Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

نوجوانوں سے قائد تحریک جناب الطاف حسین کا آڈیو لیکچرنمبر(1) مکمل متن


نوجوانوں سے قائد تحریک جناب الطاف حسین کا آڈیو لیکچرنمبر(1) مکمل متن
 Posted on: 2/9/2017 1
نوجوانوں سے قائد تحریک جناب الطاف حسین کا
آڈیو لیکچرنمبر(1)
9 ، فروری 2017ء بروز جمعرات

اعوذ باللہ من الشیطین الرجیم 
بسم اللہ الرحمان الرحیم
واجب الاحترام بزرگوں ، میری ماؤں ،پیاری پیاری بہنوں، تمام شعبہ جات کے پرعزم جیالے ساتھیوں، نام والے وگمنام ساتھیوں ، اہل پاکستان ، جوجو پاکستان کے مظلوم عوام ہیں میں ان سب سے مخاطب ہوں ۔۔۔انہیں میں اپنا سلام پیش کرتا ہوں۔
السلام علیکم
آج آپ سب کے علم میں میں یہ بات لانا چاہتا ہوں آج 9، فروری 2017ء بروز جمعرات ۔۔۔آج کا جو پیغام ہے وہ خصوصاً میں یوتھ کیلئے ریکارڈ کرارہا ہوں ۔۔۔یعنی 19، جون 1992 ء کے بعد جو حالات ہوئے ۔۔۔ میں پاکستان سے لندن آیا۔۔۔اور پھر حالات بگڑتے گئے ، بگڑتے گئے ۔۔۔اسٹیبلشمنٹ کی زیادتیاں۔۔۔ایک ایجنڈے پرتھیں۔۔۔ان کا صرف ون پوائنٹ ایجنڈا تھاکہ Crush MQM, eliminate Mohajirs as much as you can , as many as you can by hook or by crook بدقسمتی سے پاکستان میں عدالتوں کا سسٹم ۔۔۔جو طریقہ کار ہے بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ۔۔۔یہ کسی ملک کا بڑا اہم ستون ہوتا ہے ، ہمارے ملک میں عدالتیں نہ تو پوری طرح خود مختار ہیں اورنہ آزاد ہیں۔ اس پر بہت سے اعتراض کرنے والے اعتراض کرسکتے ہیں لیکن میں کیاکروں ۔۔۔میرے نوجوان لڑکے لڑکیوں۔۔۔طلبا وطالبات ۔۔۔آپ ابھی چھوٹے ہو۔۔۔آپ نے ابھی دنیا نہیں دیکھی اوردنیا کی تاریخ ابھی نہیں پڑھی۔۔۔ میرے پیاروں ۔۔۔ میرے یوتھ کے پیاروں ۔۔۔چاہے وہ اے پی ایم ایس او کے ہوں ۔۔۔چاہے ایم کیوایم کے یوتھ ہوں ۔۔۔ چاہے وہ گمنام یوتھ ہوں ۔۔۔میںآپ سب سے مخاطب ہوں ۔۔۔ایک ایک یوتھ سے۔۔۔یعنی وہ جو میرے لندن آنے کے بعد پیدا ہوئے یا اس وقت ایک سے پانچ یاچھ سال کے تھے۔۔۔ زیادہ سے زیادہ سات سے دس سال کا لگالیں۔۔۔آج 26 سال ہوگئے مجھ کو جب میں لندن انہیں چھوڑ کرآیا تھا تو ان کی عمر میں 26 سال جمع کرلیں اوردیکھ لیں اب ان کی کیاعمر ہوگی۔
نوجوانو!
