Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

انسانی حقوق پر سندھ رینجرز کی رپورٹ جعلی،فرحت اللہ بابر:بشکریہ ڈان نیوز


انسانی حقوق پر سندھ رینجرز کی رپورٹ جعلی،فرحت اللہ بابر:بشکریہ ڈان نیوز
 Posted on: 8/16/2016
انسانی حقوق پر سندھ رینجرز کی رپورٹ 'جعلی': فرحت اللہ بابر
رضا خان
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سندھ رینجرز کی سینیٹ کمیٹی کو بجھوائی گئی رپورٹ 'جعلی تنظیم' نے تیار کی۔

منگل کو کمیٹی کے اجلاس کے دوران فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ سندھ رینجرز نے ' انسانی حقوق کمیشن برائے جنوبی ایشیا' نامی تنظیم کی رپورٹ پیش کی تھی جو کہ جعلی تنظیم ہے اور اس کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں۔

پی پی پی رہنما کے مطابق اس تنظیم کی ویب سائٹ ہانگ کانگ سے چلائی جارہی ہے جب کہ رپورٹ میں جن پاکستانیوں کے نام درج ہیں انہوں نے بھی مذکورہ تنظیم سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ کمیٹی کے سامنے جعلی رپورٹ بھیجنے کی تحقیقات کی جانی چاہییں۔ 'رینجرز فوج کا ذیلی ادارہ ہے اور جعلی رپورٹ سے فوج کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی'۔

واضح رہے کہ سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے گزشتہ اجلاس میں کراچی آپریشن کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کمیٹی کے ارکان نے تشویش کا اظہار کیا تھا اور اس وقت سندھ رینجرز نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی باتوں میں صداقت نہیں۔

ساتھ ہی رینجرز نے اس حوالے سے ' انسانی حقوق کمیشن برائے جنوبی ایشیا' نامی تنظیم کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ بھی کمیٹی کے سامنے پیش کی تھی جس میں دعویٰ کیا تھا کہ کراچی آپریشن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہورہی۔

تاہم اب فرحت اللہ بابر نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تنظیم جعلی ہے اور اس کی رپورٹ بھی قابل اعتماد نہیں۔

فرحت اللہ بابر نے مطالبہ کیا کہ کراچی آپریشن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے کسی گمنام تنظیم کے بجائے مستند این جی اوز اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رپورٹ لی جائے۔

توہین رسالت قانون پر عملدرآمد کے طریقے میں تبدیلی کا مطالبہ
نسرین جلیل کی صدارت میں ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں توہین رسالت قانون میں عملدرآمد کے طریقہ کار کی تبدیلی پر بھی غور کیا گیا۔

نسرین جلیل نے کہا کہ توہین رسالت قانون میں ترمیم نہیں چاہتے، اور نہ ہی قانون کو چھیڑ رہے ہیں، ہم اس قانون پر عملدرآمد کے طریقہ کار میں تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ قانون پر عمل درآمد کا طریقہ کار ایسا ہونا چاہیے کہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کوئی بے گناہ اس کا نشانہ نہ بنے، اسے سزا نہ دی جائے، اس قانون سے غیر مسلموں سے زیادہ مسلمان نشانہ بنے، لوگ ذاتی دشمنی نکالنے کے لئے بھی توہین رسالت قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں۔

اس موقع پر چیئرمین قومی کمیشن برائے انسانی حقوق علی نواز چوہان نے بریفنگ میں بتایا کہ میں نے توہین رسالت قانون پر عملدرآمد کے حوالے سے سفارشات مرتب کی ہیں، جس کے مطابق توہین رسالت کیس کی تحقیقات ایس پی سے کم درجے کا پولیس افسر نہ کرے، کیس کی سماعت ڈسٹرک اینڈ سیشن جج سے نیچے کوئی جج نہ کرے۔

علی نواز چوہان نے کہا کہ توہین رسالت کا جھوٹا مقدمہ دائر کرنے والے پر بھی فوجداری مقدمہ درج ہونا چاہیے اور جب تک الزام ثابت نہ ہو اس کیس کو قابل ضمانت رکھا جانا چاہیے۔

سینیٹر مفتی عبدالستار کا کہنا تھا کہ توہین رسالت قانون کو چھیڑا تو بہت مسئلہ بن جائے گا، زیر غور تجاویز پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی لی جانی چاہیے۔
فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وہ توہین رسالت قانون میں ترمیم نہیں چاہتے لیکن توہین رسالت قانون کا غلط استعمال روکنے کی اشد ضرورت ہے

12/8/2016 2:06:21 PM