Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی کی آبادی تین کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے ،اراکین رابطہ کمیٹی


کراچی کی آبادی تین کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے ،اراکین رابطہ کمیٹی کی لندن میں پریس کانفرنس
 Posted on: 3/14/2017
کراچی کی آبادی تین کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے ،اراکین رابطہ کمیٹی
اگر شفاف مردم شماری کرائی جائے تو صرف کراچی میں قومی اسمبلی کی نشستیں 46 سے زائد ہوسکتی ہیں ، اراکین رابطہ کمیٹی
مردم شماری میں دھاندلی کے ذریعہ کراچی سمیت سندھ کی شہری آبادی کو کم ظاہرکی گئی تو مہاجرعوام ایسے
متعصبانہ فیصلے کو کسی بھی قیمت پرقبول نہیں کریں گے، اراکین رابطہ کمیٹی
پاکستان میں مردم شماری کوحیلے بہانوں سے التواء میں ڈالاجاتارہا ہے، اراکین رابطہ کمیٹی
1972ء میں ہی سندھ کے شہری عوام کے ساتھ دھاندلی کی بنیاد رکھ دی گئی تھی ، اراکین رابطہ کمیٹی
پیپلزپارٹی کے دورمیں کرائی گئی مردم شماری میں سندھ کے شہری عوام کی آبادی60 کے بجائے 30 لاکھ ظاہرکی گئی ، اراکین رابطہ کمیٹی
سندھ کے سیکریٹری داخلہ نے عدالت میں اعتراف کیا کہ وفاقی حکومت کے حکم پر کراچی کی آبادی کم ظاہرکی گئی، اراکین رابطہ کمیٹی
2011ء میں خانہ شماری کے مطابق شہری سندھ کی آبادی 61فیصد تک بڑھی مگر پی پی حکومت نے نوٹیفیکیشن منسوخ کردیا ، اراکین رابطہ کمیتی
کچھی ، میمن ، گجراتی ، کاٹھیاواڑی ، مارواڑی ، پارسی اوردیگربرادریاں مردم شماری کے فارم میں مادری زبان کے خانہ
میں خود کو ’’اردو‘‘لکھیں ، اراکین رابطہ کمیٹی 
اقوام متحدہ کے اعدادوشمارکے مطابق دنیا کی آبادی کا 54.5 فیصد شہری آبادی جبکہ باقی دیہی آبادی پر مشتمل ہے، اراکین رابطہ کمیٹی
دنیا کا ہرادارہ کراچی کوپاکستان کا سب سے زیادہ آبادی والا شہرقراردیتا ہے، اراکین رابطہ کمیٹی
پاکستان میں ایک قوم کاتصور مضبوط بناناچاہیے بصورت دیگر اس سے پاکستان میں سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، اراکین رابطہ کمیٹی
ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں مصطفی عزیزآبادی ، واسع جلیل اور ڈاکٹرندیم احسان کی پریس کانفرنس

متحدہ قومی موومنٹ(پاکستان ) کی رابطہ کمیٹی نے متنبہ کیاہے کہ کراچی کی آبادی تین کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے ، اگر مردم شماری کے عمل میں دھاندلی کے ذریعہ کراچی سمیت سندھ کی شہری آبادی کو کم ظاہرکرنے کی کوشش کی گئی تو مہاجرعوام ایسے متعصبانہ اورغیرمنصفانہ فیصلے کو کسی بھی قیمت پرقبول نہیں کریں گے اوراپنے جائز حق کیلئے ہرفورم پر آواز احتجاج بلند کریں گے ۔ یہ بات رابطہ کمیٹی کے ارکان مصطفی عزیزآبادی، واسع جلیل اورڈاکٹرندیم احسان نے ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اس موقع پر ایم کیوایم شعبہ خواتین کی انچارج محترمہ صفیہ اکبر اور ایم کیوایم برطانیہ کے آرگنائز محمد ہاشم اعظم بھی موجود تھے ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی عزیزآبادی نے کہاکہ مردم شماری اہم قومی معاملہ ہے اورمردم شماری کے نتیجے میں ہی آبادی کے تناسب سے منتخب ایوانوں میں عوامی نمائندگی ، شہروں وصوبوں کے مالی وسائل کی تقسیم اورسرکاری اداروں میں ملازمتوں کا تعین کیاجاتا ہے ۔