Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان کی سلامتی کافارمولا الطاف حسین کے پاس ہے ، اگر پاکستان کو بچانا ہے تو الطا ف حسین سے بات کرنی ہوگی


پاکستان کی سلامتی کافارمولا الطاف حسین کے پاس ہے ، اگر پاکستان کو بچانا ہے تو الطا ف حسین سے بات کرنی ہوگی
 Posted on: 4/29/2018

میری آج بھی یہی خواہش ہے کہ پاکستان قائم رہے ،قائد تحریک الطاف حسین
پاکستان کی سلامتی کافارمولا الطاف حسین کے پاس ہے ، اگر پاکستان کو بچانا ہے تو الطا ف حسین سے بات کرنی ہوگی
فوج اور آئی ایس آئی کے کرپٹ جرنیل Conspirator Political Engineering میں ملوث ہیں، الطاف حسین
ماضی میں کرپٹ فوجی جرنیل بندوق کی نوک پر منتخب جمہوری حکومتوں کو گراتے رہے ہیں ، الطاف حسین
آج کل جمہوری حکومتوں کو تبدیل کرنے کیلئے سپریم کورٹ اوردیگرعدالتوں کوکھلم کھلااستعمال کیاجارہا ہے، الطاف حسین
اگرنوازشریف مانتے ہیں کہ ملک میں حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے تو انہیں اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر لاکر احتجاج کرنا چاہیے
سندھ میں فوج ، رینجرزاورریاستی اداروں کے افسران ایم کیوایم کے منتخب نمائندوں اورذمہ داروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ کمالو گروپ میں شمولیت اختیارکرلو ورنہ غائب کردیئے جاؤ گے
مہاجروں اورفاٹا کے قبائلی عوام میں یہ قدر مشترک ہے کہ انہیں اسلام کے نام پر بے وقوف بنایاگیا، الطاف حسین
آصف زرداری جرنیلوں کو خوش کرنے کیلئے بیان دے رہے ہیں کہ سندھ میں شہری آبادی کیلئے علیحدہ صوبہ نہیں بن سکتا
اگر سندھ میں شہری آبادی کیلئے علیحدہ صوبہ نہیں بناتو پھر علیحدہ وطن بنے گا ،مہاجروں کے بارے میں دھمکی آمیز زبان بند کی جائے
چیف جسٹس ثاقب نثار کو مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں کی جبری گمشدگیاں دکھائی نہیں دیتیں، عوام یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ’’ یہ جو
عدالت گردی ہے ، اسکے پیچھے وردی ہے‘‘ ، الطاف حسین
مردم شماری میں کراچی کی آبادی ڈیڑھ کروڑ کم ظاہرکی گئی، من پسند حلقہ بندیاں کرکے شہری علاقوں کی نمائندگی پر ڈاکہ ڈالاگیا ہے
ہم حالیہ مردم شماری کے نتائج اور حلقہ بندیوں کومکمل طورپر مسترد کرتے ہیں، الطاف حسین
کارکنان ایم کیوایم اورالطاف حسین سے علیحدگی اختیار کرنے والوں سے رابطہ نہ رکھیں ،بالٹی مور میں یوم تاسیس کے اجتماع سے خطاب

لندن۔۔۔29 ، اپریل2018ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ میری آج بھی یہی خواہش ہے کہ پاکستان قائم رہے ،پاکستان کی سلامتی کافارمولا الطاف حسین کے پاس ہے ، اگر پاکستان کو بچانا ہے تو الطا ف حسین سے بات کرنی ہوگی۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ اوراتوار کی درمیانی شب ایم کیوایم امریکہ بالٹی مور چیپٹرکے تحت ایم کیوایم کے 34ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے وڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ براہ راست خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع میں ایم کیوایم کے ذمہ داروں ،کارکنوں ، ہمدردوں ، ان کے اہل خانہ کے علاوہ پشتون، بلوچ اور پنجابی قومیتوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں 70 برسوں میں کبھی سچی جمہوریت قائم نہیں رہی ،قیام پاکستان کے بعد ایک سازش کے 