یہ تحریک ۔۔۔ایم کیوایم کی تحریک 38 برس سے چل رہی ہے ۔۔۔اس دوران بہت مدوجزر آئے ، گزرگئے ۔۔۔ہزاروں تحریکی ساتھی شہید ہوئے۔۔۔ زخمی ہوئے ۔۔۔اورجوبچ گئے وہ آج الطاف حسین اور اس کے پرعزم باوفا، باکردار ساتھیوں کے ساتھ پوری دنیا میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں ۔۔۔ جمے ہوئے ہیں ۔ میرے نوجوانو!۔۔۔ آپ لوگ سوچتے ہوں گے کہ ہم پاکستان میں انصاف کیلئے وزیراعظم کو کیوں نہیں پکارتے ۔۔۔؟یہ صدر کوکیوں نہیں پکارتے ۔۔۔؟میں آج ان حقائق سے بھی پردہ اٹھاتا ہوں اور آپ کے علم میں لاتا ہوں ۔۔۔پاکستان میں اصل حکمرانی اسٹیبلشمنٹ کی ہے ۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ میں بیوروکریسی ، ایجنسیز، سول اور ان کو ہیڈکرنے والی عسکری ایجنسیز اور ادارے اور شعبہ جات آتے ہیں ۔ یعنی دراصل پاکستان کی عدلیہ ، پاکستان کی پارلیمنٹ (مقننہ) اورپاکستان کی جمہوریت سب فوج کے ہاتھوں میں ہے ۔۔۔یہ وہ حقائق ہیں کہ کوئی اور شائدآپ کو نہ بتاسکے۔میں 38 برسوں میں فوج کے تقریباً تقریباً تمام چیف آف آرمی اسٹاف کے نام بندخطوط (confidencial letters)خطوط بھی تحریرکرچکا ہوں مگر ہمیشہ جواب 
2
سے محروم رہا ۔۔۔اس لئے کہ کسی بھی آرمی چیف کے پاس میرے سوالوں کا جواب نہیں تھا اورنہ ہی ان میں اتنی ہمت تھی کہ وہ یہ کہنے کی جرات کرتے۔۔۔کہ فوج کے سپاہیوں ، افسران نے فلاں فلاں کام غلط کیا ہے۔۔۔ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اوراگر وہ آج بھی فوج میں ہیں ،ملازمت کررہے ہیں تو میں ان کے خلاف ایکشن لوں گا۔
جب میں نے کالج اور یونیورسٹیز، جامعات ، تعلیمی اداروں میں دیکھا کہ جئے سندھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن۔۔۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن۔۔۔ پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن ۔۔۔ پنجابی اسٹودنٹس ایسوسی ایشن۔۔۔ اور پورے پاکستان کی نسلی اور لسانی جماعتوں کے یوتھ یعنی طلباء تنظیموں کے بینرز دیکھے تومیں نے کل بھی کہاتھا ۔۔۔آج بھی کہہ رہا ہوں کہ مختلف لسانی طلبا تنظیموں کے بینرز دیکھ کر مجھے اپنی شناخت کا احساس ہوا۔ ہمارے ہاں کی یہ روایت رہی ہے کہ کسی بھی محفل جس میں بزرگوں کی نشست ہواکرتی ہے ان محفلوں میں بچوں کو بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوا کرتی لیکن جب کوئی بڑا بزرگ گھرآتا تھا اور وہ گھروالوں کو معلوماتی باتیں بتاتا تھا تو اس محفل میں بزرگوں کے ساتھ سب گھروالے بیٹھ جایاکرتے تھے اور وہ بزرگ اورتجربہ کار شخص کی باتیں سنا کرتے تھے اورایسی محفلوں میں جب بھی مجھے شرکت کا موقع ملتا تھا میں بزرگوں کی باتیں بہت ہی غور سے سنا کرتا تھا۔ 
جب مجھے شناخت کااحساس ہوا کہ ہماری کوئی شناخت نہیں ہے اور کوئی ہمیں اپنے ساتھ شامل کرنے کیلئے تیاربھی نہیں ہے تو مجھے یہ احساس ہوا کہ ہماری بھی ایک شناخت ہونی چاہیے ۔۔۔ یہ جذبہ پیدا ہوا اور میں نے جامعہ کراچی سے کام شروع کیا ۔۔۔اس دوران میں علاقوں کے اندر موجود مختلف کالجوں کے وہ نوجوان طلبا ء جن سے میری کہیں نہ کہیں ۔۔۔ کبھی نہ کبھی سلام دعارہی ہو ۔۔۔کسی نہ کسی حوالہ سے ملاقات ہوئی ہو۔۔۔ میں ان کے پاس جاتا تھا ، گھنٹوں ان کے ساتھ بیٹھتا اور انہیں سمجھاتا تھا کہ آئیے ۔۔۔ہم بھی مل کرایک مہاجر تنظیم بناتے ہیں اوران کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ مہاجروں کے ساتھ بہت زیادتیاں ہورہی ہیں۔۔۔بڑا victimisation اور discrimination ہے اور یہ سب پاکستان بننے کے بعد شروع ہوا۔تو بیشتر تو حیران ہوجاتے تھے کہ پاکستان بننے کے بعد سے کیسے شروع ہوا۔۔۔؟
