Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان پر خطرات منڈلارہے ہیں،امریکی صدر سخت زبان استعمال کر رہے ہیں، خدارا ملک کوبچائیں۔الطاف حسین


پاکستان پر خطرات منڈلارہے ہیں،امریکی صدر سخت زبان استعمال کر رہے ہیں، خدارا ملک کوبچائیں۔الطاف حسین
 Posted on: 1/11/2018
پاکستان پر خطرات منڈلارہے ہیں،امریکی صدر سخت زبان استعمال کر رہے ہیں، خدارا ملک کوبچائیں۔الطاف حسین
پاکستان جس بحران سے گزررہاہے اس کاتقاضہ ہے کہ ملک میں تمام سیاسی جماعتوں کااحترام کریں، سب کوکام کرنے دیں،
ایم کیوایم کوبھی دیگرسیاسی جماعتوں کی طرح سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دیں۔الطاف حسین
جولوگ بھی جبری طورپر اٹھائے جارہے ہیں ان کوعدالتوں کے روبرو پیش کیوں نہیں کیاجارہاہے ؟ 
آرمی چیف جنرل قمرباجوہ اورچیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار سے ا پیل کر تاہوں کہ لوگوں کوغائب کرنے سلسلہ بندکرایاجائے اور تمام لاپتہ افرادکوبازیاب کرایاجائے
چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثارنے عمران خان کوصادق اورامین قراردیاجبکہ اس کے کردارسے سب واقف ہیں 
زہرہ شاہد جو عمران خان کے اصل راز اگلنے والی تھیں انہیں 18مئی 2013ء کوعمران خان نے قتل کرادیا
قندیل بلوچ نے عمران خان کے رازوں سے پردہ ہٹانے کی بات کی تواسے بھی عمران خان نے قتل کرادیا
چیف جسٹس سب کے ساتھ مساوی سلوک کریں، صرف نوازشریف اوران کے خاندان کے خلاف کارروائی کرناغلط 
ہے، کیا تمام سیاستداں ایماندار اور پاک صاف ہیں؟
سپریم کورٹ نے نوازشریف کو ’’ گارڈ فادر ‘‘ اور ’’ سسلین مافیا ‘‘ قراردیاجو انتہائی افسوسناک ہے
مصنوعی پھولوں سے نہ خوشبوآسکتی ہے اوران میں زندگی آسکتی ہے، عوام کے دلوں سے الطاف حسین کی تصویرنہیں نکالی جاسکتی
سوشل میڈیاکے ذریعے خطاب

متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ سے کہاہے کہ پاکستان پر خطرات منڈلارہے ہیں،امریکہ کے صدر، پاکستان کے بارے میں سخت زبان استعمال کر رہے ہیں، خدارا ملک کوبچائیں،پاکستان جس بحران سے گزررہاہے اس کاتقاضہ ہے کہ ملک میں تمام سیاسی جماعتوں کااحترام کریں، سب کوکام کرنے دیں، ایم کیوایم کوبھی دیگرسیاسی جماعتوں کی طرح سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دیں۔ انہوں نے ان خیالات کااظہاربدھ کی شب سوشل میڈیاکے ذریعے اپنے وڈیوخطاب میں کیا۔ جناب الطاف حسین نے خطاب میں ایم کیوایم کے کارکنوں، صحافیوں، بلاگرزاور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں کی جبری گمشدگیوں،صحافیوں کے اغوا اوران پر حملے، کراچی وسندھ کے دیگرشہری علاقوں، بلوچستان اور فاٹا میں آپریشن کے نام پرانسانی حقوق کی خلاف ورذیوں، قصورمیں معصوم بچی زینب کے اغوااوربہیمانہ قتل کے واقعہ اوردیگر امورپر تفصیلی اظہارخیال کیا۔ جناب الطاف حسین کایہ وڈیوخطاب ایم کیوایم کے آفیشل فیس بک پیج پر براہ راست نشرکیاگیا۔ اس دوران موضوع کی مناسبت سے وڈیو اورتصاویر بھی ناظرین کیلئے پیش کی گئیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے اپنے گزشتہ خطاب میں بھی آرمی چیف جنرل قمرباجوہ سے اپیل کی تھی کہ ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں سمیت تمام لاپتہ افرادکوبازیاب کرایاجائے لیکن افسوس کہ آرمی چیف نے میری گزارشات پرتوجہ نہیں دی ۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثاربھی کالجوں کی فیسوں، سڑک کی تعمیر، ٹریفک کی بندش اوراسپتالوں کی حالت کے بارے میں توروزانہ ازخودنوٹس لے رہے ہیں لیکن افسوس کہ انہیں بھی پولیس، رینجرزاورسرکاری ایجنسیوں کی جانب سے جبری طورپرگمشدہ کئے جانے والے افرادنظرنہیں آرہے ہیں۔ لاپتہ افرادکے اہل خانہ نے ایک ماہ تک اسلام آبادمیں سپریم کورٹ کے سامنے احتجاجی کیمپ لگایا جسے جیو نیوزکے اینکرحامدمیراوردیگرٹی وی چینلزنے بھی دکھایا، سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار، وزرائے اعلیٰ اورتمام سیاسی رہنماؤں نے اس احتجاجی کیمپ کادورہ کیالیکن ان لاپتہ افرادکوبازیاب نہیں کرایاجاسکا۔ چوہدری نثارجب وزیرداخلہ بنے توان کے دورمیں ایم کیوایم کے کارکنوں سمیت کئی افرادکولاپتہ کیاگیالیکن انہوں نے بازیابی کیلئے کچھ نہیں کیا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے 19دسمبر 2017ء کو سینیٹ کے خصوصی ان کیمرہ اجلاس میں لاپتہ افراد کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ ’’لاپتہ افراد خودغائب ہوجاتے ہیں ، ایجنسیاں ان لوگوں کو تحویل میں لیتی ہیں جوملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں ‘‘ ۔ انہوں نے کہاکہ کون خود سے لاپتہ ہوناچاہے گا؟ ایم کیوایم کے کتنے ہی کارکنوں کوان کے گھروالوں اوراہل محلہ کے سامنے حراست میں لیاگیاجن کااب تک کچھ پتہ نہیں ہے،پھریہ کیسے کہا جاسکتاہے کہ وہ خود غائب ہوئے ہیں؟ انہوں نے مزیدکہاکہ کسی بھی فردکے خلاف کوئی بھی الزام ہو،قانون کے تحت اسے عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے، لیکن جولوگ بھی جبری طورپر اٹھائے جارہے ہیں ان کوعدالتوں کے روبرو پیش کیوں نہیں کیاجارہاہے ؟ یہ کہاں کاانصاف ہے ؟انہوں نے آرمی چیف کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگرخدانخواستہ آپ کابچہ اس طرح سے غائب ہوجائے توآپ اورآپ کے اہل خانہ کے دلوں پرکیاگزرے گی؟جناب الطا ف حسین نے مزیدکہاکہ قوم کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے فورم پر بھی لاپتہ افرادکے بارے میں حکومت پاکستان کی جانب سے یہ مضحکہ خیز مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان میں لوگ خودلاپتہ ہوجاتے ہیں، اس طرح دنیاکی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی گئی لیکن دنیااچھی طرح جانتی ہے کہ لوگوں کوکس طرح جبری طورپر اٹھاکرلاپتہ کیاجارہاہے ۔ 
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ جنرل قمرجاویدباجوہ فوج کے شہیدافسروں اورجوانوں کے گھرتعزیت کے لئے جاتے ہیں، ہمیں بھی ان کی شہادت کادکھ ہے ، اس کے ساتھ ساتھ جوہمارے ہزاروں کارکنوں کوماورائے عدالت قتل کیاگیا، ان کے گھروالوں کوبھی اپنے پیاروں کے قتل پر اتناہی دکھ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میرے 71سالہ بڑے بھائی ناصر حسین اور28سالہ بھتیجے عارف حسین کو 5دسمبر1995ء کورینجرزنے گرفتارکیا اورتین روزتک تشددکا نشانہ بنانے کے بعد کراچی کے علاقے گڈاپ لے جاکر گولیاں مارکرشہیدکردیا، میرے بھتیجے کے سرپرکلہاڑی کے واربھی کئے گئے۔