تحت قائداعظم محمد علی جناح ؒ کو قتل کردیاگیا پھر بانی پاکستان کے دست راست خان لیاقت علی خان کو پنجاب کے شہرراولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ کے دوران گولیاں مارکرشہید کردیاگیا جنہوں نے پاکستان کی خاطر اپنی نوابی چھوڑی اور اس کے بعد قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو’’را‘‘ کا ایجنٹ قرار دیا گیااوروہ لوگ پاکستان کے مالک ومختار بن گئے جن کا قیام پاکستان کی جدوجہد میں ایک دھیلے کا بھی کردار نہیں تھا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ برصغیرمیں سلطنت برطانیہ کے انگریزافسروں کے کتے نہلانے اور انگریز فوج کے جوتے پالش کرنے والے فوجیوں کی اکثریت کا تعلق مغربی پنجاب سے تھا جنہوں نے آزادی کی تحریک کے حریت پسندوں کی مخبریاں کی تھیں آج وہی پاکستان کے اصل حکمراں ہیں ۔ جن کرپٹ فوجی جرنیلوں نے خانہ کعبہ پر گولیاں چلائیں ان کی اولادیں آج پاکستان کے آئین اورقانون کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کررہی ہیں۔یہ کرپٹ فوجی جرنیل بندوق کی نوک پرپاکستان کی منتخب جمہوری حکومتوں کو گراتے رہے ہیں ، ہم وطن اورہم مذہب بنگالیوں ، مہاجروں، بلوچوں، سندھیوں ،پختونوں اورقبائلیوں کا قتل عام کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ فاٹا کے قبائلی عوام نے 70 برسوں تک آنکھ بند کرکے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا، کشمیر، سیاچن، کارگل کی جنگیں لڑیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں اورفاٹا کے قبائلی عوام میں یہ قدر مشترک ہے کہ انہیں اسلام کے نام پر بے وقوف بنایاگیا۔ روس اورامریکہ کی سرد جنگ کے دوران فاٹا کے قبائلی عوام کو اسلام کے نام پر بے وقوف بناکرروس کے خلاف افغانستان کی جنگ میں استعمال کیاگیاجب کہ برصغیر میں مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کو اسلام کے نام پر بھارت کے خلاف استعمال کیاگیا جہاں وہ صدیوں سے تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ امن وسکون سے زندگی گزاررہے تھے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جمہوریت کامطلب عوام کی حکومت ، عوام کیلئے اور عوام سے ہے لیکن پاکستان میں کبھی سچی جمہوریت نہیں رہی، کرپٹ پنجابی جرنیلوں نے مظلوم عوام کاقتل عام کرکے جمہوریت کو نقصان پہنچایا اور کبھی کسی منتخب حکومت کو اپنی جمہوری مدت پوری نہیں کرنے دی ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں جمہوریت کے بجائے Stratocracy قائم ہے یعنی آرمی چیف اور دیگرکرپٹ جرنیلوں کی حکومت ہے، فوج اور آئی ایس آئی کے کرپٹ جرنیل Conspirato Political Engineering میں ملوث ہیں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ کرپٹ فوجی جرنیل ماضی کی طرح آج بھی امریکہ اور مغربی ممالک کے اشارے پر ناچتے ہیں جبکہ فوج کے نان کمیشنڈ افسران اور جوان سردوگرم موسم اوراپنے بیوی بچوں سے دوری کاکر ب برداشت کرکے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان ایماندار فوجی افسران ،جوانوں اوران کے اہل خانہ کاآج تک براحال ہے جبکہ کرپٹ فوجی جرنیل اور ان کے خاندان عیاشی کی زندگی گزارتے ہیں ، انہی کرپٹ فوجی جرنیلوں نے 1971ء میں پاکستان دولخت کردیا، 93 ہزار فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور پوری فوج بدنام ہوئی لیکن ان کرپٹ فوجی جرنیلوں کو زرہ برابر بھی شرم نہیں آئی اور نہ انکی مراعات ختم ہوئیں۔ ان کرپٹ جرنیلوں کوآج بھی اس بات کا کھلا لائسنس حاصل ہے کہ جب چاہیں نقیب اللہ محسود کوماورائے عدالت قتل کردیں، بے گناہ قبائلیوں، بلوچوں ، سندھیوں اورمہاجروں کو قتل کردیں ، حتیٰ کہ73 سالہ بزرگ استاد پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف جنہوں نے ساری زندگی لاکھوں طلبا وطالبات کو زیورعلم سے آراستہ کیا، انہیں ماورائے عدالت قتل کردیا۔ اللہ ان ظالموں پر اپنا عذاب نازل فرمائے ۔آمین
