Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تقاریر، خطابات اور رتصاویر نشر و اشاعت پر عائد غیر جمہوری پابندی کے خلاف مزار قائد کے سامنے منعقدہ عوامی احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے قائد تحریک جناب الطاف حسین کا خصوصی خطاب


 Posted on: 1/24/2016
قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تقاریر، خطابات اور رتصاویر نشر و اشاعت پر عائد غیر جمہوری پابندی کے خلاف مزار قائد کے سامنے منعقدہ عوامی احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے قائد تحریک جناب الطاف حسین کا خصوصی خطاب
مؤرخہ: 24؍ جنوری 2016ء (اتوار)

ہیلو !
میری آواز آپ لوگوں تک صاف طریقے سے پہنچ رہی ہے؟ آپ اپنی اپنی نشستوں پر تشریف رکھیں اور دوسری درخواست یہ ہے کہ تمام کارکنان و عوام فی الحال جھنڈوں کو ، پرچموں کو ،Flagsکو لپیٹ کر نیچے کرلیں اور اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ جائیں مجمع بہت دور تک ہے تو وہ آسانی سے آگے کی طرف یعنی اسٹیج کی طرف دیکھ سکتے ہیں۔ اجازت ہے تو میں شروع کروں؟ ایک اور آخری بات کہ نعرے وغیرہ لگانے سے پرہیز کریں کیونکہ جتنا وقت آپ نعروں میں لے جائیں گے تو جو میں بات کرنا چاہتاہوں وہ رہ جائے گی۔ 
حالات تیزی سے بدل رہے ہیں! مثال کے طور پر پتہ نہیں پاکستان میں امریکہ سے متعلق خبریں آرہی ہیں یا نہیں آرہی ہیں ،امریکہ کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ امریکہ کے 20 اسٹیٹس میں برف باری کے طوفان کی وجہ سے مکمل طور پر بند پڑے ہوئے ہیں کھانے، پینے کی چیزیں نہیں ہیں، قیامت صغراء کا منظر ہے لیکن اتنا ترقی یافتہ ملک Weather  Forcast اس میں وہ یہ تو بتا سکا کہ فلاں فلاں جگہ شدید برف باری یا برفانی طوفان کی اشارے Weather  Forcast کے ذریعے جو اطلاعات ملی ہیں وہ یہ ہیں لیکن امریکہ کی Weather Forcast  Deprtmentنے یہ نہیں کہا تھا کہ 20اسٹیٹ ایسے ہو جائیں گے کہ ان کا وجود ہی نہیں، وہاں یہ ہوگا کہ لوگ پانی پینے کیلئے برف کھا کر گزارا کر رہے ہیں اور کھانے میں بھی برف کھا رہے ہیں تو آپ کہیں گے کہ یہ امریکہ کی صورتحال بتانے کا مقصد؟ 
مقصد میرا یہ ہے کہ میرے بھائیوں میری بات کو آپ کو غور سے سنیں! دنیا کے حالات Weather, Politicalاور جو Geopolitical Situationکسی خطے یا دنیا کی ہوتی ہے اس میں تیزی سے تبدیلیاں رونماں ہو رہی ہیں آپ کے ،میری بیٹی ور سے بات سنو میں بہت اہم بات کر رہاہوں، 
In  Future  That  Will  Be  Will  Help  These  Thing  Will  Help  In  Your  Higher  Education,  Most  Of  the thing  you'll  not  find  in  your  text  book  What  is  I am  trying  to  Say  Try  To  understand  if  Just Because  Of  reletaive  just  Because  Of  your  Friends  you  are  fulfilling  &  showing   your  presence that  you  are  present  here  so  you  can  make  happy  your  friends  but  there  wouldn't  be  any benifite  of  your  presence  if  you  not  Show  attention.
میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہے نتھا کہ امریکہ میں یہ ہوجائے گا اسی طریقے سے کسی کویہ نہیں معلوم تھا کہ عراق ختم ہوجائے گا ، کسی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ مصر حالات جنگ میں آجائے گا ، کسی کویہ نہیں معلوم نہیں تھا کہ یمن میں خانہ جنگی تیز ہوجائے گی ، کسی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ایران اور سعرودیہ عرب میں بات اتنی آگے پہنچ جائے گی کہ دونوں ممالک حالت جنگ میں آجائے گیں ، کسی کو یہ نہیں معلوم تھاکہ افغانستان کی Warجو ہے جو 30سال پہلے شروع ہوئی تھی امریکہ اور رشیاکہ درمیان Cold Warجو تھی اس نے جب عملی شکل اختیا ر کی تو کسی کو نہیں معلوم تھا کہ سال گزرتے رہیں گے اور 30سال گزر جائیں گے ہزاروں کی تعداد میں لوگ مارے جائیں گے، ہجرت کریں گے ، ہزاروں کی تعداد میں گھر اُجڑیں گے اور کسی کو نہیں معلوم تھاکہ نیٹو کی افواج کو حالات کو سنبھالنے کیلئے پاکستان آنا پڑے گا جیسا کہ فارو ق ستار نے کہاکہ ایک ملک میں سچ کی آواز تھی ،ایک ملک میں حق کی آواز تھی جو سچ بتاتی تھی قوم کو جب وہ بتاتی تھی تو اس پر لعن طعن کی جاتی تھی ، مزاق اُڑایا جاتا تھا انکا کیا جاتا تھا اسکی باتوں کا اور بعد میں جس کی طرف فاروق ستار کا اشارہ تھا وہ الطاف حسین کی طرف تھا کہ الطاف حسین جو کہتا ہے وہ دیر بدیر سامنے آتاہے میرے بھائیوں!