ناصر حسین اورعارف حسین کاایم کیو ایم سے یاکسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا، پھرانہیں کیوں قتل کیاگیا؟ ان کے قاتل کہاں ہیں؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے ہرمشکل وقت میں ملک کی خاطر فوج کاساتھ دیا، فوج کی حمایت میں جلوس اورملین مارچ نکالا،فوج کوسیلوٹ کیا لیکن میرے بھائی اوربھتیجے کوشہیدکرکے میرے خاندان پر ظلم کاپہاڑ توڑا گیا ، اس موقع پر ناصر حسین شہید اورعارف حسین شہید کی تشددزدہ لاشوں کی تصاویربھی پیش کی گئیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج بھی میرے ایک بھتیجے خالد حسین اوربھانجے عبدالعزیزانصاری گزشتہ تقریباًچھ مہینے سے لاپتہ ہیں جن کوتاحال کسی عدالت میں پیش نہیں کیاگیا، اسی طرح مصطفےٰ عزیزآبادی کے بڑے بھائی منیرعلی، نارتھ ناظم آبادکے ذمہ دار غلام محی الدین، فیڈرل بی ایریاکے ذمہ دار فرحان ہاشمی اورسوسے زائد کارکنان وذمہ داران لاپتہ ہیں جن کوکسی عدالت میں پیش نہیں کیاگیا۔اس موقع پر ایم کیوایم کے شہیداورلاپتہ کارکنوں اورریاستی آپریشن کی تصاویرپر مبنی ہینڈ بل بھی پیش کیاگیا۔اس کے ساتھ ساتھ لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کیلئے احتجاج کرنے والی بلوچ خواتین اوربچوں کی وڈیوبھی پیش کی گئی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ اورچیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار سے ہاتھ جوڑ کر ا پیل کر تاہوں کہ خدارا اس صورتحال کانوٹس لیں،لوگوں کواٹھاکرغائب کرنے سلسلہ بندکرایاجائے اوران تمام لاپتہ افرادکوبازیاب کرایاجائے ، یہ بھی پاکستانی ہیں اورانسان ہیں، ان کی مائیں بہنیں، بیوی بچے اوروالدین پریشان ہیں اورذہنی اذیت میں مبتلاہیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے فرط جذبات میں ایک نعرہ لگایاجس کی میں نے معافی مانگ لی تھی لیکن ہم پر ریاستی مظالم کے پہاڑ توڑ ے گئے ، سینکڑوں دفاترمسمار کر دیئے گئے ، نائن زیروپرآج تک تالاپڑاہے جبکہ اسی طرح کی باتیں محمودخان اچکزئی نے اسمبلی میں کیں، خواجہ آصف نے کیں، زرداری نے کیں لیکن کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی ۔ ہمار ے شہیدوں کے لواحقین کو یوم شہدا کے موقع پر اپنے پیاروں کی یادگار تک پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ، انہیں ماراپیٹاگیااورگرفتاریاں کی گئیں جبکہ دوسری جانب فیض آبادمیں دھرنادینے والوں کوماردھاڑ، تشدد،گھیراؤ جلاؤ اوراملاک کونقصان پہنچانے پربھی نہیں روکاگیابلکہ ان کے ساتھ معاہدہ کرکے ان کے تمام مطالبات مانے گئے اورفوج کے ایک میجرجنرل نے ضامن کی حیثیت سے اس معاہدے پر دستخط کئے ، پنجاب کے ڈی جی رینجرزنے دھرنادینے والوں میں پیسے تقسیم کئے ۔