آیئے میرے یوتھ میں آپ کو بتاؤں کہ سچائی کیا ہے ۔۔۔پاکستان کے بانی ، پاکستان بنانے والے ، پاکستان کی قیادت کرنے والی شخصیت آپ سب کہیں گے ۔۔۔قائد اعظم محمد علی جناحؒ ۔۔۔پہلا مہاجردشمنی کا کام یہ ہوا کہ 11 ، اگست 1947ء کو قانون ساز اسمبلی سے قائداعظم نے پہلا خطاب کیاجس کے الفاظ یہ تھے:
’’اب پاکستان بن گیا ہے ، پاکستان میں رہنے والے ہندو، عیسائی ، یہودی ، احمدی ، سکھ، پارسی ، زرتش، گوتم بدھ کے ماننے والے بدھ مت غرض یہ کہ جو جو بھی پاکستان کے جغرافیہ میں رہتا ہے وہ برابر کاپاکستانی ہے اور مذہب ان کا ذاتی معاملہ ہے ، ریاست میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا، ریاست ہرقسم کے مذہبی فرق سے ماوراء ہوگی اور جو ریاست چلانے کے قابل ہوگا وہی ریاست چلانے پر مامور کیاجائے گا یا اس کا حق ہے ۔۔۔پھرانہوں نے کہاکہ ہندو آزاد ہیں ۔۔۔سکھ آزاد ہیں۔۔۔عیسائی آزاد ہیں ۔۔۔ مسلمان آزاد ہیں کہ وہ اپنے مندروں میں جائیں ، گردوارے میں جائیں ، اپنے کلیسا یعنی چرچ میں جائیں یامسجد میں جائیں ۔۔۔ریاست کا کوئی سروکار نہیں ہے اس میں ، یہ ملک سب کا ہے ۔۔۔جو پاکستان کے جغرافیہ میں رہتا ہے ان سب کا ملک ہے اور ریاست سب کو ایک نگاہ سے دیکھتی ہے ، دیکھے گی اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کرے گی ۔ ریاست میں مذہب کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ‘‘
یہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی پہلی قانون ساز اسمبلی میں تقریرتھی ۔۔۔پہلا عصبیت تعصب یہ ہوا کہ قائد اعظم کی اس تقریر کو تعلیمی نصاب سے باہر نکال پھینکا۔۔۔کس نے پھینکا۔۔۔؟ پنجابیوں کی وہ ایلیٹ کلاس جس نے انگریزوں کی وفاداری کرکے بڑے بڑے نام کمائے ہیں ۔۔۔انگریزوں سے وفاداری کرکے بڑی بڑی جاگیریں حاصل کیں ۔۔۔ اور ہر حملہ آور کاقالین بچھا کر کا استقبال کیا ہے ۔۔۔ان حملہ آوروں کوانعام واکرام ودیگر لوازمات کی پیشکشیں کی گئی ۔۔۔اس کلاس نے قائد اعظمؒ کی اس تقریرکو نصاب سے نکال دیا اورقائداعظم ؒ وراستے سے ہٹانے کی کوششیں کیں ۔۔۔انہیں سلوپوائزن دیا گیا اور زیارت( بلوچستان )بھیجنے کیلئے ڈاکٹروں سے مشورہ کرایاگیا کہ قائداعظم سے کہیں کہ وہ زیارت چلے جائیں ، وہاں کی آب وہوا صحت مند ہے آپ وہاں صحت مند ہوجائیں گے ۔پھرقائد اعظم کو زیارت بھیج دیاگیا ۔۔۔وہاں پر قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی بہن محترمہ فاطمہ جناح ان کی دیکھ بھال کیاکرتی تھیں ۔۔۔ دن بدن قائداعظم کی طبیعت بگڑنے لگی اورجب ان کی سانس اکھڑنے لگی تو محترمہ فاطمہ جناح نے اس وقت کے بیوروکریسی کے ذمہ داروں سے کہاکہ قائداعظم کی حالت بہت خراب ہورہی ہے انہیں کراچی لیکر جانا ہے جلدی سے ایمبولینس کا بندوبست کرایئے ۔
میرے نوجوانوں۔۔۔لڑکے لڑکیوں۔۔۔طلبا طالبات!
