Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
pressoffice@mqm.org
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایمنسٹی انٹرنیشنل ‘‘ کا ایم کیوایم کے بزرگ لیڈر اور سینئر پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف کی گرفتاری اورسرکاری حراست میں کئے جانے والے سلوک اورخرابی ء صحت کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار


ایمنسٹی انٹرنیشنل ‘‘ کا ایم کیوایم کے بزرگ لیڈر اور سینئر پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف کی گرفتاری اورسرکاری حراست میں کئے جانے والے سلوک اورخرابی ء صحت کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار
 Posted on: 12/31/2016
ایمنسٹی انٹرنیشنل ‘‘ کا ایم کیوایم کے بزرگ لیڈر اور سینئر پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف کی گرفتاری اورسرکاری
حراست میں کئے جانے والے سلوک اورخرابی ء صحت کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار
ڈاکٹرظفر عارف کوفوری طورپران کے وکیل تک رسائی فراہم کی جائے، انہیں جیل میں علاج معالجہ کیلئے وہ تمام 
سہولتیں فراہم کی جائیں جوجیل سے باہردستیاب ہیں
ڈاکٹر ظفر عارف کے خلاف کسی جرم کے ارتکاب کے ٹھوس شواہد ہوں تو عالمی قوانین و معیارکے مطابق انہیں فیئرٹرائل کی ضمانت دی جائے
پاکستان کے صدر ممنون حسین، وزیراعظم محمدنوازشریف ،وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ اورپاکستانی حکام سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اپیل
دنیابھرمیں لو گ بھی اس معاملے پر پاکستان کے صدر،وزیراعظم ،وزیراعلیٰ سندھ کو خطوط لکھیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل 
پولیس اوررینجرز کی جانب سے کراچی میں انسانی حقوق کی خلاف ورذیوں کی قابل یقین شکایات موصول ہوئی ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل 
پولیس، رینجرزاوردیگر فورسز کی کارروائیوں کی تحقیقات کرنے والا کوئی آزاد، غیرجانبدار اور شفاف نظام موجود نہیں ہے ، ایمنسٹی
ریاستی فورسز کراچی میں انسانی حقوق کی خلاف ورذیوں پر جوابدہی اورسزاکے عمل سے آزادہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل 

