Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی پاکستان کو 70 فیصد ریونیو دیتا ہے لیکن کراچی کو وفاق سے جائز حصہ نہیں ملتا۔ الطاف حسین


کراچی پاکستان کو 70 فیصد ریونیو دیتا ہے لیکن کراچی کو وفاق سے جائز حصہ نہیں ملتا۔ الطاف حسین
 Posted on: 2/27/2016
کراچی پاکستان کو 70 فیصد ریونیو دیتا ہے لیکن کراچی کو وفاق سے جائز حصہ نہیں ملتا۔ الطاف حسین
کراچی سے حاصل ہونے والا ریونیو ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن کراچی کو اسکے جائز حقوق نہیں دیے جاتے
پورے ملک کو چلانے والا شہر کراچی آج اپنے حقوق سے محروم ہے۔ الطاف حسین
سندھ حکومت بھی کراچی کو مسلسل نظر انداز کررہی ہے، کراچی جیسے شہر میں صحت و صفائی جیسے مسائل بھی بڑھ گئے ہیں
کراچی والے کسی سے کچھ چھیننا نہیں چاہتے بلکہ اپنا حق چاہتے ہیں۔ الطاف حسین
بدقسمتی سے پاکستان میں انصاف وقانون کا دہرا معیار ہے۔ الطاف حسین
امیر طبقہ سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی خلاف قانون عمل کرے تو اس کی پکڑ نہیں ہوتی لیکن اگر غریب و متوسط طبقہ کا کوئی فرد وہی عمل کرے تو اس پر فوری مقدمات بنادیے جاتے ہیں
ہم ملک بھرکی خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق دلانا چاہتے ہیں اور انہیں بااختیار بنانا چاہتے ہیں۔ الطاف حسین
میں کسی بھی زبان بولنے والے یا کسی بھی قومیت سے نفرت نہیں کرتا بلکہ سب سے محبت کرتا ہوں۔ الطاف حسین
سارے مظلوموں کو ان کے حقوق دلانا چاہتا ہوں، میں ملک سے کاروکاری کی فرسودہ رسم کا خاتمہ چاہتا ہوں۔ الطاف حسین
ڈیفنس میں ڈی سی آرسی کے تحت منعقدہ اجتماع سے ٹیلیفون پر خطاب
اجتماع میں صنعتکاروں، تاجروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت
لندن ۔۔۔ 27 فروری 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ کراچی پاکستان کامعاشی حب اوردنیاکاچھٹابڑاشہرہے جوپاکستان کو70 فیصد ریونیو دیتا ہے لیکن اس کے جواب میں کراچی کواس کی ترقی کے لئے وفاق سے جائزحصہ نہیں ملتاہے اورپورے ملک کوچلانے والا یہ شہرآج اپنے حقوق سے محروم ہے ۔ انہوں نے یہ بات آج ڈیفنس میں ڈی سی آرسی کے تحت منعقدہ ایک اجتماع سے ٹیلیفون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجتماع میں صنعتکاروں، تاجروں اورمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔ تقریب میں رابطہ کمیٹی کے سینئرڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار، رابطہ کمیٹی کے ارکان ڈاکٹر عبدالقادرخانزادہ، کمال ملک، نامزدمیئرکراچی وسیم اختر، نامزد ڈپٹی میئر ارشدہ وہرہ اورارکان اسمبلی محترمہ خوش بخت شجاعت، ڈاکٹرفوزیہ حمیداورارم فاروقی بھی شریک تھیں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ کراچی پاکستان کامعاشی انجن ہے جس سے حاصل ہونے والا ریونیو پورے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتاہے لیکن کراچی ہی کو اس کے جائزحقوق نہیں دیے جاتے، سندھ حکومت بھی کراچی کومسلسل نظراندازکررہی ہے جس کی وجہ سے آج کراچی جیسے شہر میں صحت وصفائی جیسے مسائل بھی بڑھ گئے ہیں، جب کراچی والے اپناحق مانگتے ہیں توان پر غداری کے الزامات لگائے جاتے ہیں،کراچی والے کسی سے کچھ چھیننانہیں چاہتے بلکہ اپناحق چاہتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اختیارات سے محرومی سے گڈگورننس کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اورعوام کامینڈیٹ رکھنے والوں میں احساس