Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ڈی جی رینجرزسندھ جنرل محمدسعید کا مہاجروں سے یہ سوال کرناکہ وہ اپنی پہچان پاکستان سے وابستہ کرنے کیلئے تیارہیں یانہیں، دراصل پاکستان بنانے والے مہاجروں کی کھلی توہین ہے ۔ الطاف حسین


ڈی جی رینجرزسندھ جنرل محمدسعید کا مہاجروں سے یہ سوال کرناکہ وہ اپنی پہچان پاکستان سے وابستہ کرنے کیلئے تیارہیں یانہیں، دراصل پاکستان بنانے والے مہاجروں کی کھلی توہین ہے ۔ الطاف حسین
 Posted on: 8/16/2017
ڈی جی رینجرزسندھ جنرل محمدسعید کا مہاجروں سے یہ سوال کرناکہ وہ اپنی پہچان پاکستان سے وابستہ کرنے کیلئے
تیارہیں یانہیں، دراصل پاکستان بنانے والے مہاجروں کی کھلی توہین ہے ۔ الطاف حسین
ڈی جی رینجرز کامہاجروں کے حقوق کی جدوجہد کوجنگ قراردینابھی حقائق کومسخ کرناہے
مہاجروں نے کب کس پر حملہ کیا؟ الٹامہاجربستیوں پر حملے کئے گئے اوران کاقتل عام کیاگیا
مہاجر ہی تھے جواپنے آپ کوپاکستانی کہتے تھے جبکہ یہاں آباد دیگرقومیتیں خودکومسلمان یاپاکستانی کہلوانے کے بجائے اپنی
لسانی شناخت پر فخرمحسوس کرتے تھے
کراچی میں صرف مسلمان ہی نہیں رہتے ،کراچی میں ہندو،سکھ ، عیسائی ، یہودی ،پارسی اور دیگر غیرمسلم بھی رہتے ہیں 
ڈی جی رینجرز تمام کراچی والوں کو زبردستی خود کو مسلمان کہلوانے پر مجبورنہیں کرسکتے 
پاکستان کے جھنڈے میں سفید حصہ ملک میں آباد اقلیتوں کی نشاندہی کرتاہے اورڈی جی رینجرزخود اس جھنڈے کی نفی کررہے ہیں
آج کراچی میں امن وسکون نہیں بلکہ خوف ودہشت کاماحول ہے ،بے سکونی ہے ،بے چینی اور عدم تحفظ ہے
رینجرز کراچی میں امن قائم نہیں کررہی ہے بلکہ اپناقبضہ جمارہی ہے ۔ الطاف حسین 
جوانگریزوں کے گھوڑے اورکتے نہلاتے تھے وہ آج پاکستان بنانے والے مہاجروں کوپاکستان اوراسلام کاسبق دے رہے ہیں
آج تک ہم نے فوج یارینجرزپر کوئی حملہ نہیں کیاپھر ڈی جی رینجرزکس جنگ کابہتان ہم پرلگارہے ہیں ؟
ہم کسی سے جنگ نہیں چاہتے ، ہم تمام تنازعات کابامعنی مذاکرات اوربات چیت کے ذریعے حل چاہتے ہیں ۔الطاف حسین
اسٹیبلشمنٹ کو ایم کیوایم کی حقیقت اورمہاجروں کے وجودکوتسلیم کرناہوگااورمہاجروں اوران کی نمائندہ جماعت کوصفحہ ہستی سے مٹانے کی سوچ اورروش ترک کرنی ہوگی۔الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ڈی جی رینجرزسندھ میجرجنرل محمدسعید کا مہاجروں سے یہ سوال کرناکہ وہ اپنی پہچان پاکستان سے وابستہ کرنے کے لئے تیارہیں یانہیں، دراصل پاکستان بنانے والے مہاجروں کی کھلی توہین ہے ۔ جناب الطاف حسین نے یہ بات گزشتہ روز اپنے آڈیوپیغام میں کہی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ڈی جی رینجرز کامہاجروں کے حقوق کی جدوجہد کوجنگ قراردینابھی حقائق کومسخ کرناہے۔