Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

مزار قائد پر جناب الطاف حسین کی تقریر ، تصویر اور تحریر پر عائد پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی جھلکیاں


مزار قائد پر جناب الطاف حسین کی تقریر ، تصویر اور تحریر پر عائد پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی جھلکیاں
 Posted on: 1/24/2016
مزار قائد پر جناب الطاف حسین کی تقریر ، تصویر اور تحریر پر عائد پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی جھلکیاں
کر اچی ۔۔۔24جنو ری 2015ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے زیراہتمام قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تحریر ، تقریر اور تصویر پر لاہو ر ہائی کورٹ کی جانب سے غیر جمہوری ، غیر آئینی اور متعصبانہ پابندی کے خلاف منگل کے روز مزار قائد اعظم پرہونے والے زبردست احتجاجی مظاہرے میں نوجوانون ، بزرگوں ، خواتین سمیت مختلف طبقہ ہائے سے تعلق رکھنے والے افراد نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کرکے جناب الطاف حسین پر عائد کی گئی پابندی کو مکمل طورپر مسترد کردیا ۔ 
احتجاجی مظاہرے کی براہِ راست کاروائی ایم کیوایم ویب ٹی وی پر دکھائی جاتی رہی ۔ ویب ٹی وی کی نیوز ٹیم کے اراکین نے احتجاجی مظاہرے میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی ، ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے جناب الطاف حسین پر عائد پابندی کے حوالے سے انٹرویو ز بھی کئے ۔ 
احتجاجی مظاہرے میں یونیورسٹی اور کالجوں کے طلبہ و طالبات نے بھی بھر پور تعداد میں شرکت کی اور جناب الطا ف حسین کی تقاریر ، تصویر پر عائد پابندی کے 
خلاف اپنے جذبات کا بھر پور اظہار کرتے ہوئے اس پابندی کے خاتمہ کا مطالبہ کیا۔ 
احتجاجی مظاہرے میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے معروف علمائے کرام مولانا تنویر الحق تھانوی ، علامہ عباس کمیلی ، مولانا مرتضیٰ خان رحمانی ، مولانا 
مفتی شمیم خان ، مولانا یعقوب شاہ ، مولانا فیر و ز الدین رحمانی ، علامہ اطہر حسین مشہدی ، علامہ علی کرار نقوی ، حضرت پیر شاہ رضا قادری ، پیر رفیق نقشبندی اور 
دیگر علمابھی شریک تھے ۔ 
احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر’’جناب الطا ف حسین پر پابندی نامنظور ‘‘’’غریب طلبہ و طالبات کی آواز 
پر پابندی نامنظور ‘‘’’عدالتی فیصلوں سے الطاف حسین کو عوام سے دورنہیں کیاجاسکتا ‘‘’’لاہور لائی کورٹ کا یکطرفہ فیصلہ نامنظور ‘‘ اور دیگرنعرے جلی حروف میں تحریر تھے ۔ 
احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں سیاہ پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جس پر بند تالا بنا ہوا تھا اور اسکے درمیان میں جلی حروف میں تحریر تھا کہ 
جناب الطا ف حسین پر عائد پابندی نامنظور اور حق کی آواز پر پابندی نامنظور۔
مظاہرے کے شرکاء ’’دوہرا عدالتی نظام نامنظور نامنظور ‘‘ قائد تحریک الطاف حسین پر پابندی کا فی الفور خاتمہ کیاجائے ‘‘’’اظہار رائے کی آزادی ہمارا آئینی حق ہے ‘‘ ’’نعرہ الطاف جئے الطاف ‘‘’’نعرہ متحدہ جئے متحدہ اور دیگر فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے ۔
احتجاجی مظاہرے کے سلسلے میں ٹرک کی مدد سے اسٹیج تیار کیا گیا جس کے اوپر بڑی اسکرین لگائی گئی تھی ۔ اسکرین پر ’’میری زباں پہ پہرے لگانے والو۔۔۔! جو روک سکو تو روک لو میرے اَفکار کو ‘‘اور قائد تحریک کی تحریر ، تقریر اور تصویر پر غیر جمہوری متعصبانہ پابندی کیخلاف اہلیان کراچی کا پرزور احتجاجی مظاہرہ ‘‘کے 