محرومی جنم لیتی ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی آبادی اب 20کروڑسے زائد ہوچکی ہے لہٰذا گڈگورننس کیلئے ضروری ہے کہ اب پاکستان کے 20صوبے بنائے جائیں اوراختیارات نچلی سطح تک منتقل کئے جائیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان میں انصاف وقانون کادہرامعیارہے، اگرامیرطبقہ سے تعلق رکھنے والاکوئی بھی خلاف قانون عمل کرے تواس کی پکڑنہیں ہوتی لیکن اگر غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والا کوئی فردوہی عمل کرے تواس پر فوری مقدمات بنادیے جاتے ہیں، اگر کوئی سیاسی رہنماکہے کہ ہم فوج کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے توانہیں معافی ہے لیکن اگرمیں تنقید کروں تو سزا کا حق دارقراردیدیاجاتاہوں اورمیری تقاریراوربیانات نشر کرنے پرپابندی عائد کردی جاتی ہے، ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی اور ارکان پارلیمنٹ پر مقدمات قائم کردیے جاتے ہیں کہ انہوں نے الطاف حسین کی تقریرسنکرتالیاں بجائیں۔آج بھی مجھ پر اورفاروق ستار، نسرین جلیل ، وسیم اختراورخوش بخت شجاعت پر مقدمہ بنادیاگیا۔انہوں نے کہاکہ بنی گالہ کے سینکڑوں ایکڑ کے عالیشان گھرمیں رہنے والی ایک سیاسی شخصیت کے ناجائز تعلقات کے بارے میں کوئی فتویٰ نہیں دیاجاتااورمیں نے ایک خطاب میں قرآن مجیدکاحوالہ دیتے ہوئے انسان کی پیدائش اور اس کی نفسیات کے بارے میں گفتگوکی توآج ہی مجھ پرایک اور مقدمہ بنادیا گیا کہ میں نے خواتین کی بیحرمتی کی ۔ انہوں نے کہاکہ میں نے توقرآن مجیدکی آیات مقدسہ میں انسان کی تخلیق کاحوالہ دیتے ہوئے کہاتھاکہ انسان ایک گندے قطرے کی پیداوارہے تووہ کس بات کا غرور اورگھمنڈ کرتاہے؟ سب سے بڑی اورعظمت والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے اورغرورتکبراورگھمنڈ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی کیلئے جائز ہے،انسان کوغروراورگھمنڈ نہیں کرنا چاہیے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم نے طلبہ کی سطح سے قائم ہونے والی تنظیم سے جنم لیاجس نے 1997ء میں مہاجرقومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کردیا گیا تاکہ پورے ملک کے محروم ومظلوم عوام کے حقوق کے لئے جدوجہدکی جائے اورانہیں فرسودہ جاگیردارانہ نظام سے نجات دلائی جائے۔ ہم ملک بھرکی خواتین کومردوں کے مساوی حقوق دلاناچاہتے ہیں اورانہیں بااختیاربناناچاہتے ہیں۔میں کسی بھی زبان بولنے والے یاکسی بھی قومیت سے نفرت نہیں کرتابلکہ سب سے محبت کرتاہوں، سارے مظلوموں کوان کے حقوق دلانا چاہتا ہوں، میں ملک سے کاروکاری کی فرسودہ رسم کاخاتمہ چاہتا ہوں ۔ میں نے سندھ کے ایسے کئی لڑکوں اور لڑکیوں کونائن زیرو پر پناہ دی جنہیں جرگوں کی جانب سے کاروکاری کے الزام میں قتل کی سزا سنائی گئی تھی، اگریہ میرا قصورہے تومیں یہ قصورکرتارہوں گا۔ میں ایسا معاشرہ چاہتاہوں جہاں کسی کوبھی اس کی دولت اورمرتبہ کی بنیادپر عزت نہ دی جائے ،میں سمجھتا ہوں کہ سب کو زندہ رہنے کاحق ہے اورسب کوعزت ملنا چاہیے۔میں نے اپنے اصولوں اورنظریات کاسودانہیں کیا۔میں چاہتاہوں کہ لوگ انسانیت کی فلاح وبہبود کے لئے کام کریں اور مجبوروں اوربے کسوں کاسہارابنیں۔انہوں نے اجتماع کے شرکاء سے اپیل کی کہ وہ ایم کیوایم کے لئے بھی وقت نکالیں اور اپنی صلاحیتوں سے عوام کے حقوق کے لئے کی جانے والی اس جدوجہد کو کامیاب بنائیں۔ 











 English
تصاویر

9/29/2016 11:58:28 AM