میرے اوپر پابندی لگی ہوئی ہے لیکن میں جو دنیا میں ذرائع جب تک آخری ذریعہ بھی مجھے میسر آئے گا میں آپ سے رابطہ میں رہنے کی کوشش کروں گا،میں نے اپنی پوری زندگی کھیلنے ،کودنے کا زمانہ پھر جوانی کا زمانہ آنکھ مٹکا کرنا یعنی کے جو سارے نوجوان کر تے ہیں ہنسی مزاق، دل لگی اور وہ کبھی دل لگی دل کو ایسے لگ جاتی ہے کہ کام ہوجاتاہے۔ میں پوری زندگی اپنی تعلیم فارمیسی کراچی یونیورسٹی میں حاصل کرنے کے وقت اور آج کا دن ہے جب میں بات کررہاہوں میں نے رات دن قوم کے لئے وقف کردیا میں ان تمام چیزوں سے کٹ گیا کسی نے مجھے ذور نہیں دیا تھا نہ زبردستی کی تھی میں نے دیکھا مہاجروں کا پاکستان میں کوئی نہیں ہے ، مہاجروں کا سننے والا کوئی نہیں ہے پاکستان میں غریب بلوچوں کا ، پختونوں کا ، پنجابیوں کا ، سندھیوں کا ، سرائیکیوں کا پاکستان میں غریب طبقے کا کوئی سننے والال نہیں ہے ، پاکستان میں سرمایہ داروں ، وڈیروں ، جاگیرداروں کی حکومت ہے جسے فوجی جرنیلوں کی مکمل حمایت حاصل ہوتی ہے،میری ماؤں ، بہنوں ،بیٹیوں ، بچوں ، بزرگوں اتنی ہمت بد قسمتی سے کسی اور کے اندر نہیں ہے جس لیڈرکی دم اُٹھا کر دیکھو لیڈرکی تو لگتا یہ ہے کہ مردہوگالیکن دم اُٹھا کر دیکھو لیڈرکی تو سالا مادہ نکلتاہے ۔اجازت تو میں پھر شروع کرتاہوں بسم اللہ آرام سے بیٹھے رہئے اور اگر جلدی جانا ہے تو مجھے بٹھا دیجئے،میں یہ کہہ رہاہوں کہ یہ پروگرام انہوں نے مجھے دیا ہے پونے سات بجے مائیک دیاہے تو میں ظاہر ہے کہ میں کیا کروں ؟ مجھے تو آپ سے باتیں کرنی ہیں اگر جلدی کہتے ہیں تو کیا کروں ختم کردوں بغیر بولے کیا کروں ؟دوسرا ڈر یہ لگا رہتاہے کہ گرفتاریاں ہو رہی ہیں ، چھاپے پڑ رہے ہیں ایسانہ ہو کہ تنگ آکر آپ تحریک کو یا مجھے چھوڑ کر نہ چلے جائیں ۔۔۔کیونکہ میں سچ بولنے پر مجبور ہوں اللہ میاں نے اللہ تعالیٰ نے مجھے بنایا ایساہے کہ میں جھوٹ بولنا چاہوں بھی تونہیں بو ل سکتا میرے ساتھیوں انہوں نے دو مہینے ، تین مہینے چار مہینے میری تقریروں پر اور آواز پر پابندی لگا رکھی ہے ۔لگا رکھی ہے یا نہیں لگا رکھی؟ دیکھیں ایک میرا خیا ل یہ ہے کہ میں پہلے شروع کرلوں تاکہ پھر بات کرنا شروع کروں۔
* ۔۔۔ * ۔۔۔ (تلاوت) ۔۔۔ * ۔۔۔ *
میری ماؤں ،بہنوں ، بزرگوں! میں یہ کہہ رہا تھاکہ سب چیزیں سمجھ لیجئے کہ ایک ریاست ہوتی ہے اور ایک حکومت ہوتی ہے ،ریاست کے ستون ہوتے ہیں عدلیہ ، قانون ساز باڈیز(فوج ، قومی اسمبلی ، صوبائی اسمبلی اور سینیٹ)میڈیا کوئی ستون نہیں ہوتا میڈیا والوں نے ازخو د ستون بنالیاہے عدلیہ ، فوج ، مقننہ اورایک ہوتی ہے حکومت جو آئین کسی ملک کا ہوتاہے اس کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے وجود میں آتی ہے پانچ سال کیلئے ،کہیں چار سال کیلئے ، کہیں صدارتی نظام ہوتاہے، کہیں پارلیمانی نظام ہوتاہے دیکھیں لکھ لیجئے آپ کو یہ چیزیں کوئی اور نہیں بتائے گا اس انداز میں جس انداز میں میں بتانا چاہ رہاہوں ، قانوندان یہاں بیٹھے ہیں لیکن مجھے افسوس ہے کہ قانونداں بھی خاموش بیٹھے ہیں تو اب مقننہ کا کام ہوتاہے قانون سازی کرنا ، مقننہ یعنی پارلیمنٹ کا کام ہوتاہے قانون سازی کرنا ، عدلیہ کا کام ہوتا ہے اس قانون کے مطابق اور Constitutionکے مطابق مختلف مقدمات کے فیصلے دینا ، فوج کا کام ہوتا ہے سرحدوں کی حفاظت کرنا اور اگرداخلی انتشار کی صورت پید اہوجائے ، حادثات ہوں، سیلاب آئے ، زلزلہ آئے کوئی اور حادثہ ہوجائے تو اس میں شورش میں جس کو انگریزی میںInsurgencyبھی کہتے ہیں اس سے نمٹنا ۔۔۔اب ذرا اس پر غور فرمایئے جو بات میں کررہا ہوں یہ بات آپ سے آج تک کسی نے نہیں کہی ہوگی ۔۔۔ مقننہ کون بنا رہا ہے ؟۔۔۔