Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

چھاپے کے دوران کارکن کے گھر میں موجود خواتین سے بد تمیزی، لیڈیز پولیس کے بغیر انہیں موبائل میں بیٹھا کر گھومنا اور دست درازی کرنا خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، حق پرست رکن سندھ اسمبلی عامر معین


چھاپے کے دوران کارکن کے گھر میں موجود خواتین سے بد تمیزی، لیڈیز پولیس کے بغیر انہیں موبائل میں بیٹھا کر گھومنا اور دست درازی کرنا خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، حق پرست رکن سندھ اسمبلی عامر معین
 Posted on: 8/10/2016
چھاپے کے دوران کارکن کے گھر میں موجود خواتین سے بد تمیزی، لیڈیز پولیس کے بغیر انہیں موبائل میں بیٹھا کر گھومنا اور دست درازی کرنا خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، حق پرست رکن سندھ اسمبلی عامر معین 
چھاپہ مار کارروائیوں کے دوارن خواتین سے بد تمیزی اور دست درازی کا عمل فی الفور بند کرائیں، ملوث اہلکاروں کو معطل کرکے قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے، عامر معین 
خواتین کے ساتھ اس طرح کا ناروا سلوک کون غیرت مند شخص برادشت کرسکتا ہے، عامر معین
چھاپوں کے دوران خواتین کی عزت و آبرو کاخیال نہیں رکھا گیا تو اس کے نتائج انتہائی بھیانک برآمد ہوسکتے ہیں، عامر معین
وزیراعلیٰ چھاپہ مار کارروائی کا نوٹس لیں، ماؤں، بہنوں کی عزت سنبھالنا حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، عامر معین
ہم اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں، کارکن کی ہمشیرہ صائمہ
جن سے ہم تحفظ مانگتے ہیں وہی ہماری عزتیں پامال کررہے ہیں ، ہمارے بچے تک محفوظ نہیں ہیں، والدہ محترمہ رابعہ
کورنگی ٹاؤن کے کارکن عامر علی بیگ کی رہائشگاہ پر پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی ۔۔۔10، اگست2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے حق پرست رکن سندھ اسمبلی عامر معین پیرزادہ نے کہا ہے کہ ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنان کے گھروں پر تابر توڑ چھاپے و گرفتاریوں کے واقعات کے بعد اب چھاپہ مار کارروائی کے دوران گھرمیں موجود خواتین سے بدتمیزی اور لیڈی پولیس کے بغیر انہیں موبائلوں میں بیٹھا کر گھومنا اور دست درازی کرنا خواتین کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس از خود نوٹس لیں اور بلاجواز و غیر قانونی چھاپہ مار کارروائیوں کے دوارن خواتین سے بد تمیزی اور دست درازی کا عمل فی الفور بند کرائیں اور اس میں ملوث اہلکاروں کو معطل کرکے قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان رکن الدین، اکرم راجپوت ، حق پرست رکن سندھ اسمبلی شیراز وحید ، سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکاروں کی چھاپہ مار کارروائی سے متاثر ایم کیوایم کے کورنگی ٹاؤن یوسی 25کے کارکن عامر بیگ کی بہنوں صائمہ ، حنا اور والدہ محترمہ رابعہ کے ہمراہ ان کی رہائشگاہ پر پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پرعلاقے کی خواتین ، بزرگ ،بچوں اورنوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی جو یہ مطالبہ کرتی رہی کہ انصاف دلایاجائے ۔ عامر معین نے کہاکہ 9اگست کو کورنگی ٹاؤن یوسی 25کے کارکن عامر علی بیگ کی رہائشگاہ پر سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکاروں نے جو سادہ ڈبل کیبن اور کار میں سوار ہوکر آئے تھے چھاپہ مارا ، گھر میں توڑ پھوڑ کی ، مغلظات بکیں اور عامر علی بیگ کے نہ ملنے پر ان کی اہلیہ ، بہنوں حنا ، صائمہ اور والدہ محترمہ رابعہ کو اپنے ساتھ موبائل میں بٹھا کر لے گئے جبکہ ان کے چھوٹے بھائی اظہر کو بلاجواز گرفتار کرلیا ۔ موبائل میں بٹھانے کے بعد کچھ فاصلے پر بہن حنا اور والدہ کو چھوڑ دیا اور عامر علی بیگ کی چھوٹی بہن صائمہ کو دوسری کار میں بٹھا لیا اس دوران سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکار ان سے مسلسل بد تمیزی اور دست درازی کرتے رہے اور یہ معلوم کرتے رہے کہ اسلحہ کہاں چھپا رکھا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عامر علی بیگ کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے ، ان کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ ایم کیوایم کے انتہائی سرگرم کارکن ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنان چھاپے و گرفتاریو ں اور تشدد کا غیر قانونی عمل برداشت کررہے ہیں اور صبر کا مظاہرہ کررہے ہیں لیکن جب کارکنان کے گھر میں موجود خواتین کے ساتھ اس طرح کا ناروا سلوک کیاجائے گا تو ہمیں یہ بتایاجائے کہ ایسا سلوک کون غیرت مند شخص برادشت کرسکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ کئی دنوں سے لانڈھی اورکورنگی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایم کیوایم کے کارکنان کی گرفتاریوں اور گھروں پر بلاجواز چھاپوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جو ایم کیوایم کے کارکنان جھیل رہے ہیں اور برداشت کررہے ہیں لیکن ہم یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ اگر چھاپوں کے دوران خواتین کی عزت و آبرو کاخیال نہیں رکھا گیا تو اس کے نتائج انہتائی بھیانک برآمد ہوسکتے ہیں لہٰذ ا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ چھاپوں کے دوران اہلکاروں کو خواتین سے بد تمیزی ، دست دازی کے مکروہ عمل سے باز رکھاجائے اور ایسے واقعات میں ملوث اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے ۔ ایک سوال کے جواب میں عامر معین نے کہاکہ اہلکاروں نے کوئی شناخت نہیں کرائی ، سادہ گاڑیوں میں آئے تھے ، ہم نہیں جانتے پولیس والے ہی تھے یا ان کے روپ میں کوئی اور تھے ۔ انہو ں نے کہاکہ وزیراعلیٰ اس کارروائی کا نوٹس لیں ، ماؤں ،بہنوں کی عزت سنبھالنا حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے ۔ اگر وہ پولیس اہلکار تھے تو خواتین اہلکاروں کے بغیر کس طرح لوگوں کے گھروں پر چھاپہ ماررہے ہیں اور خواتین کو گرفتار کررہے ہیں۔ایم کیوایم کے کارکن عامر علی بیگ کی ہمشیرہ صائمہ نے بتایا کہ نقاب پوش اہلکار گھر میں داخل ہوئے معلوم نہیں وہ پولیس اہلکار تھے بھی یا نہیں ، ہم اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں ، اہلکاروں نے میرے چھوٹے بھائی کو بھی بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا، میری تین سالہ بھتیجی اور ڈیڑھ سالہ بھانجے کو سفاک اہلکاروں نے تھپر مارے اور ان کے اوپر پیر رکھ کر دھمکی دی کہ انہیں مار دیں گے ہمیں یہ بتایا جائے کہ ہم انصاف کیلئے کونسا دروازہ کھٹکھٹائیں ۔ عامر علی بیگ کی والدہ محترمہ نے بتایا کہ چھاپے کے دوران جس طرح سے خوااتین کے ساتھ بدتمیزی کی گئی اس سے یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ یہ پولیس اہلکار ہیں ، مرداہلکاروں کے ساتھ خواتین اہلکار نہیں تھیں ، جن سے ہم تحفظ مانگتے ہیں وہی ہماری عزتیں پامال کررہے ہیں ، ہمارے بچے تک محفوظ نہیں ہیں ، میری گزارش ہے کہ ہماری حکومتی سطح پر مدد کی جائے اور سفاک اہلکاروں کے غیر قانونی اور غیر آئینی عمل پر ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ کورنگی ٹاؤن کی حق پرست کونسلر قرۃ العین نے کہاکہ ہمارے کارکنوں کے ساتھ ساتھ اب خواتین کو نشانہ بنایا جارہا ہے ، ہم نے پاکستان لا الہ الاللہ محمد الرسول اللہ کی بنیاد پر بنایا تھا جہاں خواتین کی عزتیں محفوظ ہوں گی لیکن ہمارے گھروں میں خواتین کی عزت اور چار دیواری کو پامال کیاجارہا ہے ۔ یہ واقعہ آج ہماری اس بہن کے ساتھ ہوا کل خدانخواستہ کسی فوجی کی بہن کے ساتھ یہ ہوتا تو کیا اہلکار اسی طرح آزاد گھوم رہے ہوتے ۔ ہم چیف آف آرمی اسٹاف راحیل شریف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چھاپہ مار کاروائی کے دوران خواتین سے بد تمیزی اور دست درازی کا سختی سے نوٹس لیں اور ایسے اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دلوائیں ۔ 



12/5/2016 12:38:36 PM