Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

امن کی خاطر طالبان سے عزت و وقار کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں، الطاف حسین


امن کی خاطر طالبان سے عزت و وقار کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں، الطاف حسین
 Posted on: 9/17/2013
امن کی خاطر طالبان سے عزت و وقار کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں، الطاف حسین
طالبان اسکولوں، مساجد، امام بارگاہ، مزارت اور فوجی تنصیبات تک پر حملے کررہے ہیں
طالبان سے مذاکرات پاکستان، مسلح افواج اور حکومت پاکستان کی رٹ اور عزت کا معاملہ ہے 
مسلح افواج اور وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ پاکستان کی بقاء اور رٹ کے قیام کیلئے جرات مندی کے ساتھ فیصلے کریں 
ایم کیوایم انکے جراتمندانہ فیصلوں میں حکومت اور پاک فوج کا ساتھ دینے کیلئے سو فیصد تیار ہے
ماضی میں افغان جنگ میں ہم نے غلط فیصلے کرکے پاکستان کو امریکہ کے پاس گروی رکھ دیا
میجر جنرل ثناء اللہ نیازی اور دیگر افسران کی شہادت کو پاکستانی فوج کا اجتماعی نقصان قرار دیتا ہوں
ایم کیوایم کسی ایک طبقہ کی نہیں بلکہ پاکستان بھر کے مظلوم عوام کی نمائندہ جماعت ہے
ہم اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے کیلئے تیار ہیں کیونکہ الطاف حسین اور اس کے ساتھیوں نے اپنی زندگی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل اور مضبوط و مستحکم پاکستان کیلئے وقف کر رکھی ہے
بعض مرتبہ میرے منہ سے سخت الفاظ نکلے جس پر میں تنقید نگاروں اور اینکر پرسنز سے غیر مشروط معافی کا طلبگار ہوں
امید کرتا ہوں کہ وہ مجھے اپنا پاکستانی بھائی سمجھ کر معاف فرمائیں گے
میری پاکستانیت کوئی مجھ سے نہیں چھین سکتا، میں پاکستانی تھا، ہوں اور پاکستانی رہوں گا
مجھے اپنے پاکستانی ہونے پر کل بھی فخر تھا اور آج بھی فخر ہے
پاکستان لازوال قربانیوں سے حاصل کیا گیا لیکن ہم نے ان قربانیوں کی قدر نہیں کی
60 ویں سالگرہ کے سلسلے میں پاکستان کے 36 سے زائد مقامات پر بیک وقت ٹیلی فونک خطاب
لندن۔۔۔17، ستمبر2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ طالبان ہمارے ملک میں جگہ جگہ خود کش حملے کررہے ہیں، اسکولوں، مساجد، امام بارگاہ ،مزارت اورفوجی تنصیبات تک پر حملے کررہے ہیں، یہ پاکستان ، مسلح افواج اورحکومت پاکستان کی رٹ اور عزت کا معاملہ ہے ، اگرہم اسی طرح دہشت گردوں کے آگے ہرجگہ سرجھکاتے رہے تو خدانخواستہ پاکستان کا مستقبل صومایہ سے بھی بدتر نہ ہوجائے۔امن کی خاطر طالبان سے مذاکرات ضرور کیے جائیں لیکن یہ مذاکرات عزت و وقار کے ساتھ کیے جائیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں مسلح افواج اور وزیراعظم پاکستان میاں محمدنواز شریف کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ پاکستان کی بقاء اور رٹ کے قیام کیلئے جرات مندی کے ساتھ فیصلے کریں ، ایم کیوایم انکے جراتمندانہ فیصلوں میں حکومت اور پاک فوج کا ساتھ دینے کیلئے سوفیصد تیار ہے۔