عمران خان نے پی ٹی وی کے ہیڈکوارٹراورپارلیمنٹ ہاؤس پر حملہ کرایالیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثارنے عمران خان کوصادق اورامین قراردیاجبکہ اس کے کردارسے سب واقف ہیں، عمران خان ایک ناجائزبچی کاباپ ہے، صرف عائشہ گلالئی ہی نہیں بلکہ قوم کی کئی بیٹیاں اس کے ظلم کاشکار ہوئیں، کراچی کی بزرگ خاتون زہرہ شاہد جو عمران خان کے اصل راز اگلنے والی تھیں انہیں 18مئی 2013ء کوعمران خان نے قتل کرادیا۔انہوں نے اس حوالے سے ڈان نیوزمیں محترمہ زہرہ شاہدکوپارٹی سے نکالے جانے پرنعیم الحق کی ای میل کے حوالے سے نشرہونے والی رپورٹ بھی پیش کی۔انہوں نے مزیدکہاکہ اسی طرح ایک ماڈل قندیل بلوچ جس نے عمران خان کے کردارکے رازوں سے پردہ ہٹانے کی بات کی تواسے بھی عمران خان نے مفتی عبدالقوی کے ساتھ ملکر قتل کرادیا۔انہوں نے کہا کہ قندیل بلوچ نے ٹی وی ٹاک شومیں بنی گالہ میں ایک خاتون سے عمران خان کے تعلقات کے رازوں کاذکرکیاتھا جس کے قندیل بلوچ کودھمکیاں مل رہی تھیں جس کاذکرقندیل بلوچ نے لاہورپریس کلب میں پریس کانفرنس میں کیاتھا اورکہاتھاکہ اس کی زندگی کوخطرہ ہے ، اس نے اس وقت کے وزیرداخلہ چوہدری نثارکوتحریری طورپربھی آگاہ کیالیکن اسے تحفظ فراہم نہیں کیاگیااوربالآخراس کاقتل ہوگیا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کے معاملے پر وزیراعظم نوازشریف اوران کی فیملی کے خلاف کیس چلایالیکن انہیں اقامہ ہونے کی بنیادپر نااہل قراردے دیا اورفیصلے میں نوازشریف کو ’’ گارڈ فادر ‘‘ اور ’’ سسلین مافیا ‘‘ قراردیاجو انتہائی افسوسناک ہے ۔ انہیں ایسا کہتے ہوئے یہ ضرور سوچناچاہیے تھاکہ گارڈ فادر اور سسلین مافیاکیاتھی۔ نوازشریف کے خلاف فیصلہ ایساہی ہے کہ جیسے یزید کے دورمیں قاضی القضاق نے حضرت امام حسینؓ کے قتل کافتویٰ دیاتھا۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سب کے ساتھ مساوی سلوک کریں، اگرکرپشن کے خلاف کارروائی کرنی ہے تو سب کی دولت کاپتہ لگائیں، صرف ایک نوازشریف اوران کے خاندان کے خلاف ہی کارروائی کرناغلط ہے۔انہوں نے سوال کیاکہ کیا تمام سیاستداں ایماندار اور پاک صاف ہیں؟ انہوں نے چیف جسٹس ثاقب نثارکومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ قرآن مجیدیااپنے بچوں کے سرپرہاتھ رکھ کرقسم کھائیں توآپ کو خود جواب مل جائے گا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ملک میں تمام سیاسی جماعتوں کااحترام کریں، سب کوکام کرنے دیں، ایم کیوایم کوبھی دیگرسیاسی جماعتوں کی طرح سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دیں، اگرہم کوئی جرم کریں تو قانون کے تحت ہمارے خلاف کارروائی کریں۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ایم کیوایم میں گروپ بناکر اور ان کے جلسے کراکے ، مکاچوک سے لیاقت علی خان کامکا نکال کرکامیاب ہوجائیں گے تویہ بات سمجھنی چاہیے کہ بظاہرخوبصورت نظرآنے والے مصنوعی پھولوں سے نہ خوشبوآسکتی ہے اوران میں زندگی آسکتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ 98فیصدمہاجر عوام،ماؤں،بہنوں بزرگوں بچوں کے دلوں میں آج بھی الطاف حسین کی تصویرہے، بل بورڈ، بینرزاورپوسٹرزسے الطاف حسین کی تصویر ہٹائی جاسکتی ہے لیکن عوام کے دلوں سے الطاف حسین کی تصویرنہیں نکالی جاسکتی۔ 

*****

11/21/2018 2:24:52 AM