عوام، آئین کے تحت مقننہ بنا رہی ہے اور مقننہ کس پر مشتمل ہے ، مقننہ میں کون لوگ جاتے ہیں گھوڑے گدھے جاتے ہیں یا انسان جاتے ہیں۔۔۔ عدلیہ میں جو ججز بنتے ہیں وہ مریخ سے آتے ہیں جپیٹر سے آتے ہیں وہ آسمان سے آتے ہیں Aliensہوتے ہیں یا میری اورتمہاری طرح کے انسان ہوتے ہیں ؟۔۔۔فوج میں جو فوجی ہوتے ہیں وہ Specially کسی فیکٹری میں بنائے جاتے ہیں یا ہماری اورتمہاری طرح کے انسان ہوتے ہیں ؟،انسان کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ انسان غلطیوں کا پتلا ہوتا ہے ، اگر!!! آپ سے غلطی ہوسکتی ہے تو مجھ سے بھی غلطی ہوسکتی ہے ،اگرآپ اور مجھ سے غلطی ہوسکتی ہے تو پارلیمان میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے بھی غلطی ہوسکتی ہے ، اگر مجھ سے اور آپ سے غلطی ہوسکتی ہے تو عدلیہ میں بیٹھے ہوئے قانون کے محافظ ججز صاحبان سے بھی غلطی ہوسکتی ہے ۔اب جوجو سوال کرتا رہوں جواب دیتے رہئے ، حکومت اور ریاست کا فرق سمجھ میں آگیا نہ آپ کو؟ حکومت میں وزیراعظم ہوتا ہے، صدر ہوتا ہے ، وزراء ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ اور صوبوں میں چیف منسٹر ہوتا ہے ، وزراء ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ ،کیا گورنمنٹ میں شامل لوگ سب نہیں۔۔۔کمیشن ، رشوت نہیں لیتے ہیں؟،کیا عدلیہ میں ججز رشوت نہیں لیتے ؟ ،کیا فوج میں شامل لوگ رشوت ، چوری چکاری ، ہیروئن کے کاروبار میں سب نہیں ۔۔۔کچھ نہ کچھ ملوث ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے ؟توجج ، فوج اور حکومت ان میں سے دوسال میں،میں پرانی باتیں نہیں کررہامیں دوسال کی لے رہاہوں 2013ء سے ان میں سے کس کو سزا ہوئی ،کسی فوجی کو سزا ہوئی؟ چوری چکاری رشوت ستانی کے جرم میں ، کسی جج کو سزا ہوئی رشوت ستانی ، اقرباء پروری ، چوری چکاری کے جرم میں ؟، کسی فوجی کو بھی نہیں ہوئی ، کسی جج کو بھی نہیں ہوئی ، کسی حکمران کو بھی نہیں ہوئی۔۔۔۔دائیں بائیں نظر رکھیں اور اگرکہیں کسی کے پاس تھیلا وغیرہ دیکھیں تو وہ خواتین ہوں تو خواتین خواتین سے پوچھ لیں کہ بتا دیں مرد مرد سے پوچھ لیں اس میں کیا ہے اور کوئی ناراض نہ ہو گھر کی ہی بات ہے ۔ 
وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اے پی سی کانفرنس میں متفقہ طور پر جس میں سب سے آخر میں ایم کیوایم شامل ہوئی تھی جب فوج کے لوگوں نے یہاں فون کئے ، اسحاق ڈار نے فون کئے ، وزیراعظم کی طرف سے یقین دہانی کرائی، خدا کی قسم ، رسول ﷺ کی قسم ، اللہ کی قسم یہ جو نیشنل ایکشن پلان بن رہا ہے یہ جیٹ بلیک (JET BLACK)دہشت گردوں کے خلاف ہوگا جو مساجد پر حملے کرتے ہیں ، جو اسکولوں پر حملے کرکے بچوں کو قتل کردیتے ہیں ، جو استانیوں کو جلا کر راکھ کردیتے ہیں ، جو امام بارگاہوں پر حملے کرتے ہیں ، مساجد پر حملے کرتے ہیں،نمازیوں پر حملے کرتے ہیں ، مزارات پر حملے کرتے ہیں ، ان کے خلاف یہ ایکشن ہوگا یہ ایکشن ہم یقین دلاتے ہیں کہ سیاسی بنیادوں پر نہیں ہوگا ۔۔۔
جب یہ ایکشن شروع ہوا تو میرے گھرپر دو مرتبہ چھاپے مارے گئےً! اور یہ کہا گیا کہ یہاں پر ٹارگٹ کلرز، بھتہ خور، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرنے والے رہ رہے تھیں۔ اب میں آپ کو قسمیہ بتادوں تو آپ کو یقین آجائے گا؟ عامر خان موجودہیں؟ عامر خان کہاں ہو؟ ہمت ہے قوم کے سامنے آکر سچ بیان کرنے کی؟ اور نائن زیرو پر جو لوگ تھے، پیش کرسکتے ہیں اپنے آپ کو؟ اس وقت جب چھاپہ پڑا نائن زیرو پہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایک بھی ٹارگٹ کلر کوئی Criminal موجود نہیں تھا۔ ہاں البتہ نائن زیرو کے ارد گرد مکانات سے پکڑ کر رینجرز والے نائن زیرو لائے تھے ان کو! 
اب بتاؤ! عامر خان بتاؤ! کیا صحیح ہے؟ کیا غلط ہے؟

’’عامر خان: جی بھائی بالکل صحیح ہے! کوئی بھی وہاں پر ایسا Criminal نہیں تھا ، کوئی ایسا آدمی وہاں موجود نہیں تھا۔ اطراف سے کہی سے پکڑ کر لا کر انھیں یہ کہہ دہا گیا کہ نائن زیرو سے گرفتار کیا۔ بالکل جھوٹا الزام تھا!‘‘

