Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم ، پاکستان کو ایسا ملک بناناچاہتی ہے جہاں فوج اور عدلیہ، آئین، قانون اورپارلیمنٹ کے تابع ہو، الطاف حسین


ایم کیوایم ، پاکستان کو ایسا ملک بناناچاہتی ہے جہاں فوج اور عدلیہ، آئین، قانون اورپارلیمنٹ کے تابع ہو، الطاف حسین
 Posted on: 3/18/2018
ایم کیوایم ، پاکستان کو ایسا ملک بناناچاہتی ہے جہاں فوج اور عدلیہ، آئین، قانون اورپارلیمنٹ کے تابع ہو، الطاف حسین
الطاف حسین ، پاکستان کو قائم ودائم رکھنا چاہتا ہے، قائد تحریک الطاف حسین
پاکستان کی اپنے ہمسائے ممالک ایران ، افغانستان اورانڈیا سے دوستی ہواوریورپی یونین کی طرح مل کر رہیں، الطاف حسین
ہم ایسے پاکستان کو زندہ باد کہنا چاہتے ہیں جہاں عدلیہ،فوج کی کاسہ لیس نہ ہو، الطاف حسین
ایسی فوج چاہتے ہیں جو عوام کی حاکم نہیں بلکہ خادم ہو، الطاف حسین
اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ دنیا کی کوئی طاقت الطاف حسین کا باب بند نہیں کرسکتی، الطاف حسین
پاکستان کی مظلوم قومیتیں ماضی کی غلطیوں پر ایک دوسرے کو معاف کریں اوراپنے مشترکہ دشمن کو پہچانیں،الطاف حسین
الطاف حسین آگے بڑھ کر کہتا ہے کہ مہاجرقوم کی جانب سے کوئی زیادتی ہوئی ہے تو میں ان سے معافی مانگتا ہوں،الطاف حسین
میں نے صرف پاکستان کے خلاف نعرہ لگایاتھاملک نہیں توڑا تھا ،1971ء میں فوجی جرنیلوں نے ملک توڑا، الطاف حسین
الطاف حسین رہے یا نہ رہے ، الطاف حسین کا نظریہ زندہ رہے گا، الطاف حسین
دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کو ووٹ دینے اور الیکشن لڑنے کا حق دیا جائے ، الطاف حسین
قبائلی علاقوں میں چیک پوسٹوں پر پشتون خواتین ، بزرگوں اورنوجوانوں کی بے عزتی کا سلسلہ بند کیاجائے، الطاف حسین
لندن میں ایم کیوایم کے 34 ویں یوم تاسیس کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ الطاف حسین ، پاکستان کو قائم ودائم رکھنا چاہتا ہے اورملک سے کرپٹ جرنیلوں اورجاگیرداروں کے تسلط کا خاتمہ چاہتا ہوں۔پاکستان بھرکے پروگریسوعوام چاہتے ہیں کہ پاکستان کی اپنے ہمسائے ممالک ایران ، افغانستان اورانڈیا سے دوستی ہواوروہ یورپی یونین کی طرح مل کر رہیں۔ہم ایسے پاکستان کو زندہ باد کہنا چاہتے ہیں جہاں عدلیہ آزادہو اور فوج کی کاسہ لیس نہ ہو، ہم ایسی فوج چاہتے ہیں جو عوام کی حاکم نہیں بلکہ خادم ہو۔ ایم کیوایم ، پاکستان کو ایسا ملک بناناچاہتی ہے جہاں فوج اور عدلیہ آئین، قانون اورپارلیمنٹ کے تابع ہو۔انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ دنیا کی کوئی طاقت الطاف حسین کا باب بند نہیں کرسکتی اورالطاف حسین نے ملک بھر کے مظلوموں کو جونظریہ دیا ہے اسے ریاستی طاقت سے ختم نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے پاکستان کی تمام مظلوم قومیتوں کو مخاطب کرتے ہوئے دعوت دی کہ آؤ ہم ماضی کی غلطیوں پر ایک دوسرے کو معاف کریں، ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اپنے اصل دشمن کے خلاف اتحاد کامظاہرہ کریں ، اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانیں اور متحدہوکر اپنے جائزحقوق کی جدوجہد کریں۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے لندن میں منعقدہ ایم کیوایم کے 34 ویں یوم تاسیس کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لندن میں موسم کی خرابی اور برف باری کے باوجود تقریب میں ایم کیوایم کے کارکنان اوران کے اہل خانہ سمیت مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے دانشوروں، تجزیہ نگاروں اورشعراء نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی ۔حاضرین کی بڑی تعداد میں شرکت کے باعث پنڈال کھچا کھچ بھر گیااوربہت سے لوگوں نے اطراف میں کھڑے ہوکر جناب الطاف حسین کا خطاب سنا۔ جناب الطاف حسین کا خطاب سوشل میڈیا کے ذریعہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں دیکھا گیا۔
