Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں اور لاپتہ بلوچوں کوبازیاب کرائیں۔الطاف حسین


چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں اور لاپتہ بلوچوں کوبازیاب کرائیں۔الطاف حسین
 Posted on: 4/30/2017
چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں اور لاپتہ بلوچوں کوبازیاب کرائیں۔الطاف حسین
چیف جسٹس عمران خان سے حلفیہ معلوم کریں کہ ان کی باقاعدہ نکاح کے بعد کتنی اولادیں ہیں اورکتنی بغیرنکاح کے ہیں
چیف جسٹس ان لوگوں کے بارے میں بھی سوموٹولیں جنہوں نے کروڑوں روپے کے قرضے لیکر معاف کرائے
ایم کیوایم کے بانی وقائدجناب الطاف حسین کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے نام آڈیوپیغام میں اپیل

متحدہ قومی موومنٹ ( پاکستان ) کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس ثاقب نثارسے اپیل کی ہے کہ وہ ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں اور لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے سوموٹولیں اورانہیں بازیاب کرائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس سپریم کورٹ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کوعدالت میں طلب کرکے ان سے حلفیہ یہ معلوم کریں کہ ان کی باقاعدہ نکاح کے بعد کتنی اولادیں ہیں اورکتنی بغیرنکاح کے ہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ کے نام یہ اپیل انہوں نے آج اپنے ایک آڈیوپیغام میں کی ۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں گزشتہ کئی برسوں سے ریاستی جبرکے باعث جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبورہوں،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے امن وامان کے قیام کے نام پر کراچی میں آپریشن شروع کر رکھا ہے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر ہمارے بے گناہ کارکنوں کوگرفتارکرکے سرکاری حراست میں تشدد کا نشانہ بناکر ان کی مسخ شدہ لاشیں سڑکوں اورویرانوں پر پھینک دیناکسی طرح بھی آئین وقانون کے مطابق نہیں، ایم کیوایم کے سینکڑوں کارکنان لاپتہ ہیں جنہیں ان کے گھروالوں کے سامنے گرفتارکیاگیا، اسی طرح بلوچستان سے بھی سینکڑوں افرادلاپتہ ہیں۔ ان لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے ہائیکورٹس اورسپریم کورٹ میں پٹیشنز دائرکی ہیں، اسی طرح ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ نے بھی پٹیشنز دائرکررکھی ہیں لیکن ان کی کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔جناب الطاف حسین نے چیف جسٹس ثاقب نثارکومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے مورخہ 29اپریل کو لاہورمیں ماڈل کورٹس کی تقریب سے خطاب میں ببانگ دہل اور زور دے کر یہ کہاکہ ’’ اگرمیں نے انصاف فراہم کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تومیں اپنے آپ کومعاف نہیں کروں گا ، اور اگر جوڈیشری نے اپنی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری پوری نہیں کی تب بھی میں اپنے آپ کومعاف نہیں کرسکوں گا۔ انصاف فراہم کرناہماری ، میری اور جوڈیشری کی ذمہ داری ہے ‘‘ ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں ایک پاکستانی ہونے کے ناطے آپ سے مؤدبانہ درخواست کرتاہوں کہ آپ نے لاہور میں گزشتہ روز جوخطاب کیاہے اس کی لاج رکھتے ہوئے ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں اور بلوچوں کولاپتہ کئے جانے کے معاملہ پرسوموٹولیں، تصدیق کیلئے چاہیں تولاپتہ افرادکے اہل خانہ کوبھی طلب کرسکتے ہیں، آپ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ داروں کو بلاکر پوچھا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ مجھے امیدہے کہ چیف جسٹس اس معاملے پر ضرور غورکریں گے اورمظلوم خاندانوں کوانصاف فراہم کریں گے۔ جناب الطا ف حسین نے چیف جسٹس ثاقب نثارکومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جوڈیشری مختلف معاملات پر کیسزسن رہی ہے، جیسے پانامہ کامعاملہ ہے یاڈان لیکس کامعاملہ ہے،اسی طرح آپ ان لوگوں کے بارے میں بھی سوموٹولیں جنہوں نے کروڑوں روپے کے قرضے لیکر معاف کرائے جوکہ سراسرغیرقانونی عمل ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میری عمران خان سے کوئی ذاتی پرخاش نہیں لیکن انہوں نے لندن آکراسکاٹ لینڈ یارڈکے لوگوں سے ملاقاتیں کرکے میرے خلاف درخواستیں جمع کرائیں لیکن میں نے اس پر کوئی واویلانہیں کیا، مجھ پر ان شکایات کی تحقیقات ہوئیں لیکن مجھے باعزت بری کیاگیا۔ اسی طرح تحریک انصاف کی ایک خاتون رہنماکاقتل ہواتواس وقت عمران خان اسپتال میں زیرعلاج تھے لیکن انہوں نے بسترپر واقعہ کے ہوتے ہی یہ الزام لگادیا کہ یہ قتل ایم کیوایم نے کیاہے اورالطاف حسین نے کرایاہے۔ عمران خان کی جانب سے میرے خلاف نفرت انگیز تقریر کامقدمہ بنایاگیا، برطانیہ کی پولیس اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کے بعدمجھے باعزت بری کیا ۔ جناب الطاف حسین نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ وہ عمران خان کو عدالت میں طلب کریں اوران سے سوال کریں کہ وہ قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کرقسم کھاکہ بتائیں کہ ان کی جواولادیں ہیں ان میں کتنی وہ ہیں جوباقاعدہ نکاح کے بعد پیداہوئیں اورکتنی وہ ہیں جوبغیرنکاح کے ہوئیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ لاس اینجلس کورٹ کی ایک عدالت نے عمران خان کے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد یہ فیصلہ دیاکہ سیتاوائٹ نامی ایک خاتون کی بچی ٹائرن کے والد عمران خان ہیں۔ جناب الطاف حسین نے چیف جسٹس ثاقب نثارسے درخواست کی کہ آپ اس معاملے میں آئین کے آرٹیکل 62، 63 کا جائزہ لیں اورآئین کے تحت اس کافیصلہ کریں، اگرچیف جسٹس چاہیں توہم لاس اینجلس کورٹ کے فیصلے کی کاپی بھی انہیں فراہم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ لاپتہ افرادکو بازیابی کرائیں تو ان مظلوموں کے اہل خانہ انہیں دعائیں دیں گے۔ 

*****

12/14/2017 8:44:53 PM