Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان میں فوج، پیراملٹری فورسز اورپولیس کے ہاتھوں 25 ہزار سے زائد مہاجروں کوقتل کیاجاچکاہے،الطاف حسین


پاکستان میں فوج، پیراملٹری فورسز اورپولیس کے ہاتھوں 25 ہزار سے زائد مہاجروں کوقتل کیاجاچکاہے،الطاف حسین
 Posted on: 5/16/2017
پاکستان میں فوج، پیراملٹری فورسز اورپولیس کے ہاتھوں 25 ہزار سے زائد مہاجروں کوقتل کیاجاچکاہے،الطاف حسین
اقوام متحدہ کو مہاجروں کے ماورائے عدالت قتل کانوٹس لیکر مہاجروں کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں دائر کرنا چاہیے 
اسٹیبلشمنٹ کو بلوچوں،پختونوں اورمہاجروں کو ان کے جائز حقوق دینے ہوں گے اوران سے ڈائیلاگ کرنا ہوں گے 
فوج کو ایم کیوایم سے بات کرنی ہوگی ، بات چیت کے ذریعہ مسائل کاحل تلاش کرنا ہوگا ۔الطاف حسین
فاٹاکے علاقوں میں طالبان کے خلاف کارروائی کے نام پر آبادیوں پر بمباری کی جارہی ہے اور بے گناہ قبائلی عوام کو نشانہ بنایاجارہاہے
فوج نے کئی بار آئین کواپنے پیروں تلے روند ڈالا مگران کے خلاف چوہدری نثار کے منہ سے کبھی ایک لفظ نہیں کہاگیا
دنیا کے 199 میں سے 198 ممالک کی اپنی فوج ہے جبکہ پاکستان ایساملک ہے جس کی فوج کا ملک ہے
فوج نے ایم کیوایم کے خلاف جواسکرپٹ لکھا تھا وہ 14 مئی کو بری طرح ناکام ہوگیا ، عوام نے پی ایس پی ٹولے کو بری طرح مسترد کردیا
اسٹیبلشمنٹ احسان اللہ احسان کو ہیروبناکرپیش کررہی ہے ، مشال خان کے قتل میں ملوث پی ٹی آئی کے کونسلر کو ملک سے فرار کرادیاگیا
کشمیرکے مستقبل کافیصلہ کرنے کاحق صرف کشمیری عوام کو ہے ، کشمیری عوام کی اکثریت جوفیصلہ کرے گی ہمیں اسے قبول کرنا چاہیے 
ا یم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن سے وڈیو لنک کے ذریعہ براہ راست خطاب

متحدہ قومی موومنٹ(پاکستان ) کے بانی و قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان میں فوج، پیراملٹری فورسز اورپولیس کے ہاتھوں اب تک 25 ہزار سے زائد مہاجروں کوقتل کیاجاچکاہے،اقوام متحدہ کو مہاجروں کے ماورائے عدالت قتل کانوٹس لیکر مہاجروں کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں دائر کرنا چاہیے ۔ اسٹیبلشمنٹ کو بلوچوں،پختونوں اورمہاجروں کو ان کے جائز حقوق دینے ہوں گے اوران سے ڈائیلاگ کرنا ہوں گے ۔ فوج کو ایم کیوایم سے بات کرنی ہوگی ، بات چیت کے ذریعہ مسائل کاحل تلاش کرنا ہوگا ۔ ا نہوں نے کہاکہ کشمیریوں کے مستقبل کافیصلہ کرنے کاحق صرف کشمیری عوام کو ہے ، کشمیری عوام کی اکثریت جوفیصلہ کرے گی ہمیں اسے قبول کرنا چاہیے ۔ یہ کشمیری عوام کا حق ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کریں، بھارت کے ساتھ رہناچاہیں یا اپنا آزادملک بنائیں ۔ ۔ان خیالات کااظہارانہوں نے پیرکی شب ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن سے وڈیو لنک کے ذریعہ براہ راست خطاب کرتے ہوئے کیا۔اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے نہ ماضی میں بکنا گوارا کیا اورنہ آئندہ اصولوں پر سودے بازی کروں گا، جب تک اللہ تعالیٰ کی تائیداور عوام کی حمایت میرے ساتھ ہے میں آخری سانس تک مہاجروں اوردیگرمظلوموں کے حقوق کے حصول اورظلم وناانصافی سے آزادی کی جدوجہد کرتا رہوں گا، اس جدوجہد کی پاداش میں اسٹیبلشمنٹ اگر مجھے ملک دشمن کہتی ہے تو کہتی رہے ۔بدقسمتی سے پنجابی اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ بلوچوں، پختونوں، سچے قوم پرست سندھیوں، مہاجروں ، قبائلیوں اورسرائیکی عوام کو غدارقراردیاہے۔ پنجابی اسٹیبلشمنٹ نے حقوق کے حصول اورناانصافیوں کے خلاف آواز بلندکرنے پرباچہ خان، سائیں جی ایم سید، نواب اکبر بگٹی ، عطاء اللہ مینگل اور نواب خیربخش مری کو غدارقراردیااورآج وہ الطاف حسین کوغدارقراردے رہی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج اور دیگر ادارے غریبوں کے خلاف تو حرکت میں آتے ہیں لیکن وہ قومی دولت لوٹنے والے بڑے بڑے جاگیردار اور وڈیروں سے ہاتھ ملاتے ہیں۔جاگیرداروں، وڈیروں ، سرمایہ داروں ، سرداروں اورخوانین اپنی قومیت کے غریب ہاریوں ، کسانوں اورمحنت کشوں کو اپنا غلام بنایااور اپنے اپنے علاقوں میں نجی جیلیں قائم کیں لیکن آج تک فوج نے جاگیرداروں اوروڈیروں کی نجی جیلوں اوران کے غیرانسانی مظالم کے خاتمے کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بلوچستان میں اپنے حقوق کے لئے آوازاٹھانے والے بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں جبکہ فاٹاکے قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف کارروائی کے نام پر آبادیوں پر بمباری کی جارہی ہے اور بے گناہ قبائلی عوام کو نشانہ بنایاجارہاہے۔ انہوں نے بلوچوں، پختونوں اورقبائلی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم پر افسوس کیااظہارکیا۔انہوں نے کہاکہ فوج نے 1948ء سے لے کرہرمحاذ پر قبائیلوں کو آگے رکھ کرانہیں قربانی کابکرابنایا اور آج انہی قبائلیوں کو نشانہ بنایاجارہاہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1964 ء سے لیکرآج 2017ء تک تقریباً پاکستان میں فوج، پیراملٹری فورسز اورپولیس کے ہاتھوں 25 ہزار سے زائد مہاجروں کا قتل عام کیاگیا اورآج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ میں اپنی بھابھی کی رضامندی سے اپنے بڑے بھائی ناصر حسین اوربھتیجے عارف حسین کاماورائے عدالت قتل تو معاف کرسکتا ہوں لیکن 25 ہزارسے زائد مہاجرشہداء کالہوان کے لواحقین ہی معاف کرسکتے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں غریب پنجابیوں پر نہیں بلکہ ہمیشہ پنجاب کی رولنگ ایلیٹ پر تنقید کرتارہاہوں، پنجابیوں نے فوج کے خلاف غزلیں لکھیں ، جنرل ضیاء کے زمانے میں پنجابی سیاستدانوں نے بھارتی ٹینکوں پربیٹھ کر پاکستان آنے کی دھمکیاں دیں، 93 ہزار فوجیوں نے بھارتی جنرل اروڑہ سنگھ کے آگے ہتھیارڈال دیئے لیکن انہیں کبھی غدار نہیں کہاگیا ۔ آج وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار کہتے ہیں کہ جو ریاستی اداروں کے خلاف بات کرے گا اسکے خلاف اقدام کیاجائے گالیکن فوج نے کئی بار پاکستان کے آئین کواپنے پیروں تلے روند ڈالا مگران کے خلاف چوہدری نثار کے منہ سے کبھی ایک لفظ نہیں کہاگیا۔