یہ بات انہوں نے اپنی 60 ویں سالگرہ کے سلسلے میں پاکستان کے مختلف شہروں میں منعقدہ کارکنان کے اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سالگرہ کامرکزی اجتماع جناح گراؤنڈ عزیزآباد میں منعقد ہوا جبکہ جناب الطاف حسین کا خطاب کراچی کے علاوہ حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، نواب شاہ، سانگھڑ، ٹنڈوالہیار، گھوٹکی، جامشورو، عمرکوٹ ، ٹھٹھہ، نوشہروفیروز، بدین ، لاڑکانہ، خیرپور، شکارپور، دادو، قمبرشہداد کوٹ، کشمور، جیکب آباد،پنجاب کے شہر لاہور، ملتان، راولپنڈی، خیبرپختونخوا کے شہر ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان، دیامراستور، آزادکشمیرکے مظفرآباد، میرپور، باغ، راولا کوٹ، بلوچستان کے شہر کوئٹہ، نصیرآباد جبکہ گلگت اور بلتستان میں بھی بیک وقت سناگیا۔ایم کیوایم کے تحت جناب الطاف حسین کی 60 ویں سالگرہ کا دن ’’یوم امن ‘‘ کے طور پر منایاگیا ، اس موقع پر اجتماعات کے شرکاء نے امن کی علامت سفید لباس زیب تن کررکھاتھا۔
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے اجتماعات کے شرکاء کو اپنی سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان بڑھتے ہوئے برسوں کو تحریک کیلئے ترقی اور خوشحالی کی علامت ثابت کرے۔انہوں نے کہاکہ یہ خطاب ملک کے 36 سے زائد مقامات پر بیک وقت سنا جارہا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ ایم کیوایم کا پیغام صرف کراچی تک محدود نہیں ہے ، ملک کے دیگر حصوں میں شرکاء کی تعداد کم ہی سہی لیکن اس بات کی غمازی ہے کہ ایم کیوایم کسی ایک طبقہ کی نہیں بلکہ پاکستان بھر کے مظلوم عوام کی نمائندہ جماعت ہے جو راتوں رات ترقی کے آسمان پر نہیں پہنچی بلکہ 60 سالہ سفر کرتے کرتے اس مقام تک پہنچی ہے ۔آج کے اجتماعات کے شرکاء نے امن کی علامت سفید لباس زیب تن کررکھا ہے جوملک بھر کے عوام کو پیغام دے رہا ہے کہ ماضی کی باتیں چھوڑکر پاکستان میں قیام امن کی کوششیں کریں کیونکہ پاکستان انتہائی نازک دور سے گزررہا ہے لہٰذا ہمیں ماضی کی غلطیوں کی اصلاح کرکے مل جل کرقیام امن کیلئے کوششیں کرنی ہونگیں۔امن کے اس پیغام کو ہم دوبارہ نئے عزم کے ساتھ شروع کررہے ہیں ، اس نیک کوشش میں ہمارا ساتھ دیں ، ہماری غلطیوں کو اصلاح کریں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے کیلئے تیار ہیں کیونکہ الطاف حسین اور اس کے ساتھیوں نے اپنی زندگی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل اور مضبوط ومستحکم پاکستان کیلئے وقف کررکھی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے کارکنان کو مسلسل ٹارگٹ کرکے شہید کیاجارہا ہے اور آج بھی اورنگی ٹاؤن میں ایم کیوایم کے متعدد کارکنان کو شہید وزخمی کردیا گیاجبکہ کئی ماہ سے ایم کیوایم کے پانچ کارکنان گرفتارکرکے لاپتہ کردیئے گئے ۔ میں ارباب اختیار سے کہتا ہوں کہ اگرایم کیوایم اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرے توغلط ہے اور اگرارباب اختیار اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کریں گے تو وہ بھی اللہ کے غیض وغضب سے نہیں بچ سکیں گے۔جناب الطاف حسین نے دانشوروں ، تنقیدنگاروں اور اینکرپرسنز کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں بھی انسان ہوں اوربحیثیت انسان مجھ سے بھی غلطیاں سرزد ہوسکتی ہیں، بعض مرتبہ میرے منہ سے سخت الفاظ نکلے جس پر میں غیرمشروط معافی کاطلبگار ہوں اورامیدکرتاہوں کہ آپ مجھے اپنا پاکستانی بھائی سمجھ کر معاف فرمائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ میری پاکستانیت کوئی مجھ سے نہیں چھین سکتا، میں پاکستانی تھا، ہوں اورپاکستانی رہوں گا۔مجھے اپنے پاکستانی ہونے پر کل بھی فخر تھا اورآج بھی فخر ہے ۔