انہوں نے کہاکہ مہاجروں کے حقوق کی جدوجہد کو بدامنی اورجنگ سے تعبیرکرکے ڈی جی رینجرزمہاجروں پر جنگ کرنے کابہتان لگارہے ہیں۔انہوں نے سوال کیاکہ مہاجروں نے کب کس پر حملہ کیا؟ الٹامہاجربستیوں پر حملے کئے گئے ،14دسمبر1986ء کو علی گڑھ اورقصبہ کالونی کی بستی پر حملہ ہوا اور سینکڑوں مہاجروں کاقتل عام ہوا، اسی طرح جلال آبادناظم آباد ،خواجہ اجمیرنگری، سرجانی ٹاؤن ، ماڈل کالونی ،گرین ٹاؤن پر حملہ ہوا۔30ستمبر1988ء کو حیدرآباد کے مختلف علاقوں پر حملہ ہوااور آدھے گھنٹے تک میں مہاجروں کاقتل عام کیاگیا، 26/ 27 مئی 1990ء کو سانحہ پکا قلعہ حیدرآبادہوا۔ انہوں نے کہاکہ مہاجربستیوں پر یہ حملے کراچی میں فوج کی موجودگی میں ہوئے کیونکہ جب مہاجروں کایہ قتل عام ہوا اس وقت کراچی میں ہر علاقے میں فوج کی چوکیاں موجودتھیں پھراس بدامنی اورمہاجربستیوں پر حملوں کاذمہ دار ایم کیوایم کوکیسے قراردیاجاسکتاہے؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ رینجرز 1989ء سے کراچی میں تعینات ،40 سال سے فوج رینجرزکراچی میں تعینات ہے مگر وہ شہرمیں امن قائم کرنے میں ناکام رہی ۔ فوج اوراس کے اداروں کی جانب سے عوامی مینڈیٹ کی توہین اورتذلیل کی گئی،مہاجروں کے خلاف پی پی آئی یعنی پنجابی پختون اتحادکی سرپرستی کی گئی اوران سے مہاجربستیوں پر حملے کرائے گئے ۔ انہوں نے کہاکہ ہرمہاجردشمن دراصل مہاجروں کے حقوق کی جدوجہدکوبدامنی اورتشدد سے تعبیرکرکے ان کی جدوجہدکی توہین کرتاہے۔ڈی جی رینجرز نے بھی مہاجروں کی جدوجہدکوجنگ سے تعبیرکرکے ان کی توہین کی ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ڈی جی رینجرزکراچی کے لوگوں کویہ سبق دے رہے ہیں کہ وہ اپنی پہچان سب سے پہلے پاکستان اور اسلام سے وابستہ کریں جبکہ کراچی کے لوگوں نے ہی اسلام اورپاکستان سے وابستگی کواپنی پہچان بنایا تھا اور اسی نام پر اپناسب کچھ قربان کیااورہرطرح کی قربانی دی ۔ انہوں نے کہاکہ ڈی جی رینجرز آج مہاجروں پر یہ بہتان لگارہے ہیں کہ انہوں نے لسانیت کا آغازکیاحقیقت یہ ہے کہ مہاجر ہی وہ تھے جواپنے آپ کوپاکستانی کہتے تھے جبکہ یہاں آباد دیگرقومیتیں خودکومسلمان یاپاکستانی کہلوانے کے بجائے اپنے آپ کوپنجابی، پختون ،بلوچ،سندھی ،سرائیکی ،کشمیری کہلاتے تھے اوراس لسانی شناخت سے فخرمحسوس کرتے تھے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ سابق آرمی چیف جنرل آصف نوازجنجوعہ نے کہاتھا’’ مجھے پنجابی ہونے پر فخرہے، میں پہلے پنجابی اورپھرپاکستانی ہوں ‘‘ ۔ اسی طرح موجودہ آرمی چیف جنرل قمرباجوہ نے کہاکہ ’’ میرا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے اورمیں بلوچی کہلانے پر فخرکرتاہوں ‘‘۔ انہوں نے کہاکہ ڈی جی رینجرزمہاجروں کوسبق دینے سے پہلے آرمی چیف اورفوج کے افسران کویہ بات سمجھائیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں کے ساتھ قیام پاکستان کے بعد سے ہی زندگی کے ہرشعبہ میں ناانصافیاں کی گئیں،دارالحکومت کی کراچی سے پنجاب منتقلی ،سول سروسزسے مہاجروں کی جبری بے دخلی ، محترمہ فاطمہ جناح کاساتھ دینے کی پاداش میں 1964ء میں کراچی میں مہاجربستیوں پر حملے،لسانی فسادات ، کوٹہ سسٹم کانفاذ،اندرون سندھ مہاجروں کی بستیوں پرحملے ، مہاجروں کاقتل عام ،مہاجروں کے مکانوں، دکانوں، باغات کی تباہی اوراندرون سندھ سے مہاجروں کی نقل مکانی مہاجروں کے ساتھ ہونے والے مظالم کی چند مثالیں ہیں اوریہ سب کچھ قیام پاکستان کے بعد سے 70ء کی دہائی تک ہوتارہا۔ اس وقت ایم کیوایم موجود نہیں تھی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ڈی جی رینجرز کہتے ہیں کہ کراچی کے شہریوں کو یہ کہناچاہیے کہ ’’ میں پاکستانی ہوں، میں مسلمان ہوں،میں Karachi - ite ہوں ‘‘ ۔شائدڈی جی رینجرزبھول گئے کہ کراچی میں صرف مسلمان ہی نہیں رہتے ،کراچی میں ہندوبھی رہتے ہیں ،سکھ بھی رہتے ہیں ، عیسائی بھی رہتے ہیں، یہودی بھی رہتے ہیں،پارسی بھی رہتے ہیں اور دیگر غیرمسلم بھی رہتے ہیں ۔پھرڈی جی رینجرزکس طرح کہہ رہے ہیں کہ کراچی کے تمام لوگ خودکومسلمان کہیں؟ ڈی جی رینجرز تمام کراچی والوں کو زبردستی خود کو مسلمان کہلوانے پر مجبورنہیں کرسکتے ، یہ تمام غیرمسلموں پر جبرکرنے کی بات ہے جبکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ ’’ دین میں جبر نہیں ہے ‘‘ ۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے ’’ لکم دینکم ولی الدین ‘‘ ۔انہوں نے کہاکہ ڈی جی رینجرزکی یہ بات تمام اقلیتوں کی نفی ہے ،پاکستان کے جھنڈے میں سفید حصہ ملک میں آباد اقلیتوں کی نشاندہی کرتاہے اورڈی جی رینجرزخود اس جھنڈے کی نفی کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اسی قسم کے خیالات کااظہار چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے بھی کیاتھا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج اوراسٹیبلشمنٹ کی جانب سے لیاری گینگ وار کی سرپرستی کی گئی ، انہیں مہاجروں کے قتل عام کیلئے اسلحہ اورہرطرح کی سرپرستی فراہم کی گئی اوران کے ذریعے مہاجروں کاقتل عام کرایاگیا۔ فوج کی موجودگی میں کراچی میں جہادی مدرسے قائم کئے گئے ،آج کراچی میں کئی ہزارغیرقانونی جہادی مدرسے قائم ہیں ، آج تک رینجرزنے ان غیرقانونی مدرسوں کے خلاف کارروائی نہیں کی بلکہ ان کی سرپرستی کی جبکہ دوسری جانب ایم کیوایم کے سینکڑوں دفاتر مسمار کردیئے گئے ،باقی تمام دفاترسیل کردیئے گئے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ کراچی میں رینجرز کی وجہ سے امن قائم ہوگیاہے جبکہ کراچی کاہرشہری بخوبی جانتاہے کہ کراچی میں جس قدر بدامنی ،دہشت گردی، چوری ،ڈکیتی ، اغوا برائے تاوان اوردیگرجرائم آج ہیں اس سے پہلے کبھی نہیں تھے ، آج کراچی میں امن وسکون نہیں بلکہ خوف ودہشت کاماحول ہے ،بے سکونی ہے ،بے چینی اور عدم تحفظ ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کہاجاتاہے کہ رینجرز کراچی میں قیام امن کیلئے آپریشن کررہی ہے ۔دراصل رینجرزکراچی میں امن قائم نہیں کررہی ہے بلکہ اپناقبضہ جمارہی ہے ۔ آج کراچی کی آدھے سے زیادہ سرکاری ونجی عمارتوں ، یونیورسٹیوں،کالجوں،ہاسٹلوں،اسکولوں، کھیل وتفریح کے مراکز پر رینجرز کاقبضہ ہے جن میں کراچی یونیورسٹی ، ڈی جے کالج کے مٹھارام ہاسٹل ، جناح کورٹ اورریڈیوپاکستان سرفہرست ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ رینجرز کراچی میں قیام امن کی بنیادی ذمہ داری انجام دینے کے بجائے کاروبارکررہی ہے ، ہاؤسنگ اسکیمیں ، واٹرہائیڈرینٹ ،پیٹرول پمپس ،شادی لان اور دیگر کاروباری مراکز چلارہی ہے ، چائناکٹنگ کررہی ہے، ریتی بجری اورعمارتی سامان بنانے اوردیگر کاروبارکررہی ہے ۔پولیس کی طرح کراچی میں تعینات رینجرزکے افسران بھی کروڑپتی بن چکے ہیں۔جرنیل ارب پتی، کھرب پتی ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ عجب مذاق ہے کہ جن کے آباؤاجدادنے برصغیرکی آزادی کی جدوجہد کے دوران حریت پسندوں کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دیا، حریت پسندوں کی مخبری اوراس کے صلے میں جاگیریں حاصل کیں، جوانگریزوں کے گھوڑے اورکتے نہلاتے تھے وہ آج پاکستان بنانے والے مہاجروں کوپاکستان اوراسلام کاسبق دے رہے ہیں اوراپنے حقوق کے لئے آواز بلندکرنے پر مہاجروں کوریاستی طاقت کے ذریعے کچلنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ریاستی آپریشن کے دوران میرے 20ہزار کارکنوں اورمہاجروں کوشہیدکردیاگیا، اب بھی سینکڑوں لاپتہ اورہزاروں جیلوں میں قیدہیں، آج بھی میرے کارکنوں کوماورائے عدالت قتل کیاجارہاہے لیکن آج تک ہم نے فوج یارینجرزپر کوئی حملہ نہیں کیا، کسی فوجی یارینجرزکے افسریااہلکارکوقتل نہیں کیاپھر ڈی جی رینجرزکس جنگ کابہتان ہم پرلگارہے ہیں ؟ انہوں نے کہاکہ ہم کسی سے جنگ نہیں چاہتے ، ہم تمام تنازعات کابامعنی مذاکرات اوربات چیت کے ذریعے حل چاہتے ہیں ، ڈی جی رینجرز، فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو ایم کیوایم کی حقیقت اورمہاجروں کے وجودکوتسلیم کرناہوگااورمہاجروں اوران کی نمائندہ جماعت کوصفحہ ہستی سے مٹانے کی سوچ اورروش ترک کرنی ہوگی ۔

*****

11/19/2017 9:54:19 PM
سرکلر ...
19 Nov 2017