Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان کو سعودی عرب ایران کے تنازعہ میں غیر جانبدار رہنا چاہیے، الطاف حسین


پاکستان کو سعودی عرب ایران کے تنازعہ میں غیر جانبدار رہنا چاہیے، الطاف حسین
 Posted on: 1/15/2016
پاکستان کو سعودی عرب ایران کے تنازعہ میں غیر جانبدار رہنا چاہیے، الطاف حسین
سعودی عرب اور ایران کے معاملے پر کسی ملک کا ساتھ دینا پاکستان کی تباہی کے مترادف ہوگا، الطاف حسین
اگر پاکستان کی بقاء اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے تو 34 عرب ممالک کے اتحاد میں پاکستان کو شامل نہیں ہونا چاہئے
عالمی سطح پر داعش کے ذریعہ شیعہ، سنی فسادات کی سازش کی جارہی ہے، الطاف حسین
ہمیں ان سازشوں سے ہوشیار رہتے ہوئے اپنے شہروں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنا چاہئے، الطاف حسین
شیعہ، سنی اتحاد کا مظاہرہ کر کے ایک دوسرے کا گھر اجاڑنے کے بجائے ایک دوسرے کی حفاظت کرنی چاہئے
ایم کیوایم حیدرآباد زون کے زیر اہتمام لطیف آباد میں محفل ذکر مصطفیؐ کے شرکاء سے ٹیلی فونک خطاب
لندن۔۔۔15 ،جنوری،2016 ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ سعودی عرب ہو، ایران ہو یا شام ہو،یہ اسلامی ممالک ہیں اور پاکستان کیلئے قابل احترام ہیں لہٰذا پاکستان کو ان کے مابین تنازعہ میں غیر جانبدار رہنا چاہیے کیونکہ اس تنازعہ میں کسی ایک ملک کا ساتھ دینا پاکستان کی تباہی کے مترادف ہوگا اور اس معاملے پر خود کو علیحدہ رکھنا پاکستان کی سلامتی کے مترادف ہوگا۔ان خیالات کا اظہار جناب الطاف حسین نے جمعرات کی شب ایم کیوایم حیدرآبادزون کے زیراہتمام لطیف آبادکے باغ مصطفی گراؤنڈ میں منعقدہ محفل ذکر مصطفی ﷺ کے شرکاء سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں معروف نعت خواں حضرات نے بارگاہ رسالت مآب میں گلہائے عقیدت پیش کئے اور جیدعلمائے کرام نے سیرت طیبہ پر روشنی ڈالی ۔اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہا کہ ماضی میں امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ میں پاکستان کے حکمرانوں نے کھل کر امریکہ کا ساتھ دیا اور پورے ملک کو داؤ پر لگاتے ہوئے ملک میں جگہ جگہ مدارس بنوادیئے، اس وقت پورے ملک میں 50 ہزار سے زائد مدارس موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پہلے معاملہ امریکہ اور روس کا تھا جو کہ غیر مسلم ممالک تھے اور اب معاملہ سعودی عرب اور ایران کا ہے،اب 34 عرب ممالک کا اتحاد بن رہا ہے۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ اگر پاکستان کی بقاء اور سلامتی کو یقینی بنا نا ہے تو اس34 ممالک کے اتحاد میں پاکستان کو شامل نہیں ہونا چاہئے ، ہمارے بزرگان دن کے مزارات ،مساجد ،امام بارگاہیں شہید کی جاچکی ہیں، نماز پڑھتے ہوئے شیعہ ،سنی شہید کئے جاچکے ہیں،ہماراپوراملک پہلے ہی دہشت گردی کی لپیٹ میں لہٰذاایسی صورتحال میں ہمیں پاکستان کی سلامتی کی فکر کرنی چاہئے ، مشرق وسطیٰ میں ہونے والی محاذ آرائی سے خود کو دور رکھنا چاہئے، اس معاملے میں پاکستان کو غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا چاہئے،اس تنازعہ میں کسی ملک کا ساتھ دینا پاکستان کی تباہی اور اس معاملہ میں خود کو علیحدہ پاکستان کی سلامتی کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے کافی عرصہ قبل ہی بتادیاتھاکہ طالبانائزیشن ہورہی ہے اوراگراس کونہیں روکاگیاتوملک تباہی کی طرف جائے گا، سب کہتے تھے کہ الطاف حسین جھوٹ بولتا ہے اور عوام کو ڈراتا ہے لیکن آج دنیادیکھ رہی ہے کہ میرے تمام خدشات درست ثابت ہورہے ہیں اور پاکستان میں القاعدہ اورطالبان کے بعداب داعش بھی گھس آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر داعش کے ذریعہ شیعہ سنی فسادات کی سازش کی جارہی ہے ،ہمیں ان سازشوں سے ہوشیار رہتے ہوئے اپنے شہروں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھناچاہئے ،شیعہ سنی اتحاد کا مظاہرہ کر کے ایک دوسرے کا گھر اجاڑنے کے بجائے ایک دوسرے کی حفاظت کرنی چاہئے ۔ ہمیں نہ صرف فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے بلکہ مذہبی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندو ،عیسائی ، سکھ ،احمدی سمیت کسی کابھی گھر نہیں اجاڑنا نہیں چاہئے اور قرآن کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرنا چاہئے ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ قرآن مجید میں واضح حکم ہے کہ " لااکراہ فی الدین " یعنی دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔قرآن مجید کی سورۃ الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’ اگرمومنوں کے دوفریق آپس میں لڑپڑیں تو ان میں صلح کرادو،اگر ایک فریق دوسرے فریق سے زیادتی کرے توزیادتی کرنے والے فریق سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع نہ کرے،بس جب وہ رجوع کرلے تو دونوں فریقین میں مساوات کے ساتھ صلح کرادو اور انصاف سے کام لو،اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘ ۔لہٰذاا ہمیں عاقبت نااندیشوں کی خواہش کے بجائے احکام خداوندی پر عمل کرنا چاہئے ۔
جناب الطاف حسین نے بنی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ نبی کریمؐ محسن انسانیت ہیں ، آپؐ د شمنوں کوبھی معاف کردیا کرتے تھے ،جب سرکار دوعالم ؐ طائف میں دین کی تبلغ کرنے گئے تو مشرکین نے شرارتی بچوں کے ذریعے آپ ؐپر پتھراؤکراکر آپؐ کو لہو لہان کر دیا ۔ایسے میں حضرت جبرائیل علیہ سلام نے آکر کہا یارسول اللہ اگر آپ حکم دیں تو میں دونوں کو پہاڑوں کو آپس میں ملا دوں تو یہ اس میں دب کر مرجائیں گے لیکن آپ ؐنے فرمایا جبرائیل ایسا نہ کرنا یہ نادان ہیں اور مجھے نہیں جانتے کہ میں کون ہوں ۔آپؐ نے انہیں معاف کردیا، ایسی محبت کرنے والا دل صرف امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی ؐ کا ہی ہوسکتا ہے۔ امت محمدی بہت گنہگارہے لیکن خوش قسمت بھی ہے کیونکہ روز محشر سرکار دوعالم ؐ سب سے پہلے اپنی امت کی شفاعت فرمائیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سرکاردوعالم ؐ سے محبت کا تقاضہ ہے کہ آپ ؐ کی تعلیمات اور سیرت طیبہ پر عمل کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ لاالہ اللہ محمد رسول اللہ نہ کہے ،اگر کوئی یہ کہے کہ وہ اللہ اورقرآن مجید کو مانتا ہے لیکن سرکار دوعالم ؐ کو نہیں مانتا تو پھر اللہ اور قرآن کوماننے کا کوئی فائد ہ نہیں ہوگا۔بنی کریم ؐنے والدین ،خواتین ،بزرگوں اور اساتذہ کے احترام کا درس دیا ہے لہٰذااگر حضورؐ کی محبت کو پانا ہے تو ہمیں والدین ،بزرگوں ،خواتین اور اساتذہ کا احترام کرنا ہوگا ، ان کی عزت کرنا ہوگی ،سچ بولنا ہوگا ،امانت سے خیانت میں پرہیز کر ہوگا اور احسان فراموشی کے عمل سے باز رہنا ہوگا۔جناب الطاف حسین نے محفل ذکر مصطفی ﷺ کے روحانی اجتماع کے انتظامات کرنے پر حیدرآباد زونل کمیٹی کے ارکان ،شعبہ جات ،سیکٹرز اور یونٹوں کے ذمہ داران و کارکنان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ 

12/6/2016 6:08:49 AM