Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

بانی و قائد الطاف حسین نے نریندرمودی کونہ کوئی خط لکھاہے اورنہ ہی ان سے کوئی مددطلب کی ہے


بانی و قائد الطاف حسین نے نریندرمودی کونہ کوئی خط لکھاہے اورنہ ہی ان سے کوئی مددطلب کی ہے،رابطہ کمیٹی کے ارکان کی پریس کانفرنس
 Posted on: 3/26/2017
بانی و قائد الطاف حسین نے نریندرمودی کونہ کوئی خط لکھاہے اورنہ ہی ان سے کوئی مددطلب کی ہے
اس حوالے سے کئے جانے والے تمام پروپیگنڈے سراسرجھوٹ اورمہاجردشمنی پرمبنی ہیں
فاروق ستاراینڈ کمپنی کی جانب سے قائد تحریک جناب الطاف حسین پر بہتان تراشی کی مذمت کرتے ہیں
فاروق ستارخود انڈیااوردیگرغیرملکی ڈپلومیٹس سے ملاقات کرکے انہیں مہاجروں پر ہونے والے مظالم سے آگاہ کرتے رہے ہیں
جب نوازشریف جیل میں تھے توکیاانکے صاحبزادے حسن نوازنے بھارتی وزیراعظم واجپائی اور آئی کے گجرال کوخط نہیں لکھا؟
ہم مجبورہوکراقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں اورجمہوریت اورانسانی حقوق پر یقین رکھنے والوں سے اپیلیں کررہے ہیں
یہ کوئی غیرقانونی عمل نہیں ہے بلکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹرکے عین مطابق ہے جس پر خود پاکستان نے بھی دستخط کئے ہیں
حقائق کونفرت اورتعصب کی عینک سے دیکھنے اورایم کیوایم اورقائدتحریک الطاف حسین پر غداری کے الزامات لگانے کاسلسلہ بندکیاجائے 
رابطہ کمیٹی کے ارکان واسع جلیل ، مصطفےٰ عزیزآبادی اورقاسم علی رضاکا ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے صاف اورواضح الفاظ میں کہاہے کہ بانی و قائدجناب الطاف حسین نے بھارت کے وزیراعظم نریندرمودی کونہ کوئی خط لکھاہے اورنہ ہی ان سے کوئی مددطلب کی ہے اوراس حوالے سے کئے جانے والے تمام پروپیگنڈے سراسرجھوٹ اورمہاجردشمنی پرمبنی ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار رابطہ کمیٹی کے ارکان واسع جلیل ، مصطفےٰ عزیزآبادی اورقاسم علی رضانے ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر انٹرنیشنل سیکریٹریٹ شعبہ خواتین کی ارکان محترمہ شبنم طارق اوریاسمین نوین بھی موجود تھیں۔ واسع جلیل نے 14دسمبر1986ء کے سانحہ علی گڑھ قصبہ ، 1987ء میں گرین ٹاؤن، ماڈل کالونی، خواجہ اجمیرنگری، جلال آبادناظم آبادکے علاقوں پرہونے والے حملے ، 30ستمبر1988ء کے سانحہ حیدرآباد، 26، 27مئی 1990ء کے پکاقلعہ آپریشن اوردیگرسانحات کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ جب سے مہاجروں نے اپنے حقوق کیلئے ایم کیوایم کے پلیٹ فارم پر متحد ہوکر جدوجہد کاآغاز کیاہے، اس کے خلاف آپریشن جاری ہے اوران آپریشنوں کی آڑمیں مہاجروں کا قتل عام کیاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 12 ،مئی 2007ء کا سانحہ سب کو یاد ہے لیکن کوئی اینکرپرسن اورتجزیہ نگار کے منہ سے سانحہ قصبہ علیگڑھ ، سانحہ حیدرآباد، سانحہ پکاقلعہ حیدرآباد، بے نظیربھٹو کی شہادت کے بعد کراچی میں ہونے والی قتل وغارتگری کاتذکرہ کوئی نہیں کرتا۔انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ نے مہاجروں کوختم کرنے اورایم کیوایم کوکچلنے کیلئے کبھی پی پی آئی بنائی،کبھی گینگ واربنائی اورکبھی کوئی اور گروپ سامنے لایا گیا ۔