Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

’’پیپلزپارٹی ،غریب سندھیوں سے بھی مخلص نہیں‘‘


 Posted on: 12/28/2015
’’پیپلزپارٹی ،غریب سندھیوں سے بھی مخلص نہیں‘‘

نوابشاہ، ٹنڈو الہ یار اور ٹنڈو جام 
میں منعقدہ بلدیاتی انتخابی اجتماعات سے 
قائد تحریک جناب الطاف حسین کا خطاب 

28؍ دسمبر 2015ء 



اعوذباللہ من الشیطن الرجیم
بسم اللہ الرحمان الرحیم
السلام علیکم
آج بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں صوبہ سندھ کے تین شہروں نوابشاہ۔۔۔ ٹنڈو الہ یار۔۔۔ اور ٹنڈو جام میں بیک وقت جلسے منعقد ہورہے ہیں۔۔۔ ان شہروں میں بلدیاتی انتخابات اس لئے ملتوی کئے گئے تھے کہ وہاں حکومت سندھ نے غیرقانونی اور غیر آئینی طریقوں سے حلقہ بندیاں کرکے شہری علاقوں کو دیہی علاقوں میں اور دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کو شامل کرکے شہری علاقوں کو حق حکمرانی سے محروم کردیا۔
میرے سندھی بولنے والے ساتھیو! 
پیپلز پارٹی کی تاریخ یوں تو مکروہ فریب۔۔۔ عیاریوں۔۔۔ دھوکے بازیوں اورعیاریوں عبارت ہے ۔۔۔اوریہ جماعت غریبوں کا نعرہ لگاکر غریبوں کا استحصال کرتی رہی ہے ۔۔۔یہ جماعت غریب سندھیوں کی بھی دشمن جماعت ہے ۔۔۔لیکن اس جماعت نے غریب سندھی عوام کے ذہنوں میں تعصب کا ایسا زہر بھردیا ہے کہ وہ سیدھی ، صاف اور درست بات بھی سمجھنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔پیپلزپارٹی کے سابقہ دور حکومت میں کوٹہ سسٹم کے نام پر ایک نئی اصطلاح (Terminology) متعارف کرائی گئی کہ صوبہ سندھ کے غریب علاقوں کے طلباء و طالبات کو شہری علاقوں کے طلباوطالبات کے برابر لاکر ان کا معیار زندگی شہری علاقوں کے عوام کے مطابق کیاجاسکے۔۔۔یہ بہت اچھی سوچ تھی لیکن غریب سندھی طلباوطالبات کو اس کا فائدہ نہیں پہنچا۔۔۔جب کوٹہ سسٹم نافذ کیاگیا تو سندھ کے شہری عوام نے کوئی اس پر شور نہیں مچایا۔۔۔ کوئی واویلا نہیں کیا لیکن سندھ کے شہری علاقوں کو اس کوٹہ سسٹم کے تحت بھی حقوق نہیں دیئے گئے ۔۔۔کوٹہ سسٹم صوبہ سندھ میں دس سال کیلئے نافذ کیا گیا تھااور کہاگیا کہ اس کوٹہ سسٹم کے تحت سندھ کے دیہی علاقوں کے سندھی طلبا کوتعلیمی اداروں میں 20 فیصد اضافی کوٹہ دیاجائے گا۔۔۔لیکن آج 2015ء ہے۔۔۔ کوٹہ سسٹم 1973ء میں دس سال کیلئے نافذ ہوا تھا۔۔۔ آپ باشعور ہیں۔۔۔اس پنڈال میں سندھی بھی بیٹھے ہیں۔۔۔ بلوچ بھی بیٹھے ہیں۔۔۔ پختون بھی بیٹھے ہیں۔۔۔پنجابی بھی ہیں۔۔۔ ہر قوم کافرد یہاں بیٹھا ہے ۔۔۔کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اگر کوٹہ سسٹم سے دیہی علاقوں ۔۔۔ پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔۔۔ شہری عوام ، دیہی عوام کیلئے قربانی دے رہے ہیں اوریہ سسٹم اچھاہے تو پھر اس کوٹہ سسٹم کو صوبہ خیبرپختونخواہ میں بھی نافذ کرنا چاہئے تھا۔۔۔ صوبہ پنجاب میں بھی نافذ کرنا چاہئے تھا۔۔۔ صوبہ بلوچستان میں بھی نافذ کرنا چاہئے تھا۔۔۔ کیونکہ دیہی اور پسماندہ علاقے تو تمام صوبوں میں ہیں لیکن کیا آپ کو پورے پاکستان میں یہ کوٹہ سسٹم نظر آتا ہے۔۔۔؟بلدیاتی ادارے ، جمہوریت کی نرسری ہوتے ہیں اورپیپلزپارٹی یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ جمہوریت پسند جماعت ہے لیکن جمہوریت کی چمپئن بننے والی اس جماعت کی جب جب حکومت رہی کیا اس نے بلدیاتی انتخابات کرائے۔۔۔؟کوٹہ سسٹم ، صوبہ سندھ کے غریب سندھی طلبا وطالبات کی ترقی کے نام پر نافذ کیاگیا تھا لیکن آپ بتائیں کہ صوبہ سندھ کے کتنے ہاریوں۔۔۔ کسانوں۔۔۔مزارعین کے بچے اور بچیوں کو اس کوٹے سے فائدہ پہنچایا گیا۔۔۔ ؟ یعنی اس کوٹہ سسٹم سے بھی فائدہ جاگیردار وں نے اٹھایا، وڈیروں نے اٹھایا، پتھارے داروں نے اٹھایا۔
سندھی ماؤں ، بہنوں، بھائیو!
آپ ذرا اس پر توجہ دیجئے کہ کوٹہ سسٹم کے نفاذ یا غریب سندھی عوام کی ترقی کے نام پرسندھی عوام کوکس طرح بے وقوف بنایا گیا اور جیسے جیسے کوٹہ سسٹم کی معیاد پوری ہونے لگی تو بغیر کسی آئین اور قانون کے کوٹہ سسٹم میں مزید 30 سال کا اضافہ کردیا گیا اوریہ کوٹہ سسٹم آج کے دن تک نافذ ہے۔
مہاجروں سے تعصب اور نفرت کا اظہارمختلف ادوارحکومت میں ہوتارہا۔۔۔لسانی فسادات میں مہاجروں کے گھروں ، باغات کونذرآتش کیا گیا۔۔۔ جب مہاجروں نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تو صدرایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب نے صوبہ سرحد سے اپنے حمایتیوں کو لاکر کراچی کی مہاجربستیوں پر لشکر کشی کرائی ۔۔۔انہیں یہ کہہ کرلایا گیا کہ ہم جہاد پر جارہے ہیں۔۔۔کافروں سے جنگ لڑنے جارہے ہیں اورپھر مہاجر بستیوں پر حملے کرائے گئے۔۔۔اگر آپ کویہ تاریخی حقائق معلوم نہیں ہیں تو اس میں آپ کا قصور نہیں ہے کیونکہ آپ کے بزرگوں نے حقائق کو آپ سے چھپایا ہے ۔ آپ نے پڑھا ہوگا کہ حضورؐکی حدیث ہے کہ علم سب کوحاصل کرنا چاہئے۔۔۔لیکن پیپلزپارٹی کو صوبہ کی حکومت کیا مل گئی وہ نعوذباللہ خود کو مالک ومختار سمجھنے لگے ہیں۔۔۔ 60 سال کا عرصہ گزرچکا ہے لیکن ابھی تک کوٹہ سسٹم ختم نہیں کیاگیا۔۔۔ بلدیاتی اداروں کو حقوق نہیں دیئے جاتے۔۔۔ جب بلدیاتی نظام آتا ہے توسارے بلدیاتی اختیارات وزیراعلیٰ سندھ اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔۔۔ بلدیاتی انتخابات۔۔۔ جمہوریت کی نرسری ہوتے ہیں اگر نرسری میں ہی آدمی مایوس ہوجائے تو وہ آگے کیا خاک پڑھے گا۔۔۔ سارے اختیارات ۔۔۔پانی کی فراہمی۔۔۔نکاسی آب اور بلدیاتی اداروں کے نہ جانے کیا کیا اختیارات ہیں جوکہ وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔۔۔اور وہ بلدیاتی اداروں کو خود مختار نہیں دیکھنا چاہتے۔۔۔کیا یہ سوچ جمہوریت پسند قراردی جاسکتی ہے۔۔۔؟
ایم کیوایم جمہوریت پسندوں کی جماعت ہے جو کسی سے لڑنا نہیں چاہتے۔۔۔پیار، محبت ،افہام و تفہیم ، مذاکرات اوردیگرپرامن طریقوں سے مسائل کے حل 
پر یقین رکھتے ہیں ۔
اے میرے سندھی بھائیو!