ہیلو! دیکھو! ساتھیوں ذرا غور سے سن لو! تکلیف ہورہی ہوگی تم کو لیکن سن لو ! دیکھو! عامر خان 90 روز Jail Custody میں جیل کاٹ کر تشدد برداشت کرکے، ذہنی اذیت برداشت کرکے، ہمت و بہادری کے ساتھ واپس آیا اور آکر واپس ڈٹ کر کام کررہا ہے۔ عامر نے واپس آتے وقت دوبارہ ایم کیوایم میں شامل ہوتے وقت اپنے گناہوں کی ،غلطی کی معافی مانگی تھی، آپ کے آگے معافی مانگی تھی ، شہداء سے مانگی تھی اور وعدہ کیا تھا کہ میں آئندہ جان دے دوں گا جو غلطی ہوگئی۔ عامر نے ثابت کرکے دکھا دیا یا نہیں دکھا یا؟ اب اگر میں عامر کو مائنس کردوں ایک منٹ کیلئے اور نائن زیرو پر کون کون تھا اس وقت؟‘‘

’’عبد الحسیب: میں تھا ، عامر خان بھائی تھے، ڈاکٹر سلیم دانش بھائی تھے، ڈاکٹر ایوب شیخ تھے۔ ہم لوگ ڈیوٹی پر تھے اس رات کو اور بھائی یہ جو آئے تھے سارا منظر ہمارے سامنے ہوا تھا۔ یہ کمبلوں کے اندر اسلحہ لے کر آئے تھے اور پھر وہ اسلحہ اوپر لے کر گئے اور میڈیا کو لے کر اسے دیکھایا اور ساتھیوں کو بھی جو لے کر آئے تھیں انہیں بھی کہیں سے لے کر آئے تھے نائن زیرو سے کسی کو نہیں پکڑا تھا انہوں نے!‘‘
چلو ایک اور کوئی گواہی دے دے تو تین ہو جائیں گے ، تین بہت ہوتے ہیں گواہی کے لئے۔
’’ڈاکٹر سلیم دانش :بھائی میں اس بات کی گواہی دیتاہوں اس وقت جب یہ رینجرز والے آئے تو CCTV پر ہم ان کو دیکھ رہے تھیں اور جب یہ انہوں نے انٹری کی تو حسیب بھائی اور عامر بھائی ان کو بتایا کہ یہ رینجرز والے آئے ہیں اور اس کے بعد جب عامر بھائی اور حسیب بھائی باہر گئے تو ان کو وہی بیٹھا لیا اور ایک طرح سے ان کو House Arrest اسی وقت کیا۔ اس کے بعد ان کی پوری پلاٹون آئی وہ اپنے ساتھ کچھ سامان لے کر آئی تھی ویڈیو کیمرہ ان کے پاس تھا اور وہ سیدھے اوپر گئے سب سے پہلے انھوں نے وہاں جاکر وہ چیزیں رکھیں، اس کے بعد جو ان کے ساتھ ویڈیو بنانے والا تھا اس نے وہاں جو جعلی مقابلے جس طرح سے ہوتے ہیں اسی کی طرح سے جعلی مقابلوں کے طرز پر ان کی تصویریں بنائی۔ تصویریں بنانے کے بعد پھر یہ آئیں ، پھر گئے پھر آئے اس طرح سے کئی بار آئے گئے اور پھر اس کے بعد کچھ لوگوں کو یہ لے کر آئیں اور اتنی دیر میں انہوں نے میڈیا کو بلایا اور پھر وہاں سے میڈیا کے سامنے یہ جو چیزیں اپنے ساتھ سامان اوپر لے کر گئے تھیں ان کو میڈیا کے سامنے اتار کے اس طرح سے ظاہر کیا کہ یہ اوپر سے اتار رہے ہیں، جبکہ یہ خود اپنے ساتھ لے کر آئے تھیں اور ایک بات جو کچھ یہ ہم پر الزام لگا رہے ہیں اگر وہ چیزیں وہاں حقیقتاً ہوتی تو پھر جس طرح سے یہ لیاری میں جاتے ہوئے ان کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے وہ ہوسکتا تھا لیکن ہم وہاں نہتے تھیں ہمارے پاس وہاں ایک پتھر بھی نہیں تھا۔ اس جھوٹ جو کہی بھی ثابت نہیں کرسکتے اگر ہوتا تو یہ اس وقت اس کے ساتھ ہم کو وہاں گرفتار کرتے بلکہ اس طرح سے نہیں دیکھاتے جس طرح سے انھوں نے میڈیا پر دیکھایا اور بھائی انشاء اللہ حق و سچ کی فتح ہوگی، آپ کا نام روشن ہوگا اور جھوٹوں کو اس دنیا مین بھی اور آخرت میں بھی انشاء اللہ رسوائیاں ملیں گی۔‘‘

میں وضاحت کردوں سلیم دانش نے صحیح بیان کیا ہے لیکن اس سے غلط فہمی پیدا ہوگئی، میں کہتا ہوں وہاں پر ایم کیوایم والوں کا اسلحہ تھا ، وہ ایم این ایز کا تھا، وہ ایم پی ایز کا تھا، وہ جو لائسنس بنواتے ہیں ایم این ایز کو دیئے جاتے ہیں ، ایم پی ایز کو دیئے جاتے ہیں وہ ان کا اسلحہ تھا لیکن کوئی RAW کا اسلحہ ، ISRAELکا اسلحہ ، اس اس کا اسلحہ یہ کچھ نہیں تھا، کوئی ہینڈ گرنیڈ نہیں تھے ، یہ سب جھوٹ تھا،اب یہ جھوٹ بول کر میرے بھائیوں انہوں نے ایم کیوایم کو پورے پاکستان میں بدنام کردیا اور پھر انہوں نے پورے محلے سے 150کے قریب آدمی پکڑ کر لے گئے جو ہتھے لگا سب کی خوب ٹھکائی لگائی ، فزیکل ٹارچر کیا اور رینجرز نے نیشنل ایکشن پلان کے بعد جتنی گرفتاریاں کیں وہ بیشتر ساتھیوں یا والدین کے سامنے کیں اور اس میں سے 50 کے قریب لوگوں کی گرفتاری کے بعد لاشیں زخم آلودہ ، خون بہتی لاشیں سڑکوں پر ملی اور آج تک بہت سارے ساتھی غائب ہیں ۔ فارو ق ستار کتنے غائب ہیں؟
’’ڈاکٹر فاروق ستار: تقریباً 150غائب ہیں بھائی!‘‘

اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا ایک بھی ایم کیوایم کا کارکن جو ماورائے عدالت قتل کرکے جس کی لاش پھینکی گئی اس ایک آدمی کو بھی گرفتار کرنے والا کیا گرفتار کیا گیا ؟، کیا اس کو سزا ہوئی ؟،تو جس ملک کی فوج ، پیرا ملٹری فورس ، فوج ہوتی ہے یہ جھوٹ بولتے ہیں کہ یہ فوج نہیں ہے یہ نیم فوجی دستے ہیں اس کا علاقائی کمانڈر Captin Rankکا ہوتا ہے ، تو یہ رینجرز والوں نے جھوٹ بولا ،رینجرز والوں پر اور پوری فوج کے اوپر انشاء اللہ آبراہا کے لشکر پر جیسا ابابلیں عذاب لائی تھیں ایسا ہی عذاب ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں کو شہید کرنیوالے پولیس والوں اور فوجیوں پر آئے گااور اگر اللہ نے ہمارا کوئی ذریعہ بنا دیا ایسا تو ہم پھر قرآن کی آیت کا سہارا لیں گے ، آنکھ کے بدلے آنکھ ،ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان ۔۔۔یہ آپریشن نیشنل ایکشن پلان ملک سے دہشت گردوں کے خلاف تھا یا ایم کیوایم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے کیا گیا تھا ؟، یہ نیشنل پلان بنایا گیا تھا میں بتاتا ہوں تمہیں ۔۔۔نمبر 1: سب سے مضبوط تنظیم، متحد تنظیم ایم کیوایم کو جھوٹے الزامات لگا کر بدنام کرکے قتل کا جواز ، گرفتاریوں کا جواز پیش کرکے ان کو مارا جائے،کوٹا جائے۔۔۔ طالبان کا اور القاعدہ کا الزام لگاکر پٹھانوں کو مارا جائے ۔۔۔ بلوچوں پہ غداری کا الزام لگا کر بلوچوں کو مارا جائے اور جب ہم پر ایکشن ہوا توشرجیل میمن اور قائم علی شاہ نے اسپیشل ٹیمیں سندھ سے بلائیں کوئی بڑے سے برتن ہوتے ہیں مٹی کے اس میں ڈنڈوں سے گھٹائی ہوتی ہے اور گھٹائی کرکے کچھ پینے کا شربت بناتے ہیں ، پوری سندھ کابینہ میں جتنے پینے والے شوقین تھے سالوں نے شیشے کے گلاس بھی نہیں پیتل کے لمبے گلاس جو ہوتے ہیں اس میں پی اور پینے کے بعد سالوں نے صحافیوں کو بلالیا اور ایک ایک گلاس صحافیوں کو بھی پلا دیا ،صحافیوں میں جو نہیں پینے والے تھے انہوں نے منع کردیا اور جو پینے والے تھے جنہوں نے نہیں پیا ان کا گلاس بھی لیکر خودپی گئے سالے ۔اب انہوں نے کہا کہ رینجرز باکل صحیح کررہی ہے ، بالکل صحیح ایکشن ہورہا ہے ،بالکل ہم ساتھ ہیں، ایم کیوایم والوں نے کیوں رکھا ہوا تھا دہشت گردوں کو اگر بلاول ہاؤس میں ہوگا تو بلاول ہاؤس سے پکڑا جائے گا تو اس کتے کے یارمیں نے کوئی گالی نہیں دی ۔۔۔ دیکھو نا الزام مجھ پر لگ جاتا ہے تم لوگ گھر چلے جاؤ گے پابندی مجھ پرایک لگ جائے گی ۔میں نے پورا جملہ کہا کہ یہ پینے کے بعدسالا چیخ چیخ کر کہ رہا تھا کہ رینجرز کوئی ظلم نہیں کررہی ، ہم رینجرز کے ساتھ ہیں ، کپتان کھڑے ہوئے اور بھنگڑا ڈالنے لگے ، ہو جمالو یہ نائن زیرو پر چھاپہ مارااور ان کو جو چڑھایا تھا وہ کتے کا دوست یہ کہ رہا تھا میں یار وہ تو اب تم نے کلیئر کرنے دیا ورنہ ایک اور مقدمہ لگ جاتا ۔اس کے بعد کیا نقشہ ہوا یہ ہوا کہ ٹی وی پر اے آر وائی ، جیو ، سماء اور سارے ٹیلی ویژن ان پر ایم کیوایم کیخلاف وہ زہریلا پروپیگنڈا کیا گیا جس میں بعض اینکر پرنسز نے تو صحیح بات کی انہیں سلام اور جنہوں نے رینجرز کی جھوٹی رپورٹوں کو بڑھا چڑھاکر نمک مرچ لگا کر عوام کو گمراہ کیا وہ انتہائی نچلے درجے کی طوائفوں سے بھی بدتر ہیں اور ان کو لائی بھی ایجنسی ہے وہیں سے اُٹھا کر جو نیچے کھڑے ہوکر کہتے ہیں بڑا بڑھیا مال ہے انہوں نے کہاکہ یہ گھٹیا کو بڑھیا بنانے والے ہیں انہیں لے آؤ اخبارات میں یہ گھٹیا خبر کو بڑی خبر بنا دیں گے یہ گھٹیا خبر کو سچی خبر بنا دیں گے، میں اگر زندہ رہا تو اور اگر مر گیا تو تم پر وصیت ہے کہ جن اینکر پرسنز اور تجزیہ نگاروں نے ایم کیوایم پر جھوٹے الزام لگا کر بدنام کیا ہے پورے پاکستان میں ایم کیوایم کو ان کو جب موقع ملے قانون کے مطابق گرفت میں لاکر انہیں مت چھوڑنا۔۔۔مت چھوڑنا۔میرا بس چلے تو میں پتا نہیں کیا سے کیا کردوں، اب مجھے بتاؤ کہ رینجرز والوں نے جو اتنے مارے انہیں کون سزا دے گا ؟، یہاں کون کمیشن بنائے گا ؟