یہ بات آپ کو کسی کتاب میں نہیں ملے گی۔۔۔ میں سچ بتارہاہوں ۔۔۔میں نے زندگی میں جھوٹ بولاہی نہیں اورنہ اللہ کبھی مجھ سے جھوٹ بلوائے۔۔۔ان کیلئے ایمبولینس کا انتظام کیاگیا۔۔۔ایمبولینس کیسی ۔۔۔؟ اگر آپ کے کے ایف کا دورہ کریں جس کورینجرز نے بندکرادیا ہے۔۔۔پاکستان کی فوج کی بی ٹیم ہے جیسے ایف سی ہے ۔۔۔ایسے ہی رینجرز ہے ۔۔۔اس نے طاقت کے بل پر ، غنڈہ گردی کے بل پر، ڈنڈے کے بل پر، بدمعاشی کے بل پر۔۔۔اب رینجرز والے اس کے کئی جواز ڈھونڈلیں گے کہ ۔۔۔ایم کیوایم والے کھالیں چھین لیتے تھے ، زبردستی فطرہ اورزکوٰۃ لیتے تھے ۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔۔۔پورے پاکستان میں انہیں ایک خدمت خلق فاؤنڈیشن نظرآئی ہے ، پوری رینجرز کو صرف ایک جماعت ایم کیوایم نظرآئی ہے۔۔۔ بقول رینجرز یہ زبردستی کھالیں لیتی ہے اورزبردستی زکوٰۃ فطرہ لیتی ہے ۔ اتنی بڑی آرگنائزیشن ہے ایم کیوایم کی۔۔۔ اگر اس میں پانچ فیصد، دوفیصد، ایک فیصد ۔۔۔بددیانت، بیہودہ، کمینہ صفت، خراب خون رکھنے والے بے ایمان ، دھوکہ باز شامل ہوجائیں اور وہ غریبوں کے نام پر جمع کردہ رقم ۔۔۔شہیدوں کے ، یتیموں کے ، غریب بیواؤں کے نام پر جمع ہونے والی رقم بیچ کر کھائیں ، زبردستی زکوٰۃ فطرہ لیں تو یہ نہ پارٹی کا درس تھا۔۔۔نہ میرا درس تھا۔۔۔نہ آج ہے اورنہ کل ہوگا۔
میرے بھائیوں، بہنوں، لڑکے لڑکیو!
ذرا غور سے سنو۔۔۔کے کے ایف کی خراب ایمبولینس بھی اس ایمبولینس سے بہترہوگی جوقائداعظم کیلئے بھیجی گئی تھی ۔۔۔اس میں پیٹرول بھی نہیں تھا۔۔۔وہ بلوچستان سے آگے ۔۔۔حب ندی سے آگے جاکر بالکل خراب ہوگئی ۔۔۔اب نہ کوئی موبائل ٹیلی فون ۔۔۔نہ کوئی ٹیلی فون۔۔۔کاش کہ کوئی فلم والا یہ سین بنالیتا اور ملک سے باہر چلاجاتا کیوں کہ ملک میں تو اسے نہیں رہنے دیتے ۔
جب ملک کے بہت نامور پانچ بلاگرز غائب ہوئے ۔۔۔21 دن تک غائب رہے اور جب پوری دنیا میں بہت شور ہوا ۔۔۔امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سات مسلم ممالک کے نام لئے اورکہاکہ پاکستان ، افغانستان اور سعودی عرب لسٹ میں ہیں تو فوج کو ڈر لگا۔۔۔فوراً حافظ سعید کو جو فوج کی سرپرستی میں پل رہا تھا جیسے لال مسجد ،آئی ایس آئی کے کنٹرول میں ہے۔۔۔یعنی لال مسجدجوآئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹرز کے بالکل سامنے ہے ۔۔۔وہاں پاکستان کے آئین کو گالی دو۔۔۔پاکستان کا آئین نہ مانو۔۔۔پاکستان کی پارلیمنٹ کو کافروں کی پارلیمنٹ قراردو۔۔۔پاکستان کو برابھلا کہو۔۔۔چائنیز پارلر کی بچیوں کو لاکر زدوکوب کرو۔۔۔اورگاڑیاں چلانے والی خواتین کو پکڑ کراندر لاؤ، مارو، پیٹو ۔۔۔یہ سب کچھ احاطہ میں ہورہا ہے ۔۔۔پاکستان کی سب سے بڑی طاقتور انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے سامنے۔۔۔