Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جب تک مذہبی انتہاپسندی کی تعلیم دینے والے مدرسوں اور عناصر کی بیخ کنی نہیں کی جائے گی ملک سے مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔ الطاف حسین


جب تک مذہبی انتہاپسندی کی تعلیم دینے والے مدرسوں اور عناصر کی بیخ کنی نہیں کی جائے گی ملک سے مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔ الطاف حسین
 Posted on: 1/2/2016 1
جب تک مذہبی انتہاپسندی کی تعلیم دینے والے مدرسوں اور عناصر کی بیخ کنی نہیں کی جائے گی ملک سے مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔ الطاف حسین
میں نے کئی برس قبل خبردار کیا کہ کراچی میں طالبانائزیشن ہورہی ہے لیکن حکومت نے اس سے انکار کیا، آج کراچی کے مضافاتی علاقے طالبان کے گڑھ بن چکے ہیں، میں نے داعش کی پاکستان آمد سے آگاہ کیا تو حکومت نے اس سے بھی انکار کیا
آج کراچی اور پنجاب کے مختلف شہروں سے داعش سے وابستہ لوگ پکڑے جارہے ہیں اور ان کا نیٹ ورک سامنے آرہا ہے لیکن حکومت پاکستان مسلسل حالت انکار میں رہ رہی ہے 
مولانا عزیز نے آرمی اسکول پر حملے اور بچوں کے قتل کو جائز قرار دیا مگر چوہدری نثارکہتے ہیں ہم مولانا عزیز کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتے
چار صوبے پاکستان کے تمام عوام کی محرومی دور نہیں کرسکے، محروم عوام کو انکے حقوق دینے اور گڈگورننس کیلئے 20 صوبے قائم کئے جائیں
کراچی صوبہ صرف مہاجروں کا نہیں بلکہ تمام شہریوں کا صوبہ ہوگا خواہ ان کا تعلق کسی بھی قومیت، کسی بھی فقہ یاکسی بھی مذہب سے کیوں نہ ہو
عوام نے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا لیکن پیپلزپارٹی کی حکومت نے بلدیاتی اداروں سے انکے اختیارات چھین لئے 
حکومت بلدیاتی اداروں کوانکے اختیارات واپس کردے ورنہ ہمارے پاس بلدیاتی اداروں کے اختیارات کے حصول کیلئے دمادم مست قلندر کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا
اگر اسٹیبلشمنٹ سندھیوں اور دیگر ناقدین کے تحفظات دور کرسکے تو کالاباغ ڈیم بھی بنایا جائے
ڈیفنس میں منعقدہ عشائیہ سے خطاب، تقریب میں انجینئرز، ڈاکٹرز، وکلا، پروفیسرز، مختلف شعبوں کے پروفیشنلز کی شرکت
تقریب میں ایم کیوایم کے سینئرڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار، نامزد میئر کراچی وسیم اختر اور نامزد ڈپٹی میئر ڈاکٹر ارشد وہرہ بھی موجود تھے
لندن ۔۔۔ 2 جنوری 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ جب تک مذہبی انتہاپسندی کی تعلیم دینے والے جہادی مدرسوں اورعناصر کی بیخ کنی نہیں کی جائے گی ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی اوردہشت گردی کاخاتمہ نہیں ہوسکتا۔ چارصوبے پاکستان کے تمام عوام کی محرومی دورنہیں کرسکے لہٰذا محروم عوا م کوانکے حقوق دینے اورگڈگورننس کیلئے پاکستان میں 20صوبے قائم کئے جائیں۔انہوں نے ان خیالات کااظہارہفتہ کی شب ڈیفنس کے علاقے میں ایک عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عشائیہ میں انجینئرز، ڈاکٹرز، وکلا، پروفیسرز، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز نے شرکت کی ۔ تقریب میں ایم کیوایم کے سینئرڈپٹی کنوینرڈاکٹرفاروق ستار،رابطہ کمیٹی کے دیگراراکین، ایم کیوایم کے نامزدمیئرکراچی وسیم اختراور نامزد ڈپٹی میئر ڈاکٹر ارشد وہرہ بھی موجود تھے۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جب سے ایم کیوایم وجودمیں آئی ہے اس کوعوام میں بدنام کرنے اوراس کاامیج خراب کرنے کیلئے اس پرطرح طرح کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں،شہرمیں کہیں بھی کوئی قتل کاواقعہ ہواس کاالزام ایم کیوایم پر لگادیاجاتاہے۔کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایک خاتون کاقتل ہواتوعمران خان نے قتل کے فوری بعدکسی ثبوت وشواہدکے بغیر بسترعلالت سے اس کاالزام مجھ پر لگادیا۔انہوں نے سوال کیاکہ کیامیرے گھرسے القاعدہ کا کوئی دہشت گرد نکلا؟جبکہ جن لوگوں کے گھروں سے القاعدہ کے بڑے بڑے لوگ پکڑے گئے ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔ ڈینئل پرل کے قاتل اور القاعدہ کے دیگربڑے بڑے دہشت گرد جماعت اسلامی والوں کے گھروں سے گرفتار ہوئے لیکن آج تک جماعت اسلامی کے دفترپرچھاپہ نہیں ماراگیا۔ سانحہ صفورامیں اسماعیلیوں کاقتل کرنے والے دہشت گردوں کا تعلق بھی اسلامی جمعیت طلبہ سے نکلاہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے کئی برس قبل قوم کواس بات سے خبردارکیاکہ کراچی میں طالبانائزیشن ہورہی ہے لیکن اس وقت کی پیپلزپارٹی کی حکومت اورمخالف سیاسی ومذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس سے انکار کیا اورآج کراچی کے بیشترمضافاتی علاقے طالبان کے گڑھ بن چکے ہیں۔ میں نے قوم کوداعش کی پاکستان میں آمد سے آگاہ کیاتواس سے بھی حکومت پاکستان نے انکارکیاجبکہ آج کراچی اورپنجاب کے مختلف شہروں سے داعش سے وابستہ لوگ آئے دن پکڑے جارہے ہیں اوران کانیٹ ورک سامنے آرہا ہے لیکن اس کے باوجود حکومت پاکستان مسلسل حالت انکارمیں رہ رہی ہے ۔سینیٹ میں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارکہتے ہیں کہ ہم لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتے کیونکہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے ۔جہاں تک ایف آئی آرکاتعلق ہے توایم کیوایم کے ارکان اسمبلی اور سول سوسائٹی کی جانب سے مولاناعبدالعزیزکے خلاف ایف آئی آردرج کرائی جاچکی ہے۔ مولاناعبدالعزیزداعش کی حمایت کرتے ہیں جبکہ لال مسجد کی طالبات کی وڈیوسامنے آچکی ہے جس میں وہ داعش کے سربراہ کی بیعت کررہی ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرویزمشرف کے زمانے میں جامعہ حفصہ کی طالبات نے اسلام آباد کی چلڈرن لائبریری پر قبضہ کیا، مولانا عبدالعزیزنے خودکش حملوں کے دھمکی آمیزاعلانات کئے ،وہاں سے پولیس پرحملے ہوئے۔ جب اس وقت کی حکومت نے لال مسجد پرایکشن کیاتو باقاعدہ مسلح لڑائی ہوئی جس میں پولیس اہلکاروں اورآرمی کے کمانڈوز تک کو شہیدکیاگیا۔طالبان دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کرکے ڈیڑھ سو بچوں اوراساتذہ کوبیدردی سے شہیدکیا تومولاناعبدالعزیزنے اس دہشت گردی کوجائز قراردیا۔ اس کے باوجود چوہدری نثار کہتے ہیں کہ مولانا عبدالعزیز کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگرملک میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کے بجائے مدرسوں کا جال پھیلایا جائے گاتوپھر آپ جوبوئیں گے وہی کاٹیں گے، مذہبی انتہاپسندی کی تعلیم کو پھیلایا جائے گا تو انتہا پسندی پھیلے گی۔ جناب الطاف حسین نے ملک میں مزیدصوبوں کے قیام کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہاکہ چارصوبے پاکستان کے تمام عوام کی محرومی دور نہیں کرسکے اورافسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ارباب اختیاراس بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کیلئے تیارنہیں ہیں۔ لہٰذا وقت آگیاہے پاکستان میں مزید صوبوں کے قیام پر سنجیدگی سے غورکیاجائے ۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ محروم عوا م کوانکے حقوق دینے، عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے اور گڈگورننس کیلئے پاکستان میں 20صوبے قائم کئے جائیں۔انہوں نے کہاکہ کراچی صوبہ صرف مہاجروں کانہیں بلکہ یہاں رہنے والے تمام شہریوں کاصوبہ ہوگاخواہ ان کاتعلق کسی بھی قومیت ، کسی بھی فقہ یاکسی بھی مذہب سے کیوں نہ ہو۔ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہوگابلکہ سب کامساوی حق ہوگا، ہم سب کے ساتھ بھائیوں جیسا سلوک کریں گے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ 1973ء میں سندھ میں غیرمنصفانہ کوٹہ سسٹم نافذ کیاگیاتھاجس کے تحت سندھ کے دیہی علاقوں کے لئے اعلیٰ تعلیم اور ملازمتوں میں 60فیصداورشہری علاقوں کے لئے 40فیصدکوٹہ مقررکیاگیامگرشہری علاقوں کوان کا40فیصدکوٹہ بھی نہیں دیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ وقت آگیا ہے کہ اس غیر منصفانہ کوٹہ سسٹم کوختم کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم پرائیویٹائزیشن کی حامی ہے لیکن ایم کیوایم سمجھتی ہے کہ پرائیویٹائزیشن کا عمل صاف وشفاف ہو اورپارلیمنٹ کی کمیٹی کی زیرنگرانی ہواورجس ادارے کی بھی پرائیویٹائزیش کی جائے اس کے ملازمین کوان کی ملازمتوں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ کراچی، حیدرآباد،میرپورخاص اوردیگرشہری علاقوں کے عوام نے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم کوبھاری اکثریت سے کامیاب کرایاہے لیکن پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ نے بلدیاتی اداروں سے ان کے اختیارات چھین لئے ہیں۔ہماری کوشش ہے کہ حکومت بلدیاتی اداروں کوانکے اختیارات واپس کردے ورنہ ہمارے پاس بلدیاتی اداروں کے اختیارات کے حصول کے لئے دمادم مست قلندر کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ انہوں نے ڈیفنس کے عوام سے بھی کہاکہ اگراس حوالے سے ایم کیوایم کسی قسم کے احتجاج کی کال دے تووہ بھی بھاری تعدادمیں اس میں حصہ لیں۔ انہوں نے ڈیفنس کے مکینوں سے کہاکہ انشاء اللہ ایم کیوایم کے میئراورڈپٹی میئر شہر کی تعمیروترقی کے لئے اپنی بھرپورصلاحیتیں بروئے کارلائیں گے ۔شہر میں پانی، بجلی اور دیگر مسائل حل کرنے کیلئے سولرسسٹم اوردیگر جدیدنظام سے استفادہ کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ پانی کاذخیرہ کرنے اور توانائی کے حصول کے لئے چھوٹے ڈیمزبنائے جائیں اور اگر اسٹیبلشمنٹ سندھیوں سمیت تمام ناقدین کے تحفظات دور کرسکے تو کالا باغ ڈیم بھی بنایاجائے ۔ 






مزید تصاویر

9/26/2016 8:54:12 AM