میاں نوا زشریف!! جس نے آج بیان دیا ہے ، اے اللہ ان ظالموں سے ملک کو نجات دلا ،نواز شریف جس نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل ہورہا ہے میں نے پوچھا وہ کس طرح کہنے لگے ادھر اسکولوں پر حملے ہورہے ہیں ، چارسدہ کے باچا خان یونیورسٹی پر حملہ ہوا، اساتذہ مررہے ہیں،تھر میں بچے مر رہے ہیں،پورے ملک میں فاقہ کشی ہورہی ہے، قتل عام ہورہاہے، لوٹ مار ہورہی ہے اور ہم مزے مزے سے باہر کے دورے کررہے ہیں اورنیشنل پلان مکمل کررہے ہیں اور دنیا کو بیوقوف بنایا گیا کہ ہم سعودی عرب اور ایران دوستی کرانے جارہے ہیں ،اتنا پیسہ خرچ کیا،اتنا پیسہ خرچ کیا تم کیا کرو گے؟ تم اسی دنیا میں رسوا ہو گے انشاء اللہ ، تمہاری اولاد رسوا ہوگی اور راحیل شریف صاحب ! آپ بڑا چھا کام کررہے تھے ہم سمجھے کہ آپ پاک کردیں گے آپ بھی جناب نیشنل ایکشن پلان کو ضرب عضب تک جو بلوچستان ، فاٹا میں ہو ، سندھ میں مہاجر علاقوں میں ہو، یہاں رکھ کر بھول گئے جب دنیا نے شور مچایا کہ سب سے زیادہ مدرسے جنوبی پنجاب میں ہے ، گھر گھر محلے یہاں رینجرز سے آپریشن کراؤ ، تو چیف منسٹر سامنے آگیا ، وزیراعظم سامنے آگیا، چوہدری نثار ، اسحق ڈار سامنے آگیا کہ پنجاب میں رینجرز اور فوج سے آپریشن نہیں ہوگا۔ اگر میں جواب میں یہ کہوں کہ پنجاب میں رینجرز اور فوج سے آپریشن نہیں ہوگا تو پنجاب کو علیحدہ کردو تین صوبوں کوعلیحدہ کردو ۔ 
آپ کومیں آپ کو یاد ہے ، آپ کو معلوم ہے آپ کو یاد ہے کہ جب قائم علی شاہ کو وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوا زشریف نے پرائم منسٹر ہاؤس بلایا تو وہاں چوہدری نثار بھی تھے ۔ توقوم لوط کا شوق رکھنے والاچوہدری نثار ہیلو میں نے کہا کہ قوم لوط کا شوق رکھنے والا چوہدری نثارکس کو حکم دیا کہ جاؤ جاکر سائیں سے بات کرو ، دو مرتبہ کہا ، چوہدری نثار گیا ؟ اس ملک میں کوئی حکومت ہے ؟اور مجھے بتایا کسی نے بعد میں قوم لوط کا شوق رکھنے والا چوہدری نثار کہنے لگا کہ ملا عبدالعزیز کوگرفتار نہیں کیا جاسکتا ، میں نے کہا کیوں نہیں گرفتار کیا جاسکتا ، اس پر اتنی ایف آئی آرز ہے ،اس نے ایس ایس جی کمانڈوز فوج کے مارے ، ،کرنل مارا فوج کا ، اتنے لوگ مار دیئے پھر بھی بولتا ہے کہ گرفتار نہیں کیا جائے گا ، کہنے لگے اس لئے نہیں کیا جائے گا کہ وہ قوم لوط کا شوق رکھنے والا ہے اور وہ بھی رکھنے والا ہے ۔ میں کہتا ہوں پیمرا والوں سے ، پیمرا والوں کی لسٹ بناؤ جنہوں نے پابندی لگائی ہے ، سب کی لسٹیں بناؤ، عدالت میں مقدمہ فل فورم کے ساتھ داخل کرو اور جہاں تک ٹی وی پر ایم کیوایم کے خلاف بک بک بک بک کرنے والے ہیں ان سب کو کہ دو کہ آپ نشر الطاف حسین کا بیان نہیں کررہے ہو تو نہ کرو لیکن اگر الطاف حسین کے خلاف بک بک اگر کی تو یاد رکھو پھر مطلب سلیمانی ٹوپی پہن کر کوئی گروپ آئے گا ہاتھ میں ڈنڈا ہوگا اور بس کام ہوجائے گا اور پھر وہ غائب ہوجائے گا اوراگر ٹانگ وانگ یا کہیں بھائی ہم مارنے کادرد نہیں لیتے ہم کہتے ہیں کہ بس اس کو ڈرانے کیلئے رکھو ،ٹیلی ویژن والے مجھے بتا دیں ، سلمان اقبال بتا دیں ، شکیل الرحمن بتا دیں اور سماء کا تو انشاء اللہ گدھے پر بیٹھا کر جلوس نکلواؤں گا کہ ۔ ۔۔۔
کم از کم سندھ میں جو ٹی وی والے جھوٹا پروپیگنڈا ، جھوٹے الزا م لگارہے ہیں ایم کیوایم کے خلاف لگا رہے ہیں تو اے اللہ غیب سے کوئی ہمارے اندر بھی سلیمانی فوج تیار کردے جو خیریت معلوم کرلیاکرے ، حال چال معلوم کرلیاکرے ۔ لہٰذا وزیراعظم جھوٹا نکلا ، وزیراعظم پر پابندی لگاؤ ۔ اپنے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے اور جارہے ہیں سعودی عرب اور ایران کی صلح کرانے شرم نہیں آتی اپنے گھر کی آگ تو بجھا لو ۔ ابھی موٹر وے بنارہا ہے پنجاب میں اسے معلوم ہے پاکستان، نواز شریف تو اندر کا آدمی ہے نا ، فو ج کی گود میں جوان ہوا ہے نہ یہ ، یارتم لوگوں کو معلوم نہیں جب جیلانی کو ر کمانڈر ،جب جیلانی نامی کور کمانڈر ہوا کرتے تھے تو اس کی گود میں بیٹھ کر چوسنی منہ میں لگا کر فیڈر بلایا کرتے تھے ، دودھ پلایا کرتے تھے ، یہ جوان ہوگیا تو ظاہر ہے انہی کا آدمی ہوا ۔ 
سنیں! اس نے نیشنل پلان میں جھوٹ بولا ۔ کہتا ہے بلوچوں کے خلاف فوج کا استعمال ہوگا ، پٹھانوں کے خلاف فوج کا استعمال ہوگا ، سندھیوں کے خلاف فوج کا استعمال ہوگا، مہاجروں کے خلاف فوج کا استعمال ہوگا لیکن پنجاب میں نہیں ہوگا ۔ اب بتاؤ تعصب تم کررہے ہو یا تعصب الطاف حسین کررہا ہے ۔ 
