Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی میں ایم کیوایم کو سنگل آؤٹ کرکے دفاتر اور سیاسی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندی لگا دی گئی ہے ، ڈپٹی کنوینر شاہد پاشا


کراچی میں ایم کیوایم کو سنگل آؤٹ کرکے دفاتر اور سیاسی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندی لگا دی گئی ہے ، ڈپٹی کنوینر شاہد پاشا
 Posted on: 8/5/2016 1
کراچی میں ایم کیوایم کو سنگل آؤٹ کرکے دفاتر اور سیاسی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندی لگا دی گئی ہے ، ڈپٹی کنوینر شاہد پاشا 
پی ایس پی پر توہین پرچم کا کیس چلایاجائے ، 14اگست کو کس دل سے پاکستان کا جھنڈا لہرائیں ، شاہد پاشا کا شکوہ 
کراچی میں آپریشن کرنے والے اداروں کواپنے آپریشن کوانٹیلی جنس بیس آپریشن بنانا چاہئے اور انفارمیشن بیس آپریشن کی وجہ سے بہت نقصان ہورہا ہے ، شاہد پاشا 
کراچی آپریشن جیٹ بلیک دہشت گردوں اورٹارگٹ کلر کے خلاف کیاجارہا ہے تومحاصرے کرکے گرفتاریاں کرنے کا کیا مقصد ہے، شاہد پاشا 
یہ باآور کرایاجارہا ہے کہ کراچی جرائم کا گڑھ جبکہ باقی ملک میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہے، شاہد پاشا 
جو انفارمیشن ہمارے مخالفین دیتے ہیں وہ ایم کیوایم کے بغض اور مفاد میں اداروں کو سیاسی ایجنڈے کے طور پر استعمال کررہے ہیں، شاہد پاشا
2008ء سے 2013ء کے درمیان جو خرابیاں ہوئیں وہ ذمہ داران موجود ہیں انہیں پکڑاجائے اور پوچھا جائے 
کہ چائنا کٹنگ اور جبری قبضے کیوں کئے، شاہد پاشا 
سبین محمود ، پروین رحمان اور سانحہ صفورا کا الزام ایم کیوایم پر ڈال دیاجاتا ہے بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کوئی اور ہیں ، شاہدپاشا 
وہ کونسا جادو کا چراغ ہے کہ لاپتہ کارکنان خیابان سحر سے بازیاب ہورہے ہیں، انکوائری کی جائے ، شاہد پاشا کا مطالبہ 
علامتی بھوک ہڑتال کے دوسرے اورآخری روز دوپہر کے وقت رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر شاہد پاشا کی پریس بریفنگ 
کراچی ۔۔۔5، اگست2016ء 
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر سید شاہد پاشا نے کہا ہے کہ کراچی میں متحدہ قومی مومنٹ کو سنگل آؤٹ کرکے دفاتر اور سیاسی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ ، غیر جمہوری اور غیر اخلاقی پابندی لگا دی گئی ہے ،ہم اپنے دکھ کا احساس مقتدر حلقوں تک پہچانا چاہتے ہیں، دو روزہ علامتی بھوک ہڑتال اسی سلسلے کی کڑی تھی اور اتوار کوچھاپے ، گرفتاریوں ، جبری گمشدگیوں اور جناب الطاف حسین کی میڈیا پر پابندی کے خلاف بہت بڑی ریلی عائشہ منزل سے مزار قائد تک نکالی جائے گی ۔انہوں نے شکوہ کیا کہ 14اگست پر پاکستان کا جھنڈا کس دل سے لہرائیں ، پاکستانی جھنڈے کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہ کرنے دیاجائے اور میں مطالبہ کرتا ہوں پی ایس پی پر توہین پرچم کا کیس چلایاجائے۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں آپریشن کرنے والے اداروں کواپنے آپریشن کوانٹیلی جنس بیس آپریشن بنانا چاہئے اور انفارمیشن بیس آپریشن کی وجہ سے بہت نقصان ہورہا ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے غیر قانونی چھاپوں ، گرفتاریوں ، جبری گمشدگیوں ، جھوٹے ، بے بنیاد مقدمات ، سیاسی