Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سوچ وفکر کی طاقت ۔۔۔۔۔۔۔ تحریر:۔ قاسم علی رضاؔ


سوچ وفکر کی طاقت ۔۔۔ تحریر:۔ قاسم علی رضاؔ
 Posted on: 12/13/2016
سوچ وفکر کی طاقت
تحریر:۔ قاسم علی رضاؔ 
ظلم وستم،جبرواستبداد اور طاقت کے ذریعہ سچے نظریئے اور سوچ وفکرکوشکست نہیں دی جاسکتی ، یہ قانون فطرت ہے اسے ہرگز نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ تاریخ انسانی میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں ، کارل مارکس سے لینن، ماؤزے تنگ سے فیڈل کاسترو اور پھر نیلسن مینڈیلا کی جدوجہد اورنظریات کو ریاستی طاقت سے ختم کرنے کی کوشش اوراسکے نتائج تاریخ کے اوراق پر محفوظ ہیں۔تاریخی حقائق سے روگردانی نہیں کی جاتی بلکہ ان سے سبق لیا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی غلطیوں کو دہرایا نہ جاسکے ۔ پاکستان میں دوفیصدمراعات یافتہ طبقہ کی حکمرانی قائم ہے ، فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے باعث ملک کے ہرشعبہ میں جاگیردارانہ ذہنیت نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں ، غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے جناب الطاف حسین نے سندھ کے شہری علاقوں میں فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خلاف عملی جدوجہد کا آغاز کیا،حقیقت پسندی اورعملیت پسندی فلسفہ دیا، ملک میں غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی کی سوچ پیدا کی تو ایم کیوایم کوریاستی طاقت سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی اورآج تک کی جارہی ہے لیکن سب بھول گئے کہ انسان فانی ہے ، انسان کو ختم کیاجاسکتا ہے لیکن کسی سوچ وفکر اورنظریہ کوطاقت کے ذریعہ ختم نہیں کیاجاسکتا۔ کہاجاتاہے کہ بانی ایم کیوایم جناب الطاف حسین نے 22 اگست2016ء میں اپنی ایک تقریر کے دوران پاکستان کے خلاف نعرہ لگایاتھا،یہ نعرہ ملک کی اسٹیبلشمنٹ کو بھی یاد ہے ، سیاسی تجزیہ نگاروں، دانشوروں اور کالم نگاروں کو بھی ذہن نشین ہے اور اینکرپرسنز بھی اس جملے کو آج تک نہیں بھولے مگراس جملے سے قبل اور بعدمیں جناب الطاف حسین نے پاکستان کے حق میں کیاکچھ کہاہے وہ کسی کویاد نہیں رہتا ۔دہشت گردی کے خلاف ضرب عضب کا آغاز کیاجائے توجناب الطاف حسین نہ صرف پاک فوج کی حمایت میں ایک ملین افراد کی ریلی کا انعقاد کرتے ہیں بلکہ جناب الطاف حسین سمیت لاکھوں شرکاء کھڑے ہوکر پاک فوج کے جوانوں کو سیلوٹ بھی کرتے ہیں لیکن جناب الطاف حسین کا یہ مثبت عمل کسی بھی ’’صاحب علم ‘‘کو یاد نہیں ۔ جب پاکستان کی سرحدوں پر خطرات منڈلانے لگے تو جناب الطاف حسین نے وطن عزیز کے دفاع کیلئے پاک فوج کی حمایت کااعلان کیا اور فوج کے شانہ بشانہ قربانی دینے کیلئے ایک لاکھ کارکنان کی پیشکش بھی کی لیکن اس مثبت عمل کو بھی دانستہ چھپایاجاتارہا اور بس ایک جملہ یاد کرکے ایم کیوایم کش پالیسی اپنالی گئی اور دن رات ایم کیوایم کا میڈیا ٹرائل کیاجاتارہا جوکہ آج تک جاری ہے ۔
