Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی ہی کیوں۔۔۔تحریر: ارشد حسین


کراچی ہی کیوں۔۔۔تحریر: ارشد حسین
 Posted on: 11/18/2015
کراچی ہی کیوں۔۔۔تحریر: ارشد حسین 
جرائم کا خاتمہ کرنا ہو۔۔۔ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی مہم کا آغاز کرنا ہو یا اسلحہ سے پاک کرنے کا مکمل ارادہ ہو تو ایک بار نہیں بلکہ بار بار کراچی میںآپریشن کیا جاتا ہے ، کیفے شیشہ کو ختم کرنا ہو تو کراچی ہی میں مہم چلائی جاتی ہے ، کالے شیشے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرنی ہوتو یہاں بھی کراچی کے شہریوں کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے ،موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کرنی ہو یا دفعہ 144نافذ کرنی ہو تو کراچی کے معصوم شہریوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔۔۔ہیلمٹ پہنے کی پابندی عائد کرنے کا مسئلہ ہو تو یہاں بھی کراچی کے شہریوں کو اس عذاب میں مبتلا ہونا پڑتا ہے، حتیٰ کہ خواتین تک کو ہیلمٹ پہنے کے احکامات جاری کر دیئے جاتے ہیں ۔الیکشن کا دور دورہ ہوتو کراچی میں ہی فوج اور رینجرز کی نگرانی میں انتخابات کروائے جاتے ہیں۔۔۔ کوٹہ سسٹم عائد ہوئے آج کئی برس گزر چکے ہیں مگر یہ قانو ن بھی سندھ خصوصاء کراچی کے باسیو ں پر ہی لاگوہے ۔ایسا لگتا ہے کہ کراچی کے عوام کے ساتھ ناروا سلوک او رغیر وں جیسا برتاؤ کرنا خفیہ طو ر پر آئین میں شامل کر لیا گیا اور کوئی ’’نامعلوم شق‘‘ بھی عائد کردی گئی ہے جس پر مستندی کے ساتھ عمل بھی کیا جارہا ہے ۔جبکہ ملک کو چلانے کی ذمہ دارای بھی کراچی ہی کی ہے۔۔۔ جو وفاق کو 70فیصد سے زائد ریونیوں فراہم کرتا ہے۔۔۔ اس کے باوجود اس شہر کے باسیوں کو قیام پاکستان سے آج تک مسلسل عتاب میں مبتلا کر رکھا ہے ۔یہاں تک کہ سیکورٹی کا مسئلہ ہواس میں بھی اسے نظر انداز کیا گیا اور تمام سیکوریٹی ادارے خصوصاً محکمہ پولیس غیر مقامی افراد پر مشتمل ہے،بلدیاتی ادارے ہوں یا تعلیمی ادارے ہر جگہ کراچی کے شہریوں کو ناانصافی کا نشانہ بنایا جارہا ہے جہاں وہ روز گار اور داخلوں سے محروم ہیں جبکہ غیر مقامیوں کو ہی فوقیت دی جارہی ہے ۔ رواں ماہ یعنی نومبر 2015ء میں کراچی کے عوام پر ایک اور بجلی گرائی گئی جہاں پورے ملک کوچھوڑ کرصرف کراچی میں شہر یوں پر ڈرائیونگ لائسنس ساتھ لیکر چلنے کی پابندی اورلائسنس نہ ہونے پر شہریوں کے خلاف غیرقانونی اقدامات کرنے اورجر مانے جیسے اقدامات عائد کر کے کھلی کراچی دشمنی عائد کی گئی۔ حکومت کی جانب سے شہریوں کوڈرائیونگ لائسنس بنانے ،اسے ساتھ لے کرچلنے کی ترغیب دینا اورقانون کا پابندبنانے کی کوشش کرناغلط بات نہیں لیکن پورے ملک کوچھوڑکرصرف کراچی کیلئے یہ فیصلہ کرناکہ یہاں جوشہری ڈرائیونگ لائسنس لے کرنہیں چلے گااسے گرفتارکرکے جیل میں ڈال دیاجائے گا یہ اقدام سراسرظلم ہے بلکہ کراچی کے شہریوں کو پولیس اورحکومتی طاقت کے ذریعے کچلنے اورمظالم کانشانہ بنانے کیلئے ہرروز نت نئے ہتھکنڈے اختیارکرنا معمول بنا لیا گیا ہے ۔یہ بھی اس معاشی حب کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے کہ سندھ پولیس شہریوں کو تو ڈرائیونگ لائسنس ساتھ نہ رکھنے پر گرفتاری جیسے اقدامات کرنے کی دھمکی دیتی ہے جبکہ خودٹریفک پولیس کے 90 فیصد افسران واہلکارڈرائیونگ لائسنس کے بغیر اپنی گاڑیاں سڑکوں پردوڑاتے نظر آتے ہیں ۔ستم بلائے ستم یہ کہ جب کراچی کے شہری ہزاروں کی تعداد میں ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کیلئے صبح ڈرائیونگ آفس پہنچے تو انہیں لمبی لمبی قطاریں لگانی پڑی انتظامیہ کی جانب سے کوئی خاطر خواہ انتظامات دیکھنے میں نہیں آئے بلکہ الٹا شہریوں پر پولیس نے اندھا دھندلاٹھی چارج کیا جس میں متعدد شہری شدید زخمی ہوئے بلاآخر شہریوں کو بدانتظامی او ر دھکم پیل کی وجہ سے مویوسی ک عالم میں گھروں کو واپس لوٹنے پر مجبور ہوئے جبکہ غور طلب بات یہ تھی کہ کراچی کے باسیوں پر یہ ڈنڈے برسانے والے بھی غیر مقامی تھے ۔ ادھر ڈرائیونگ لائسنس آفس میں کمپیوٹر ز خراب تھے ،عملہ غائب تھا ،ڈیٹا اڑا ہوا تھا ،جبکہ 20سے 30روپے قیمت والے فارم شہریوں کو 150روپے کا فارم فراہم کیا گیا یوں عوام سے خطیر رقم بٹوری گئی ۔ مگر حکومتی ارکان کی جانب سے عوام کو صرف سہانے خواب اور تسلی کے سوا کچھ نہ دیا گیا نہ شہریوں کو تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کو قانو ن کی گرفت میں لیا گیااور نہ ہی ڈرائیونگ لائسنس آفس کی انتظامیہ کی نہ اہلی کا نوٹس لیا گیا ۔ سوال یہ پید اہوتا ہے کہ صرف کراچی پر ہی کیوں مصیبت کے پہاڑ گرائے جاتے ہیں۔ کیا دہشت گردی ،جرائم و قتل وغارت گری کے واقعات رونما نہیں ہوتے ؟ کیاہیلمٹ پہنے کی پابندی،ٹریفک لائسنس ،کوٹہ سسٹم سمیت دیگر پابندیوں کا اطلاق ملک کے دیگر صوبوں یا شہروں پر لاگوں نہیں ہوتا؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ شہریوں کوٹریفک لائسنس جاری کرنے کیلئے آسانیاں اور کم سے کم شرئط رکھی جاتی اور کراچی کے شہریوں کوڈرائیونگ لائسنس کے نام پر زیادتیوں اورمتعصبانہ سلوک کانشانہ بنانے کے بجائے حکومت ملک کے بھر کے ٹریفک پولیس کے افسروں و اہلکاروں کو اپنے ڈرائیونگ لائسنس نہ صرف بنانے کاپابندکیا جاتا اورڈرائیونگ لائسنس نہ رکھنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی بھر پور کارروائی کرتی پھر کراچی کے شہریوں کو نصیحت کی جاتی یا انہیں پابند کیا جاتا ۔


9/28/2016 10:20:08 PM