جناب الطاف حسین نے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کاتذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ کشمیری عوام نے اپنے حقوق کیلئے ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں اورمیں ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں ۔انہوں نے کہاکہ فوج، آئی ایس آئی اور قلمکار کشمیرکا مسئلہ صرف خانہ پری کیلئے اٹھارہے ہیں مگردل سے کوئی بھی مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ کشمیر، پاکستان یابھارت کا نہیں بلکہ صرف کشمیریوں کا ہے ، کشمیرکے مستقبل کافیصلہ کرنے کاحق بھی صرف کشمیری عوام کو ہے ، کشمیری عوام کی اکثریت جوفیصلہ کرے گی ہمیں اسے قبول کرنا چاہیے ۔ یہ کشمیری عوام کا حق ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کریں ، بھارت کے ساتھ الحاق کریںیا اپنا آزادملک بنائیں ،بھارت اورپاکستان کوکشمیری عوام کو فٹ بال نہیں سمجھنا چاہیے اورانہیں سبز باغ نہیں دکھانے چاہئیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1964ء سے لیکرآج 2017ء تک مہاجروں اوران کی نمائندہ جماعت ایم کیوایم کو ختم کرنے کیلئے آپریشن میں فوج نے اربوں روپے خرچ کیے اگر یہ رقم کشمیر کی جدوجہد آزادی کیلئے استعمال کی جاتی توآج کشمیرآزاد ہوچکاہوتا۔ یہ امرافسوسناک ہے کہ کشمیری عوام سے ہمدردی کے دعویدار رفوجی جرنیلوں نے حقیقی بنائی ، جن جرائم پیشہ عناصر کو ایم کیوایم کی صفوں سے نکالاگیا تو وہ بیرون ملک بھاگ گئے ، انہیں آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی جنرل رضوان اختر، ڈی جی رینجرز بلال اکبر اورکورکمانڈرکراچی جنرل نوید مختار کے دور میں بیرون ملک سے پاکستان لاکر پی ایس پی ٹولہ تشکیل دیاگیا، ورنہ کمالو گروپ میں کوئی اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ کراچی کے علاقے ڈیفنس یا حیدرآباد اورمیرپورخاص میں قیمتی بنگلے خریدسکیں، جلسہ جلوس کے بھاری اخراجات برداشت کرسکیں۔ اگر فوج اتنا سرمایہ ایم کیوایم کو ختم کرنے کی کوششوں پر خرچ کرنے کے بجائے ایم کیوایم سے ہاتھ ملاتی اوراس کے ہاتھ مضبوط کرتی تو ایم کیوایم ہرمحاذپر فوج کاساتھ دیتی۔ 

جناب الطاف حسین نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ جواب دے کہ الطاف حسین نے کونسا ملک توڑا ہے ؟ الطاف حسین نے ہمیشہ غریب پنجابیوں، سندھیوں، بلوچوں، پختونوں، سرائیکیوں، کشمیریوں، ہزاروال، گلگتیوں ، بلتستانیوں اوردیگرقومیتوں کے حقوق کی بات کی، انکے مسائل کے حل کیلئے آواز اٹھائی لیکن الطاف حسین کو ہی غدارقراردیاگیا کیونکہ وہ جاگیرداروں اوروڈیروں کی طرح چند ٹکوں کیلئے اپنے ظرف وضمیرکاسودا کرنا گوارا نہیں کرتا۔فوج کے بریگیڈئیرامتیاز احمد آج بھی حیات ہیں جو ٹیلی ویژن پر کہہ چکے ہیں کہ وہ نوٹوں سے بھرے سوٹ کیس لیکر الطاف حسین کے پاس گئے تھے لیکن انہوں نے یہ رقم لینے سے صاف انکار کردیاتھا۔