Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

آرمی چیف، 60 کارکنوں کے قاتل رینجرز کے 60 اہلکاروں کو گرفتارکرکے پھانسی کی سزا دلوائیں، الطاف حسین


آرمی چیف، 60 کارکنوں کے قاتل رینجرز کے 60 اہلکاروں کو گرفتارکرکے پھانسی کی سزا دلوائیں، الطاف حسین
 Posted on: 6/18/2016
آرمی چیف، 60 کارکنوں کے قاتل رینجرز کے 60 اہلکاروں کو گرفتارکرکے پھانسی کی سزا دلوائیں، الطاف حسین
اگراللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھ میں اقتداردیا تو میں اسلام کے قانون قصاص اوردیت کے تحت ایک ایک شہید ساتھی کے قتل کابدلہ لوں گا،الطاف حسین
اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ قوم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے ،الطاف حسین
مہاجروں کے اپنے بنائے ہوئے ملک میں ان کے خلاف پاکستانی فوج نے چڑھائی کی ،الطاف حسین
قیام پاکستان کیلئے ، فوج نے ایک فیصد بھی کردارادا نہیں کیا ، الطاف حسین
آخر ہم کب تک فوجی ٹینکوں کے گولہ بارود اور بندوقوں کی گولیوں کاپرندوں اورجانوروں کی طرح نشانہ بنتے رہیں گے، الطاف حسین
کراچی ، حیدرآباد، میرپورخاص، ٹنڈوالہیار، سکھر، سانگھڑ اور نوابشاہ میں خواتین اور بزرگوں کے اجتماعات سے ٹیلی فونک خطاب 
لندن۔۔۔18، جون2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد ب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگرآپ انصاف پسند ہیں اور مہاجروں کے ساتھ انصاف کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ایم کیوایم کے 60 کارکنوں کو ماورئے عدالت قتل کرنے والے رینجرز کے 60 اہلکاروں کو گرفتارکرکے پھانسی کی سزا دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ مہاجرنوجوانوں نے میرے نام پر اپنی جانیں قربان کردیں ،اللہ تعالیٰ حق پرست شہداء کے قاتلوں کو سزا دے ،اگراللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھ میں اقتداردیا تو میں اسلام کے قانون قصاص اوردیت کے تحت ایک ایک شہید ساتھی کے قتل کابدلہ لوں گا، انکے قتل میں خواہ کوئی فوجی ملوث ہو یا سویلین کسی کوبھی بخشا نہیں جائے گا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے لال قلعہ گراؤنڈکراچی ، حیدرآباد، میرپورخاص، ٹنڈوالہیار، سکھر، سانگھڑ اور نوابشاہ میں خواتین اور بزرگ کارکنان کے اجتماعات سے بیک وقت ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماعات میں شعبہ خواتین اور ایلڈرز ونگ کے ذمہ داران اور کارکنان نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے ارکان اور متعلقہ زونل کمیٹیوں کے ارکان بھی موجود تھے ۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ آپ نے اے پی ایم ایس او کا 38 واں یوم تاسیس منایا ، ا ب مجھے نہیں معلوم لیکن اللہ بہترجانتا ہے کہ 39 ویں یوم تاسیس تک آپ کے جذبات، احساسات ، سوچ وفکر، خیالات، پاکستان اور دنیا کا نقشہ کیاہوگا ، اس وقت آپ کس جانب کھڑے ہوں گے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ انہوں نے کہاکہ میں گزشتہ 25 برسوں سے عوام میں شعوری بیداری کیلئے جدوجہد کررہا ہوں، 25 برس قبل پیدا ہونے والے بچے اپنے بڑوں کو دیکھ کر یا ایم کیوایم اوراے پی ایم ایس او کا نام سن کر تحریک سے آشنا ہوئے ہوں گے ، اسی طرح انہوں نے گھر، محلہ اور اسکول میں لفظ پاکستان ، پاکستانی فوج اور سیاسی ومذہبی جماعتوں کا نام بھی سنا ہوگااور جیسے ان کی عمر بڑھتی ہے ویسے ویسے انکے علم میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آنکھوں دیکھی اور سنی سنائی چیز میں بڑافرق ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بناکر پیداکیا،فطرت نے ،اللہ نے یا انسان بھگوان ، ایشور، لارڈ بدھا سمیت جس جس کو بھی مانتا ہے ، اس نے انسانوں کو دیگر صلاحیتوں کے ساتھ یہ صلاحیت بھی دی ہے کہ وہ اپنے آپ کو زندہ رکھنے کیلئے کوئی نہ کوئی جائز یا ناجائز حل حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن مجید کی ایک آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا ہے کہ ’’ اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ قوم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے ‘‘ ، 19، جون 1992ء کو مہاجروں کے اپنے بنائے ہوئے ملک میں ان کے خلاف پاکستانی فوج نے چڑھائی کی ، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مہاجروں کا قتل عام کیا اورانکی املاک کی لوٹ مارکی ، ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران سرکاری ٹیلی ویژن پر ایم کیوایم کے خلاف خبریں نشر کرائی جاتی تھیں، فوج، رینجرز ،پولیس ،ایجنسیوں اوراس وقت کی حکومت نے بین الاقوامی صحافیوں کو کراچی لاکر گمراہ کن پروپیگنڈہ کرایا کہ ایم کیوایم کے ٹارچر سیل دریافت کئے گئے ہیں ۔ سرکاری ٹی وی پر فوج اور حکومت مل کرایم کیوایم کے گرفتارکارکنان کے خودساختہ اعترافی بیانات جاری کرتی تھی، یہ خبریں بھی جاری کرائی جاتی تھیں کہ فلاں جگہ سے ایم کیوایم کے دہشت گرد بمعہ جدید ترین اسلحہ گرفتارکیے گئے ہیں ، آپ نے نوٹس کیاہوگا کہ جن لوگوں کے اعترافی بیانات نشر کرائے جاتے تھے انکی حالت دیکھ کر ہی اندازہ ہوجاتا تھا کہ انہیں منشیات یا دیگر نشہ آور ادویات کے انجکشن لگانے کے بعد بندوق کی نوک پر اعترافی بیانات دینے پر مجبورکیاجارہا ہے ۔ اس ضمن میں سرکاری ایجنسیاں اپنے من پسند صحافیوں کی خدمات حاصل کرتی تھیں، ہماری سیکوریٹی ایجنسیاں خود کو فرشتہ اور سویلین کو چور، اچکااورڈاکو ثابت کرنے کیلئے ایسے ہی دلال صحافیوں کو استعمال کرتی ہیں جوبظاہر صحافی ہوتے ہیں لیکن درحقیقت دلالی کرتے ہیں ،جو صرف جھوٹی خبریں ہی نہیں دیتے بلکہ وہ عورت، سونے ، چاندی ،چرس اورہیروئن کی اسمگلنگ میں معاونت بھی کرتے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے اجلاسوں کے شرکاء سے کہاکہ آپ نے سنا ہوگا کہ فوج نے سکھر میں پانچ افراد کو مقابلے میں قتل کیاجبکہ سکھر کے عوام گواہ ہیں کہ ان پانچوں افراد کو آنکھوں پر پٹیاں باندھ کرویران جگہ لے جایاگیا اور ایک ساتھ کھڑا کرکے گولیوں سے بھون دیا گیا۔ کراچی ،حیدرآباداورپورے سندھ میں فوج بے گناہ شہریوں کا قتل کرتی رہی ،ہم اپنے شہداء کے لاشے اٹھاتے رہے ،شہداء کی تدفین کیلئے قبرستان جانے والے جنازے کے جلوس تک پر فوج کے جوانوں نے اپنے افسران کے حکم پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں جلوس جنازے کے شرکاء الگ شہید ہوئے ۔حیدرآباد، میرپورخاص ،سکھر،نواب شاہ اور سانگھڑ میں سرکاری اہلکار رات کی تاریکی میں بڑی بڑی سیڑھیاں لگاکر گھروں میں کودجاتے ،خواتین کی حرمت اور چادروچہاردیواری کا تقدس پامال کیاجاتا اور انہیں ظلم وستم کانشانہ بنایاجاتارہا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ قیام پاکستان کیلئے ، فوج نے ایک فیصد بھی کردارادا نہیں کیا ، پاکستان بنانے میں صرف اور صرف مہاجروں نے کردار ادا کیا ہے ، مہاجروں کے اجداد نے لاکھوں جانوں کا نذرانہ دیکر پاکستان بنایا اور پاکستانی فوج کو عزت ووقاردیا جس کا صلہ مہاجروں کا سیاسی ،معاشی اور جسمانی قتل عام کرکے دیاجارہا ہے ۔