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب کرپٹ فوجی جرنیلوں کو امریکہ اور ویسٹ کی سپورٹ حاصل تھی تو یہ خود وردی میں آکرجمہوری حکومتوں کابوریا بستر گول کردیا کرتے تھے لیکن آج کل جمہوری حکومتوں کو تبدیل کرنے کیلئے سپریم کورٹ اوردیگرعدالتوں کوکھلم کھلااستعمال کیاجارہا ہے کیونکہ اگر انہوں نے مارشل لاء نافذ کیاتو پھر ان کرپٹ فوجی جرنیلوں کے عیش ختم ہوجائیں گے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ سچی باتیں کہنے کی نہ تومیاں نوازشریف میں ہمت ہے اور نہ ہی آصف علی زرداری میں ہے۔ آصف علی زرداری اپنے والدحاکم علی زرداری کی طرح فوج کا ایجنٹ بناہوا ہے اورکرپٹ فوجی جرنیلوں کو خوش کرنے کیلئے یہ بیان دے رہے ہیں کہ پنجاب میں سرائیکی صوبہ بن سکتا ہے لیکن سندھ میں شہری آبادی کیلئے علیحدہ صوبہ نہیں بن سکتا۔ جناب الطاف حسین نے واشگاف الفاظ میں کہاکہ اگر سندھ میں شہری آبادی کیلئے علیحدہ صوبہ نہیں بنااورانہیں دیوار سے لگایاگیاتو پھر علیحدہ وطن بنے گا ،مہاجروں کے بارے میں دھمکی آمیز زبان بند کی جائے اور جولوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ صوبہ سندھ مہاجروں کا قبرستانبنے گا تو انہیں یادرکھنا چاہیے کہ یہ صوبہ ان کابھی قبرستان بن سکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی دی جارہی تھی تو ان کے ٹیلنٹڈ کزن ممتاز بھٹو شادی رچارہے تھے اورآج وہ مہاجروں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں ، انہیں یادرکھنا چاہیے کہ جب وقت آیا توعوام انکی گزبھرلمبی زبان کھینچ لیں گے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ شعور پھیلا اور قبائلی عوام اس سازش کو سمجھ گئے کہ انہیں مذہب کے نام پر استعمال کیا جاتارہا ہے اوروہ اپنے حقوق کیلئے متحد ہورہے ہیں ، پشتون اپ رائزنگ ہورہی ہے ۔ پشتون عوام جب جاگے تو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے ہرملک میں اپنے حقوق کے حصول اور ظلم کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں مگرمہاجرقوم آج بھی خواب غفلت کاشکارہے ، مہاجروں کے حقوق کیلئے صرف غریب مہاجر کارکنان کام کررہے ہیں اورصاحب ثروت مہاجر یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان پر مصیبت نہیں آئے گی ۔ایسے مہاجروں کو یادرکھنا چاہیے کہ جب امریکہ اور دیگر ممالک میں ان کا رہنا مشکل بنادیاجائے گاتو وہ کہاں جائیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمیں یقین ہے کہ بٹوارا ہوگا کیونکہ حضرت علی ؑ کا قول ہے کہ کفرکی حکومت قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم اورناانصافی کی حکومت کبھی قائم نہیں رہ سکتی اور مولا علی ؑ کا کوئی قول ایسا نہیں ہے جو غلط ثابت ہوا ہو۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میاں نوازشریف آج کہتے ہیں کہ ملک میں حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے تو انہیں اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر لاکر احتجاج کرنا چاہیے ، اگروہ سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی حمایت میں دھرنا دے سکتے ہیں تو کیا چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف دھرنا نہیں دے سکتے؟پنجاب کے عوام کوبھی قربانی دینی چاہیے یہ کوئی بات نہ ہوئی کہ قربانی چھوٹے صوبے کے عوام دیں اور پھل یہ خود کھائیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سیاسی انجینئرنگ کے تحت بلوچستان کی حکومت ختم کردی گئی اگر میاں نوازشریف اسی دن ہڑتال یا دھرنا کی کال دے دیتے توانہیں بھی خادم حسین رضوی کے دھرنے کی طرح فوجی افسران کی جانب سے انعامی رقم کے لفافے مل جاتے ۔ انہوں نے کہاکہ آج فوج کے کرپٹ افسروں کی جانب سے سیاسی رہنماؤں اورمنتخب نمائندوں کو ، فون کرکے دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ پی ٹی آئی میں شامل ہوجاؤ ، دوسری جانب سندھ میں فوج ، رینجرزاورریاستی اداروں کے بریگیڈئیراورکرنل رینک کے افسران ایم کیوایم کے منتخب نمائندوں اورذمہ داروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ کمالو گروپ میں شمولیت اختیارکرلو ورنہ غائب کردیئے جاؤ گے ، دھونس اوردھمکیوں سے لوگوں کو پی ٹی آئی اورکمالوگروپ میں شامل کرایاجارہا ہے لیکن اس کھلی دھاندلی کاکوئی نوٹس نہیں لیاجارہا۔ ملک میں جوڈیشل ایکٹیوازم ہے ، چیف جسٹ آف سپریم کورٹ ، اسپتالوں کے دورے کررہے ہیں،ہرمعاملہ پر ازخود نوٹس لے رہے ہیں لیکن انہیں مہاجروں ، بلوچوں، پشتونوں کی جبری گمشدگیاں دکھائی نہیں دیتیں، لاپتہ افراد کے اہل خانہ، معصوم بچوں اور سہاگنوں کا کرب نظر نہیں آتایہی وجہ ہے کہ عوام یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ’’ یہ جو عدالت گردی ہے ، اسکے پیچھے وردی ہے‘‘ ۔انہوں نے کہاکہ میں کل بھی مظلوموں کیلئے آواز اٹھاتاتھا اورآج بھی اٹھارہا ہوں، ہم پاکستان کے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے جائز حقوق کی جدوجہد کررہے ہیں۔ ملک بھرکے مظلوم عوام کسی سے محاذ آرائی نہیں چاہتے لیکن اگر کسی نے جارحیت کی تو ہمیں اسلامی شریعت، اقوام متحدہ کاچارٹر اورپاکستان کاآئین بھی دفاع کا حق دیتا ہے۔جناب الطاف حسین نے فوج کے ایماندارافسران ، سول وملٹری بیوروکریسی،تمام سیاسی جماعتوں اورعدلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سلامتی کافارمولا صرف اورصرف ایم کیوایم اور الطاف حسین کے پاس ہے ، میری آج بھی یہی خواہش ہے کہ پاکستان قائم رہے اورترقی کرے ،اگر پاکستان کو بچانا ہے تو الطا ف حسین سے بات کرنی ہوگی اور الطاف حسین جو کہتا ہے وہ کرتا ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے پشتون اپ رائزنگ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ اس تحریک میں دراڑیں ڈالنے کیلئے جعلی تنظیمیں بنائی جارہی ہیں اوران کے ذریعہ جلسہ جلوس اورمظاہرے کرائے جارہے ہیں لیکن اب مظلوم پشتون، بلوچ، مہاجر، ہزارے وال، سرائیکی ،پنجابی اوردیگرمظلوم عوام کسی کی چکنی چپڑی باتوں میں ہرگز نہیں آئیں گے اور اپنے جائز حقوق کے لئے اب مظلوم عوام متحد ہوکر جدوجہد کریں گے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایک سازش کے تحت میڈیا پرقدغن لگائی جارہی ہے ، اظہاررائے کی آزادی سلب کی جارہی ہے ، میری تحریر وتقریر پرپابندی عائد ہے ، رابطہ کمیٹی کے جینوئین اراکین کے بیانات پر پابندی عائد ہے اسی طرح منظورپشتین، پختون رہنماؤں اور بلوچ رہنماؤں کے بیانات پر بھی پابندی عائدہے جبکہ کرپٹ فوجی جرنیل اپنی طرح کے عیار عمران خان اورکمالو کو میڈیا پر کوریج دلاکرآگے لارہے ہیں اورخوب نواز رہے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ حالیہ مردم شماری میں سندھ کے شہری آبادی ڈیڑھ کروڑ کم ظاہرکی گئی ہے جبکہ دھاندلی کے ذریعہ من پسند حلقہ بندیاں کرکے شہری علاقوں کی نمائندگی پر ڈاکہ ڈالاگیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم ، الطاف حسین اوراس کے کروڑوں چاہنے والے حالیہ مردم شماری کے نتائج اور حلقہ بندیوں کومکمل طورپر مسترد کرتے ہیں ۔
جناب الطاف حسین نے پاکستان سمیت دنیا بھرمیں ایم کیوایم کے ذمہ داران اورکارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جو افراد امریکہ ، برطانیہ یا پاکستان میں ایم کیوایم اورالطاف حسین سے علیحدگی اوربنیادی رکنیت سے مستعفی ہونے کااعلان کرچکے ہیں یا کسی اور جماعت میں شامل ہوچکے ہیں وہ اب ایم کیوایم کے کارکن نہیں رہے ، ان لوگوں کا اب ایم کیوایم سے کوئی تعلق نہیں ہے لہٰذا ایسے افراد سے رابطہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر کسی ذمہ داریا کارکن ایسے لوگوں سے رابطہ کا ثبوت ملا تو ہم انہیں بھی تحریک کی بنیادی رکنیت سے خارج کردیں گے کیونکہ الطاف حسین کو تعداد نہیں بلکہ کوالٹی چاہیے۔ 
جناب الطاف حسین نے یوم تاسیس کے شاندار انتظامات پر ایم کیوایم بالٹی مور چیپٹر کے ذمہ داران اورکارکنان کو زبردست خراج تحسین بھی پیش کیا۔
*****


11/12/2018 4:09:09 PM