Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

(تحریک کی اصل جڑ) تحریر : علی عباس


(تحریک کی اصل جڑ) تحریر : علی عباس
 Posted on: 6/14/2017

(تحریک کی اصل جڑ) تحریر : علی عباس 
درخت کی بے شمار شاخیں ہوتی ہیں جن میں کچھ مضبوط ہوتی ہیں ،کچھ کمزور ہوتی ہیں اورکچھ اندر سے کھوکھلی ہوتی ہیں جو بظاہر مضبوط نظر آتی ہیں مگر اندر سے گلی سڑی ہوتی ہیں جسے اگر ہلکاسا ہاتھ بھی لگایا جائے تو وہ درخت سے جداہوجاتی ہیں اور کچھ شاخیں اضافی ہوتی ہیں جنہیں مجبورً ادر خت سے جد ا کر دیا جاتا ہے یعنی کاٹ دیا جاتا ہے ۔اسی طرح در خت سے جڑے پتے بھی ہوتے ہیں جو جب تک درخت سے جڑے ہوتے ہیں وہ تر و تازہ رہتے ہیں جب وہ درخت سے الگ ہوتے ہیں یعنی جھڑ جاتے ہیں کیونکہ وہ کمزور ہوتے ہیں اور تیزہواؤں کے جھونکے برداشت نہیں کر پاتے اور درخت سے جدا ہوکرزمین پر گرجاتے ہیں لیکن کچھ پتے ایسے بھی ہوتے ہیں جو تیز ہواؤں کو برداشت کرلیتے ہیں وہ درخت سے جڑے رہتے ہیں وہ کسی صور ت درخت سے جدا نہیں ہوتے ۔ جو پتے زمین پر گرتے ہیں تو وہ ادھر ادھر بکھر جاتے ہیں ہوائیں انہیں زمین پر بھی نہیں رہنے دیتی اور کبھی ایک طرف تو کبھی دوسری جانب اور کبھی بیچ میں ہوتے ہیں وقت کے ساتھ ساتھ یہ پتے سوکھ جاتے ہیں اور لوگ ان کو پیر و تلے روندے ہوئے اپنی منزل کی جانب گامزن ہوتے ہیں ۔زمین پرگرے سوکھے پتوں کو اکثر لوگ اٹھاکر اپنے گھر لیجاتے ہیں جہاں انہیں جلا کر مچھر وں کوبھگانے کے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے،اسی طرح درخت سے ٹو ٹی ہوئی شاخوں کوبھی لوگ اپنے گھر لیجاتے ہیں جہاں ان کو جلاکر گھر کی ہنڈیا یا دیگر کام کیلئے استعمال کیا جاتاہے اور جو پتے بیچ چوراہوں پر پڑے رہ جاتے ہیں بلاآخر ان کی منز ل ڈسٹ بن ہوتی ہے ۔مگر درخت اپنی جگہ ایک مضبوط چٹان کی طرح نہ صرف کھڑ ا رہتاہے بلکہ بلندی کی جانب رواں دواں رہتا ہے کیونکہ اس کی جڑیں زمین کے اندر دور دور تک پھیلی ہوئی ہوتی ہیں او ربلا آخر یہ درخت دوبارہ ہر ا بھر ہوجاتا ہے او رپتے دوبارہ اس کی زینت بن جاتے ہیں۔ 
اسی طرح جو لوگ کسی بھی نظریاتی یا انقلابی تحریک کے قائد سے علیحدگی یا غداری کر لیتے ہیں تو ان لوگوں کی حیثیت بھی ایک کچرا کی مانند ہوجاتی ہے جب تک وہ قائد سے جڑ ے رہتے ہیں ان کو معاشرے میں عزت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔جس طرح درخت کی کچھ شاخیں کمزور ہوتی ہیں اس طرح جو لوگ غداری کرتے ہیں وہ کسی نہ کسی لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں ایسے لو گ ضمیر فروش یا مفاد پر ست ہوتے ہیں یا پھر اول روز سے ہی کسی کے ہاتھوں کا کھلونا بنے ہوئے ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ قائد کو تنہا توکر دیتے ہیں اورتنظیم کو نقصان بھی پہنچا دیتے ہیں مگر یہ سب کچھ وقتی ہوتا ہے، جس طرح درخت سے پتے جد ا ہوجاتے ہیں اور درخت کچھ وقت کیلئے بغیر پتوں کے ہوتا ہے مگر تھوڑے ہی وقت میں درخت پر دوبارہ پتے آجاتے ہیں پھر وہ درخت سبزہ میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔ اس طرح قائد او ر تحریک سے جو لوگ جڑے رہتے ہیں وہ دراصل ہر قسم کے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں ۔کیوں کہ وہ اول روز سے ہی قائد کو دیئے گئے حلف کا پاس رکھتے ہیں او رآخری سانس تک تحریک و قائد کے ساتھ جڑے رہنے کا عزم کر لتے ہیں انہیں نا اپنے مفاد ات سے غر ض ہوتا ہے او رنہ ہی وہ کسی کے ہاتھوں کاکھلونا بنتے ہیں کیونکہ وہ ذہنی طو ر پر نظریاتی وانقلابی ہوتے ہیں ۔جن لوگوں کی بغاوت کی بنا قائد او رتحریک کو عارضی طور پر مشکلات کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے مگر تھوڑے ہی عرصے میں تحریک دوبار ہ اپنی جگہ پر قائم ہوجاتی ہے اس کی وجہ اس کے کارکنان ہوتے ہیں جو گرفتار بھی ہوتے، شہادت بھی حاصل کرتے ہیں، گھروں سے دور کسمپر سی کی زندگی بھی گزارتے ہیں،ہر قسم کی صعو بتیں واذیتیں بھی برداشت کرتے ہیں مگر اپنے قائد سے جداہونے کا تصور نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ قائد اپنے کارکنان کو تحریک کے ذمہ داروں سے زیادہ فوقیت دیتا ہے ان سے محبت کرتا ہے بلکہ ان کا مان و سرمایہ بھی یہی کارکنان ہوتے ہیں۔ تحریک کے قیام سے آج تک اگر جائزہ لیا جائے تو معلو م یہی ہوتا ہے کہ ہر قسم کی قربانی تحریک کے کارکنان نے دی ذمہ دار وں نے ہمیشہ عیش وآرام کی زندگی گزاری اور ہر قسم کی مراعات حاصل کی اور تحریک پر جب کڑا وقت پڑا تو غداری کرلی۔ بانی وقائد جناب الطاف حسین نے 11جون 1978ء کو جو پودا لگایا تھا وہ آج ایک مضبوط او ر تناور درخت بن چکا ہے جس کی جڑیں اس کی کارکنان ہیں اور جس تحریک میں جانوں کا نذرآنہ پیش کرنے والے کارکنان موجود ہوں تو پھر ایسی تحریکوں کو ظلم وجبر کے تحت عارضی طو ر پر توکمزور کیا جاسکتا ہے مگر مستقل طور پر اس کو ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

8/17/2017 12:39:14 PM