Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

شہید امجد صابری کے بہیمانہ قتل کی ٹوپی بھی کسی طرح ایم کیوایم کے سر فٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار


شہید امجد صابری کے بہیمانہ قتل کی ٹوپی بھی کسی طرح ایم کیوایم کے سر فٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 6/29/2016
شہید امجد صابری کے بہیمانہ قتل کی ٹوپی بھی کسی طرح ایم کیوایم کے سر فٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار 
کراچی میں بے امنی ، قتل و غارتگری ، بھتہ خوری خود بخود نہیں ہورہی بلکہ کرائی جارہی ہے ، ڈاکٹر فارو ق ستار 
کوئی بھی اسلام آباد آئے تو کراچی کی قسمت میں صرف آپریشن در آپریشن اورنیا آپریشن ہی ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو جواز بنا کر آپریشن کو تیز اور تیز کرنا اورایک نیا آپریشن کراچی والوں پر مسلط کرنا ہے، فار وق ستار 
اس آپریشن میں بھی ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں کو باالخصوص اور بالعموم کراچی کے عام شہریوں کو گرفتار کیاجائے گا اور ان کے اوپر ایک مرتبہ پھر جھوٹے الزامات یلغار کی جائے گی ، ڈاکٹر فاروق ستار
وفاقی اورصوبائی بجٹ میں کراچی کیلئے کوئی سوشل اکنامی پیکیج نہیں ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار 
سیاسی و عسکری قیادت جب کراچی میں سر جوڑ کر بیٹھتی ہیں تو صرف ایک نئے آپریشن کیلئے بیٹھتی ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار 
کراچی کے درد کو دور کرنے ، زخموں کو مندمل کرنے کیلئے کوئی اعلان اس طرح کی میٹنگوں کے بعد نہیں ہوتا ، ڈاکٹر فارو ق ستار
ایک دارالخلافے کا سائبان تھا وہ بھی چھین لیا گیا جس کے بعد سے احساس محرومی اور بیگانگی کا سفر شروع ہوا، فاروق ستار 
وفاقی اور صوبائی حکومت کی کاراوئیوں اور اقدام سے اب کوئی غلط فہمی اور خوش فہمی نہیں ہے کہ کچھ افراد ایسا کررہے ہیں اور کچھ نہیں ہے بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت شہر کراچی اور عوام کو دیوار سے لگایاجارہا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار 
فنکاروں اور ایم کیوایم کے منتخب نمائندوں کو بھی سیکورٹی فراہم کی جائے ، ڈاکٹر فاروق ستار
کراچی میں پولیس کی بھرتیوں پر میرٹ اور قابلیت کو معیار بنایا جائے اور فرمائشی پروگرام نہیں چلایا جائے ، فاروق ستار 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی ۔۔۔ 29، جون 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ شہید امجد صابری کے بہیمانہ قتل کی ٹوپی بھی کسی طرح ایم کیوایم کے سر فٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، شہر میں چیف جسٹس سندھ سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس شاہ کا اغواء ، امجد صابری شہید کا قتل ، ایک احمدی ہومیو پیتھی ڈاکٹر کی ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ مافیا کاایک بار پھر سراٹھانا اور اسٹریٹ کرائمز میں تیزی سے اضافہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سوئچ اون کردیا گیا ہے یہ واقعات خود بخود نہیں ہورہے ہیں بلکہ کرائے جارہے ہیں ، کوئی بھی اسلام آبادیا آتا ہے تو کراچی کی قسمت میں صرف آپریشن در آپریشن اورنیا آپریشن ہی ہے ، پوری دنیا میں جہاں کہیں آپریشن ہوتے ہیں اس کے ساتھ سوشل اکنامی پیکیج دیئے جاتے ہیں ، کبھی سنا کہ کراچی کی ترقی کیلئے 4، ارب روپے رکھے ہیں ؟، وفاقی اورصوبائی بجٹ میں کراچی کیلئے کوئی سوشل اکنامی پیکیج نہیں ہے ۔ انہوں نے شکوہ کیاکہ خواہ سیاسی و عسکری قیادت ہو وہ بھی جب کراچی میں سر جوڑ کر بیٹھتی ہیں تو صرف کراچی میں ایک نئے آپریشن کیلئے بیٹھتی ہیں ،کراچی کے لوگوں کے درد کو دور کرنے ، ان کے زخموں کو مندمل کرنے کیلئے کوئی اعلان اس طرح کی میٹنگوں کے بعد نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی اسٹرٹیجک اہمیت ہے ، کراچی میں پانی کی ضرورت پاکستان کی اسٹرٹیجک ضرورت ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کے روز خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے اراکین شبیر قائم خانی ، زاہد منصوری ، عارف خان ایڈووکیٹ اور اسلم آفریدی کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹر فارو ق ستار نے کہاکہ یہ پریس کانفرنس پاکستان کے حکمرانوں ، پالیسی ساز اداروں اور وفاقی اور صوبائی حکومت کیلئے ایک ایس او ایس کال ہے ، کہ ہم انہیں جھنجوڑ ڑ سکیں اور شہر کراچی اور کراچی کے عوام کی بے بسی ، ان کے مصائب اور مشکلات سے انہیں آگاہ کرسکیں اور انہیں پاکستان اور اس کی یکجہتی کا واسطہ دیکر یہ باآور کراسکیں کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے ، موقع ہاتھ سے نکلا جارہا ہے اگر اب بھی وہ کراچی کے عوام اور کراچی کی داد رسی کریں تو معاملہ ابھی ابھی قابل واپسی ہے اور اب بھی وقت ہے لوگوں کے بپھرے جذبات ، بتدریج پیدا ہونے والے اشتعال اور غم و غصہ قابو کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں سے بالعموم اور چند مہینوں اور چند دنوں سے باالخصوص کراچی کے عوام کا احساس عدم تحفظ ، احساس محرومی اور احساس بیگانگی شدید سے شدید تر ہورہا ہے ، رابطہ کمیٹی کے پاس ٹھوس دلائل موجود ہیں جن کی روشنی میں یہ بات کی جارہی ہے ۔ یہ بات حکمران یاد رکھیں کہ ایم کیوایم کا ہاتھ ہمیشہ عوام کی نبض پر ہوتا ہے ،ہم نے عوام کی نبض کو دیکھا ہے جو علامتیں اور اشارے ہیں وہ اس بات کا کھل کر اظہار کررہے ہیں کہ سب کچھ اچھا ہے کہ دعوے قطعی اور قطعی دل کو بہلانے کیلئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے لئے ایک سوتیلی ماں کے سلوک کا احساس گہرا سے گہرا ہوتا چلا جارہا ہے ، کوئی بھی کراچی اور اہلیان کراچی کے زخموں پر مرہم رکھنے والا نہیں ہے جو آرہا ہے ان کے زخموں کو کھرچ کھرچ کر جارہا ہے اور زیادہ اس میں نمک پاشی کر رہا ہے ،گزشتہ 70برس سے ہمارے ساتھ ناانصافی کا سلسلہ ہورہا ہے ،خان لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد کراچی سے جب دارالخلافہ منتقل ہوا تھا تو کراچی کے عوام کے لاشعور میں خطرے کی گھنٹیاں بج گئی تھیں کہ ہمیں پاکستان کے تیسرے درجہ کا شہری بنانے کی تیاریاں ہوگئی ہیں ، ایک دارالخلافہ کا سائبان تھا وہ بھی چھین لیا گیا جس کے بعد سے احساسن محرومی اور بیگانگی کا سفر شروع ہوا ۔انہوں نے کہاکہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی کاراوئیوں اور اقدام سے اب ہمارے ذہن میں کوئی غلط فہمی اور خوش فہمی نہیں ہے کہ کچھ افراد ایسا کررہے ہیں اور کچھ نہیں ہے بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت شہر کراچی اور کراچی کے عوام کو دیوار سے لگایاجارہا ہے اس میں سب سے بڑا عنصر کراچی والے اچھے اور برے سے برے حالات میں بھی قائدتحریک جناب الطاف حسین ، ایم کیوایم کے ساتھ ہیں اور انہوں نے جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم کا ساتھ کسی حال میں نہیں چھوڑا اور اس لئے وہ سزا کے مستحق قرار پائے ہیں اور اسی لئے انہیں ہر طرح سے مارا اور کاٹا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی ٹارگٹ آپریشن پہلی مثال ہے یہ ہماری ایماء پر جرائم پیشہ اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے شروع ہوا ، پونے تین سال کے آپریشن کے بعد اسٹریٹ کرائمز جو تین سال پہلے تھا اس سے زیادہ آج ہورہے ہیں ، سی پی ایل سی یا کسی ادارے کی رپورٹ اٹھا کر دیکھیں ، اسٹریٹ کرائمز آسمان سے باتیں کررہا ہے ، ہم نے پونے تین سال میں صحیح ہوا ٖغلط ہوا ، پھر غلط ہوا ، پھر غلط ہوا کچھ صحیح ہو اور غلط ہو ااس کے باوجود ہم نے قیام امن کیلئے تعاون کیا ۔ اس تعاون کی پاداش میں صبر کے گھونٹ پیئے اور ہمارے 60ساتھیوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا ، 125کارکنان تاحال جبری طور پر لاپتہ ہیں زندہ ہیں یا نہیں ہے ان کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا اکہ حال ہی میں ایک واقعہ سنگین نوعیت کا ہوا ، ایم کیوایم کے کارکن اور میرے کو آرڈی نیٹر آفتاب احمد کوبہیمانہ تشدد کرکے شہید کیا گیا ، آرمی چیف نے کہا انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے ، جو ملوث ہوگا کاروائی ہوگی ، ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے ، اسلام آباد، راولپنڈی سے لوگ کراچی آتے ہیں لیکن آفتاب احمد کی شہادت کے پس پردہ جو ظالم ہیں ان کو اب تک بے نقاب نہیں کیا گیا، انکوائری کے کیا نتائج برآمد ہوئے ان سے ہمیں اور عوام کو آگاہ نہیں کیا گیا اور جو لوگ ملوث تھے ان کے خلاف کیا کاروائی کی گئی اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔انہوں نے کہاکہ تیزی سے بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال اور بدامنی ایسا لگتا ہے کہ یہ سوئچ کسی نے دوبارہ آن کردیا ہے ، سجاد علی شاہ کے صاحبزادے اویس شاہ کا اغواء ، امجد صابری کا قتل ، ایک احمد ی ہیومن پیتھی ڈاکٹر کی ٹارگٹ کلنگ اور اسی طرح دیگر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ، بھتہ مافیا کا ایک مرتبہ پھر سر اٹھانا اور اسٹریٹ کرائمز میں تیزی سے اضافہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سوئچ اون ہوگیا ہے اور یہ واقعات خود بخود نہیں ہورہے ہیں بلکہ یہ کرائے جارہے ہیں تاکہ پھر بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو جواز بنا کر آپریشن کو تیز اور تیز سے تیز تر کرکیا جاسکے،ایک نیا آپریشن کراچی والوں پر مسلط کیاجاسکا ۔ اس آپریشن میں بھی آپ پھر دیکھیں کہ کراچی اور ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں کو باالخصوص اور بالعموم کراچی کے عام شہریوں کو گرفتار کیاجائے گا اور ان کے اوپر ایک مرتبہ پھر جھوٹے الزامات یلغار کی جائے گی اور اسکے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بڑی بڑی رقومات لیکر بے گناہ لوگوں کو چھوڑیں گے اور رقومات نہ دینے کی پاداش میں انہیں جھوٹے کیسز میں ملوث کریں گے ، اس طرح پھر کراچی اور کراچی کے عوام کے خلاف ایک اور سازش کو تیار کرلیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ اسی اسکرپٹ کا ایک اور حصہ کہ کسی طرح کپڑا چھوٹا ہے میرے جسم پر پورا نہیں آرہا لیکن درزی سے کہا جارہا ہے کہ کسی طرح اسے کھینچ تان کر میرے جسم پر فٹ کرنا ہے ، ٹوپی کا سائز چھوٹا ہے میرا سر بڑا ہے لیکن اس ٹوپی کو کسی طرح میرے سر پر فٹ کرنا ہے تو امجد صابری کے قتل کی ٹو پی بھی کسی طرح ایم کیوایم کے سر فٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ فنکار بھی میدان عمل میں آگئے ، تھانوں میں جارہے ہیں ، امجد صابری کے سانحہ سے وہ بھی بری طرح ہل گئے ہیں ، اپنی سیکورٹی سے متعلق فکر مند ہیں اور مطالبہ کررہے ہیں کہ انہیں سیکورٹی فراہم کی جائے ہم یہ کہتے ہیں کہ ایم کیوایم کے رہنماؤں کی سیکورٹی بھی انتہائی ناقص ہے ، ان کی سیکورٹی کو بہتر بنایا جائے ، فنکاروں کو سیکورٹی فراہم کی جائے ، عام شہریوں کی جان ومال عزت و آبرو کی حفاظت کو یقینی بنایاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی اسلام آبادیا کہیں سے بھی آتا ہے کراچی کی قسمت میں صرف آپریشن در آپریشن ہے ، پوری دنیا میں جہاں کہیں آپریشن ہوتے ہیں اس کے ساتھ سوشل اکنامی پیکیج دیئے جاتے ہیں ، کبھی سنا کہ کراچی کی ترقی کیلئے 4، ارب روپے رکھے ہیں ، وفاقی وصوبائی بجٹ میں کوئی سوشل اکنامی پیکیج نہیں ہے ؟ خواں سیاسی و عسکری قیادت ہو وہ بھی جب کراچی میں سر جوڑ کر بیٹھتی ہیں تو صرف کراچی میں ایک نئے آپریشن کیلئے بیٹھتی ہیں ،کراچی کے لوگوں کے درد کو دور کرنے ، ان کے زخموں کو مندمل کرنے کیلئے کوئی اعلان اس طرح کی میٹنگوں کے بعد نہیں ہوتا ، کراچی کو کبھی سیاسی ، بنیادی سماجی حقوق دینے کیلئے کوئی اجلاس ہی نہیں ہوا ، کراچی کی اسٹرٹیجک اہمیت ہے ، کراچی میں پانی کی ضرورت پاکستان کی اسٹرٹیجک ضرورت ہے ، کراچی کی بجلی ، امن ، روزگار قومی ضرورت ہے صرف کراچی والوں کی نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت سے ہمیں کوئی توقع نہیں ہے لیکن کیا اسلام آباد والے بھی کراچی میں صرف اور صرف آپریشن کا فیصلہ کرنے آتے ہیں ، کیا کراچی اور اس کے لوگوں کے آنسو پوچھنا ان کی ذمہ داری نہیں ہے؟۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کے لوگوں کا بڑا مسئلہ روزگار، ٹرانسپورٹرز ، پانی کا ہے اور ہزاروں نوجوان جن کو خدا خدا کرکے بلدیاتی اداروں میں نوکریاں مل گئی تھیں انہیں بڑے پیمانے پر طرف کیاجارہا ہے ،اور جو ہیں انہیں تنخواہیں نہیں دی جارہی ہے کیونکہ صوبائی حکومت سندھ کی طرف سے بلدیہ کے فنڈ نہیں دیئے جارہے ہیں ، گزشتہ سات سال سے مقامی حکومت نہیں ہے ، سات ماہ سے میئر ، ڈپٹی میئر کے الیکشن نہیں کرائے جارہے ہیں یہ ساری باتیں اشتعال پیدا نہیں کریں گی تو کیا کریں گی؟ ۔ میئر کے آنے سے قبل ہی کے ڈی اے کو الگ کردیا گیا ، بلدیاتی فنڈ اللّوں اور تللِّوں میں اڑا دیا گیا ، بارشورں سے ہا ہا کار، کہرام مچا ہوا ہے بظاہر لوگ خوش ہیں انجوائے کررہے ہیں کیونکہ ایک طویل عرصے کے بعد بارش ہوئی ہے ابھی یہ رومانس بارش کے ساتھ کراچی والوں کا ختم ہوگا ان کی نظر نیچے کی طرف جائیں گی تو پہلے جس سڑک پر سو کھڈے تھے اور اب ہزاروں کھڈے دکھائی دیں گے ، کے الیکٹرک کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ، ایک بوند پڑی اور کے الیکٹرک کا نظام درہم برہم ہوگیا ، برسات کا تو پانی ہے لیکن پینے کا پانی لائنون میں موجود نہیں ہے تو اس کیلئے کراچی والے کہاں جائیں جو منتخب نمائندے ہیں وہ بے بس ہیں ، ان کے پاس اختیار نہیں ، حکومت نہیں اور بلدیاتی حق حکمرانی تک انہیں نہیں دیاجارہا ہے وہ جائیں تو کہاں جائیں ؟۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں پولیس میں 20ہزار بھرتیوں میں اگر تین ہزار کراچی کے نوجوانوں کو بھرتی کیاجائے تو وہ فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کیلئے تیار ہوجائیں گے تو ریٹائرڈ فوجیوں کو لینے کی کیا ضرورت ہے ، پولیس میں بھرتیاں میرٹ اور قابلیت کی بنیاد پر کی جائیں اور فرمائشی پروگرام نہ چلایاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ شہر میں مقامی پولیس کے تصور کے بغیر دیرپا امن کراچی میں کبھی قائم نہیں ہوگا ۔انہوں نے کراچی کے عوام سے ایک مرتبہ پھر صبر کی اپیل کرتے ہوئے یہ شعر بھی پڑھا کہ 
’’برا وقت سب ہی پر آتاہے 
کوئی بکھر جاتا ہے کوئی نکھر جاتا ہے ‘‘
انہوں نے کہا کہ مجھے امیدہے کہ کراچی کے عوام متحد منظم اور متحرک رہ کر نکھریں گے بکھریں گے نہیں ۔ 

9/25/2016 3:51:22 AM