میرے بھائیوں! میں آج کے توسط سے خصوصی طور پر اے میرے پنجابی محب وطن ایماندار پنجابی غریب مظلوم محروم بھائیو جو تم جاگیردار ، وڈیرے اور زمینداروں کے غلام بنے ہوئے ہو ۔ اے پنجابیوپھرمیں کہتا ہوں اے میرے غریب ، اے میرے غریب ، اے میرے غریب پنجابی ، اے میرے محروم پنجابی ، اے میرے مظلوم پنجابی بھائیوں ، ماؤں بہنوں ، بیٹیوں اپنے زمینداروں، سرمایہ داروں ، پنجاب کے ظالموں ، تختہ لاہورکے اوپر جو براجمان ہیں بیٹھے ہوئے ہیں ان سے چھٹکارا پاکر آؤ ملک میں انقلاب لائیں الطاف حسین کے ساتھ آ ملو ، آملو ، آملو
اور زماں پختون ساتھیوں! اللہ تمہیں خوشحال رکھے ، اے پختون ساتھیوں اپنے بکاؤ لیڈروں کو چھوڑکر کے پی کے کے پختونوں، فاٹا کے پختونوں آؤ غریبوں الطاف حسین کے ساتھ مل جاؤ ۔ 
اے میرے بلوچ! الطاف حسین کواپنا بھائی سمجھو ۔اے بلوچوں ،بلوچ سرداروں کو چھوڑ کر آؤ بلوچ ماؤں ،بہنوں ، بزرگوں ، نوجوانوں الطا ف حسین سے آملو ۔ 
میرے سندھی بھائیوں! مجھے اس مرتبہ بلدیاتی الیکشن میں کافی سندھ سے امیدیں تھی لیکن ساتھیوں نے بڑی محنت سے کام کیا ، لیکن وڈیروں نے بڑا ظلم کیا، دھاندلی کی لیکن سندھی بھائیوں میرے سندھی ساتھیوں ، بھائیوں وڈیرے جاگیرداروں کو چھو ڑکر اے سندھی بھائیوں الطاف بھائیوں سے آ ملو۔ اسی طرح میں ہزارے وال ، سرائیکی ، گلگت ، بلتستان ، چترال ، ایبٹ آباد ، غرض یہ کہ کشمیر سب جگہ کے غریبوں سے کہتا ہوں کہ خدارا وڈیرے پرانے جعلی سیاستدانوں کو چھو ڑکر سچے سیاستدان ، عوام کے خادم الطاف حسین سے آملو ۔ 
اور آج ایک میں نئی پیشکش کررہا ہوں پاکستان کی مسلح افوا ج کے سپاہیوں ! رنگ روٹوں باڈر پرجاڑے گرمی کی سختیاں برداشت کرنے والوں ، فوج میں بغاوت نہیں ہے لیکن آج عہد کرلو کہ تمہارا دل ، تمہارا ذہن الطاف حسین کے ساتھ ہے اور تمہارے ہاتھ سے کبھی کسی مظلوم کا خون نہیں ہوگا ۔ 
اے فوج کے سپاہیوں! تمہارے بچے ہمارے بچوں کی طرح ، تمہاری مائیں ، بہنیں ہماری مائیں ، بہنیوں کی طرح ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں ، اے فوج کے غریب سپاہیوں،اے آئی ایس آئی کے سپاہیوں ، ایف سی اور رینجرز کے سپاہیوں آؤ آؤ الطاف حسین سے آملو ۔ 
آؤ فوج کے ، آئی ایس آئی ، رینجرز، ایف سی کے سپاہیوں آؤ الطاف حسین کے ساتھ آؤ، پورے ملک کے غریب قومیتوں، لسانی قومیتوں، صوبوں کے لوگوں، غریبوں الطاف حسین کے ساتھ آؤ ہم سب ملکر چور اچکوں سے ملک کو نجات دلا کر غریبوں کی حکمرانی ملک پر قائم کریں گے۔ 
اور میں تمام اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ٹیکنیشنز، فوٹو گرافر ادھر ادھر جاکر جو لاٹھیاں کھاتے رہتے ہیں، ڈنڈے کھاتے رہتے ہیں ، پٹتے رہتے ہیں،گولیاں کھاتے رہتے ہیں، سب رپورٹرز اور رپورٹنگ کرنے والے اینکرپرسن ، رپورٹ کرنے والوں سے کہتا ہوں کہ ایم کیوایم کو یا کسی کو بلاجواز گالی دے کر حرام روٹی کھانے سے بہتر ہے کہ سڑک پر ٹھیلہ لگا کر مزدوری کرلو ایسی نوکری پر لعنت مارو، جہاں حرام کی کھانی پڑے۔ یا صاف کہ دو کہ ہم سے کوئی اور تجزیہ کروالیں ، ایم کیوایم پر ہم سے تجزیہ نہیں کروائے، ہم جھوٹ نہیں بولیں گیں۔ 
میں شاعروں ، ادیبوں ، کالم نگاروں اورعلمائے اکرام کسی بھی مکتبہ فکر کے ہوں ، دیوبندی ہو ں ، بریلوی ہوں ، شیعہ ، سنی ہوں ، کسی بھی مکتبہ فکر کے ہوں، کسی بھی جماعت کے ہوں تمام علماء سے کہتا ہوں کہ اپنے اپنے مسلک پر قائم رہتے ہوئے حق کی خاطر الطاف بھائی کے ساتھ آملو۔ 
Particularly  I  would  like  to  request  youth. I  create  your   community  my  dear,  my  loving  youth please  come  forward  join  MQM  and  make  the  hands  of  Altaf  Hussain  stronger  and  stronger  to  fight  against  all  evil  persons.
میں تمام Youth سے کہتا ہوں! اے Youth آؤ الطاف بھائی کے ساتھ آجاؤ۔ الطاف بھائی کے علاوہ ، مجھے مجبوراً اپنے منہ سے کہنا پڑرہا ہے ، الطاف بھائی کے علاوہ پاکستان میں کوئی بہادر لیڈر نہیں ہے سچا لیڈر نہیں ہے! 
