Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی سے ظلم کے خاتمے کے بجائے ایم کیوایم کی حق پرستانہ جدوجہد کو ملک بھر میں پھیلنے سے روکنے کیلئے ایک بار پھر سازشیں اور غیر جانبدارانہ آپریشن کیاجارہا ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی


کراچی سے ظلم کے خاتمے کے بجائے ایم کیوایم کی حق پرستانہ جدوجہد کو ملک بھر میں پھیلنے سے روکنے کیلئے ایک بار پھر سازشیں اور غیر جانبدارانہ آپریشن کیاجارہا ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
 Posted on: 9/15/2013
کراچی سے ظلم کے خاتمے کے بجائے ایم کیوایم کی حق پرستانہ جدوجہد کو ملک بھر میں پھیلنے سے روکنے کیلئے ایک بار پھر سازشیں اور غیر جانبدارانہ آپریشن کیاجارہا ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی 
ناعاقبت اندیش لوگ یہ جان لیں کہ یہ 19جون 1992ء نہیں بلکہ 2013ء ہے ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی 
10سال سے اسلحہ تلاش کرنے کے بہانے کراچی کے باسیوں کے گھروں کو لوٹا گیا اگر کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنا ہے تو پاکستان کو اسلحہ سے پاک کرنا ہوگا، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی 
انجینئر نگ فورم کے زیر اہتمام سٹی اسپورٹس کمپلیکس میں انجینئرز کے اعزاز میں دی گئی عشائیہ تقریب کے شرکاء سے خطاب 
کراچی ۔۔۔15، ستمبر2013ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر اور حق پرست رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ 65برس بعد بھی ہم پاکستان بننے کے مقاصد حاصل نہیں کرپائے ، بہترین معاشرہ وہ ہوتا ہے جس میں ظلم کے خاتمے کیلئے کوشش کی جائے لیکن آج کراچی سے ظلم کے خاتمے کے بجائے ایم کیوایم کی حق پرستانہ جدوجہد کو ملک بھر میں پھیلنے سے روکنے کیلئے ایک بار پھر سازشیں اور غیر جانبدارانہ آپریشن کیاجارہا ہے تاہم بعض ناعاقبت اندیش لوگ یہ جان لیں کہ یہ 19جون 1992ء نہیں بلکہ 2013ء ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز انجینئرنگ فورم کے زیر اہتمام سٹی اسپورٹس کمپلیکس (کے ایم ایم سی اسپورٹس کمپلیکس ) میں انجینئرز کے اعزاز میں دی گئی عشائیہ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پرایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن حیدر عباس رضوی ، سابق حق پرست رکن قومی اسمبلی انجینئر فرحت خان اور طیب حسین ہاشمی ، اے پی ایم ایس او کے توصیف کریمی ، سہیل وجاہت ، سابق وزیر پیٹرولیم عتیق احمد ، اسسٹنٹ کنٹرولر آپریشن بلال علوی چیئرمین الیکٹرانک ڈیپارٹمنٹ سرسید انجینئرنگ یونیورسٹی اور شہرمعززین بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جس ملک میں جاگیردارانہ نظام ہو وہاں جمہوریت نہیں ہوتی ، جاگیردارانہ نظام جمہوریت کی خود نفی ہے ، پاکستان میں اگر کہیں جمہوریت ہے تو وہ شہر کراچی میں ہے جہاں کے تعلیم یافتہ پڑھے لکھے نوجوان اپنے شعور کی بدولت انتخاب لڑ کر ملک کے اعلیٰ ایوانوں تک پہنچے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں 85فیصد ر عوامی مینڈیٹ ایم کیوایم کو حاصل ہے ، یہاں 10سال سے اسلحہ تلاش کرنے کے بہانے کراچی کے باسیوں کے گھروں کو لوٹا گیا اگر کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنا ہے تو پاکستان کو اسلحہ سے پاک کرنا ہوگا، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جب بھی کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کی بات کی جاتی ہے تو ایم کیوایم پاکستان سے اسلحہ ختم کرنے کی بات کرتی ہے جبکہ ایم کیوایم کے اس مؤقف کی اصل وجہ یہ ہے کہ اسلحہ کراچی میں نہیں بنتا بلکہ ملک کے کونے کونے سے یہاں اسلحہ لایا جارہا ہے پہلے ملک کے شمالی علاقوں سے آنے والے اسلحہ کو روکا جائے پھرکراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کی اصولی بات کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ سب جانتے ہیں کہ کراچی میں جرائم پیشہ لوگ کہاں رہتے ہیں ، لیاری میں بے گناہ مہاجروں کی گردنیں کاٹی گئیں ، اغواء برائے تاوان کی وارداتیں کرکے تاجرون ، صنعتکاروں اور اردو بولنے والوں کا جینا حرام کردیا گیا لیکن ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ سندھ کے شہری علاقوں میں رہنے والوں نے پاکستان اور اسلام کو اپنی شناخت بنایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 1947ء قیام پاکستان سے قبل سندھ کے شہری علاقوں میں 70سے 80فیصد ہندو رہتے تھے اور 1947ء میں ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمان جب یہاں آباد ہوئے تو انہوں نے پاکستان اور اسلام کو اپنی شناخت بنایا کیونکہ وہ اپنی علاقائی شناخت وہیں چھوڑ کر آئے تھے ۔عشائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق حق پرست رکن قومی اسمبلی انجینئر فرحت خان نے کہاکہ ملک کے طلباء بہت سے مسائل کا شکار ہیں اور طلباء کو مسائل سے نکالنے کیلئے مزید انجینئر نگ فورم تشکیل دیاگیا ۔ سابق وزیر پیٹرولیم اور سیمنس کے سابق ڈائریکٹر سہیل وجاہت نے کہاکہ ملک کی اکنامی انجینئرز کی مرہون منت ہوتی ہے اور جب تک کسی ملک کے انجینئرز ٹھیک نہیں ہیں تو اس ملک کی اکنامی بھی ٹھیک نہیں ہوتی ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں اس وقت 27ہزار انجینئرز موجود ہیں اور وہ سر جوڑ کر بیٹھ جائیں کہ ملک کے خوابوں کو اس کی اصل تعبیر دیں گے ۔ 

12/11/2016 2:03:16 AM