وہاں ریگولر آرمی کے 8 کمانڈوزکو لال مسجد کے بنکرز سے فائرنگ کرکے ، بم مارکرشہید کردیا جائے تو آئی ایس آئی کی چھتری ان پہ ہے کہ کسی کے قتل کاایک قطرہ لال مسجد کے لوگوں کے اوپرنہ آئے ۔۔۔لال مسجد کے خطیب کے خلاف کئی ایف آئی آر درج کی گئی ۔۔۔ چوہدری نثارعلی خان نے اسمبلی میں کہاکہ لال مسجد کے مولانا کوکیسے گرفتارکریں کہ انکے خلاف کوئی ایف آئی آر نہیں ہے ۔اس پرپارلیمنٹ کے کئی اراکین نے لہرا لہرا کے لال مسجد کے خطیب کے خلاف ایف آئی آر دکھائی مگر ان کا سامنا کرنے کے بجائے چوہدری نثار، قومی اسمبلی کی پتلی گلی سے بھاگ گیا۔۔۔
بات کہیں اورنکل گئی اب ہم دوبارہ اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔۔۔
قائداعظم زندگی اورموت کی کشمکش میں ہیں اوران کی بہن ۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔وہ ذرا منظر تو دیکھوکہ وہ کبھی اُدھر بھاگ رہی ہیں ، کبھی ادھر بھاگ رہی ہیں ۔۔۔کبھی اس اورکبھی اُس گاڑی والے کوہاتھ دے رہی ہیں کہ رکو۔۔۔رکو۔۔۔ذرا اس بہن کا عالم دیکھو۔۔۔قائداعظم کی جان بچانے کیلئے کس کیفیت میں 
4
محترمہ فاطمہ جناح بھاگ رہی ہوں گی ۔۔۔پتہ نہیں کس نے ، کیسے ۔۔۔کوئی گاڑی رکی اور کس طرح ان کواسپتال پہنچایا گیا لیکن جوکچھ سلو پوائزن ان کو دیاگیا اس نے کام کردکھایا اوروہ اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ اب اس کی گواہ محترمہ فاطمہ جناح تھیں۔۔۔محترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب خان ، فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف انتخاب لڑا ۔۔۔یہ علیحدہ موضوع ہے ۔۔۔وہ ڈٹی رہیں ۔۔۔اپنی بساط اورطاقت کے مطابق وہ تن تنہا لڑتی رہیں ، ایک دن اچانک خبر آتی ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح اپنے کمرے میں مردہ پائی گئی ہیں ۔۔۔اس کی تحقیقات کا آج تک پتہ نہیں چلا۔۔۔ جیسے کہ 21 دن تک پانچ نامی گرامی بلاگرز۔۔۔اچھے ہیں برے ہیں۔۔۔محب وطن ہیں یا ملک دشمن ہیں۔۔۔وہ غائب ہوئے تو فوج ان پر مقدمہ چلاتی ۔۔۔ رینجرز نے کل بھی یعنی 8 فروری 2017ء کو کہیں سے پھراسلحہ نکالا اورکہاکہ اتنی کلاشنکوفیں وغیرہ برآمد ہوئیں اوریہ ایم کیوایم عسکری ونگ لندن کواستعمال کرنا تھا ۔۔۔یہ تیکنیک تو امریکہ کے پاس بھی نہیں جو پاکستان کی فوج کے پاس ہے کہ اسلحہ بولتا ہے کہ اس اسلحہ کون استعمال کرے گا۔۔۔اوراسے ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئے لوگوں کو استعمال کرنا ہے ۔۔۔یہ رینجرز کا بیان ہے ۔۔۔چیف آف آرمی اسٹاف موجود ہیں۔۔۔کورکمانڈرز موجودہیں ۔۔۔وہ جواب دیں کہ یہ بیان کیسے آیا کہ یہ اسلحہ ایم کیوایم لندن والوں کو استعمال کرنا تھا۔۔۔کیا رینجرز والوں کو یہ معاذاللہ حضرت جبرائیل ؑ نے بتایا تھا۔۔۔؟
ساتھیو!