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے دنیا بھرمیں ایم کیوایم کے کارکنان وہمدردوں کو ایم کیوایم کے 34 ویں یوم تاسیس کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع اسلام آباد، جی ایچ کیو اور آبپارہ میں آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر میں بھی دیکھاجارہا ہوگا۔ جی ایچ کیو اورآئی ایس آئی والوں نے پاکستان میں الطاف حسین کی تحریر، تقریراورتصویر پرپابندی عائد کرکے سمجھ لیا تھا کہ انہوں نے ایم کیوایم کو ختم کردیا۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین کو اس مقام پرجی ایچ کیویا آئی ایس آئی نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے پہنچایا ہے، الطاف حسین کاباب اللہ تعالیٰ نے کھولا ہے اوراللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ دنیا کی کوئی طاقت الطاف حسین کا باب بند نہیں کرسکتی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ناکردہ گناہوں کی پاداش میں لوگوں کو جیلوں میں قیدکرنے اور قتل کرنے والے خود ختم ہوجائیں گے مگر جس انقلابی کو اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے اس کا نظریہ زندہ رہتا ہے ۔میدان کربلا میں یزیدیت نے مظلوم حسین ؑ سمیت رسول اللہ ؐ کے خاندان کو قتل کردیامگر حسینیت ؑ آج بھی زندہ ہے ۔ ریاستی طاقت رکھنے والے الطاف حسین کو تو مارسکتے ہیں مگر الطاف حسین نے پاکستان بھرکے مظلوموں کیلئے جو نظریہ دیا ہے اسے طاقت کے ذریعہ ختم نہیں کیاجاسکتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج ایم کیوایم کا 34 واں یوم تاسیس ہے اور میں اپنے لوگوں سے خطاب کررہا ہوں اورآبپارہ میں آئی ایس آئی کی پوری بٹالین بھی میرا خطاب دیکھ رہی ہے ورنہ آئی ایس آئی اور جی ایچ کیو والوں نے تو مجھے مردہ قراردے دیاتھا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ حق وباطل اورظالم ومظلوم کی جنگ ہے جو ازل سے جاری ہے اورابد تک جاری رہے گی ۔ ظلم وجبر کے خلاف فاٹاکے قبائلی علاقوں سے شروع ہونے والی تحریک بلوچستان کی وادیوں میں پہنچ گئی ہے اورمظلوموں کی آوازپوری دنیا میں سنی جارہی ہے ۔ اب مظلوم سندھی بھائیوں کا فرض ہے کہ وہ سائیں جی ایم سید کی تعلیمات کے مطابق حق کا پرچم تھامیں اور ظالم وجابرقوتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے الطاف حسین کی طرح میدان عمل میں آئیں ۔ پنجابی طلباوطالبات یہ نہ سمجھیں کہ میں کسی آزاد پنجاب کی بات کررہا ہوں ، میں انہیں فوج اورآئی ایس آئی کے ظلم سے نجات دلانے کی بات کررہاہوں،ہم آزادی کی بات اس تناظر میں کرتے ہیں کہ ملک بھرکے مظلوم متحد ہوکر جدوجہد کریں۔ میں ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ ، سردارانہ اورسرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہوں اورملک میں غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی کیلئے جدوجہد کررہاہوں لہٰذا مظلوم ومحروم پنجابی عوام بشمول سرائیکی عوام بھی میدان میں آکر مظلوم پنجابیوں کو ظلم وجبر کے نظام سے نجات دلائیں۔انہوں نے کہاکہ ملک میں لسانی اورفرقہ وارانہ فسادات ہوئے نہیں بلکہ کرائے گئے ہیں ، آئی ایس آئی اورفوج نے ایک سازش کے تحت مظلوم بھائیوں کو آپس میں لڑایا تاکہ مظلوم عوام آپس میں لڑتے رہیں اور کرپٹ جرنیل غنڈہ گردی کرتے رہیں۔ جناب الطاف حسین نے پشتونوں، سندھیوں، پنجابیوں، بلوچوں، قبائلیوں، پختونوں، کشمیریوں، ہزاروال،گلگت اور، بلتستان کے عوام سمیت تمام مظلوم قومیتوں کوپیغام دیتے ہوئے کہاکہ آپ نے دیکھ لیا کہ اصل ظالم کون ہے ۔ آج ملک کے کونے سے کونے سے فاٹاکے لوگوں کی آواز اٹھ رہی ہے کہ یہ’’ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘‘۔ ماضی میں ایک سازش کے تحت مظلوم قومیتوں کو آپس میں لڑایا گیا ، مظلوم قومیتیں ایک دوسرے کا نقصان کرتی ر ہیں ۔ آج کے دن الطاف حسین آگے بڑھ کر کہتا ہے کہ مہاجرقوم کی جانب سے کوئی زیادتی ہوئی ہے تو میں ان سے معافی مانگتا ہوں، ہرقومیت سے تعلق رکھنے والے افراد سے کہتا ہوں کہ مہاجروں کو معاف کرو، مہاجروں کاخون ہوا ہے تو اللہ معاف کرے ، الطاف حسین بھی معاف کرتا ہے اور تمام مظلوم قومیتوں کو دعوت دیتا ہے کہ آئیں، ہم ماضی کو بھول کر اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانیں، ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اپنے اصل دشمن کے خلاف متحد ہوکر ظالموں اورجابروں سے آزادی حاصل کریں اور متحد ہوکر اپنے حقوق کی جدوجہد کریں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ، تمام سیاسی جماعتوں سے لڑے مگر اداروں سے نہ لڑے ، چوہدری نثار صاف کیوں نہیں کہتے کہ فوج اورعدلیہ سے لڑائی نہ کی جائے ، اسی طرح آئی ایس آئی اورفوج کے پے رول پر کام کرنے والے اینکرز ، ٹی وی ٹاک شوز میں شریک سیاسی ودفاعی تجزیہ نگار وں کی جانب سے مسلسل یہی بات کہی جارہی ہے کہ اداروں کو کچھ نہ کہویعنی ان کی جانب سے کہاجارہا ہے کہ شیطانی کام کرنے والوں اورملک میں فساد پھیلانے والوں پر لاحول نہ بھیجی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ جولوگ فوج اورعدلیہ کو مقدس ادارے کہتے ہیں وہ کان کھول کرسن لیں پاکستان میں باربارآئین توڑکر مارشل لاء نافذ کیاجاتارہا ، 70 سال میں آدھا عرصہ فوج نے براہ راست پاکستان میں حکمرانی کی ، فوج نے آئین توڑا اورآئین توڑنا غداری کے زمرے میں آتا ہے لیکن کیا آئین توڑنے والے کسی ایک جرنیل کو سزا ہوئی؟ اسکندرمرزا،جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اورجنرل پرویزمشرف میں سے کسی کو سزا دی گئی؟ پرویز مشرف کو بھی سمجھنا چاہیے کہ عدلیہ نے صرف انکے خلاف ریڈ وارنٹ کیوں جاری کیے اور آئین شکنی کے مرتکب کسی اورجنرل کے خلاف ریڈ وارنٹ کیوں جاری نہیں کیے ۔ آئین کے تحت آئین توڑنا اور آئین شکنی میں معاونت کرنا غداری کے زمرے میں آتا ہے ، جب 1999ء میں جنرل پرویز مشرف فضا میں تھے اور جن لوگوں نے آئین شکنی کا عمل کیا ان میں سے کسی کا نام تک نہیں لیاجاتا۔ انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے مارشل لاء کے نفاذ اور آئین وقانون توڑنے والے فوجی جرنیلوں کے اقدامات کو جائز قراردیا لیکن کیا کسی ایک جج کو بھی سزا دی گئی؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جنرل ثاقب نثار کچرے کے ڈھیر، ادویات کی قلت اور دودھ کے خلاف ایکشن لیتے ہیں لیکن بلوچوں، مہاجروں اور قبائلیوں کو لاپتہ کرنے اورانہیں ماورائے عدالت قتل کرنے والوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیتے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار تصورکریں کہ اگرکوئی ان کے سامنے ان کے بیٹے کو گرفتارکرکے لاپتہ کردے اور پھر وہ مردہ حالت میں پایاجائے تو ان کے دل پر کیاگزرے گی، آج دوماہ سے زائد کا عرصہ گزرچکا ہے لیکن پروفیسر حسن ظفرعارف شہیداورنقیب اللہ محسودشہید سمیت سینکڑوں بے گناہ افراد کاسفاک قاتل راؤ انوار آج تک گرفتارنہیں کیاجاسکاہے۔