہ لے کررہے گا،ابھی توہم کہہ رہے ہیں کہ سندھ میں’’ آدھاتمہارا ۔۔۔آدھاہمارا ‘‘ لیکن اگر علیحدہ صوبہ کی بات پر لڑائی اوردھمکی کاطرزعمل ترک نہ کیا گیاتو آدھے سے نکل کر پورے پربات ہوگی ۔ مہاجروں نے ہی پاکستان بنایا، مہاجروں کوکچلنے اورختم کرنے کی سوچ ذہنوں سے نکال دی جائے۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہم اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں توہم پر غداری کے الزام لگایاجاتاہے، ہزاروں مہاجروں کوقتل کیاجاچکاہے، آپریشن کے نام پر ہزاروں مہاجرنوجوان جیلوں میں قید ہیں، سینکڑوں لاپتہ ہیں، تمام سیاسی جماعتوں کوکام کرنے کی آزادی ہے لیکن ایم کیوایم کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہے ، نائن زیرو اور سارے دفاترسیل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پشتونوں کوسلام پیش کرتاہوں کہ نقیب اللہ محسودکے ماورائے عدالت قتل پر ان میں بیداری آگئی لیکن بدقسمتی سے مہاجرآج بھی خواب غفلت میں مبتلا ہیں، خوف اورمصلحت کا شکار ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگرمہاجروں نے اب بھی جرات وہمت کامظاہرہ نہ کیااوراپنے جائز حقوق کے لئے جدوجہد نہ کی توغلامی ان کامقدر ہوگی۔ انہوں نے اوورسیز میںآبادمہاجروں سے کہاکہ وہ اپنی قوم پر ہونے والے مظالم پر احتجاج کریں اورارکان پارلیمنٹ اورانسانی حقوق کے اداروں کو مہاجروں پرڈھائے جانے والے مظالم سے آگاہ کریں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کوبچانے اورمضبوط کرنے کیلئے ضروری ہے کہ مہاجروں، پشتونوں، بلوچوں، سرائیکیوں، ہزارے وال ، گلگتیوں، بلتستانیوں اورتمام لسانی اکائیوں کوان کے حقوق دیے جائیں اورسب کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے ۔ انہوں نے شانداراجتماع کے انعقاد پرایم کیوایم امریکہ لاس اینجلس چیپٹرکے تمام ذمہ داروں اور کارکنوں کوخراج تحسین پیش کیا۔ 
*****

9/25/2018 2:13:36 PM