میں پنجاب ، سرحد ، بلوچستان ، سرائیکی بیلٹ ، ہزارے وال بیلٹ سب جگہ کے ساتھیوں سے کہتا ہوں کہ تمام لوگ پریس کلب کے آگے ، حکومتوں کے مرکزی دفاتر کے آگے پرامن احتجاجی مظاہرہ کرکے کہ الطاف حسین پر لگائی گئی تقریر کی پابندی ہٹا دو شکل مت دکھاؤ بھلے سے آواز تو کم از کم پہنچنے دو میری۔ 
اے پاکستان کے بھائیوں! جہاں جہاں تک آواز جارہی ہے ، میں ان لوگوں سے کہتا ہوں! پاکستان کے لوگوں سے کہتا ہوں ، جہاں جہاں تک میری آواز جا رہی ہے! خدا کیلئے اس طرح Unite متحد ہوجاؤ ، اس طرح ایم کیوایم اور الطاف بھائی کے ساتھ ہوجاؤ جیسے کہ میرے شہر حیدرآباد کے لوگ ہیں۔ 
میں نام نہیں لے رہا اس لئے کہ وہاں ساتھی خطرے میں آجاتے ہیں۔ UAE مڈل ایسٹ کے علاقوں میں رہنے والوں تم جو کوششیں کررہے ہو مجھے معلوم ہے میں تمہیں سلامِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ 
میں ساؤتھ افریقہ ، افریقہ کے دیگر ممالک ، نارواے ، کینیڈا ، سوئیڈن ، جاپان ، امریکہ کی تمام ریاستوں میں کہتا ہوں کہ آپ لوگوں نے وعدہ کیا تھا کہ ہم کام کو آگے بڑھائیں گے اور ساتھیوں نے میں نے کہا تھا کہ ایک فیصد مجھے بھیجا کرو، ساتھیوں نے بھیجے ، لیکن ساتھیوں پھر تم نے بند کردیئے ، کیا قومیں اس طرح زندہ رہ سکتی ہیں۔ کل کو میں نے کہا کہ جہاد کا میں اعلان کرتا ہوں تو اس کا مطلب ہے نہ امریکہ سے کوئی آئے گا ، نہ برطانیہ سے کوئی آئے گا تم میں سے۔ میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنے اپنے کانگریس مین، سینٹرز کو آج ہی سے لیٹر لکھنا شروع کردو ، ملاقاتوں کا وقت لو ، کسی سے عجمی سے نجمی سے فہیمی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے ، جاؤ لٹریچر لیکر اور انہیں ایم کیوایم کے بارے میں بتاؤ ، اپنے بارے میں نہیں بتانا! ایم کیو ایم کے بارے میں بتانا! کانگریس مین ، سینیٹرز اور اسی طرح ایم پی اے ، ایم این ایز جو جہاں کا نظام ہو وہاں گروپ بنا کر ساتھی جائیں اور ملاقات کریں۔ یہ میری ویسٹ رہنے والے ، امریکہ میں رہنے والوں سے اپیل ہے اور کینیڈا والوں تم نے تو آج تک ایک پائی نہیں بھیجی اِدھر ! اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرو! ہم اپنی جان لڑا رہے ہیں، ہم اپنی تکلیف نہیں دیکھ رہے، ہم اپنی نیند کو نہیں دیکھ رہے، میں اپنی بچی تک سے نہیں ملتا، ٹائم ہی نہیں ہوتا۔ تم لوگ اتنا سا نہیں کرسکتے؟ دس ڈالر نہیں دے سکتے ! ایک تین چار پانچ لائن کا لیٹر سینیٹر، کانگریس مین کو نہیں لکھ سکتے! لکھو! لکھو! ٹائم لو! ملو! پانچ منٹ دیجئے! مجھے امید ہے امریکہ، برطانیہ یہ لوگ بذریعہ ٹیلی فون اپنی غفلت کی معافی مانگیں گے اور اپنے آپ کو پھر تیار کریں گے۔ 
ساتھیوں ، ماؤں ،بہنوں! تم لوگ بہت کام کررہے ہو لیکن افرادی قوت ابھی بھی وہ نہیں ہے جو میں چاہتا ہوں مجھے ہر علاقہ حیدرآباد لگنا چاہئے اور دوسرے نمبر پر مجھے ہر علاقہ میر پور خاص کی طرح چاہئے۔ سکھر کے لوگوں آپ کو بھی سلام مائیں ، بہنیں ذہنی طو رپر تیار رہیں ایک Seat سکھر سے جاتی ہے تو چلی جائے میں سکھر میں تبدیلی کروں گا اس لئے کہ سکھر میں منتخب ہونے والا صحیح کام نہیں کررہا ہے۔ لہٰذا سکھر میں رہنے والے سن لیں ذہنی طور پر تیارہوجائیں۔ 
تمام ماؤں ،بہنوں ، بزرگوں! جگہ جگہ لیٹر لکھو ، آپ لو گ بھی لیٹر لکھ سکتے ہیں ، امریکہ ، برطانیہ ڈیوڈ کیمرون کو لیٹر لکھیں ، سب لکھیں الگ الگ ڈیوڈ کیمرون کو لکھیں کہ مہاجروں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے، الطاف حسین پر بہت جعلی مقدمات بنائے جارہے ہیں، خدا کیلئے انسانی حقوق کی بنیاد پر مدد کیجئے، مہاجروں کی نسل کشی ہورہی ہے۔ آسٹریلیاں لکھیں، امریکہ اوباما کو لکھیں ، جہاں میں رہتا ہوں برطانیہ میں یہاں لکھیں۔ آپ لوگ لکھیں گے؟ پلیز لکھو نہیں آتا کسی سے لکھوا لو۔
!Okay ساتھیوں آج بہت باتیں کی ہیں تیار رہئے ذہنی طورپر اور باقی ذمہ دار مطلب بدتمیزی نہ کریں لیکن ٹی وی ، پرنٹ ان سے کہہ دیں کہ آپ جو دل چاہے پروگرام کریں تنقید کریں ، لیکن آپ جھوٹے الزامات نہ لگائیں ایم کیوایم پر اور گالیاں نہ دیں ورنہ سود کے ساتھ حساب لیں گے ۔ 
رابطہ کمیٹی پاکستان اور رابطہ کمیٹی لندن ! آپ لوگ بھی اپنے کاموں میں تیزی لائیں، فعالیت لائیں اور اچھا کام کریں۔ شعبہ خواتین، لیبر ڈویژن، اے پی ایم ایس او اچھا کام کرو، پلیز اچھا کام کرو، DCRC والے اچھا کام کریں، ڈیفنس کلفٹن والے اس طرح آگے نہیں آئے جس طرح میں چاہتا ہوں۔ آپ کو کام کرنا ہے ، محنت کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے ، پریشانیوں کو دو رکرے ، اللہ ہماری مدد فرمائے غیب سے اور حکومت پاکستان، ریاست پاکستان جنرل راحیل شریف صاحب ! ایک کام تو نیک کرجائیے 20 صوبے بنا جایئے۔ راحیل شریف صاحب ! 20 صوبے بنا دیجئے۔ سندھ میں ہمارابھی صوبہ بنا دیجئے ، تین سال کے Extension کی پورا سندھ حمایت کرے گا آپ کی! 
Okay ساتھیوں! اللہ آپ سب کو سلامت رکھے ، میری مائیں ، بہنیں ، بزرگوں ، ساتھیوں اگر میری کوئی بات بری لگی ہو تو معاف فرمانا۔ انشاء اللہ اسی طرح رابطہ رہے گا ، لیٹریچر چھپوا رہا ہوں میں دبا کے اس کو لیکر رکھا نہیں کرا کرو پڑھا بھی کرو، ٹھیک ہے۔ اجازت چاہتا ہوں ۔

۔۔۔ اللہ حافظ ۔۔۔

10/1/2016 1:54:42 PM