اسی طرح جنرل مرزا اسلم بیگ بھی حیات ہیں ان سے بھی تصدیق کی جاسکتی ہے جبکہ جنرل حمیدگل انتقال کرگئے ، اللہ ان کی مغفرت فرمائے انہوں نے فوج میں بہت بگاڑ پیدا کیے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ 12مئی کا بہت چرچا کیاجاتا ہے لیکن سانحہ قصبہ علیگڑھ، سانحہ حیدرآباد اور سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد کاکوئی تذکرہ تک نہیں کرتا کہ کس طرح سینکڑوں مہاجروں کا قتل عام کیاگیا اورآج تک کسی کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایاگیا۔ انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دیر ہے اندھیرنہیں ہے ، آج 1400 سال بعد بھی نواسہ رسولؐ حضرت امام حسین ؑ کو عقیدت ومحبت سے یاد کیاجاتا ہے جبکہ یزید، چنگیزخان اورہلاکوخان پرآج بھی لعنت ملامت کی جاتی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے مسلح افواج کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں ملک کا دشمن نہیں تھا نہ ملک کا دشمن ہوں،میرا قصور صرف یہ ہے کہ میں سچ بات کہتا ہوں۔ فوج نے میرے 71 سالہ بے گناہ بزرگ دانشور پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف جنہوں نے 40سال تک بچوں کو زیورعلم سے آراستہ کیا ، انہیں صرف پریس کانفرنس کرنے کے جرم میں گرفتارکرکے جیل میں ڈال دیا، مومن خان مومن کو جیل میں ڈالا، سابق جج ساتھی اسحاق اوران کے اہل خانہ کو بہیمانہ تشددکانشانہ بنایا۔انہوں نے کہاکہ فوج نے ایم کیوایم کوختم کرنے کیلئے جواسکرپٹ لکھا تھا وہ 14 مئی کو بری طرح ناکام ہوگیااورملین مارچ کادعویٰ کرنے والے چوراچکوں ، بھتہ خوروں اورچائنا کٹنگ کرنے والے پی ایس پی ٹولے کی اصلیت واضح ہوگئی اورکراچی کے عوام نے انہیں بری طرح مسترد کردیا۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی تجزیہ نگار، اینکرپرسنز اورصحافی پوچھیں کہ کمالو گروپ کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟ ان کے پاس قیمتی بنگلے اوربلٹ پروف گاڑیاں کہاں سے آئیں؟ انہوں نے کہاکہ میری اطلاعات کے مطابق آئی ایس آئی اب تک کمالو گروپ پر 50 ار ب روپے خرچ کرچکی ہے اور25 کروڑروپے گزشتہ روز نام نہاد ملین مارچ کیلئے دیئے گئے تھے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی مظلوم قومیتوں کے ساتھ ناانصافیوں اورانہیں ظلم کانشانہ بنانے والے پاکستان کی سلامتی کے خلاف عمل کررہے ہیں ۔ انہیں چاہئے کہ وہ ظلم وناانصافیوں کاسلسلہ بند کردیں ، لاپتہ بلوچوں اورمہاجروں کو باحفاظت بازیاب کرائیں ،اب اسٹیبلشمنٹ کو بلوچوں،پختونوں ،مہاجروں،سندھیوں کو ان کے جائز حقوق دینے ہوں گے اوران سے ڈائیلاگ کے ذریعہ ہرمسئلہ کا حل تلاش کرنا ہوگا ۔ فوج کو ایم کیوایم سے بات کرنی ہوگی ، بات چیت کے ذریعہ مسائل کاحل تلاش کرنا ہوگا ، آپ اپنے متعصبانہ اقدامات سے پاکستان کی سلامتی کو تونقصان پہنچاسکتے ہولیکن الطاف حسین کی جماعت اور اس کے چاہنے والوں کونہیں توڑسکتے۔