اس اہم معاملہ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کا انصاف کہاں چلاجاتا ہے ؟ اس کے باوجود بعض اینکرپرسنز ٹیلی ویژن پر آکر اداروں کے احترام کادرس دیتے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سفاک قاتل راؤ انوار کی گرفتاری کا فارمولا یہ ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے چیف آف آرمی اسٹاف ، ان کے جوائنٹ ، آئی ایس آئی کے چیف ، انکے جوائنٹ، ایم آئی کے چیف اوران کے جوائنٹ افسران کو بلاکر تین دن کا نوٹس دیں کہ اگر تین دن کے اندر اندرراؤ انوار کو گرفتارنہ کیاگیا تو نہ صرف ان کی ملازمتیں ختم کردی جائیں گی بلکہ انہیں تاحیات جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ اس فارمولے پر عمل کرنے کے بعد اگر راؤ انوارکو گرفتارکرکے عدالت میں پیش نہ کردیاجائے تو پھر جو چاہے الطاف حسین کو سزا دے دینا مجھے وہ سزا منظورہوگی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس وقت عدلیہ ، فوج کی بی ٹیم بنی ہوئی ہے ، عدلیہ کوپورے پاکستان میں صرف نواز شریف بدنام نظرآتے ہیں جبکہ عمران خان جیسے بدکردار کوصادق اورامین قراردیاجاتا ہے جس کے بارے میں امریکی خاتون سیتا وائٹ خود کہہ چکی ہیں کہ عمران خان ان کی بیٹی کا باپ ہے ۔ اس موقع پر شرکاء کو ایک بڑی اسکرین کے ذریعہ سیتاوائٹ کا یہ انٹرویو بھی دکھایاگیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ نواز شریف کے دورحکومت میں میرے گھرپرتالا لگایا گیا اور مسلم لیگ کے رہنماؤں کی جانب سے مجھ پر بہتان تراشیاں کی گئیں لیکن آج یہ سب قدرت کے مکافات عمل کا شکار ہیں ۔ اگر کل وہ ایم کیوایم اورمہاجروں کے خلاف غیرآئینی اورغیرانسانی اقدامات پر ظالم قوتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے کہ الطاف حسین اورایم کیوایم کے ساتھ غلط ہورہا ہے تو آج ان کے ساتھ یہ سب کچھ نہیں ہوتا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں میری تحریر وتقریرپرپابندی عائد کردی گئی، نائن زیرو پر تالاڈال دیا گیا اور ملک بھرمیں میرے خلاف غداری کے مقدمات قائم کردیئے گئے جبکہ میں نے غداری نہیں کی تھی بلکہ صرف پاکستان کے خلاف نعرہ لگایاتھاملک نہیں توڑا تھا ۔ 1971ء میں فوجی جرنیلوں نے ملک توڑا لیکن پاکستان دولخت کرنے میں ملوث کسی ایک جرنیل کو سزا نہیں ہوئی اورآج تک حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔ ان کرپٹ جرنیلوں نے باربار اپنی ہی قوم کو فتح کیا ہے مگرانہوں نے کبھی مسلح دشمن فوج کو نہیں للکارا ، آج تک کوئی جنگ نہیں جیتی البتہ دشمن فوج کے سامنے ہتھیارڈال کر 93 ہزار نشان حیدر ضرور حاصل کیے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں ہرقسم کی دہشت گردی کے خلاف ہوں ، ملک میں جو دہشت گردی ہورہی ہے اس کے پیچھے وردی ہے۔ فساد پھیلانا شیطان کاکام ہے ،جہاں دہشت گردی اورفساد ہوگا وہاں شیطان ہوگا لہٰذا جب فساد پھیلانے والی عدلیہ اورفوج کا نام آئے تو لاحول پڑھنا چاہیے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجر، پنجابی ، سندھی، بلوچ، پختون ، پشتون ، قبائلی، کشمیری، ہزاروال ، گلگتی اوربلتستانی مل کر ظالم وجابرقوتوں سے آزادی حاصل کرکے ملک کو ایسا بنائیں گے جہاں فوج قانون کے تابع ہو، فوج عوام کی حاکم نہیں بلکہ خادم ہو،عدلیہ ، ملک کے آئین ، قانون اورپارلیمنٹ کے تابع ہو، فوج سے ڈکٹیشن لینے اور فوج کے مفادات کا تحفظ کرنے والی نہ ہو۔ الطاف حسین بلاامتیاز رنگ ونسل، زبان ، قومیت، مسلک اور مذہب ہرپاکستانی کیلئے برابری کی بنیاد پر حقوق چاہتاہے اورقرآن مجید کی تعلیمات کے مطابق تمام مذاہب اورعقائد کے ماننے والوں کی مذہبی آزادی پر یقین رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مذہبی انتہاء پسندی ہمارے معاشرے کیلئے زہر ہے اور ہر شہری کو چاہیے کہ وہ خود کو اس زہر سے محفوظ بنائے ۔ آج جو لوگ برطانیہ میں اسلامی شریعت کے نفاذ کی باتیں کررہے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ برطانیہ کے بجائے سعودی عرب جاکر شریعت نافذ کریں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں 27 برسوں سے جلاوطنی کی زندگی گزاررہا ہوں اورآج بھی دن رات کام کرتاہوں ، ایک ہفتہ قبل چیف آ ف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے اپنے پسندیدہ صحافیوں کو بلاکر بریفنگ دی اور ایک سوال کے جواب میں کہا’’کہ الطاف حسین ، ماضی ہوگئے ہیں ‘‘۔ میں جنرل باجوہ سے کہتا ہوں کہ کل آپ بھی ’’تھے ‘‘ ہوجائیں گے ،فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد کوئی آپ کو پوچھنے والا بھی نہیں ہوگا لیکن الطاف حسین رہے یا نہ رہے ، الطاف حسین کا نظریہ زندہ رہے گا۔ 
جناب الطاف حسین نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری کاتذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے سندھ کے شہری علاقوں سے بلدیاتی حقوق چھینے ، مہاجروں کے خلاف متعصبانہ اقدامات کیے اور حلقہ بندیوں میں دھاندلی کی، میں آصف زرداری اور بلاول بھٹوکو باورکراناچاہتا ہوں کہ اب صوبہ سندھ میں یہ سب نہیں چلے گا، اب سندھ میں 26 پیرلل لائن ضرور کھنچے گی اورسندھ کے شہری عوام کا یہ مطالبہ ہے کہ ’’سندھ میں ہوگا کیسے گزار، آدھا ہمارا ، آدھا تمہارا‘‘ ۔ صرف صوبہ پنجاب پاکستان نہیں ہے بلکہ خیبرپختونخوا، بلوچستان ، 26 پیرلل سندھ اوردیہی سندھ بھی پاکستان کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ الطاف حسین ملک کو قائم ودائم رکھنا چاہتا ہے اور ملک سے کرپٹ جرنیلوں اورجاگیرداروں کے تسلط کا خاتمہ چاہتا ہے۔ اگر ارباب اختیار نے ملک میں آزاد صوبے نہیں بنائے تو پھر ایسا نہ ہو کہ صوبوں کا مطالبہ آزاد ملک کے مطالبے میں بدل جائے ۔مہاجروں سے تعصب اورنفرت میں کراچی کی آبادی چاہے ڈھائی لاکھ کردی جائے جس دن معرکہ ہوگا اس دن معلوم ہوجائے گا کہ مہاجروں کی آبادی ڈھائی لاکھ ہے یا 70 کروڑ ہے ۔جناب الطاف حسین نے مطالبہ کیاکہ دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کو ووٹ دینے اور الیکشن لڑنے کا حق دیا جائے ۔ انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف اورآئی ایس آئی سے مطالبہ کیا کہ قبائلی علاقوں میں قائم چیک پوسٹوں پر پشتون خواتین ، بزرگوں اورنوجوانوں کی بے عزتی اوربے حرمتی کے واقعات کا نوٹس لیاجائے اور یہ سلسلہ فی الفوربند کرایا جائے۔جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے یوم تاسیس کی تقریب میں مختلف ممالک سے آنے والے ایم کیوایم کے ذمہ داروں اورکارکنوں کو دل کی گہرائی سے خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ تمام ترریاستی جبروتشددکے باوجود کراچی ، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، نواب شاہ ، سانگھڑ ، ٹنڈوالہیار ، ٹنڈوجام اورسندھ کے دیگر علاقوں میں کارکنان وعوام اپنے اپنے گھروں پر یوم تاسیس کے کیک کاٹ رہے ہیں ، کٹھن اور کڑے حالات میں بھی تحریک سے جڑے ہوئے ہیں ایسے تمام بزرگوں، ماؤں، بہنوں ، نوجوانوں اوربچوں کو سلام تحسین پیش کرتا ہوں اورانہیں یوم تاسیس کی مبارکباددیتا ہوں۔
*****

10/18/2018 1:12:42 PM