الفاظ تحریر تھے جبکہ اسکرین کے نیچے بھی جلی حروف میں لاہور ہائیکورٹ سے اپیل ، انصاف کے تقاضے کرو ‘‘ کے جملے تحریر تھے ۔ 
اسکرین کے دائیں بائیں جناب ایم کیوایم کے پرچم جبکہ درمیان میں پاکستان کے پرچم لہرا رہے تھے ۔ 
احتجاجی مظاہرے میں ایم کیوایم کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان ، ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار ، کیف الوریٰ ، شاہد پاشا ، نامزد میئر کراچی وسیم اختر ، ڈپٹی میئر 
کراچی ارشد وہرا ، حق پرست ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور منتخب بلدیاتی نمائندے بھی شریک ہوئے ۔ 
احتجاجی مظاہرے میں ایم کیوایم کے پرچموں کی بھر مار دکھائی دی جبکہ ڈیوٹی پر موجود کارکنان نے اپنے سروں پر ڈیوٹیوں کی مناسبت سے کیپ پہن رکھے 
تھے اور وہ شرکاء کی ان کی نشستوں تک رہنمائی کرتے رہے ۔ 
احتجاجی مظاہرے کا باقاعدہ آغاز شام 5:00بجے تلاوت کلام پاک سے کیاگیا ۔ تلاوت کی سعادت ایم کیوایم علماء کمیٹی کے رکن ناصر یامین نے حاصل کی ۔ 
حق پرست رکن سندھ اسمبلی ہیر سوہو نے اپنے خطاب کے دوران جناب الطاف حسین پر عائد پابندی کے خلاف اظہار خیال کیا تو شرکاء نے ہاتھ اٹھا کر ان 
کی تائید کی اور زبردست نعرے لگائے ۔ 
سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار حسن نے اپنی تقریر کید وران یہ شعر پڑھا ’’زبان پر مہر لگانا کوئی بات نہیں بدل سکو تو بدل دو ہم سب کیخیالات کو ‘‘۔
احتجاجی مظاہرے سے معروف عالم دین علامہ عباس کمیلی ، مولانا تنویر الحق تھانوی اور عیسائی برادری کے مذہبی رہنما پاسٹر شیفرڈ انور جاوید نے بھی خطاب کیا ۔ 
رابطہ کمیٹی کے رکن گلفراز خان خٹک نے نے اپنے خطاب میں کہاکہ جو لوگ جناب الطاف حسین کی سوچ و فکر کے خلاف ہیں وہ پاکستان کے خلاف ہیں اور 
متعصب ججز کو برطرف کیاجائے کیونکہ ایسے فیصلوں سے ملک کی عدلیہ داغدار ہوجائے گی ۔ 
متحدہ قومی موومنٹ کے زیراہتمام قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تحریر ، تقریر اور تصویر پر لاہو ر ہائی کورٹ کی جانب سے غیر جمہوری ، غیر آئینی اور متعصبانہ پابندی کے خلاف منگل کے روز مزار قائد اعظم پر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ 
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر شاہد پاشا نے لاہور ہائی کورٹ سے اپیل کی کہ وہ 27جنوری کو سماعت میں جناب الطاف حسین کی تصویر، تقریر پر 
پابندی کو فی الفور کالعدم قرار دیں اگر 27جنوری تک پابندی ختم نہیں کی گئی تو تمام جمہوری راستے اختیار کریں گے ۔
* احتجاجی مظاہرے کی کاروائی مغرب کی اذان ہوتے ہی 5منٹ کے لئے روک دی گئی ۔ 
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیوایم کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے درج ذیل شعر پڑھا ۔
میں آج زد پر اگر ہوں تو خوش گماں نہ ہو 
چراغ سب کے بھجیں گے ہوا کسی کی نہیں
ڈاکٹر فاروق ستار کی تقریر کے بعد 6بجکر 45منٹ پر قائد تحریک جناب الطاف حسین کی ٹیلی فون لائن پر آمد کا اعلان کیا گیا اس موقع پر ایم کیوایم کا ترانے ’’مظلوموں کا ساتھی ہے ‘‘ کی ریکارڈنگ بجائی گئی جس کا شرکاء نے اپنی نشستوں سے کھڑے ہوکر ساتھ دیا اور فلک شگاف نعرے لگائے جن کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا ۔ 

12/10/2016 10:38:30 AM