1992ء میں حقیقی ٹولے کوسامنے لایاگیااورایم کیوایم کے خلاف باقاعدہ فوجی آپریشن شروع کیاگیا لیکن مہاجروں کوانصاف فراہم نہیں کیاگیا۔واسع جلیل نے کہاکہ گزشتہ تین برسوں سے ایم کیوایم کوکچلنے اور مہاجروں کوختم کرنے کیلئے جوتازہ ریاستی آپریشن جاری ہے ،بے گناہ مہاجروں کوماورائے عدالت قتل کیاجارہاہے،انہیں پکڑ پکڑ کرلاپتہ کیاجارہاہے اور ان کے خلاف طرح طرح ظالمانہ ہتھکنڈے اختیار کئے جارہے ہیں اورانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں، قائدتحریک الطاف حسین نے ملک کے صدر ممنون حسین، وزیراعظم میاں نوازشریف، سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف، موجودہ آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ،چیف جسٹس سپریم کورٹ ، چیف جسٹس ہائیکورٹ اورتمام ہی ارباب اختیارسے یہ ریاستی ظلم بندکرانے کیلئے مسلسل فریادیں کی ہیں،انہیں انصاف کیلئے دہائیاں دی ہیں لیکن پاکستان میں ہماری دادفریاد سننے والااورانصاف فراہم کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ لہٰذا ہم مجبورہوکراقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں اورجمہوریت اورانسانی حقوق پر یقین رکھنے والوں سے اپیلیں کررہے ہیںیہ کوئی غیرقانونی عمل نہیں ہے بلکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹرکے عین مطابق ہے جس پر خود پاکستان نے بھی دستخط کئے ہیں۔واسع جلیل نے کہاکہ بانی وقائد جناب الطا ف حسین نے چند روزقبل اپنے ایک آڈیو بیان میں انڈیاکے وزیراعظم نریندر سے یہ گلہ کیا ہے کہ وہ بلوچوں پر ہونے والے ظلم پر تو آواز اٹھاتے ہیں لیکن مہاجروں پرہونے والے مظالم پر ایک لفظ نہیں بولتے جبکہ مہاجروں کے آباؤاجدادقیام پاکستان کے وقت انڈیاسے ہی ہجرت کرکے آئے تھے اورمہاجروں کے بزرگوں کاصدیوں سے آبائی وطن انڈیا ہی تھا۔انہوں نے سوال کیا کہ اس بات میں نریندرمودی سے مددلینے کی بات کہاں ہے ؟انہوں نے کہاکہ دراصل اسٹیبلشمنٹ کاایک متعصب حلقہ شروع ہی سے ایم کیوایم کوختم کرنے پرتلاہواہے، وہ برسوں سے اپنی پوری طاقت اوروسائل اس بات پر خرچ کررہاہے کہ کسی بھی طرح قائدتحریک الطاف حسین اورمہاجروں کوملک دشمن اور غدار ثابت کیاجائے اورریاستی طاقت کے ذریعے مہاجروں کے حقوق کی اس تحریک کوہمیشہ ہمیشہ کیلئے کچل دیاجائے ،اپنے اس مقصدکیلئے یہ عناصر قائدتحریک الطاف حسین کی ہر بات کو سیاق وسباق سے ہٹاکرپیش کررہے ہیں ،اب پھراورعوام کوگمراہ کرنے کے لئے یہ کہاجارہاہے کہ قائدتحریک الطاف حسین نے بھارت کے وزیراعظم نریندرمودی سے مددطلب کرلی ہے ۔ واسع جلیل نے اس حوالے سے قاء ڈاکٹرفاروق ستارکے فاروق ستار اینڈ کمپنی نے اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداربنتے ہوئے قائدتحریک الطاف حسین پرتہمت لگاکر اسٹیبلشمنٹ کی نمک خواری کی ہے ۔ 
