Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان میں جمہوری نظام نہیں بلکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری قائم ہے۔الطا ف حسین


پاکستان میں جمہوری نظام نہیں بلکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری قائم ہے۔الطا ف حسین
 Posted on: 4/15/2018

پاکستان میں جمہوری نظام نہیں بلکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری قائم ہے۔الطا ف حسین
ملک میں جبر کاراج ہے ،حقوق مانگنے والوں کوغدارقراردیاجارہاہے ۔الطاف حسین
حقوق مانگنے والے غدار نہیں ہیں بلکہ حقوق غصب کرنے والے غدارہیں ۔الطاف حسین
پاکستان میں مہاجروں کی دادفریاد سننے والا کوئی نہیں ، مہاجروں کے بنیادی حقوق کی بدترین پامالی کی جارہی ہے
ظلم اپنی انتہا کوپہنچ چکاہے، لہٰذا اقوام متحدہ اورجمہوری دنیا کو مظلوم مہاجروں کی مددکرنی چاہیے ۔الطاف حسین
ہم پرامن جدوجہد کے ذریعے ظلم سے آزادی او راپنے حقوق چاہتے ہیں ۔الطاف حسین
ایم کیوایم ساؤتھ افریقہ کے زیراہتمام جوہانسبرگ میں منعقدہ ایک بڑے اجتماع سے خطاب
اجتماع میں ساؤافریقہ کمیونسٹ پارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری سولی ماپیلا ، انسانی حقوق کی انجمنوں کے نمائندوں ،
صحافیوں اورعمائدین کی بھی شرکت 

لندن۔۔۔15، اپریل2018ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین
الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان میں 70 برسوں سے جمہوریت قائم نہیں ہوسکی ، پاکستان میں ہمیشہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی حکمرانی رہی ہے اورآج بھی پاکستان میں جمہوری نظام نہیں بلکہ دراصل Stratocracy رائج ہے یعنی دراصل ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی ہی اجارہ داری ہے ،پورے ملک میں ایک جبر کاراج قائم ہے ، مہاجر،پشتون اوربلوچ اوردیگرمظلوم عوام اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں توانہیں غدارقراردیاجارہاہے ، حقوق مانگنے والے غدار نہیں ہیں بلکہ حقوق غصب کرنے والے غدارہیں۔ہم پرامن جدوجہد کے ذریعے ظلم سے آزادی او راپنے حقوق چاہتے ہیں۔ جناب الطا ف حسین نے ان خیالات کااظہارہفتہ کوایم کیوایم کے 34ویں یوم تاسیس کے سلسلے میں ایم کیوایم ساؤتھ افریقہ کے زیراہتمام جوہانسبرگ میں منعقدہ ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ اجتماع 
جوہانسبرگ میں واقع لال قلعہ ہال میں منعقد کیاگیاتھاجس میں سینکڑوں افرادنے شرکت کی جن میں ایم کیوایم کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ ہمدرد نوجوانوں، بزرگوں، خواتین اوربچوں کی بڑی تعداد شامل تھی ۔ اجتماع میں ساؤافریقہ کمیونسٹ پارٹی کے فرسٹ ڈپٹی جنرل سیکریٹری سولی ماپیلا ( Solly Mapaila) ، مقامی انسانی حقوق کی انجمنوں کے نمائندوں ، وکلاء ، صحافیوں اوردیگرعمائدین نے بھی شرکت کی ۔ اجتماع سے سولی ماپیلا، ایم کیوایم کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن محمدسلیم ، انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے عادل غفارایڈوکیٹ،ایم کیوایم ساؤتھ افریقہ کے آرگنائزر راشدمینائی نے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے اجتماع کے شرکاء کو ایم کیوایم کے 34 ویں یوم تاسیس کی دلی مبارکباد پیش کی اور معززمہمانوں سمیت اجتماع کے تمام شرکاء کو خوش آمدیدکہا۔ انہوں نے کہاکہ یہ عجیب اتفاق ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں تالا لگادیا لیکن قدرت نے ساؤتھ افریقہ کے شہرجوہانسبرگ میں مہاجروں کیلئے لال قلعہ ہال کھول دیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز ساؤتھ افریقہ کے ساتھیوں نے جوہانسبرگ میں شاندار کارریلی کا انعقاد کیاجس پر ایک ایک ساتھیوں کو میں اپنا سلام تحسین پیش کرتا ہوں۔ یہ ریلی دیکھنے والے کہہ رہے ہیں کہ ساؤتھ افریقہ کے ساتھیوں نے جوہانسبرگ کو کراچی اورحیدرآباد بنادیا ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے ساؤتھ افریقہ کمیونسٹ پارٹی کے فرسٹ ڈپٹی جنرل سیکریٹری Mr. Solly Mapaila کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں گزشتہ 27 برسوں سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہوں ، میں نے تمام ترریاستی مظالم کا سامناکیا، میرے بڑے بھائی ناصرحسین اوربھتیجے عارف حسین جن کا ایم کیوایم یا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا انہیں گرفتارکرکے تین روز تک وحشیانہ تشددکا نشانہ بنانے کے بعد سفاکی سے قتل کردیاگیا ، اسی طرح میرے 22 ہزار ساتھیوں کو بھی ماورائے عدالت قتل کیاگیا لیکن میں نے باطل قوتوں کے آگے اپنا سر نہیں جھکایا۔ انہوں نے مزید کہاکہ ایم کیوایم کی میڈیا کوریج پر پابندی عائد کردی گئی ہے ، میری تحریر، تقریر اور تصویر کسی پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا پر شائع نہیں ہوسکتی،ملٹری اسٹیبلشمنٹ اورآئی ایس آئی نے دوسال سے میرے گھرپر تالاڈالاہوا ہے، ایم کیوایم کے دفاتر مسمار کردیے گئے ہیں ، پاکستان میں مہاجروں کو فرزند زمین تسلیم نہیں کیاجاتا ، پاکستان میں مہاجروں کو تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے اورمہاجروں کو توہین آمیز القابات سے پکارا جاتا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں گزشتہ 40 برسو ں سے مہاجروں سمیت ملک بھرکے مظلوم عوام کے جائز حقوق کی جدوجہد کررہا ہوں ، اس جدوجہد کی پاداش میں مجھے تین مرتبہ جیل میں قید کیاگیا، اپنی جدوجہد ترک کرنے کے عوض ہرقسم کی مراعات کی پیشکش کی گئی لیکن میں نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ اورآئی ایس آئی کی ہرپیشکش کو مستردکیا ۔ میرے وفادار ساتھی جانتے ہیں کہ میں نے ظالم قوتوں کے آگے کبھی سرینڈرنہیں کیااور میں آخری سانس تک حق پرستی کی جدوجہد کرتارہوں گا۔ جناب الطاف حسین نے اجتماع میں موجود ساؤتھ افریقہ کمیونسٹ پارٹی کے رہنماسے درخواست کی کہ وہ بے سہارا مہاجروں کی پرامن جدوجہد کا ساتھ دیں اورمظلوم مہاجروں کی مددکریں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں 70 برسوں سے جمہوریت قائم نہیں ہوسکی ہے ، پاکستان میں ہمیشہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی حکمرانی رہی ہے اورآج بھی پاکستان میں جمہوری نظام نہیں بلکہ دراصل Stratocracy رائج ہے یعنی دراصل ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی ہی اجارہ داری ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے حقیقت پسندی اورعملیت پسندی کافکروفلسفہ دیا لیکن میری یہ فلاسفی پاکستان کے حکمرانوں کو پسند نہیں آئی کیونکہ میں ملک میں سچی جمہوریت کا قیام چاہتا ہوں۔انہوں نے مزید کہاکہ ایم کیوایم ، پاکستان کی واحد جماعت ہے جو غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی کیلئے جدوجہد کررہی ہے ۔ ایم کیو ایم پروگریسیو، لبرل اورجمہوریت پسند جماعت ہے جوملک پر مسلط فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ اورسرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہے ،وہ ملک میں صحیح معنوں میں سچی جمہوریت قائم کرنا چاہتی ہے ۔ ایم کیوایم ، مہاجروں، بلوچوں ، پشتونوں،سندھیوں، پنجابیوں، کشمیریوں، سرائیکیوں، ہزار وال سمیت تمام قومیتوں بشمول مذہبی اقلیتوں کیلئے برابری کی بنیاد پر حقوق چاہتی ہے اورسمجھتی ہے کہ جو بھی پاکستانی ہے سب کے ساتھ بلاامتیاز رنگ ونسل ، زبان ،قوم، مسلک، عقیدہ اورمذہب یکساں سلوک کیاجائے اور کسی کو کمتر نہ سمجھاجائے ، ایم کیوایم خواتین کے لئے بھی مساوی حقوق چاہتی ہے اورانہیں بھی زندگی کے ہرشعبہ میں مردوں کے برابرحقوق دلاناچاہتی ہے ، ایم کیوایم تمام غریبوں کوتعلیم اورصحت کی سہولتیں ان کے گھروں تک پہنچاناچاہتی ہے ،ایم کیوایم ملک سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی حکمرانی اور فرسودہ جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ چاہتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم ملک میں سچی جمہوریت عوام کی منتخب پارلیمنٹ چاہتے ہیں لیکن پاکستان میں ہمیشہ براہ راست ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی حکمرانی رہی ہے اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ، سپریم کورٹ کو اپنی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے ۔ ہم ملک میں Stratocracy نہیں بلکہ سچی جمہوریت چاہتے ہیں اوریہی ہمارا سب سے بڑا جرم ہے اوراسی جرم کی پاداش میں ہمیں ریاستی مظالم کا نشانہ بنایاجارہاہے 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم اورمہاجروں کو ختم کرنے کیلئے 1992ء میں فوجی آپریشن شروع کیاگیا ، ہم نے ہرقسم کی قربانی دی، تمام ترریاستی مظالم کے باوجود میرے پرعزم ساتھی آج بھی ثابت قدم ہیں ، میرے بھانجے اوربھتیجے، رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفی عزیزآبادی کے بھائی سمیت ایم کیوایم کے سینکڑوں کارکنان آج تک لاپتہ ہیں ۔ 10 ہزار سے زائد کارکنان آج بھی جیلوں میں قید ہیں اور وحشیانہ تشدد کا سامنا کررہے ہیں ۔ 13، جنوری 2018ء کو پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف کوپیراملٹری رینجرز نے گرفتارکرکے کراچی کے مضافاتی علاقہ ریڑھی گوٹھ میں تشدد کا نشانہ بناکرشہیدکردیا اور کرائم سین ضائع کردیئے اورعدلیہ انصاف فراہم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ، ایسی صورتحال میں ہم پروفیسرڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید کے اہل خانہ کوکس طرح انصاف دلائیں ؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں مہاجروں کی دادفریاد سننے والا کوئی نہیں ہے اورمہاجروں کے بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جارہی ہے، ظلم اپنی انتہا کوپہنچ چکاہے، لہٰذا اقوام متحدہ اورجمہوری دنیا کو مظلوم مہاجروں کی مددکرنی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہم ظلم سے آزادی چاہتے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ آزادی صرف نعروں سے حاصل نہیں ہوتی ، اسکے لئے جدوجہدکرنی پڑتی ہے اورقربانیاں دیناپڑتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ پرامن لوگ ہیں اورپرامن طریقے سے اپنے حقوق حاصل کرناچاہتے ہیں۔
