Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ریاستی اداروں کے منہ کو خون لگ گیا ہے : محمد حنیف (بشکریہ بی بی سی اردو)


ریاستی اداروں کے منہ کو خون لگ گیا ہے : محمد حنیف ۔۔۔۔۔ بشکریہ بی بی سی اردو
 Posted on: 4/7/2017 1

ریاستی اداروں کے منہ کو خون لگ گیا ہے: محمد حنیف

راچی کی ایک عدالت نے بلالائسنس اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں حراست میں لیے گئے کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ کیمیا کے استاد ڈاکٹر ریاض احمد کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

سنیچر کو رینجرز کی جانب سے ڈاکٹر ریاض کی گرفتاری کے بعد جہاں سول سوسائٹی کی جانب سے ان کی رہائی کے لیے مظاہرے کیے گئے وہیں سوشل میڈیا پر اس اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

بی بی سی اردو کی ارم عباسی نے اس معاملے پر معروف تجزیہ کار محمد حنیف سے بات کی جن کا کہنا تھا کہ ’کراچی یونیورسٹی میں، جہاں ڈاکٹر ریاض پڑھاتے ہیں، وہاں رینجرز کو کوئی 30 سال ہو گئے۔ تو امید یہ کی جانی چاہیے تھی کہ ان کی کچھ تعلیم ہو جاتی، وہ کچھ سیکھ لیتے کہ یہ دنیا کیسے چلتی ہے۔

'جو انھوں نے توہینِ مذہب والے مواد کی بات کی ہے تو وہ کہانی پہلے بھی چل چکی ہے، خود ملک کے وزیرِ داخلہ کہہ چکے ہیں کہ ڈاکٹر ریاض نے کوئی گستاخانہ کام نہیں کیا۔

'ڈاکٹر ریاض کراچی یونیورسٹی کے پرانے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے فوج کے خلاف، الطاف حسین کے خلاف، اپنی یونیورسٹی کے معاملات کے خلاف (احتجاج کیا ہے)، کراچی میں کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہوا جس کے خلاف احتجاج کرنے میں ڈاکٹر ریاض سب سے آگے نہ ہوں۔ کراچی میں ان کے دوست انھیں ’ایجیٹیٹر ان چیف‘ کہتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد آواز بلند کرنا ہے۔ اور وہ 20، 25 سال سے یہ کام کر رہے ہیں۔

'اب وہ تنگ آ کر ان پر اس طرح کے مضحکہ خیز الزامات لگا رہے ہیں کہ صرف افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اپنے ادارے اپنے ہی شہروں کو (پکڑ رہے ہیں)، اور ان پر کیس بھی ڈالا ہے تو پستول کا۔

'جس نے بھی ان سے پڑھا ہے یا ان سے ملاقات کی ہے وہ جانتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب ساری زندگی پستولوں کے خلاف بات کرتے رہے ہیں۔'

ریاست کو ڈاکٹر ریاض سے کیا خطرہ ہے؟

'ان کے دوستوں سے میں بات کر رہا تھا تو ایک یہ کہہ رہے تھے کہ صورتِ حال کچھ بہتر ہوئی ہے، کم از کم ڈاکٹر ریاض کو گرفتار کیا ہے، وہ عدالت میں آئیں گے، کیس چلے گا، وہ اپنا کیس ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ جن لوگوں کے حق میں وہ آواز اٹھاتے ہیں جب وہ اٹھائے جاتے ہیں تو چار چار مہینے ان کے گھر والوں کو پتہ بھی نہیں چلتا، نہ یہ پتہ چلتا ہے کہ کہاں ہیں نہ یہ پتہ چلتا ہے کہ الزام کیا ہے۔ نہ یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کیا نہ کریں تو ریاست آپ کو تنگ نہیں کرے گی۔

'ریاستی اداروں کے منہ کو خون لگ چکا ہے، عدالت کوشش کر کے دیکھ چکی ہیں لیکن ان کو کوئی نہیں پوچھ سکتا، کہ وہ جس کو اٹھا لیں، جتنے دن رکھیں، جب مرضی چھوڑ دیں۔ اس پر کوئی سیاست دان بولنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

'تو آہستہ آہستہ ان کو لگتا ہے کہ ان کے خلاف آوازیں، چاہے وہ کراچی میں پریس کلب کے باہر دس لوگ ہی کھڑے احتجاج نہ کر رہے ہوں، یا 20 طلبہ کراچی یونیورسٹی میں مظاہرہ کر رہے ہوں، تو ان کا خیال ہے کہ جب تک چھوٹی سے چھوٹی آواز کو بھی خاموش نہیں کر دیا جائے گا، اس وقت تک تسلط (قائم نہیں رہے گا)۔۔۔ ان کا خیال ہے کہ طلبہ، یا اساتذہ کے ذہنوں میں گھس کر اس طرح کا خوف پھیلایا جائے کہ اور کوئی اس طرح کی حرکت کرنے کا سوچ بھی رہا ہے تو گھر پر بیٹھا رہے۔'

ایک تاثر یہ بھی ہے کہ سیاست دانوں کو جتنی گالیاں دے دیں لیکن جو بھی خفیہ اداروں یا فوج پر تنقید کرتا ہے، تو انھیں ایک منظم طریقے سے دبایا جا رہا ہے؟

'افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ حقیقت ہے، ہم اس کے ساتھ بہت عرصے سے زندہ رہ رہے ہیں، پہلے ہم بلوچستان کے بارے میں سنتے تھے، پھر یہ رجحان اندرونِ سندھ میں شروع ہوا، اب آپ نے دیکھا کہ کراچی میں بھی ایسا ہو رہا ہے، آپ نے دیکھا کہ پچھلے دنوں پنجاب میں کارکنوں اور بلاگروں کے خلاف جو ہوا۔ نہ صرف انھیں غائب کیا جاتا ہے بلکہ ان کے خلاف ایسی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں، کہ اگر وہ آزاد بھی ہو جائیں تو وہ معاشرے میں زندہ رہنے کے قابل نہ رہیں۔'

پاکستان میں جمہوری نظام نیا ہے لیکن اگر وقت کے ساتھ ساتھ جمہوری نظام پر قدغن لگتی رہے گی تو اس سے شہریوں کے حقوق یا جمہوری نظام پر کیا اثر پڑے گا؟

'جتنے لوگوں کو اٹھایا جاتا ہے، اتنے ہی زیادہ لوگ اس کی جگہ پر بولنے کے لیے آ جاتے ہیں، تو جمہوریت کا کم از کم یہ فائدہ ہے کہ اگر ہمارے رہنما اور سیاست دان اس پر بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں تو عام لوگ، طلبہ، اساتذہ، یا کچھ لوگ جنھیں آپ سول سوسائٹی کہتے ہیں، وہ اس پر خاموش رہنے کو تیار نہیں ہیں۔'



12/17/2017 12:11:54 AM