میں برطانیہ میں خوشی سے نہیں رہ رہا ، کوئی خوشی سے اپنوں سے دوررہنا پسند نہیں کرتا، میں اپنے ساتھیوں اور شہیدوں کی یادوں کے سہارے تن تنہا 22 سال سے کرب واذیت کے دن گزاررہاہوں اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی میرے اس دکھ میں شریک نہیں ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کے قیام کو 67 سال ہوچکے ہیں ، ہمیں اس بات کا بغور جائزہ لینا چاہئے کہ ان برسوں میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔پاکستان 20 لاکھ جانوں کا نذرانہ دیکر حاصل کیا گیا ہے،اس جدوجہد میں بہنوں کی عصمتوں کو نشانہ بنانے، بچوں کو نیزوں پراچھالنے جیسے المناک واقعات اور نوجوانوں کو ان کے والدین کے سامنے ذبح کرنے جیسی قربانیاں بھی شامل ہیں۔ان دردناک تکالیف کو سمجھیں کہ یہ ملک کتنی لازوال قربانیوں سے حاصل کیا گیا ہے لیکن ہم نے ان قربانیوں کی قدرنہیں کی اور پاکستان کو غلط راہ پر ڈال دیا۔ کونسی ایسی برائی ہے جس میں ہم آگے نہیں ہیں۔ہم کبھی امریکہ کے غلا م بنے ، کبھی برطانیہ کے غلام بنے اور کبھی ہمارا جھکاؤ روس کی جانب رہا لیکن ہم نے کبھی پاکستان پر اپنا جھکاؤ نہیں رکھا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب خیبرپختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت تھی اور ان کے دور میں طالبان سے مذاکرات کا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تو اس پر ایم کیوایم نے اعتراض کیا جس پر ایم کیوایم کو طعنے دیئے گئے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم مذاکرات کے خلاف نہیں ہیں لیکن ہمارا مؤقف ہے کہ مذاکرات کے آداب اور طورطریقوں کونظرانداز نہ کیاجائے ۔ جب طالبان سے امن معاہدہ ہوا تو یہ معاہدہ اے این پی یا حکومت پاکستان نے نہیں توڑا تھا بلکہ خود طالبان نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی۔ گزشتہ دنوں طالبان سے مذاکرات پر آل پاکستان پارٹیز کانفرنس منعقد کی گئی جس میں چیف آف آرمی اسٹاف اور آئی ایس آئی کے چیف بھی شریک تھے ، ایم کیوایم سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ امن کی خاطر طالبان سے مذاکرات کئے جائیں کیونکہ ہمیں پاکستان میں امن ، خوشحالی اور سکون چاہئے اور ہم سب کی جان ومال کا تحفظ چاہتے ہیں لہٰذا ہم نے طالبان سے مذاکرات کی تجویز کا ساتھ دیا۔لیکن 15 ستمبرکو جب پاکستانی فوج کے جی اوسی سوات میجرجنرل ثناء اللہ نیازی ،پاک افغان بارڈر کے قریب پاکستان کے دفاعی مورچے کے دورے پر تھے تو ان پر بارود سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں میجر جنرل ثناء اللہ نیازی ، لیفٹنٹ کرنل توصیف اور لانس نائیک عرفان ستار شہید ہوگئے ۔ جناب الطاف حسین نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مسلح افواج کے تمام شہداء کو اپنی جواررحمت میں جگہ عطافرمائے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ماضی میں افغان جنگ میں ہم نے غلط فیصلے کرکے پاکستان کو امریکہ کے پاس گروی رکھ دیا۔اس سلسلے میں پاکستان میں جگہ جگہ مجاہدین کے کیمپ بنائے گئے جہاں مجاہدین کو تربیت دی گئی ، بالآخر روس کو شکست ہوئی لیکن پاکستان کو اس کے بدلے نقصان کے سوا کچھ نہ ملا۔ اس نقصان کا ہم آج تک سامنا کررہے ہیں ، ہمارے ملک میں جگہ جگہ خود کش حملے ہورہے ہیں، اسکولوں، مساجد ، امام بارگاہ ،مزارت اورفوجی تنصیبات تک پر حملے ہورہے ہیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ امریکہ اور مغربی ممالک نے دنیابھر سے کرائے کے فوجی لیکر ملک شام بھیجے تاکہ کسی طریقے سے بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے مگر شام کو روس، چائنا اورعراق کی حمایت حاصل تھی اور ہے جس کے باعث کرائے کے فوجی بشارالاسد کا تختہ الٹنے میں کامیاب نہ ہوسکے ۔ آج شام کی صورتحال تباہ کن ہے ، پورا ملک کھنڈر بن چکا ہے اور بڑی طاقتیں اپنے مفادات کیلئے پیسہ اور اسلحہ دیتی رہیں لیکن جب روس میدان عمل میں آکر سینہ تان کرکھڑا ہوگیا تو امریکہ کوپیچھے ہٹنا پڑا۔ انہوں نے اجتماعات کے شرکاء سے دریافت کیا کہ کیا حالیہ تاریخ میں آپ نے امریکہ کو کبھی پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا؟ جس پر اجتماعات کے شرکاء نے یک زبان ہوکر کہا ’’بالکل نہیں ‘‘۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج ہم طالبان سے مذاکرات میں دباؤ کا شکار ہیں جبکہ وہ ہماری مسلح افواج پرحملے کررہے ہیں۔ ایک میجرجنرل کو اس عہدے پر پہنچنے کیلئے سالہا سال لگ جاتے ہیں، پوری زندگی تربیت میں گزرجاتی ہے لہٰذا یہ ایک میجرجنرل ثناء اللہ نیازی اور دیگرافسران کی شہادت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ میں اسے پاکستانی فوج کااجتماعی نقصان قراردیتا ہوں۔
جناب الطاف حسین نے ارباب اختیار اور عسکری قوتوں سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ طالبان سے مذاکرات ضرور کریں لیکن یہ بھی دیکھیں کہ طالبان ہمارے فوجیوں کو قتل کررہے ہیں، گزشتہ روز انہوں نے شمالی وزیرستان میں فوجی قافلوں پر حملے کئے ہیں ، یہ کیامذاق ہے کہ وہ ہم پر حملے کرتے رہیں اور ہم اپنے شہداء کو سلامی دیکر دفن کرتے رہیں اور طالبان کے ساتھ جھک کر مذاکرات بھی کرتے رہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ یہ پاکستان ، مسلح افواج اورحکومت پاکستان کی رٹ اور عزت کا معاملہ ہے ، اگرہم اسی طرح دہشت گردوں کے آگے ہرجگہ سرجھکاتے رہے تو خدانخواستہ پاکستان کا مستقبل صومایہ سے بھی بدتر نہ ہوجائے۔امن کی خاطر طالبان سے مذاکرات ضرور کیے جائیں لیکن یہ مذاکرات عزت ووقار کے ساتھ کیے جائیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں مسلح افواج اور وزیراعظم پاکستان میاں محمدنواز شریف کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ پاکستان کی بقاء اور رٹ کے قیام کیلئے جرات مندی کے ساتھ فیصلے کریں ، ایم کیوایم انکے جراتمندانہ فیصلوں میں حکومت اور پاک فوج کا ساتھ دینے کیلئے سوفیصد تیار ہے ۔
جناب الطاف حسین نے وزیراعظم نوازشریف کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے ایک اوراے پی سی کرلیجئے اورسوچئے کہ ہم اپنے فوجی افسروں اورجوانوں کے لاشے اٹھاتے رہیں، ہم پر حملے ہوتے رہیں، وہ پاکستان کی رٹ اوراسکے آئین کونہ مانیں اورپاکستان میں اپنی مرضی کی شریعت اورنظام قائم کریں؟انہوں نے کہاکہ یہ پاکستان قائداعظم نے بنایاتھااوریہ قائداعظم کے شعوری وژن کے مطابق ہی قائم رہے گاجہاں ہر مذہب اورہرمسلک کے ماننے والے کوبرابر کے حقوق حاصل ہونگے۔ انہوں نے وزیراعظم کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ خدارا پاکستان کی عزت کوبچالیجئے، پاکستان کی اکثریت دہشت گردی کے خلاف ہے ۔ آپ ملک سے دہشت گردی کاخاتمہ کیجئے،اگرایم کیوایم کی صفوں میں بھی کوئی دہشت گردنظرآئے تواس کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کیجئے ایم کیوایم کوکوئی اعتراض نہیں ہوگالیکن میراآپ سے صرف ایک چھوٹاسایہی مطالبہ ہے کہ ایم کیوایم یا کسی بھی پارٹی کے کسی بھی بے گناہ لیڈریاکارکن کو گرفتارنہ کیاجائے بلکہ جولوگ دہشت گردی اورجرائم کی وارداتوں میں ملوث ہیں انہیں پکڑا جائے، جو تاجروں اور صنعتکاروں ،دکانداروں اور کاروباری حضرات کوبھتہ کی پرچیاں دیتے ہیں، انہیں اغواکرکے تاوان وصول کرتے ہیں،معصوم لوگوں کو مارتے ہیں ایسے جرائم پیشہ عناصر کوپکڑاجائے ، کسی کے بھی خلاف سیاسی بنیادپر انتقامی کارروائی نہ کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں یہ سمجھ لیناچاہیے کہ طاقت کے بل پر کسی بھی سیاسی تحریک کوختم نہیں کیا جاسکتا۔کل تک ہم سمجھتے تھے اورخوشی میں ناچتے تھے کہ روس ختم ہوگیا مگرآج وہ ایک بارپھر امریکہ کے سامنے سینہ تان کرکھڑاہوگیاہے جو کوئی بھی نہیں سوچ سکتاتھا۔جناب الطاف حسین نے تمام ٹی وی چینلزکے اینکرپرسنزاورتجزیہ نگاروں سے اپیل کی کہ وہ اینکرکی کرسی پر منصف بنکر بیٹھیں ، پاکستانی بنکرسوچیں اورکسی کی بھی پگڑی نہ اچھالیں،اتحادوبھائی چارے کی بات کریں اورملک میں ایسی فضاء قائم کرنے کیلئے کام کریں جہاں سب اپنے اپنے نظریات پر قائم رہتے ہوئے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر پاکستان کی سالمیت کی حفاظت کرسکیں۔جناب الطا ف حسین نے کارکنوں اورعوام کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کیاکوئی جھوٹاپروپیگنڈہ یاالزام آپ کوالطاف بھائی سے دورکرسکتاہے؟ اس پر سب نے ایک آوازہوکرجواب د یا ’’ہرگزنہیں‘‘۔ انہوں نے خواتین کومخاطب کرتے ہوئے کہا،میری ماؤں بہنو!میرے لئے پریشان نہ ہونا، آپ کا بھائی اوربیٹا اللہ کے علاوہ کسی سے ڈرنے والانہیں ہے۔ مجھے اوپراللہ اورنیچے آ پ پرپورابھروسہ ہے۔ جناب الطا ف حسین نے ایم کیوایم کے کارکنوں اورذمہ داروں سے کہاکہ وہ آج عہدکریں کہ وہ خودکو ہرقسم کی برائی سے بچائیں گے اورخودکونظریاتی بنیادوں پر منظم کریں گے،پان پراگ،گٹکے سے پرہیزکریں ۔ انہوں نے نوجوانوں پر ذوردیاکہ وہ تعلیم حاصل کریں ، نقل سے گریز کریں،اپنے استادوں اوروالدین کی عزت کریں۔ اگرروزگارنہیں ہے توبھیک مانگ لیں مگرسڑک پر موبائل اورپرس چھیننے کی وارداتیں نہ کریں اور آج کے دن عہدکریں کہ آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں کریں گے ۔انہوں نے ایم کیوایم کے ایم این ایز، ایم پی ایز پر ذوردیاکہ آپ عوام کے مسائل حل کریں، اگرمسائل حل نہیں کرسکتے توان کی بات تسلی سے سنیں،ان کے آنسوپونچھیں، قوم پہلے ہی بہت پریشان ہے اوربیروزگاری اورمشکلات کے باعث چھوٹے موٹے کام کرنے پر بھی مجبورہے ۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے اتحادکوقائم رکھیں، اپنے اپنے شہر، اپنے علاقوں اورگلیوں کوصاف ستھرارکھیں اور کچرا ڈسٹ بن میں ڈالیں۔انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر دعاکی کہ اللہ تعالیٰ ایم کیوایم کوعروج عطاکرے، ملک پر ایم کیوایم کی حکمرانی قائم کرے اور ملک پر جاگیرداری، سرداری، سرمایہ داری سے پاک عوام کی حکومت ہوجو عوام میں سے ہواورعوام کیلئے ہو۔ انہوں نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ عوام کی مشکلات کوحل کرے اورپاکستان کی حفاظت فرمائے ۔


12/4/2016 6:12:47 AM