قاسم علی رضانے اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ فاروق ستاراینڈ کمپنی نے قائد تحریک جناب الطاف حسین کے حوالہ سے جو بہتان تراشی کی ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور جھوٹے الزام کی سختی سے تردید کرتے ہیں اورواضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ نہ تو الطاف حسین بھائی نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے اورنہ ہی ان سے مدد مانگی ہے ۔ فاروق ستارنے اس الزام کو ثابت کریں بصورت دیگرایک بار پھر ثابت ہوجائے گا فاروق ستار جھوٹے، مکار، فریبی اوردھوکہ بازشخص ہیں ۔انہوں نے کہاکہ فاروق ستار میں ، شرم ، غیرت اورہمت ہوتی تو وہ سب سے پہلے قومی اسمبلی کے فلور میں میاں نوازشریف سے سوال کرتے کہ ان کے بیٹے حسین نوازنے 2000ء میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کوخط لکھ کر ان سے مدد کیوں مانگی تھی؟ انہوں نے کہا کہ ایک جانب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ، پاکستان میں بھارت کے خلاف مظاہرے کررہے تھے اور دوسری جانب منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمران خان نے انڈیا جاکراپنے وفد کے ساتھ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی سے ملاقات کی مگر اس وقت فاروق ستارکو یہ خیال نہ آیا کہ بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کرنے پر عمران خان سے سوال کرتے ۔ گزشتہ روز فاروق ستاراینڈ کمپنی کو اچانک یاد آگیا کہ بھارتی وزیراعظم مودی کو پکارنے کا اختیارکسی کو نہیں ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ آج قائدتحریک الطاف حسین نے انڈیاکے وزیراعظم سے گلہ کیاہے تو فاروق ستار اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر قائدتحریک الطاف حسین پر تہمت لگارہے ہیں جبکہ فاروق ستارخودایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈرکی حیثیت سے انڈیااوردیگرغیرملکی ڈپلومیٹس سے ملاقات کرکے انہیں مہاجروں پر ہونے والے مظالم سے آگاہ کرتے رہے ہیں۔قاسم علی رضانے کہاکہ ہمارے آبا واجداد نے لاکھوں جانوں کے نذرانے دیکر پاکستان بنایاہے لیکن کیا انہوں نے پاکستان اس لئے بنایاتھاکہ پاکستان میں ان کی اولادوں کا سیاسی ، تعلیمی ، معاشی اورجسمانی قتل عام کیاجائے زندگی کے ہرشعبہ میں مہاجروں کے ساتھ تعصب اورنفرت کا سلوک روا رکھاجائے اور مہاجروں کے ساتھ ناانصافیاں کی جاتی رہیں۔قاسم علی رضانے کہاکہ قائد تحریک الطاف حسین نے 22 اگست کی اپنی تقریر پر دومرتبہ ایک ایک شخصیت کا نام لیکر تحریری معافی مانگ لی ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ کے نام خط تحریر کردیا،اپنے آڈیوپیغامات میں پاکستان کی بقاء وسلامتی اورترقی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا لیکن آج تک مہاجروں کو انصاف فراہم نہیں کیاگیا ہے اورآج بھی ظلم جاری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب پاکستان میں عسکری وسیاسی قیادت، وفاقی وصوبائی حکومتیں اورعدالتیں مہاجروں کوانصاف فراہم نہ کریں،ان کی دادفریادنہ سنیں ، ایم کیوایم کے خلاف ریاستی آپریشن کے نام پر ہونے والی زیادتیوں کوبند نہ کروائیں ، انصاف فراہم کرنے میں مجرمانہ غفلت کامظاہرہ کیا جائے ، کوئی سننے والا نہ ہو تو انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور عالمی فورمز سے انصاف کی اپیلیں کرناکونسی غلط بات ہے ؟انہوں نے کہاکہ مہاجردشمنی میں قائد تحریک جناب الطاف حسین اورمہاجرقوم کو مجرم بناکر پیش کیاجاتارہا ہے ۔ 1992ء میں بغیرکسی ثبوت کہ ایم کیوایم پر الزام لگایاگیا کہ وہ جناح پوربنانے کی سازش کررہی ہے ، اس الزام کے تحت مہاجروں کاسیاسی ، معاشی ، تعلیمی اور جسمانی قتل عام کیاگیا ۔
اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفےٰ عزیزآبادی نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ 2000ء میں جب میاں نوازشریف جیل میں تھے اوران کوسزاسنادی گئی تھی توکیااس وقت میاں نوازشریف کے صاحبزادے حسن نوازنے اس وقت کے بھارتی وزیراعظم واجپائی اور سابق وزیراعظم آئی کے گجرال کوخط نہیں لکھاکہ وہ اس سلسلے میں مدد کریں؟اس وقت میاں نوازشریف کی اہلیہ نے بھی بھارتی رہنماؤں سے مدد کیلئے رابطے کئے تھے ، یہ سب خبریں اخبارات کے ریکارڈ پر ہیں۔وہ کریں توجائز اوراگرقائدتحریک الطاف حسین مہاجروں پر ہونے والے مظالم پر خاموشی اختیارکرنے پر بھارت کے وزیراعظم سے محض گلہ کریں تواس پر واویلا اورملک دشمنی کے طعنے کیوں؟انہوں نے کہاکہ 1990ء میں سابق وزیراعظم محترمہ بینظیربھٹو نے امریکی سینیٹر پیٹرگلبرائتھ کوخط نہیں لکھا؟ حتیٰ کہ انہوں نے پاکستان کی امداد بند کرنے تک کی اپیل کی ۔انہوں نے سوال کیاکہ کیا تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے 2015ء میں انڈیاجاکر وزیراعظم نریندری مودی سے ملاقات نہیں کی ؟ جو لوگ آج قائدتحریک الطاف حسین پرانگلیاں اٹھارہے ہیں ان کی زبانیں عمران خان کے بارے میں کیوں بندتھیں؟غیرملکی سفارتکار پاکستان آتے ہیں توپاکستان کے سیاسی ومذہبی رہنماان سے ملاقات کیوں کرتے ہیں؟ وہ ان ملاقاتوں میں کیا اپنے گھر کے نجی معاملات ڈسکس کرتے ہیں؟وزیراعظم نواز شریف کی نواسی کی شادی تقریب میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے120 رکنی وفد کے ہمراہ خصوصی شرکت کی ، میڈیا پر رپورٹ نشر کی گئی کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 120 رکنی بھارتی وفد کو بغیر ویزے پاکستان آنے کی اجازت دی گئی ، اس وقت سب کی زبانیں کیوں خاموش تھیں، اس وقت فاروق ستارنے قومی اسمبلی یا کسی اورموقع پر نواز شریف صاحب سے اس پر سوال کیا؟ مصطفےٰ عزیزآبادی نے کہاکہ دومرتبہ وزیراعظم رہنے والے میاں نوازشریف پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے بھارتی پنجاب سے سکھ یاتریوں اوروفود سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں،’’ ہم اور آپ ہی ہیں ، ہماراکلچر سوسائٹی ایک ہی ہے ،ہمارے کھانے ایک ہیں، ہم ایک ہی رب کے ماننے والے ہیں ‘‘ تو اس پر کوئی سوال نہیں اٹھتا۔عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیارولی خان افغان سرزمین سے اپنے آبائی تعلق کااظہارکرتے ہوئے کہتے ہیں ’’ میں کل بھی افغانی تھا، آج بھی افغانی ہوں اورافغانی رہوں گا ‘‘ تب کوئی سوال نہیں اٹھتا، محمودخان اچکزئی کہتے ہیں کہ ’’ خیبرپختونخوا اوربلوچستان کے علاقوں میں آباد افغان باشندے اپنی سرزمین پر رہ رہے ہیں ، انہیں نکالا نہیں جاسکتا ‘‘ تو تب کوئی تنقید نہیں کی جاتی ۔اسی طرح مہاجروں کے آباؤاجدادانڈیاسے ہجرت کرکے آئے ،ان کاآبائی اورقدیمی وطن انڈیاہے، اگر اس بنیادپر قائدتحریک الطاف حسین نے انڈیاکے وزیراعظم سے گلہ کیاہے توکیاغلط کیاہے؟ تمام ارکان نے کہاکہ حقائق کونفرت اورتعصب کی عینک سے دیکھنے اورایم کیوایم اورقائدتحریک الطاف حسین پر غداری کے الزامات لگانے کاسلسلہ بندکیاجائے اورانہیں دیوارسے نہ لگایاجائے ۔ 
*****

12/16/2017 1:12:44 AM