Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کے تحت کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنے میں اسیر و لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ اپنی دکھ بھری داستان بیان کرتے ہوئے شدت جذبات سے بے قابو ہوکر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے


ایم کیوایم کے تحت کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنے میں اسیر و لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ اپنی دکھ بھری داستان بیان کرتے ہوئے شدت جذبات سے بے قابو ہوکر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے
 Posted on: 4/23/2016
ایم کیوایم کے تحت کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنے میں اسیر و لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ اپنی دکھ بھری داستان بیان کرتے ہوئے شدت جذبات سے بے قابو ہوکر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے 
احتجاجی دھرنے میں انتہائی رقت آنگیز مناظر دیکھنے میں آئے ، دھرنے کے تمام شرکاء اشکبار ہوگئے ، بعض کی حالت غیر ہوگئی 
اپنے بیٹے کی واپسی کا انتظار کرتے کرتے میری آنکھیں پتھرا گئی ہیں ، مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنی زندگی میں اپنے بیٹے کو دوبارہ
دیکھ بھی سکوں گی یا نہیں ، لاپتا کارکن کی بوڑھی والدہ 
میری کمسن بیٹی اپنے بابا کے بارے میں سوال کرتی ہے میرا کلیجہ پھٹ جاتا ہے ، گمشدہ کارکن کی اہلیہ 
مجھے میرے پاپا چاہئیں ، وہ تین سال سے لاپتہ ہیں ، لاپتا کارکن کی 6سالہ بیٹی 
جنرل راحیل شریف نے فوج کی کرپشن توپکڑ لی لیکن کاش وہ کراچی آپریشن کی کرپشن بھی پکڑ لیتے، ہمشیر ہ ڈپٹی کنوینر شاہد پاشا 
لاپتہ کارکنان کی گرفتاریوں کے بعد سے آئینی پٹیشن دائر کی ہوئی ہیں لیکن ہمیں عدالتوں سے بھی کوئی انصاف نہیں مل رہا ہے
وزیراعظم ، چیف آف آرمی اسٹاف اور انسانی حقوق کی تنظیمیں لاپتا کارکنان کی بحفاظت بازیابی کو یقینی 
بنائیں ، اسیر ولاپتہ کارکنان کے اہل خانہ کا مطالبہ 
کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنے میں لاپتہ اور اسیر کارکنان کے اہل خانہ کی دکھ بھری داستانیں 
کراچی ۔۔۔23، اپریل 2016ء 
ایم کیوایم کے تحت کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنے میں انتہائی رقت انگیز مناظر دیکھنے میں آئے ، ایم کیوایم کے اسیر و لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ اپنی دکھ بھری داستان بیان کرتے ہوئے شدتِ جذبات سے بے قابو ہوکر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔ اس موقع پر پورے پنڈال کی فضاء سوگوار ہوگئی اور احتجاجی دھرنے کے تمام شرکاء اشکبار ہوگئے ۔ دکھ بھری داستانیں سن کر بیشتر شرکاء پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور بعض کی حالت غیر ہوگئی جنہیں بروقت طبی امداد فراہم کی گئی ۔ ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنان کے معصوم بچوں ، اہلیہ ، والدین اور بہن بھائیوں نے اپنے پیاروں کی گرفتاری کے بعد گمشدگی پر گہری تشویش کااظہار کرتے ہوئے وزیراعظم میاں نواز شریف ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ ان کے پیاروں کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنایاجائے ۔ شدت جذبات سے نڈھال اہل خانہ نے کہاکہ اگر ہمارے بچوں نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیاجائے اور جرم ثابت ہونے پر قرار واقعی سزا دی جائے لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے ان کے پیارے لاپتا ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے بارے میں کچھ بتانے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ انہیں کہاں اور کس حال میں رکھا گیا ہے ، آیا وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں ۔ لاپتا کارکنان کے معصوم بچوں نے روتے ہوئے کہاکہ ہم گزشتہ کئی ماہ سے اپنے پاپا کی شکل شکل دیکھنے سے محروم ہیں ، ہمیں ہمارے پاپا بہت یاد آتے ہیں ، خدا رسول ؐ کے واسطے ہمارے پاپا کو ہم سے ملایاجائے ۔ایم کیوایم کے لاپتا یونٹ انچارج کی اہلیہ نے بتایا کہ میرے شوہر ایک سال دو ماہ سے لاپتا ہیں ، میرے تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو بیمار ہیں ، میں خود بیمار ہوں ،میں کس طریقے سے اپنے بچوں کی پرورش کررہی ہوں بتا نہیں سکتی ۔ گھر کے گھر اجاڑ ے جارہے ہیں لیکن ایسے لوگوں کا کچھ نہیں کیاجارہا ہے ۔الطاف بھائی کا ساتھ ہے تو لوگ پوچھ رہے ہیں ، ابھی تک میرے شوہر کا پتا نہیں چلا ہے ، ان کا جرم کیا ہے ، ان پر کیس ہے یہ تو بتایاجائے اور اب تک انہیں جیل کسٹڈی بھی نہیں کی ۔ میری درخواست ہے کہ میرے شوہر کا معلوم کرائیں کہ کہاں اور کس حال میں ہیں اور کس تکلیف میں ہے ۔ایک اور لاپتہ کارکن کی 6سالہ بیٹی نے کہا کہ مجھے میرے پاپا چاہئیں ، وہ تین سال سے لاپتہ ہیں اور ان کا کچھ پتا نہیں چل رہا ہے ، اگر ان کا کوئی قصور ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیاجائے اور قانون کے مطابق سزا دی جائے لیکن غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کرکے ظلم کا سلسلہ بند کیاجائے ۔ ایک لاپتہ کارکن کی غمزہ اہلیہ نے کہا کہ میرے شوہر گھر کے واحد کفیل ہیں اور ان کی گمشدگی سے ہمارا گھر اجڑ گیا ہے ، میرے تین بچے ہیں اور ان بچوں کی پرورش کس طرح کررہی ہوں یہ میرا للہ جانتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ قائد تحریک جناب الطاف حسین سے وابستگی کی پاداش میں ہم پر قیامتیں ڈھائی جارہی ہیں لیکن تمام تر مظالم کے باوجود ہم ماضی کی طرح آج بھی الطاف بھائی کے ساتھ ہیں اور ظلم و ستم کا کوئی بھی ہتھکنڈہ ہمیں الطا ف بھائی سے محبت کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا ۔ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر شاہد پاشا کی ہمشیرہ نے کہا کہ جنرل راحیل شریف نے فوج کی کرپشن توپکڑ لی لیکن کاش وہ کراچی آپریشن کی کرپشن بھی پکڑ لیتے ۔ انہو ں نے مطالبہ کیا کہ شاہد پاشا سمیت جتنے ایم کیوایم کے بے گناہ اسیران اور لاپتہ ہیں انہیں رہا اور بازیاب کرایاجائے ۔ایک خاتون نے اپنے شوہر کی گمشدگی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ جب میری کمسن بیٹی اپنے بابا کے بارے میں سوال کرتی ہے میرا کلیجہ پھٹ جاتا ہے ۔ ا نسا نیت کا درد رکھنے والے جواب دیں کہ میں اپنی کمسن بیٹی کو کس طرح بہلاؤں ، شوہر کی عدم موجودگی میں میں شدید مالی مشکلات سے دوچار ہوں اور اپنے بچوں کی اسکول فیس تک دینے کیلئے مجھے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ایک گمشدہ کارکن کے بھائی نے کہاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جو اہلکار ہمارے پیاروں کو گرفتار کرنے کے بعد لاپتا کررہے ہیں کیا ان کے باپ ، بھائی ، ماں اور بہنیں نہیں ہیں ؟اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے ہمارے ساتھ ایسا متعصبانہ سلوک کیوں اختیار کیا ہوا ہے ۔ایک اور لاپتا کارکن کی والدہ نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے جب اپنے پیاروں کی گمشدگی کے حوالے سے رابطہ کیا جاتا ہے تو ان کی جانب سے انتہائی غلیظ زبان استعمال کی جاتی ہے ۔ ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ ہم نے اپنے لاپتہ کارکنان کی گرفتاریوں کے بعد سے آئینی پٹیشن دائر کی ہوئی ہیں لیکن ہمیں عدالتوں سے بھی کوئی انصاف نہیں مل رہا ہے ۔ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم اردو بولنے والے ہیں اورہندوستان سے پاکستان کی محبت میں ہجرت کرکے آئیں ہیں ۔ اے پی ایم ایس او کے گرفتار ذمہ دار کی بہن نے بتایا کہ میرا بھائی جامعہ کراچی کا طالب علم ہے ، کیا وہ دہشت گرد ہوسکتا ہے ، سادہ لباس اہلکار انہیں ولیکا گراؤنڈ جامعہ کراچی سے دھکے مارتے ہوئے اٹھا کر لے گئے ، کیا کراچی یونیورسٹی میں سادہ لباس والوں کا داخل ہونا اتنا ہی آسان ہے ، کیا کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور انتظامیہ اتنی کمزور ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر کسی بھی بے گناہ طالب علم کو سیاسی مخالفت میں اٹھا کر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار غیر قانونی طور پر اٹھا کر لے جائیں ۔ میرے بھائی کو دہشت گرد بنا کر گرفتار کیا گیا اگر وہ مجرم ہے تو عدالت میں پیش کریں ، کسی کو بھی دہشت گرد ظاہر نہیں کیا جاسکتا جب تک عدالت سے ثابت نہیں ہوجائے ۔ طلبہ ملک کا مستقبل ہیں دہشت گرد نہیں اور جو انہیں گرفتا رکررہے ہیں وہ ملک کا مستقبل تباہ کررہے ہیں ۔ایک لاپتہ کارکن کی بوڑھی والدہ نے روتے ہوئے کہاکہ اپنے بیٹے کی واپسی کا انتظار کرتے کرتے میری آنکھیں پتھرا گئی ہیں ، مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنی زندگی میں اپنے بیٹے کو دوبارہ دیکھ بھی سکوں گی یا نہیں ۔سادہ لباس اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد سے لاپتا کارکن کی والدہ نے بتایا کہ میں کس سے انصاف مانگوں ، میرا بیٹا کہاں ہے ،کم از کم میرے بیٹے کی مجھ سے ملاقات کرائی جائے اور بتایا جائے کہ وہ کس حال میں اور کہاں ہے ۔ میں خدا ، رسول ؐ کا واسطہ دیتی ہوں کہ میرے بچے کو صحیح صلامت بازیاب کرایاجائے ۔ایم کیوایم کے اسیر و لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ نے اللہ اور رسول ؐ کا واسطہ دیتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف ، صدر پاکستان ممنون حسین ، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور چیف جسٹس آف سپریم کورٹ سے انتہائی درد مندانہ اپیل کی کہ مہاجروں کے بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا فوری نوٹس لیاجائے ، ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنان کی گرفتاریوں کا سلسلہ بندکرایاجائے ، تمام گرفتار شدگان کو فی الفور رہاکرایاجائے اور ایم کیوایم کے 170سے زائد لاپتہ کارکنان کی بحفاظت بازیابی کیلئے مثبت اور عملی کردار اداکیاجائے ۔

9/27/2016 12:14:26 PM