Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کے ذمہ داران و کارکنان کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں میں تیزی لانے کا مقصد ایم کیوایم کو سیاسی طور پر کمزور کرنا ہے، ڈپٹی کنوینر ایم کیوایم شاہد پاشا


 Posted on: 8/11/2016
ایم کیوایم کے ذمہ داران و کارکنان کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں میں تیزی لانے کا مقصد ایم کیوایم کو سیاسی طور پر کمزور کرنا ہے، ڈپٹی کنوینر ایم کیوایم شاہد پاشا 
چھاپہ مار کارروائیوں میں ایم کیوایم سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے جوائنٹ انچارج شکیل احمد سمیت متعدد کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا، شاہد پاشا 
ایم کیوایم پر ہی ٹارگٹڈ آپریشن مسلط کرکے جرائم پیشہ عناصر اورجیٹ بلیک دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دیدی گئی ہے،شاہد پاشا
اگرقانون نافذ کرنے والے اداروں کے بعض افراد کی وجہ سے معتبراداروں کی ساکھ مجروح ہورہی ہے تو ارباب اختیار مداخلت کیوں نہیں کرتے ، شاہد پاشا
صرف ایم کیوایم کو ہی سنگل آؤٹ کرکے اس کے خلاف آپریشن کی ذیادیتوں کو کیوں نہیں دیکھاجارہاہے؟ شاہد پاشا
چھاپہ مار کاررائیوں میں مرد اہلکاروں خواتین سے بدسلوکی اور دست درازی جیسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب انتہائی ہولناک صورتحال ہے ، شاہد پاشا 
ہماری ماؤں، بہنوں کی عزت کی بات آرہی ہے، بدتمیزی اور دست دازی تک کی جارہی ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے، شاہد پاشا 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی ۔۔۔11، اگست2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر شاہد پاشا نے کہا ہے کہ ایم کیوایم کے ذمہ داران و کارکنان کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں میں تیزی لانے کا مقصد ایم کیوایم کو سیاسی طور پر کمزور کرنا ہے ، گزشتہ تین روز کے دوران رینجرز ، پولیس اور سادہ لباس اہلکاروں نے ایم کیوایم کے 20کارکنان کو بلاجواز گرفتار کیا ہے اور چھاپوں کا یہ سلسلہ آج بھی جاری رہا ،پولیس اور ینجرز نے شہرکے مختلف علاقوں میں چھاپہ مارکارروائیاں کرکے ایم کیوایم سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے جوائنٹ انچارج شکیل احمد سمیت متعدد ذمہ داران وکارکنان کو غیر قانونی طو پر گرفتار کرلیا ۔انہوں نے کہاکہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایم کیوایم کراچی کی واحد نمائندہ جماعت ہے لیکن ایم کیوایم اور اس کے کارکنان پر ہی ٹارگٹڈ آپریشن مسلط کرکے جرائم پیشہ عناصر اورجیٹ بلیک دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دیدی گئی ہے اور ان کی سرگرمیوں سے مجرمانہ طور پر آنکھ بند کرکے صرف اور صرف ایم کیوایم کو ختم کرنے کیلئے ساری تدابیر ، سوچ بچار، لائحہ عمل اور کارروائیاں کی جارہی ہیں ۔ اگرقانون نافذ کرنے والے اداروں میں بعض افراد یا فرد کی وجہ سے اداروں کی ساکھ مجروح ہورہی ہے تو ارباب اختیار و اقتدار مداخلت کیوں نہیں کرتے ، صرف ایم کیوایم کو ہی سنگل آؤٹ کرکے اس کے خلاف آپریشن کی ذیادیتوں کو کیوں نہیں دیکھاجارہاہے؟
، ایسا آپریشن کسی کی ذاتی خواہش ہوسکتی ہے اور ان افراد کی غلطی ہوسکتی ہے جو سیاسی مقاصد کیلئے کام کررہے ہیں اور اداروں کا احترام مجروح کررہے ہیں ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کی شام خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین عارف خان ایڈووکیٹ، عبد القادرخانزادہ، رکن الدین تاج اور حق پرست رکن سندھ اسمبلی محمد انور کے پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔شاہد پاشا نے کہاکہ آج شب رینجرز نے فیڈرل بی ایریا بلاک 18میں چھاپہ مار کر ایم کیوایم سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے جوائنٹ انچارج شکیل احمد جبکہ پولیس اور سادہ لباس اہلکاروں نے فائر بریگیڈ اسٹیشن منظور کالونی میں چھاپہ مار کر رکن سی ای سی زاہد باجی کے داماد ظفر ، سابق ٹاؤن آرگنائزر سہیل رعناکو گرفتارکرلیا ، اسی طرح سادہ لباس اہلکاروں نے اورنگی ٹاؤن سے یوسی 17کے کارکن اکبر علی ، یوسی 38سرجانی کے کارکن محمود خان ، کورنگی کے کارکن فاروق کے بھائی جاوید کو گرفتار کرلیا ، نیو کراچی فائر اسٹیشن سے ارشد بیگ ، محمود علی خان کو پولیس اہلکاروں نے گرفتار کیا ، اسی طرح ایم کیوایم کے کارکن عباس علی ولد مشرف علی کو گرفتار کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ رینجرز، پولیس اور سادہ لباس اہلکار ،لیڈی پولیس کے بغیر ایم کیوایم کے ذمہ داران و کارکنان کے گھروں پر چھاپہ مار کارروائیاں کررہے ہیں ، اب ان کاررائیوں میں خواتین سے بدسلوکی اور دست درازی جیسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب ہونے لگا ہے ، ایم کیوایم کی جانب سے چھاپوں کے دوران خواتین کی بے حرمتی کے واقعات کی نشاندہی کے باوجود اس کا سدباب نہ کرنا اور کسی جانب سے نوٹس نہ لینا سراسر بد نیتی ہے اور خواتین کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ کراچی آپریشن کے دوران رینجرز، پولیس اور سادہ لباس اہلکاروں کی جانب سے ہزاروں کی تعداد میں ایم کیوایم کے کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور گرفتاریاں کی گئیں لیکن کہیں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ مقابلہ تو درکنا مزاحمت تک نہیں کی گئی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایم کیوایم کراچی ٹارگٹڈ آپریشن میں مکمل تعاون کررہی ہے لیکن اس کے برعکس بے گناہ ذمہ داران و کارکنان کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کیاجارہا ہے اور ان پر پی ایس پی میں شمولیت اختیار کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز ، پولیس اور سادہ لباس اہلکاروں کی جانب سے ایم کیوایم کے ایسے کارکنان جو کسی جرم میں مطلوب نہیں ہیں ، ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر تک نہیں کٹی ، ان کے اچھے اور مخلصانہ کردار سے علاقے کے عوام اچھی طرح واقف ہیں انہیں گھروں میں سوتے ہوئے گرفتار کرنا اور جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی ڈرامہ سیریل چلانا کس آئین و قانون کے تحت درست ہے ؟ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کے نام پر مسلسل ایم کیوایم کو نشانہ بناتے ہوئے پونے تین سال کا عرصہ ہورہا ہے لیکن اس عرصہ میں قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ تک بتانے سے قاصر ہیں کہ انہیں ایم کیوایم کے کتنے اور کون کون سے کارکن مطلوب ہیں اس کے برعکس قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایم کیوایم کے ہر کارکن کو مطلوب بنا دیا ہے اور کسی کے بھی گھر میں بغیر لیڈی پولیس داخل ہوکر توڑ پھوڑ ، لوٹ مار کرنا معمول کا حصہ بنارکھا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ شب بھی ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان سید اشرف نور اور رکن الدین تاج کے گھروں پر رینجرز نے غیرقانونی چھاپے مارے اور اسی پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے عزیز واقارب کے گھروں پر چھاپہ مارکارروائیاں کیں اور خو ف و ہراس پھیلایا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اوربلاجواز اور غیر قانونی چھاپہ مار کارروائیوں سے قانون نافذ کرنے والے ادارے کراچی سے جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردی ختم کرنے کے اہداف حاصل نہیں کررہے ہیں بلکہ اپنے سیاسی آقاؤں کے اشاروں پر وہ گھناؤنا عمل کررہے ہیں جس کی جمہوریت میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ انہوں نے کہا کہ پونے تین سالہ آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جس بڑے پیمانے پر ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے ہیں اور گرفتاریاں کی ہیں اتنی گرفتاریاں اور چھاپے