آپ بھی سندھ کے بیٹے ہو ۔۔۔اردوبولنے والے سندھیوں کی بات تو چھوڑیں ۔۔۔آپ مجھے بتاؤ۔۔۔خدا کی قسم کھاکے بتاؤ۔۔۔ سندھ دھرتی ماں کی قسم کھاکے بتاؤ کہ۔۔۔سندھ کے وڈیروں اورجاگیرداروں نے کیا غریب سندھی ہاریوں اورکسانوں کو ان کے جائزحقوق دیئے ۔۔۔؟ اگر کوئی غریب سندھی نوجوان نوکری کی درخواست لیکر جاگیردار وڈیرے کے پاس جائے تو کیا اسے مفت میں نوکری مل جاتی ہے۔۔۔؟ ذوالفقار علی بھٹو شہید کو پھانسی دی گئی توجو سندھی وڈیرے ۔۔۔ بھٹو کے دور میں مزے اڑاتے رہے کیا انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف ایک دن بھی جلوس نکالا ۔۔۔؟
میرے سندھی بھائیو!
میں ہمیشہ سچ بولتا رہا ہوں۔۔۔سچی باتیں کرتا ہوں اور جھوٹ سے نفرت کرتا ہوں ۔۔۔ آپ سندھ دھرتی ماں کے بیٹے ہو۔۔۔آپ کوسندھ دھرتی ماں کا واسطہ دیتا ہوں کہ سچ بتاؤ ۔۔۔کیاان سندھی وڈیرے جاگیردار نے غریب سندھیوں کوان کے حقوق دیئے ۔۔۔؟جاگیرداروں اوروڈیروں نے اپنے مفاد کی خاطرغریب سندھیوں کا استحصال کیا۔۔۔ کاروکاری کے نام پہ کتنی ہی بچیوں کو قتل کردیا ۔۔۔کیاآپ کو کاروکاری جیسی فرسودہ رسم ورواج پسند ہے۔۔۔؟
شرکاء : جی نہیں۔۔۔ ہم اس فرسودہ رسم سے نفرت کرتے ہیں ۔
قائد تحریک : اگر پھربھی آپ پیپلزپارٹی کو ووٹ دو گے تو کاروکاری جیسی ظالمانہ رسومات ہوتی رہیں گی اور آپ کچھ نہیں کرسکوگے ۔آپ ایم کیوایم کا ساتھ دو ۔۔۔ اگرآپ نے ایم کیوایم کا بھرپورساتھ دیا تو میں ، آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایم کیوایم، کاروکاری کا عمل کرنے والوں سے قانون کے مطابق حساب لے گی۔
میرے سندھی بھائیو! 
مجھے معاف کردینا کیونکہ میں سندھی زبان صحیح انداز میں نہیں بول سکتا ۔۔۔اس لئے کہ میں نے کراچی میں تعلیم حاصل کی لیکن مجھے سندھی زبان پسند ہے اور یہ میری دھرتی ماں کی زبان ہے ۔
پورانوابشاہ حق پرست ہے ۔۔۔ویب ٹی وی کے ذریعہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ٹنڈو جام میں جہاں تک نگاہ جاتی ہے۔۔۔ مائیں ، بہنیں ، بزرگ ، نوجوان ، بچے موجود ہیں ۔۔۔اور ٹنڈو الہیار والے بھی اپنے الطاف بھائی کو کبھی پِیٹھ نہیں دکھائیں گے ۔۔۔میں آج پھر اردو بولنے والے سندھیوں کے بجائے میں سندھی بولنے والے سندھیوں سے ، ماؤں سے ، بہنوں اور بزرگوں سے مخاطب ہوں ۔۔۔اے میری سندھی ماؤں، بہنوں ، بزرگو!