جناب الطا ف حسین نے ساؤتھ افریقہ کے عظیم انقلابی رہنما نیلسن مینڈیلاکوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ نیلسن مینڈیلانے اپنی قوم کوسفید فام نسل پرست حکومت کے ظلم وجبراورنسل پرستانہ سلوک سے آزادی دلانے کے لئے جدوجہدکی ، اس کی پاداش میں 27سال قید کی صعوبتیں بھی برداشت کیں ، میں اس عظیم رہنماکوسیلوٹ پیش کرتاہوں۔ جناب الطا ف حسین نے اجتماع میں موجود ساؤتھ افریقن کمیونسٹ پارٹی کے فرسٹ سیکریٹری جنرل سولی ماپیلاکو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت مہاجرقوم کوجس قسم کے ظلم وجبرکاسامنا ہے اس سے نجات اورانصاف کے حصول کیلئے ہمیں آپ کے تعاون کی اشدضرورت ہے، ہمیں اس جدیدنسل پرستانہ لہرکی روک تھام کوملکریقینی بناناہوگا۔
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ 13، جنوری کے دن ہی سفاک پولیس افسر راؤ انوارجوکہ بے گناہ شہریوں کے ماورائے عدالت قتل میں بدنام شہرت رکھتا ہے ، نے نقیب اللہ محسود کو ماورائے عدالت قتل کیا، سپریم کورٹ کی جانب سے اس سفاک قاتل پولیس افسر کو مراعات دی جارہی ہیں ، محض آٹھ برسوں میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 444 شہریوں کوجعلی پولیس مقابلوں میں قتل کرنے والے راؤ انوار کوپہلے ملیر کینٹ میں رکھاگیاپھر گھرپر رہنے کی بھی اجازت دی گئی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ریاستی ظلم وبربریت اورناانصافیوں کے باعث پشتون قوم میں بیداری پیداہورہی ہے لیکن افسوس کہ ان کی آواز کوسننے اوران کے مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے انہیں غدارقراردیاجارہاہے، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ کی جانب سے پشتون قوم کو دھمکیاں د ی جارہی ہیں اورحقوق کا مطالبہ کرنے والے پشتونوں کا میڈیا بلیک آؤٹ کیاجارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ مظلوم عوام کے حقوق کے مطالبے کو غداری سے تعبیر کرنا سراسر غلط ہے ۔ حقوق مانگنے والے غدار نہیں ہیں بلکہ حقوق غصب کرنے والے غدار ہیں، حقوق مانگنے والوں پرظلم کرنے والے کرپٹ جرنیل ، رینجرز، ایف سی اورپولیس افسران غدارہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے شام پر امریکہ، برطانیہ اورفرانس کی جانب سے ہونے والے حملے کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ اس حملے سے روس کی جانب سے شدید احتجاج کیاگیاہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے بھی ناراضگی کااظہارکیاگیاہے، یہ حملہ تیسری جنگ عظیم کاپیش خیمہ ثابت ہوسکتاہے ،اگر خدانخواستہ ایساہوا توکروڑوں انسانوں کی جان جاسکتی ہے۔ انہوں نے ساؤتھ افریقہ میں مقیم ایم کیوایم کے تمام ذمہ داران اورکارکنان پرزوردیا کہ وہ موجودہ بدلتی ہوئی صورتحال میں اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں،مہاجرقوم اورآنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کیلئے اپنا بھرپورکردار ادا کریں اور قوم کی بقاء اورتحریک کے کاذ کے لئے ایک نئے عزم وحوصلے اورتوانائی کے ساتھ میدان عمل میں آئیں۔انہوں نے کارکنوں سے کہاکہ وہ اپنے شہیدوں اورلاپتہ ساتھیوں اوراسیروں کی قربانیوں کونہ بھولیں،لاپتہ ساتھیوں کے اہل خانہ کے دکھ درد اورکرب کااندازہ کریں کہ ان کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی۔انہوں نے حاظرین سے کہاکہ وہ اپنے شہیدوں اوراسیروں کے اہل خانہ اورقوم کے مجبوروپریشان حال لوگوں کی مدد کیلئے تحریک کے اکاؤنٹ میں عطیات جمع کرائیں ۔ جناب الطا ف حسین نے یوم تاسیس کے اجتماع کے انعقادپر ساؤتھ افریقہ یونٹ کوخراج تحسین پیش کیااوراس کے شاندارانتظامات کرنے والے ساتھیوں کوشاباش پیش کی ۔ 
*****








12/12/2018 6:37:08 PM