تو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج نے بھی نہیں کیں ، کراچی کو وفاقی اور صوبائی سطح پر تنہا چھوڑ دیا ہے ، اس کے سیاسی اور جمہوری حقوق سلب کرلئے گئے ہیں ، ایم کیوایم کو دیوار سے لگا کر کراچی کو ایک کالونی کی طرح سے ڈیل کیاجارہا ہے یہاں آئین وقانون کو پیروں تلے روندا جارہا ہے لیکن ارباب اقتدار و اختیار سب اس ریاستی ظلم پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں جس سے صاف ظاہر ہے کہ کراچی بھی مقبوضہ کشمیر کی طرح ایک کالونی بن چکا ہے جہاں آئین و قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ جنگل کا قانون نافذ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ متحدہ قومی موومنٹ ملک کی تیسری اور صوبہ سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے اور ملک کے سب سے پڑھے لکھے اور باشعور طبقے کی نمائندگی کرتی ہے ، عام انتخابات ہوں یا بلدیاتی انتخابات ایم کیوا یم کا عوامی مینڈیٹ دن بدن بڑھتا چلا جارہا ہے لیکن تعجب اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ایم کیوایم کے جائز عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے مسلسل ریاستی طاقت کے ذریعے کچلنے کا عمل جاری رکھا جارہا ہے اور جرائم پیشہ عناصر اور جیٹ بلیک دہشت گردوں کے بجائے ایم کیوایم کے کارکنان اور ذمہ داران کی جس بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی جارہی ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ شہر میں کسی اور کیلئے جگہ بنائی جارہی ہے اور ایم کیوایم کو ریاستی طاقت کے ذریعے کچلنے کا گھناؤنا عمل کیاجارہا ہے اور اس سلسلے میں چھاپے ، گرفتاریوں میں تیزی لائی گئی ہے ، ذمہ داران و کارکنان کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہیں ، اپنے گھرو ں کے بعد اب وہ اپنے آفسوں میں بھی غیر محفوظ ہیں اور ایم کیوایم کے کام کرنا ان کیلئے جرم بنا دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اردو بولنے اور مہاجر ہونے کی بنیاد پر کراچی شہر میں ایم کیوایم کے ساتھ جس طرح کا غیر قانونی ، غیر آئینی اور غیر سیاسی طرز عمل اختیار کیا گیا ہے اس نے ملک میں قائم جمہوریت کا پول کھول دیا ہے اور ثابت کردیا ہے کہ ایم کیوایم کے خلاف جس طرح سے ریاستی ظلم و ستم ، چھاپے و گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اس نے آمریت کے مظالم کو بھی مات دیدی ہے ۔ انہوں نے انسانی حقوق کے ملکی اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ کراچی میں ایم کیوایم کے ذمہ داران و کارکنان کی بلاجواز اور غیر قانونی گرفتاریوں کا نوٹس لیں، چھاپے و گرفتاریوں کے ذریعے ایم کیوایم کے سیاسی اور جمہوری حقوق پامال کرنے پر صدائے احتجاج بلند کریں ۔ شاہد پاشا نے وزیراعظم نوازشریف ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایم کیوایم سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے رکن شکیل سمیت متعدد کارکنان کی بلاجواز اور غیر قانونی گرفتاریوں کا نوٹس لیاجائے ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایم کیوایم کو ٹارگٹ کرنے کے بجائے جرائم پیشہ عناصر اور جیٹ بلیک دہشت گردوں کے خلاف استعمال کیاجائے ، اگر قانو ن نافذ کرنے والے ریاستی اداروں کو اسی طرح ایم کیوایم کو کچلنے اور دبانے کیلئے استعمال کیا جاتا رہا تو ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ اس کے بھیانک اور منفی نتائج ملک و قوم کیلئے کسی طرح بھی سود مند ثابت نہیں ہوسکتے ہیں ۔انہوں نے واضح کیا کہکراچی کے عوام کا احساس محرومی احساس بیگانی میں تبدیل ہورہا ہے ، اب ہماری ماؤں ،بہنوں کی عزت کی بات آرہی ہے، بہنوں کو گرفتار کیاجارہا ہے ، بدتمیزی اور دست دازی تک کی جارہی ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے ، ا سکی پوری ذمہ داری ارباب اختیار و اقتدار پر عائد ہوگی اور اس کے بھیانک نتائج کسی طرح ملک ے مفاد میں نہیں ہوسکتے ۔

12/6/2016 1:57:46 PM