آئین پاکستان کے مطابق ملک میں ہردس سال بعد مردم شماری کی جانی چاہیے لیکن پاکستان میں مردم شماری کوحیلے بہانوں سے التواء میں ڈالاجاتارہا ہے ۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے دلی تشکر کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کوبلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی طرح مردم شماری کرانے کا حکم دیا اور ملک میں ہونے والی مردم شماری کا سہرا سپریم کورٹ کے سر جاتا ہے ۔ مصطفی عزیزآبادی نے کہاکہ پاکستان کے مظلوم عوام بالخصوص سندھ کے شہری عوام کے ساتھ مردم شماری میں دھاندلیاں اورناانصافیاں تاریخ کاحصہ ہیں ، 1972ء میں ہی سندھ کے شہری عوام کے ساتھ دھاندلی کی بنیاد رکھ دی گئی تھی ، پیپلزپارٹی کے دورحکومت میں کرائی گئی مردم شماری میں سندھ کے شہری عوام کی آبادی نصف کم ظاہرکی گئی ، اس وقت ذوالفقارعلی بھٹو ملک کے وزیراعظم تھے، وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے سیکریٹری داخلہ محمد خان جونیجو کو حکم دیکر صرف کراچی کی آبادی 60 لاکھ کے بجائے 30لاکھ ظاہر کی گئی اور محمد خان جونیجو نے عدالت میں یہ اعتراف کیا کہ انہوں نے وفاقی حکومت کے حکم پر کراچی کی آبادی کم ظاہرکی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک مرتبہ پھر پیپلزپارٹی مہاجردشمنی کا مظاہرہ کررہی ہے ، 2011ء میں مردم شماری کے موقع پر پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور جب خانہ شماری کے نتیجے میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ شہری سندھ کی آبادی 61فیصد تک بڑھ گئی ہے تو پیپلزپارٹی کے متعصب رہنماؤں نے اس نوٹیفیکیشن کو ہی منسوخ کردیا تھا، ایک مرتبہ پھر پیپلزپارٹی سندھ کے شہروں میں مہاجروں کی آبادی کم ظاہر کرنے کی سازش میں مصروف ہے ، صوبائی مشیر اطلاعات مولابخش چانڈیو کی جانب سے مہاجروں کو سندھی بننے کا مشورہ دیا جارہا ہے اور مہاجروں سے کہاجارہاہے کہ وہ مردم شماری کے فارم میں موجود قومیت کے خانہ میں خود کوسندھی لکھیں لیکن جب سندھ میں وزیراعلیٰ سندھ کے انتخاب کا مرحلہ آتا ہے تو کسی مہاجرکو محض اس لئے وزیراعلیٰ نہیں بنایاجاتا کہ وہ سندھی نہیں ہے ۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی منافقت سے شہری سندھ کا بچہ بچہ واقف ہوچکا ہے ۔مصطفی عزیزآبادی نے مطالبہ کیاکہ مردم شماری کو منصفانہ اورشفاف بنانے کیلئے اقوام متحدہ کے مبصرین کی نگرانی میں مردم شماری کرائی جائے ، اگرماضی کی طرح اس مرتبہ بھی شہری سندھ کی آبادی کم دکھائی گئی تومہاجرعوام ایسی کسی بھی دھاندلی کو ہرگز قبول نہیں کریں گے ۔ انہوں نے سندھ کے شہروں میں بسنے والی کچھی ، میمن ، گجراتی ، کاٹھیاواڑی ، مارواڑی ، پارسی اوردیگربرادریوں سے اپیل کی کہ وہ سب مہاجر ہیں لہٰذا مردم شماری کے فارم میں وہ مادری زبان کے خانہ میں خود ’’اردو‘‘لکھیں ۔ انہوں نے قائد تحریک جناب الطاف حسین کی جانب سے سندھ کے شہری عوام سے پرزوراپیل کی کہ وہ مردم شماری کے عمل میں بھرپورکردار ادا کریں ، مردم شماری کافارم بال پوائنٹ سے بھریں ، پنسل کا ہرگز استعمال نہ کریں اور فارم بھرنے میں ناخواندہ افراد کی مدد کریں اورفارم بھر کر اس کی تصویر ضرورلیں تاکہ دھاندلی کی صورت میں اسے ثبوت کے طورپر پیش کیاجاسکے ۔ڈاکٹرندیم احسان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اقوام متحدہ کا رکن ملک اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے بعض چارٹر پر دستخط بھی کیے ہیں ، یہ صدی اربانائزیشن کی صدی ہے ، 2016ء کے اقوام متحدہ کے اعدادوشمارکے مطابق دنیا کی آبادی کا 54.5 فیصد شہری آبادی جبکہ باقی دیہی آبادی پر مشتمل ہے اور2030ء میں دنیا کی شہری آبادی 60 فیصد ہوگی۔ پاکستان بیوروآف اسٹیٹکس(محکمہ شماریات) کے مطابق 1998ء کی مردم شماری کے حوالہ سے شہری آبادی 48.8 فیصد جبکہ دیہی آبادی 51.2 فیصد دکھائی گئی ہے لیکن صوبہ سندھ میں شہری آبادی کیلئے 40 فیصد اوردیہی آبادی کیلئے 60 فیصد کوٹہ سسٹم نافذ ہے، سندھ کے شہری عوام کے ساتھ اعدادوشمارکاگورکھ دھندا جاری ہے اور1972ء کی مردم شماری کے اعدادوشمار آج تک قائم ہیں جوکہ نہ صرف ناممکن ہے بلکہ دنیا کاکوئی بھی ادارہ ان اعدادوشمار کو تسلیم نہیں کرتا۔ دنیا کا ہرادارہ کراچی کوپاکستان کا سب سے زیادہ آبادی والا شہرقراردیتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی آبادی میں سب سے زیادہ قدرتی وغیرقدرتی اضافہ کراچی میں دیکھنے میں آیاہے ، اگرشفاف اورمنصفانہ طریقہ سے مردم شماری کرائی جائے تو صرف کراچی کی آبادی تین کروڑ سے تجاوز ہوگی اوراگرریاستی طاقت کے ذریعہ کراچی سمیت شہری سندھ کی آبادی کم دکھائی گئی تو باشعورمہاجرعوام اس دھاندلی کو کبھی قبول نہیں کریں گے ۔ رابطہ کمیٹی کے رکن واسع جلیل نے مردم شماری کسی بھی جمہوری معاشرے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی اورآبادی کے تناسب سے ہی وسائل کی تقسیم کی جاتی ہے اگر دھاندلی کی بنیاد پر بنائے گئے اعدادوشمار کی بنیادپر این ایف سی ایوارڈ میں منصفانہ فنڈز تقسیم کیے جائیں گے تو مسائل کا جنم لینا فطری ہوگا۔ کراچی کو منی پاکستان قراردیا جاتاہے ، اس شہر میں پورے ملک سے لوگ آتے ہیں لیکن کراچی کے شہریوں کو ان کاجائز حق نہیں دیاجاتا۔ اس ناانصافی کا خاتمہ ہونا چاہئے اورپاکستان میں ایک قوم کاتصور مضبوط بناناچاہیے بصورت دیگر اس سے پاکستان میں سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مردم شماری کے آرڈی ننس 1959ء کی شق 10 کے تحت کوئی بھی سویلین مردم شماری کے ریکارڈ کا معائنہ نہیں کرسکتا نہ مردم شماری کے ریکارڈ کو دیکھ سکتا ہے ، یہ شق ہی مردم شماری میں دھاندلی کا سب سے بڑا سبب ہے ، منتخب ارکان قومی اسمبلی کو اس کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے ۔ واسع جلیل نے کہاکہ اگر شفاف اورمنصفانہ مردم شماری کرائی جائے تو کراچی کی حقیقی آبادی کے لحاظ سے شہر میں قومی اسمبلی کی نشستیں 46 سے زائد ہوسکتی ہیں ۔ 

*****

10/23/2017 11:00:25 PM