جب 19جون 1992ء کوفوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا تو یہی کہا گیا تھا کہ یہ آپریشن 72بڑی مچھلیوں کے خلاف ہوگالیکن آپ نے دیکھاکون اپنے ٹرکوں پر جرائم پیشہ دہشت گردوں کو بٹھاکرلایا اور کس نے کراچی ، حیدرآباد اور سندھ کے دہگرشہری علاقوں ایم کیوایم کے دفاتر پر قبضے کرائے۔۔۔کوئی ایک بڑی مچھلی 
نہیں پکڑی گئی۔۔۔ماضی کے انہی تلخ تجربات کوسامنے رکھتے ہوئے ہم نے کراچی آپریشن کے حوالہ سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور واضح الفاظ میں کہاکہ ہم دستخط نہیں کریں گے۔۔۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف ، ڈی جی ،آئی ایس آئی اورسیاسی قیادت کی جانب سے ہمیں یقین دلایا گیا کہ یہ آپریشن صرف ان کریمنلز کے خلاف ہوگا جوبچوں کے اسکولوں پر حملے کرتے ہیں۔۔۔ اغواء برائے تاوان کی وارداتیں کرتے ہیں ۔۔۔یہ آ پریشن کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہوگا ۔۔۔لیکن آپ نے دیکھا جب 2013ء میں یہ آپریشن شروع ہواتوانتہاء پسنددہشت گردوں اورجرائم پیشہ عناصرکے خلاف کارروائی کے بجائے اس کا رخ ایم کیوایم کی جانب موڑ دیا گیا۔۔۔سندھی بولنے والے جواب دیں کہ جب ڈاکٹر عاصم حسین اورپیپلزپارٹی کے کچھ لوگوں اور بیوروکریٹس وغیرہ کو گرفتار کرنا شروع کیا گیا تو پیپلزپارٹی کا کیا ردعمل سامنے آیا۔۔۔؟ جب سندھیوں کے کچھ لوگوں پر ہاتھ ڈالا گیا اوریہ بات آئی کہ اب آصف علی زرداری صاحب پر بھی ہاتھ ڈالا جائے گا اور پیپلزپارٹی کے دیگررہنماؤں پر بھی ہاتھ ڈالا جائے گا تو آپ نے نوٹ کیا کہ اس کارروائی کی کس قدر مخالفت کی گئی۔۔۔؟اس سے پہلے جب ہم نے احتجاج کیا کہ۔۔۔نائن زیرو پر چھاپے کیوں ماررہے ہو۔۔۔ وہاں کون سے دہشت گرد رہتے ہیں۔۔۔ ہم چیختے رہے کہ یہ زیادتی ہورہی ہے تو وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کہتے تھے کہ رینجرز ایمانداری سے آپریشن کررہی ہے۔۔۔ قائم علی شاہ اور شرجیل میمن چلا چلا کر بولتے تھے کہ رینجرز صحیح آپریشن کررہی ہے اور کپتان قائم علی شاہ اس آپریشن کی مانیٹرنگ کررہے ہیں ۔۔۔کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہورہی ہے ۔۔۔لیکن جب اپنے گھر میں گرفتاریاں ہونے لگیں تو وزیراعظم پاکستان نواز شریف کی کراچی آمد پرپوری سندھ کابینہ نے ان کا بائیکاٹ کردیا اور اب وہ چیخ رہے ہیں کہ ظلم ہورہا ہے ۔۔۔ ظلم ہورہا ہے لیکن جب ہم کہہ رہے تھے کہ ہمارے ساتھ ظلم ہورہا ہے توکہتے تھے کوئی ظلم نہیں ہورہا ہے۔۔۔یہ قدرت کا مکافات عمل ہے۔۔۔ اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔۔۔آج کراچی میں۔۔۔ سندھ میں وزیراعظم پاکستان تشریف لائے ، سندھ کے وزراء نے شرکت نہ کرکے بائیکاٹ کیا ۔۔۔اگر بہادرہوتے تو وزیراعظم کی قیام گاہ کے باہر مظاہرے کرتے اوروزیراعظم یہ کہتے کہ آپ بغیر پروٹوکول کے کیسے آگئے۔
عزیزتحریکی ساتھیو!