ہمارے بزرگوں نے پاکستان بنایاتھااورظلم وجبرسے بانیان پاکستان کی اولادوں کو ختم نہیں کیاجاسکتا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج دنیا میں کہا جارہا ہے کہ دنیا کے 199 میں سے 198 ممالک کی اپنی فوج ہے جبکہ پاکستان ایساملک ہے جس کی فوج کا ملک ہے ، آج امریکہ اوریورپ ڈیورنڈ لائن اورسرجیکل اسٹرائیک کی باتیں کررہے ہیں اورہماری اسٹیبلشمنٹ ایک طرف 71 سالہ بزرگ پروفیسر حسن ظفرعارف کو گرفتارکررہی ہے اور دوسری جانب ہزاروں شہریوں کے قاتل احسان اللہ احسان کو ہیرو بناکرپیش کررہی ہے ، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے طالبعلم مشال خان کے قتل میں ملوث پی ٹی آئی کے کونسلر کوگرفتارکرنے کے بجائے ملک سے فرار کرادیاگیا، مشال خان کے والد اورآرمی پبلک اسکول پشاور کے شہداء کے والدین کو دھمکیاں دی جارہی ہیں لیکن بدنیت وزیرداخلہ چوہدری نثار مشال خان اورآفتاب احمدکے قاتلوں کے بارے میں کچھ بتانے کو تیار نہیں ہے ۔جناب الطاف حسین نے پی آئی بی ٹولہ کے ضمیرفروش عناصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فاروق ستار اور اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ وہ لاتعلقی کرنے کے باوجود تحریک اورقوم کی امانت سے چمٹے ہوئے ہیں۔ وہ الطاف حسین سے سودفعہ لاتعلقی اختیارکریں مگرانہیں جوکچھ الطاف حسین کی وجہ سے ملاہے ، بانی وقائدایم کیوایم سے لاتعلقی کی ہے توانہیں قائدسے منسوب ایک ایک چیز واپس کرنی چاہیے کیونکہ انہوں نے قرآن پر قسمیں کھائی ہیں کہ وہ سب قوم ، تحریک اورالطاف حسین کی امانت ہیں اگرانہوں نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسمیں کھائی ہیں تو ان پر قرآن کی مار پڑے گی ۔جناب الطاف حسین نے ہمت وجرات اورثابت قدمی پر کراچی ، حیدرآباد، میرپورخاص اور سندھ کے دیگرشہروں کے عوام کو زبردست خراج تحسین اورسلام تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ تمام شہروں کے عوام الطاف بھائی کے ہیں اورسب الطاف بھائی کے پیارے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے مہاجرنوجوانوں بالخصوص طلباوطالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگرآپ مجھ سے محبت کرتے ہوتو پھر عہد کروامتحان میں چاہے فیل ہوجاؤ لیکن کبھی نقل نہیں کروگے ، محنت اورلگن سے تعلیم حاصل کروگے ، سماجی برائیوں سے خود کودور رکھوگے ، والدین ، اساتذہ ،بزرگوں اورخواتین کا احترام کروگے ، پان ، سگریٹ اورگٹکے جیسی بری عادتیں ترک کرکے تہذیب وشائستگی اورحسن اخلاق کی قابل تقلیدمثالیں قائم کروگے اوراپنی تہذیب اورزبان سیکھوگے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ نیلسن مینڈیلا ایک انقلابی ہیرو ہیں جنہوں نے 27سال قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں اورحقوق کی جدوجہد میں الطاف حسین نے بھی 26 سال جلاوطنی کی زندگی گزاری ہے اورجلاوطنی کی زندگی جیل کی اسیری سے زیادہ کربناک ہوتی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے وکلاء سے اپیل کی کہ وہ انسانیت کی خاطر ایم کیوایم کے اسیرکارکنان کے مقدمات کی پیروی کریں اور مظلوموں کو انصاف دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

*****

7/23/2017 3:55:44 AM