ماضی میں مہاجروں کے اتحاد کونقصان پہنچانے کیلئے ایک گروپ بنانے کی کوشش کی گئی جسے ایم کیوایم حقیقی کا نام دیا گیا اور ابھی تین ماہ قبل چندضمیرفروشوں کو کراچی لاکرایم کیوایم کے مقابل کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی جنہیں کوئی جانتا تک نہیں تھا، ان ضمیرفروشوں کوایجنسیوں نے اوراسٹیبلشمنٹ نے مہاجرقوم کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کیلئے مراعات دیں ، کروڑوں روپے مالیت کے ایسے بنگلے اورگاڑیاں دیں جو ان کی سات پشتوں نے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ان ضمیرفروشوں کے ٹیلی ویژن پر جھوٹے بیانات آتے رہے ، ان جھوٹے بیانات پرکوئی یقین کرے یانہ کرے مگر سنتے ضروررہے ۔ گمراہ کن پروپیگنڈوں کے باوجود گمنام کارکنان جنہوں نے ایک پائی بھی نہیں بنائی وہ ثابت قدم اورڈٹے رہے جبکہ جنہوں نے مال بنایا وہ غدار بن گئے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے خلاف 1992ء کو شروع ہونے والا ریاستی آپریشن1999ء تک جاری رہا ،جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو مہاجروں کو چندبرسوں سکون کا سانس لینا نصیب ہوا ، پرویزمشرف کے بعدپیپلزپارٹی اقتدارمیں آئی تو آصف علی زرداری نے سندھی مہاجراتحاد اوربھائی چارے کیلئے کرداراداکرنے کا یقین دلایا اور مہاجروں کو ان کا جائز حق دلانے کا وعدہ کیامگرانہوں نے وعدے کے برخلاف مہاجروں کو انکا جائز حصہ نہیں دیا، ہم نے پھربھی لڑائی نہیں کی ، جمہوری اندازمیں احتجاج کیے ،جس فوج نے ہمارا قتل عام کیاجب اس فوج نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب شروع کی تو الطاف حسین اور ایم کیوایم پاکستان کا واحدلیڈر اور جماعت تھی جس نے پاک فوج کی حمایت میں ایک ملین لوگوں کاجلوس نکالااور میں نے لاکھوں لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوکر فوج کے افسران اور جوانوں کو سیلوٹ کیا۔ اس کا صلہ یہ دیاجارہا ہے کہ ضرب عضب کے نام پر کراچی میں ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیاجارہا ہے ۔ 2013ء کے آپریشن میں بھی دعویٰ کیاگیا کہ یہ آپریشن صرف بلیک جیٹ دہشت گردوں کے خلاف ہوگاجس طرح1992ء میں کہاگیا تھاکہ آپریشن کلین اپ میں صرف جرائم پیشہ پتھاریداروں، ڈاکوؤں اوراغواء برائے تاوان کی وارداتیں کرنے والوں کے خلاف کیاجائے گالیکن اس آپریشن کے دوران کسی ایک اصل مجرم کوگرفتارنہیں کیاگیا بلکہ ایم کیوایم کے 15 ہزار سے زائد کارکنان کو شہیدکردیاگیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کراچی میں آپریشن کے باوجود یہ رپورٹس آرہی ہیں کہ کراچی میں جرائم کے تناسب میں اضافہ ہوگیا ہے ، اگر ایجنسیاں اوران کی ذیلی تنظیمیں منشیات فروشوں، قاتلوں، بھتہ خوروں کوسپورٹ کریں گی تویقیناًجرائم کی شرح میں اضافہ ہی ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ذوالفقار مرزا کی سرپرستی کرکے لیاری میں جرائم پیشہ عناصر کی امن کمیٹی تشکیل دی ، لیاری کے عوام محنت کش اور امن پسند ہیں مگرلیاری جیسی غریب بستی میں عذیربلوچ جیسے لوگوں کی سرپرستی کرکے مجرمانہ سرگرمیاں کرائی جاتی ہیں ، قادرپٹیل کو رینجرز والے دبئی سے گرفتارکرکے کراچی لائے ، اس کی خدمت کی اور پھر 100افراد کے قتل میں ملوث قادرپٹیل رہا کردیاگیا جبکہ ڈاکٹر فاروق ستارکے کوآرڈینیٹر آفتاب احمد کو رینجرز کی حراست میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناکر ماورائے عدالت قتل کردیاجاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان رینجرز کی حراست میں ایم کیوایم کے 135 رہنما وکارکنان لاپتہ ہیں جبکہ 60 کارکنان کو رینجرز کی کسٹڈی میں تشددکا نشانہ بنانے کے بعد ماورائے عدالت قتل کردیاگیا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگرآپ انصاف پسند ہیں اور مہاجروں کے ساتھ انصاف کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ایم کیوایم کے 60 کارکنوں کو ماورئے عدالت قتل کرنے والے رینجرز کے 