پاکستان اس وقت نازک دوراہے پر ہے ۔۔۔ فوج اور سندھ حکومت میں کھنچاؤ ہوگیا ہے۔۔۔اگر افہام و تفہیم اور سمجھداری سے اس مسئلہ کو حل نہیں کیا تو اس کے نتائج اچھے برآمد نہیں ہونگے۔۔۔ میں وزیراعلیٰ سندھ سے کہتا ہوں آپ اکیلے کچھ نہیں کرسکتے آپ نے ایم کیو ایم کوتعصب کانشانہ بنایا۔۔۔گینگ وار کے دہشت گردوں کی سرپرستی کی ۔۔۔ان کے ذریعہ مہاجرنوجوانوں کی گردنیں کٹواکر بڑا ظلم کروالیا۔۔۔ اس ظلم وناانصافی سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔۔۔آپ اللہ کے حضور توبہ کیجئے۔۔۔ ابھی ایم کیو ایم کے میئراور ڈپٹی میئرکراچی نہیں بنے ۔۔۔لیکن بلدیاتی ادارے کے تمام اختیارات وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے اپنے ہاتھوں میں لے رکھے ہیں۔۔۔میں، نوابشاہ ، ٹنڈو جام اور ٹنڈو الہ یار کے لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ جب تمام اختیارات وزیراعلیٰ سندھ کے پاس ہوں گے تو ایم کیوایم کا میئر، عوام کی کیا خدمت کرسکتا ہے۔۔۔؟ کیا وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں پانی کی فراہمی ،سیوریج، صحت وصفائی کے نظام کی بہتری اور سڑکوں کی مرمت، پلوں، فلائی اوورز کی تعمیر میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔۔۔؟
میں نے پہلے بھی مطالبہ کیا اور اب پھراپنے مطالبے کو دہرارہا ہوں۔۔۔جنرل راحیل شریف وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور صدر پاکستان ممنون حسین مانیں یانہ مانیںیہ ان کے اختیار میں ہے لیکن میرا آج بھی مطالبہ ہے کہ اگر وہ پاکستان بچانا چاہتے ہیں ۔۔۔ملک کو ترقی یافتہ اور خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں اور ملک میں گڈ گورنس دیکھنا چاہتے ہیں ہے توانتظامی بنیادوں پر ملک میں 20 نئے صوبوں کا قیام عمل میں لایاجائے۔ پاکستان کی آبادی چار کروڑ سے بڑھ کر 20کروڑ ہوچکی ہے۔۔۔ لہٰذا پاکستان میں مزید انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں اور سندھ کے شہری عوا م کا بھی الگ صوبہ بنایاجائے۔۔۔میں سائیں شاہ لطیف بھٹائی ۔۔۔ لعل شہباز قلندر ؒ ۔۔۔ سچل سرمست ؒ کی قسم کھاکر اپنے سندھی بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہمارے صوبے میں جو سندھی رہیں گے وہاں ان کا بھی اتنا حق ہوگا جتنا اردو بولنے والے سندھیوں کا حق ہوگا ۔میں ٹنڈو الہ یار ، ٹنڈو جام اور نوابشاہ میں رہنے والے پنجابیوں ، پختونوں ، بلوچوں ، سرائیکیوں ، کشمیریوں ، گلگت بلتستانیوں ،ہزاروال ۔۔۔ سکھوں،ہندؤوں، عیسائیوں سمیت تمام مذاہب ۔۔۔تمام عقائد اور ، تمام زبانیں بولنے والوں سے کہتا ہوں ۔۔۔اورانہیں یقین دلاتا ہوں کہ ہمارے صوبے میں رہنے والوں کے ساتھ زبان ، نسل ، عقائد ، مسلک یا مذہب کی بنیاد پرکسی کے ساتھ غیروں جیسا سلوک نہیں ہوگا اور سب کو برابری کی بنیادپران کا حق ملے گا۔