دنیا بھرمیں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی ممتازاورمعتبرتنظیم ’’ ایمنسٹی انٹرنیشنل ‘‘ نے اپنی ایک ارجنٹ اپیل میں ایم کیوایم کے سینئراوربزرگ لیڈر اور فلاسفی کے سینئر پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف کی گرفتاری اورسرکاری حراست میں ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایم کیوایم کے دیگررہنماؤں اورکارکنوں کی گرفتاریوں اورسرکاری حراست میں ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کے معاملے کوبھی اٹھایاہے اور دنیابھرمیں لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے پر پاکستان کے صدر،وزیراعظم ،وزیراعلیٰ سندھ کو خطوط لکھیں اوراس کی کاپیاں بیرون ملک تعینات پاکستانی سفارتکاروں کوبھی روانہ کریں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی اپیل میں پروفیسرڈاکٹرحسن ظفرعارف کی گرفتاری اوراس کے بعد پیش آنے والے واقعات کے بارے میں تفصیل سے ذکرکیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں بتایاکہ 70سالہ بزرگ پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف کو 22 اکتوبرکورینجرزنے اس وقت گرفتارکرلیاتھا جب وہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ایم کیوایم کی جانب سے اپنی دوسری پریس کانفرنس سے خطاب کرنے کیلئے کراچی پریس کلب میں داخل ہورہے تھے۔ ڈاکٹرحسن ظفر عارف کو نقص امن کے آرڈی ننس ایم پی او کے تحت ایم کیوایم کے دیگردورہنماؤں امجداللہ خان اورکنورخالدیونس کے ہمراہ کراچی سینٹرل جیل میں قیدکردیاگیا۔ کنورخالدیونس کو22نومبرکورہاکردیاگیاتاہم ڈاکٹرحسن ظفرعارف اورامجداللہ خان کوبدستورقیدرکھاگیا۔ حراست کے دوران امجداللہ خان پر تشددکیاگیاجبکہ ڈاکٹرظفر عارف کوطبی سہولتوں اوروکلاء تک رسائی نہیں دی گئی ۔ 17نومبر کوحکومت سندھ کے محکمہ داخلہ کی جانب سے ڈاکٹرظفرعارف کی حراست میں مزید 30روز کی توسیع کردی گئی اورپولیس کی جانب سے اس کی وجہ امن عامہ کی خرابی کا اندیشہ بتایاگیا۔20دسمبر کوصوبائی محکمہ داخلہ نے ڈاکٹر ظفر عارف اورامجداللہ خان کی رہائی کاحکم دیالیکن کراچی سینٹرل جیل سے رہائی پانے کے چندمنٹ بعدہی انہیں بہت سے لوگوں کے سامنے پولیس نے انہیں دوبارہ گرفتارکرلیااورانہیں عزیزآباد پولیس اسٹیشن لے جایاگیاجہاں انہیں رات بھررکھاگیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں مزیدبتایاکہ حراست کے پورے عرصہ کے دوران ڈاکٹرظفرعارف کواپنے وکیل اورطبی سہولتوں تک رسائی نہیں دی گئی جبکہ وہ دل کے مریض ہیں اوران کے دوبائی پاس ہوچکے ہیں۔25 اکتوبرکو پروفیسرظفرعارف کے ڈاکٹرنے امریکہ سے حکومت پاکستان،حکومت سندھ اور پاکستان کی مسلح افواج کے نام ایک خط بھی لکھاجس میں ڈاکٹرظفرعارف کوعلاج معالجہ کی باقاعدگی سے فراہمی کی اہمیت سے آگاہ کیاگیالیکن جیل حکام نے اس سے مسلسل انکارکیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کے صدر ممنون حسین، وزیراعظم محمدنوازشریف ،وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ اورپاکستانی حکام سے اپیل کی کہ ڈاکٹرظفر عارف کوفوری طورپران کے وکیل تک رسائی فراہم کی جائے، انہیں جیل میں علاج معالجہ کے لئے وہ تمام سہولتیں فراہم کی جائیں جوجیل سے باہردستیاب ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یہ بھی اپیل کی کہ اگرڈاکٹرظفر عارف کے خلاف کسی جرم کے ارتکاب کے ٹھوس شواہد ہوں تو عالمی قوانین اورمعیارکے مطابق انہیں فیئرٹرائل کی ضمانت دی جائے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دنیابھرمیں موجود لوگوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ 3 فروری 2017ء سے پہلے اس معاملے پر پاکستان کے صدر،وزیراعظم ،وزیراعلیٰ سندھ کو خطوط لکھیں اوراس کی کاپیاں بیرون ملک تعینات پاکستانی سفارتکاروں کوبھی روانہ کریں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ار جنٹ اپیل میں مزیدکہاہے کہ ایمنسٹی کوپولیس اوررینجرز کی جانب سے کراچی میں انسانی حقوق کی خلاف ورذیوں کی قابل یقین شکایات موصول ہوئی ہیں۔رینجرزکو انسداد دہشت گردی کے ایکٹ 1997ء کے تحت کراچی میں تعینات کیاگیاہے اوراسی ایکٹ کے تحت رینجرز کو پولیس کے اختیارات دیے گئے ہیں تاہم رینجرزکی کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورذیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس بات پر سخت تشویش کااظہارکیاہے کہ موجودہ قوانین میں پولیس، رینجرزاوردیگرسیکوریٹی فورسز کی کارروائیوں کی تحقیقات کرنے والا کوئی آزاد، غیرجانبدار اور شفاف نظام موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے ریاستی فورسز کراچی میں انسانی حقوق کی خلاف ورذیوں پر جوابدہی اورسزاکے عمل سے آزادہیں۔ ایمنسٹی نے اس ضمن میں اپنی رپورٹ میں ایم کیوایم کے سینئرکارکن آفتاب احمدکے ماورائے عدالت قتل کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ آفتاب احمدکو3مئی کو رینجرزنے کراچی میں گرفتارکیااوراسے جناح اسپتال میں یہ کہہ کرلایاگیاکہ اس کے سینے میں تکلیف ہے لیکن اسی روزوہ جاں بحق ہوگیا۔ اس کے جسم پر تشددکے بہت سے نشانات تھے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کاکہناہے کہ ایم کیوایم اوردیگرسیاسی جماعتوں کے متعدد کارکنوں کوبھی گرفتارکیاگیاہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں سابق وفاقی وزیرڈاکٹرعاصم کی گرفتاری اورسرکاری حراست میں ان کے ساتھ کئے جانے والے سلوک کابھی تفصیلی ذکر کیاہے اوراس پر تشویش ظاہر کی ہے ۔ 

*****

2/20/2017 10:12:03 AM