60 اہلکاروں کو گرفتارکرکے پھانسی کی سزا دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ مہاجرنوجوانوں نے میرے نام پر اپنی جانیں قربان کردیں ،اللہ تعالیٰ حق پرست شہداء کے قاتلوں کو سزا دے ،اگراللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھ میں اقتداردیا تو میں اسلام کے قانون قصاص اوردیت کے تحت ایک ایک شہید ساتھی کے قتل کابدلہ لوں گا، انکے قتل میں خواہ کوئی فوجی ملوث ہو یا سویلین کسی کوبھی بخشا نہیں جائے گا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے 15 دن قبل اپنے خطاب میں جنرل راحیل شریف سے اپیل کی تھی کہ آفتاب احمد کورینجرز کی حراست میں شہید کیاگیا ہے لہٰذا ڈی جی رینجرز کو آفتا ب احمد کے قتل کے جرم میں گرفتارکرکے پھانسی دی جائے ، آخر ہم کب تک فوجی ٹینکوں کے گولہ بارود اور بندوقوں کی گولیوں کاپرندوں اورجانوروں کی طرح نشانہ بنتے رہیں گے اورکب تک اپنے پیاروں کے لاشے اٹھاتے رہیں گے ؟ کیا یہ انتہائی ظلم نہیں ہے کہ فوج غریب پٹھانوں، سندھیوں، بلوچوں اورمہاجروں کے خلاف توآپریشن کرتی ہے لیکن فوج کو پورے پنجاب میں کوئی کریمنل ڈاکو نظر نہیں آتا، 1977 ء میں جب نظام مصطفی کی تحریک کے دوران فوجیوں کو مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کے احکامات دیئے گئے تو کراچی اور حیدرآباد میں فوجی جوانوں نے پرامن مظاہرین پر اندھادھند گولیاں چلائیں لیکن پنجاب اسمبلی کے باہر نکالے گئے جلوس کے شرکاء پر گولیاں چلانے کا حکم دیا گیا تو فوج کے بریگیڈئیر،کرنلوں ، جنرلوں اوراہلکاروں نے اپنی بیلٹس اتارکرپھینک دیں کہ ہم ایسی نوکری پر لعنت بھیجتے ہیں اورہم اپنی ماں ، بہن ، بیٹی اوربھائی پرگولیاں نہیں چلائیں گے ۔جناب الطاف حسین نے جنرل راحیل شریف کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ بہت بہادر فوجی افسرہیں، آپ نے دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب شروع کی مگرمجھے افسوس کے ساتھ کہناپڑرہا ہے کہ شائد مہاجروں کے خلاف آپ بھی اپنے اندرکاتعصب نہیں نکال سکے ۔اگرمیں آپ کی جگہ ہوتا توآفتا ب احمد کے ماورائے عدالت قتل پر کراچی آتا اورڈی جی رینجرز میجرجنرل بلال اکبرکاکورٹ مارشل کراکرکڑی سزا دلواتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ گزشتہ سال رینجرز نے ایم کیوایم کو زکوٰۃ فطرہ اورقربانی کی کھالیں جمع نہیں کرنے د ی اوراس سال بھی ایم کیوایم کو زکوٰۃ فطرہ اوردیگرعطیات جمع کرنے سے روکاجارہا ہے ۔ کل سپریم کورٹ کے ججوں نے ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران دریافت کیاکہ کیارینجرز پیٹرول بیچ رہی ہے تو رینجرزکے وکیل نے جواب دیا کہ رینجرز پیٹرول پمپ کی مالک نہیں ہے بلکہ اس کا شیئر ہے ، جب رینجرز پیٹرول ،پانی ، پلاٹ بیچے گی اورلینڈ مافیا کوسپورٹ کرے گی تو امن کس طرح قائم ہوگا؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات ہوئے آٹھ ماہ گزرگئے لیکن ابھی تک کراچی ، حیدرآباد،سکھر،میرپورخاص اور سندھ کے دیگرشہروں میں میئرز،ڈپٹی میئرز، چیئرمین اور وائس چیئرمین کے انتخابات نہیں کرائے گئے اور بلدیاتی الیکشن کے عمل کو باربار ملتوی کیاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ عمل سات کروڑ مہاجروں کے ساتھ ظلم ہے ،ہماراپڑوسی ملک افغانستان ساڑھے تین سے چار کروڑآبادی والا ملک ہے ، جب امریکہ اور پاکستانی فوج ، افغانستان کوختم نہ کرسکے تو آپ ایک ایک کرکے کئی شہداء قبرستان تو بناسکتے ہومگر سات کروڑمہاجروں کو ختم کرتے کرتے ایک دن نہ صرف آپ خود ختم ہوجاؤگے بلکہ پاکستان کو بھی دنیاکے نقشہ سے مٹادوگے ۔
(جاری ہے )
کراچی 








 حیدرآباد









9/26/2016 5:27:55 AM