حکومت کافرض ہے کہ وہ بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنائے۔۔۔پاکستان کے آئین کے تحت بلدیاتی اداروں کے تمام اختیارات۔۔۔وزیراعلیٰ اور وزراء کے بجائے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو دیئے جائیں۔۔۔یہ آئینی اور قانونی بات ہے ۔۔۔ اگرسندھ کی حکومت نے بلدیاتی اداروں کو جائزحق نہیں دیا تو عوام اپنا جمہوری حق استعمال کرکے حکومت کے غیرجمہوری اور غیرآئینی عمل کے خلاف احتجاج کا حق استعمال کریں گے ۔
ساتھیو! آج جب میں ویب ٹی وی کے ذریعہ ٹنڈو جام کو دیکھ رہا تھا تو مجھے وہ زمانہ یاد آگیا جب میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شہر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جایا کرتے تھے وہاں ایک بستی تھی جہاں ریلوے لائن آتی تھی ہم اس کو کراس کرکے جاتے تھے۔۔۔ حق پرستانہ جدوجہد کی پاداش میں ٹنڈو جام کے ساتھیوں نے بھی متعصبانہ سلوک اور تشدد کا سامنا کیا ، زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایاگیا لیکن شاباش ہے ٹنڈو جام کے ساتھیوں کو ، ماؤں ، بہنوں کو ،وہ ظلم کے سامنے ڈٹے رہے۔۔۔ جمے رہے اورماشاء اللہ آج ایک بہت بڑی قوت بن چکے ہیں۔۔۔
نوابشاہ کے لوگ دل کے بھی نواب ہیں اور نوابشاہ کے لوگ دل کے تو نواب ہے ہی مگر مالی حالات کیسے ہی کیوں نہ ہو اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔۔۔آج میں ایک چیز نوابشاہ میں دیکھ رہا ہوں۔۔۔ پتہ نہیں جو میں دیکھ رہا ہوں وہ صحیح ہے یا نہیں۔۔۔ کہ نوابشاہ کے جلسے میں مجھے سندھی مائیں، بہنیں اوربھائی بھی بڑی تعداد میں نظر آرہے ہیں، ماشاء اللہ ۔
ماؤں بہنوں بزرگو! اس امید کے ساتھ کہ اللہ آپ سب کو صلامت رکھے۔۔۔ تحریک کا وفادار رکھے ۔۔۔ہمیشہ بہادر، جرأت مند رکھے۔۔۔ ٹنڈوالہیار، ٹنڈو جام اور نوابشاہ کے ساتھیوں نے نامساعد حالات کے باوجود خوبصورت پنڈال سجایا اور اس کیلئے رات دن محنت کی ہے ، اس پر میں ان سب کو سلام تحسین پیش کرتا ہوں۔
ماؤں، بہنوں، بچے، بچیوں، یوتھ ونگ، تمام لوگ جو یہاں جمع ہے ان سب کو سلام تحسین اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔۔۔میری دعا ہے کہ اللہ ہم سب پر اپنا فضل وکرم فرمائے ۔۔۔سب کی جائز مرادوں کو پورا کرے۔۔۔تمام بیماروں کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔۔۔تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے۔۔۔انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔۔۔ اللہ تعالیٰ غیب سے ہماری مدد کرے اورہم پر اپنی رحمتوں اوربرکتوں کانزول فرمائے اورہمیں زیادہ سے زیادہ کامیابیاں عطا کرے۔۔۔ ان دعاؤں کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں۔
اللہ حافظ
*****

9/26/2016 3:43:54 PM