کیا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی ہے کہ ایم کیوایم نے آگ اورخون کے متعدد دریاعبورکیے ہیں اورظلم کا شکار مہاجروں کو کبھی انصاف نہیں ملا۔کراچی اور حیدرآباد میں مہاجربستیوں پر کئی بار مسلح حملے کرکے آگ اورخون کی ہولی کھیلی گئی، مہاجروں کا قتل عام کیاگیاپھر 1992 ء میں ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیاگیا،بزرگ سیاسی رہنما اورسابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری شجاعت حسین، منتخب ایوان میں کہہ چکے ہیں کہ ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں کو قتل کرکے مارگلہ کی پہاڑیوں میں دفنایاجاچکا ہے ،مگر قاتلوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایاگیا کہ کون تھے اور انہیں کیاسزادی گئی۔ ماورائے عدالت قتل کیے گئے لوگوں میں جناب الطاف حسین کے بڑے بھائی ناصرحسین اور بھتیجے عارف حسین بھی شامل ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن سیکوریٹی اہلکاروں کی جانب سے ماورائے عدالت قتل کے ان واقعات کے باوجود جناب الطاف حسین نے کبھی پاکستان کے خلاف بات نہیں کی۔یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر موجود کہ کراچی میں ماورائے عدالت قتل کے نکتہ پر پاکستان کی دومنتخب حکومتیں توبرطرف کردی گئیں لیکن ماورائے عدالت قتل میں ملوث سرکاری اہلکار آج تک قانون کی گرفت سے محفوظ ہیں۔کہاں ہے عدل اورکہاں ہے انصاف؟
کراچی آپریشن کے دوران جب جناب الطاف حسین نے دیکھا کہ ان کے کارکنان جنہیں وہ اپنے بیٹوں اور چھوٹے بھائیوں کی طرح پیارکرتے ہیں،وہ گرفتارہونے کے بعد لاپتہ کیے جارہے ہیں پھران کی تشدد زدہ لاشیں سڑکوں پر پائی جارہی ہیں، حراست کے دوران انکے ساتھیوں کو وحشیانہ تشددکانشانہ بنایاجارہا ہے ، ماورائے عدالت قتل کیے جارہے ہیں جب ان مظالم کا سلسلہ دن بدن بڑھنے لگاتو دکھ اورصدمہ میں ان کے منہ سے پاکستان کے خلاف ایک جملہ نکل گیا لیکن فوری انہیں اپنی غلطی کا احساس بھی ہوگیااور انہوں نے اسی رات تحریری معافی مانگ لی۔ دوسرے دن آرمی چیف ،آئی ایس آئی کے چیف، ڈی جی رینجرز اور ایک ایک پاکستانی کو مخاطب کرکے انہوں نے دوبارہ تحریری معافی مانگی، اس کے بعد متعدد مرتبہ جناب الطاف حسین نے اپنے وڈیوپیغامات میں پاکستان کی بقاء وسلامتی کی بات کی اورپاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا لیکن انکی اچھی باتوں کو نظرانداز کردیا گیااور اسٹیبلشمنٹ نے اپنی پالیسی نہیں بدلی ، اگر جناب الطاف حسین کا تعلق کسی اور قوم سے ہوتاتو شایدانہیں بھی معاف کردیا جاتا لیکن مہاجرہونا جناب الطاف حسین کا سب سے بڑاجرم بنادیاگیا ۔ 22 اگست کے بعد ’’وش لسٹ‘‘ تھمادی گئی اورمہاجرقوم پرزوردیاگیا کہ یا تو جناب الطاف حسین سے لاتعلقی اختیار کریں یا ساری زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزاریں۔ جن لوگوں کا حق پرستی کے نظریہ پر ایمان کمزور تھا ، جنہوں نے تحریک سے نام ،مقام اورعزت وشہرت پائی، دولت کمائی تھی ان عناصر نے اپنی جانیں اور مال بچانے کیلئے ظرف وضمیرکا سودا کرلیا اور شہداء کی قربانیوں کوفراموش کردیا لیکن جناب الطاف حسین کی قیادت اور حق پرستی کے نظریہ پر کامل یقین رکھنے والے گمنام کارکنان وعوام نے اپنے ظرف وضمیرکا سودا کرنا گوارا نہ کیا اورانہوں نے تمام ترمصائب ومشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود جناب الطاف حسین سے اپناقلبی وروحانی تعلق استواررکھا جس کا عظیم الشان مظاہرہ 9،دسمبرکو یوم شہداء کے موقع پر دیکھنے میں آیا ، کراچی ، حیدرآباداور سندھ کے دیگرشہروں کی فضائیں جناب الطاف حسین کے نعروں کی گونج سے اٹھیں۔ بے شک طاقت کے ذریعہ سچے نظریئے اور سوچ وفکرکوشکست نہیں دی جاسکتی ، جناب الطاف حسین کی مثبت باتوں کو فراموش کرنے والوں کو فطرت کا یہ قانون نہیں بھولنا چاہیے ۔ 

*****

6/26/2017 12:29:01 PM