سرگرمیوں پرغیر اعلانیہ پابندی اور قائد تحریک الطاف حسین کی میڈیا کوریج پر غیر آئینی قدغن کے خلاف ایم کیوایم کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر شروع کی گئی علامتی بھوک ہڑتال کے دوسرے دن دوپہر کے وقت میڈیا کے نمائندگان کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے اراکین جاوید کاظمی ، محفوظ یار خان ، اکرم راجپوت ، گلفراز خان خٹک ، سید اشرف نور ، محمد شاہد اور حق پرست اراکین قومی وصوبائی اسمبلی بھی موجود تھے ۔ شاہد پاشا نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ آج علامتی بھوک ہڑتال کا دوسرا اور آخری دن ہے ، علامتی بھوک ہرتال کا مقصد شہر کراچی میں سنگل آؤٹ کرکے متحدہ قومی موومنٹ کے دفاتر اور سیاسی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ ، غیر آئینی ، غیر جمہوری اور غیر اخلاقی پابندی کو جااگر کرنا ہے ،ہمیں سیاسی پروگرام کرنے نہیں دیئے جارہے ہیں، جب پروگرام منعقد کرتے ہیں تو دفاتر کا گھیراؤ کرلیاجاتا ہے جبکہ ہمیں بتایا گیا کہ یہ کراچی آپریشن جیٹ بلیک دہشت گردوں اورٹارگٹ کلر کے خلاف کیاجارہا ہے
توہم یہ سوال کرتے ہیں کہ محاصرے کرکے گرفتاریاں کرنے کا کیا مقصد ہے ؟ کل بھی ملیر ٹاؤن میں تربیتی نشست کا انعقاد کیا اور وہاں بھی محاصرہ کرکے ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا اور رات بھر ملیر میں چھاپے مار کر کارکنوں کو گھروں سے گرفتارکیا گیا اور ابھی تک پانچ کارکنان لاپتہ ہیں اور ان کا کچھ پتا نہیں چل رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسی طریقے سے پاک کالونی میں ایم کیوایم کے کارکنوں کے گھروں پر دروازہ توڑ آپریشن کیا گیا اور کارکنان یہ کہ کرگرفتار کیا گیا کہ یہ ایم کیوایم کے پروگرام منعقد کرتے ہیں یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ اپنی داد رسی کیلئے کس کے پاس جائیں ، سابق کپتان کو پتہ نہیں تھا وہ سو رہے تھے انہیں کچھ پتا نہیں تھا جبکہ موجودہ وزیراعلیٰ کے علم میں سب کچھ ہے لیکن ابھی تک انہیں فرصت نہیں ہے کہ وہ سندھ کی دوسری بڑی جماعت کے تحفظات کا نوٹس لیں لیکن ابھی بھی ان کا زور اسی بات پر چل رہا ہے کہ اختیارات کراچی میں دیئے جائیں یا پورے سندھ میں دیئے جائیں یعنی یہ باآور کرایاجارہا ہے کہ کراچی جرائم کا گڑھ جبکہ باقی ملک میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے کارکنان کے 61لاشے دفنا چکے ہیں ، 125سے زائد کارکنان لاپتہ ہیں ، 18سو سے زائد کارکنان کو پابند سلاسل کردیا گیا ہے اور جیل میں ان پر یہ دباؤ ہے کہ پی ایس پی کو جوائن کریں گے تو ان پر تمام کیس ختم ہوجائیں گے ۔ انہوں نے سپریم کورٹ ، ہائی کورٹ کے ججز، وزیراعظم ، وزیراعلیٰ سندھ اور اداروں سے سوال کیا کہ ہمارے کچھ لاپتہ کارکنان جن کو علاقہ ایس ایچ او ، ڈی ایس پی آئی جی ، سپریم کورٹ ، ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود بازیاب کرایا نہیں جاسکا وہ کونسا جادو کا چراغ ہے کہ وہ لاپتہ کارکنان خیابان سحر سے بازیاب ہورہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے دکھ کا احساس مقتدر حلقوں تک پہچانا چاہتے ہیں، دو روزہ علامتی بھوک ہڑتال اسی سلسلے کی کڑی تھی اور اتوار کو بہت بڑی ریلی عائشہ منزل سے مزار قائد تک نکالی جائے گی جس میں سندھ بھر سے ایم کیوایم کے کارکنارن ، ہمدرد ، منتخب نمائندوں، شہداء ، اسیر اور لاپتہ افراد کے لواحقین شرکت کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ اگرکراچی آپریشن پرتحفظات ازالہ کمیٹی بن جاتی تو آج ہمیں مظاہرے اوربھوک ہڑتال نہیں کرنا پڑتی، ہم تمام مسائل اس کمیٹی کے سامنے رکھتے ۔ انہوں نے کہاکہ اسی شہرکراچی میں ایک سوشل ورکرز سبین محمود ، پرویشن رحمن کا قتل ہوجاتا ہے اور سانحہ صفورا کا واقعہ ہوتا ہے ان تمام واقعات میں ایم کیوایم کو ملوث کردیا جاتا ہے اور بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ پکڑے گئے قاتلوں کا تعلق ایم کیوایم سے نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک سیاسی جماعت کے کارکن کی ٹی وی پر سلائیٹ دیکھی جاتی ہے توذہن میں صرف ایم کیوایم کا نام آتا ہے جبکہ لیاری میں جو لوگ گرفتار ہوئے ان کا تعلق کیا سیاسی جماعت سے نہیں تھا ، سانحہ صفورا گوٹھ میں جو لوگ پکڑے گئے ان کا تعلق بھی مذہبی جماعت سے تھا کیا ان کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے اور ان کے نام منظر عام پرلائے گئے کہ ان کا تعلق کس سیاسی اور مذہبی جماعت سے تھا۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کو سیاسی طور پر ختم کرنے کیلئے کراچی آپریشن کیاجارہا ہے ، این اے 246سے لیکر بلدیاتی الیکشن تک دنیا نے دیکھ لیا کہ ہمارا ووٹ بنک بتدریج بڑھ رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ایم کیوایم پر ظلم و زیادتی کو لوگ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور ایم کیوایم سے ان کا رشتہ مضبو ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اداروں کواپنے آپریشن کوانٹیلی جنس بیس آپریشن بنانا چاہئے اور انفارمیشن بیس آپریشن کی وجہ سے بہت نقصان ہورہا ہے ۔ جو انفارمیشن ہمارے مخالفین دیتے ہیں وہ ایم کیوایم کے بغض اور مفاد میں اداروں کو سیاسی ایجنڈے کے طور پر استعمال کررہے ہیں لہٰذا ادارے اپنا وقار محلوظ خاطر رکھیں ۔ انہوں نے کہاکہ کرچی میں روزانہ پولیس مقابلے ہوتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھا ور سنا ہوگا کہ ایم کیوایم کے کارکنان کے گھروں پر چھاپے کے دوران کوئی پولیس مقابلہ ہوا ہو۔انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم پڑھے لکھے لوگوں کی جماعت ہے اور پاکستان کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتی ہے ، خدارا ہمارے ساتھ متعصبانہ کاروائیاں بند کی جائیں اور ہمیں بھی جینے کا حق دیاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ گراس روٹ لیول پر خرابیاں موجود ہیں جو ہر جماعت میں ہوتی ہے ، آپ انہیں پکڑیں ، عدالت میں پیش کریں ہم لب پر شکوہ نہیں لائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ 2008ء سے 2013ء کے درمیان جو خرابیاں ہوئیں وہ ذمہ داران موجود ہیں انہیں پکڑاجائے اور پوچھا جائے کہ چائنا کٹنگ اور جبری قبضے کئے ۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ 14اگست پر پاکستان کا جھنڈا کس دل سے لہرائیں ، پاکستانی جھنڈے کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہ کرنے دیاجائے ، میں مطالبہ کرتا ہوں پی ایس پی پر توہین پرچم کا کیس چلایاجائے ، 
تصاویر

12/10/2016 8:42:52 AM