جب تک میں زندہ ہوں میں ان کی ایک ایک پول کھولتا رہوں گا اور میں تمہیں یہ بھی بتاؤں گا کہ یہ عام غریب فوجی جس کی زندگی بارڈر پر گزرجاتی ہے ، دھوپ ، گرمی جاڑے سردی، بیوی بچوں سے دو دو ۔۔۔تین تین سال دور رہ کر وہ اپنے بچوں اوربیوی سے نہیں مل سکتا۔ وہ ریٹائرڈ ہوتا ہے تو اسے کیا ملتا ہے۔۔۔ اور ایک جنرل جس کا باورچی الگ ، مالی الگ، بچوں کو اسکول لے جانے والا الگ اور نجانے کیا کیامراعات جو کسی بادشاہ کو بھی کیاحاصل ہوگی اس کوریٹائرد ہونے کے بعد۔۔۔ پتہ نہیں۔۔۔ کتنے کشمیر ہیں۔۔۔کہ کشمیرفتح کرنے کے بعد انہیں سینکڑوں ایکڑزرعی زمین انعام میں مفت تقسیم کی جاتی ہے ۔
یہ نظام بدلنے کی ضرورت ہے میرے ساتھیوں۔۔۔ پوری دنیا میں ایسا کہیں نظام نہیں ہے۔۔۔کہیں نظام نہیں ہے۔۔۔ سوائے انگریز کی بنائی ہوئی فوج کے چھوڑے ہوئے لوگ ہیں وہی نافذکرتے ہیں۔۔۔ انگلینڈ میں بھی یہ نظام نافذ نہیں ہے۔۔۔نہیں ہے ۔
قائد اعظم محمد علی جناح ؒ وفات پاگئے۔۔۔ محترمہ فاطمہ جناح اپنے کمرے میں مردہ پائی گئیں آج تک تحقیقات نہیں ہوسکی۔۔۔ خان لیاقت علی خان جوکہ قائد اعظم کے دست راست تھے ان کو راولپنڈی لیاقت باغ میں بھرے جلسے میں گولی مار کرشہید کردیا گیا اور آج تک اس سازش کا پتہ نہیں چلا۔۔۔خان لیاقت علی خان جو نواب تھے۔۔۔ انہوں نے پاکستان کیلئے نوابیت چھوڑی ۔۔۔شہادت کے بعد جب ان کوغسل دیا جارہا تھا تو ان کی شیروانی کے نیچے کرتے میں پیوند لگے ہوئے تھے اور جب بنیان اتارا تو اس بنیان میں بھی چھید تھے ۔۔۔ یہ مہاجروں کی مختصر سی داستان ہے ۔ 
کس طرح سے خان لیاقت علی خان شہید ہوئے ۔۔۔ان کا پتہ نہیں لگا۔۔۔محترمہ فاطمہ جناح شہید ہوئیں انکا پتہ نہیں لگا۔۔۔قائداعظم کس طرح شہید ہوئے ان کا پتہ نہیں لگا۔۔۔آج یہیں پر بات روکتا ہوں اورپھر میں بتاؤں گاکہ میں نے کیسے جامعہ کراچی میں تحریک کاآغاز کیا۔
اللہ آپ سب کوخوش رکھے۔۔۔اللہ آپ سب کو ثابت قدم رکھے ۔۔۔اور جو آج بھی پی آئی بی میں ہوں یا پی ایس پی میں ہوں۔۔۔وہ اپنے گریبانوں میں جھانک کردیکھیں ۔۔۔شہیدوں کو دیکھیں اوراپنی حرکتوں کو دیکھیں کہ روزمحشر خدا کو کیامنہ دکھائیں گے ۔۔۔تمہارے حج۔۔۔تمہاری نمازیں۔۔۔کس کو دھوکہ دے رہے ہو۔۔۔؟ اللہ کو۔۔۔؟ دنیا کو۔۔۔؟ دھوکہ دے سکتے ہومگر اللہ تبارک تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔
*****

9/21/2017 11:38:58 PM