Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایک سازش کے تحت مسلمانوں کے اندر خوفناک دہشت گرد گروپ قائم کئے جارہے ہیں۔ الطاف حسین


ایک سازش کے تحت مسلمانوں کے اندر خوفناک دہشت گرد گروپ قائم کئے جارہے ہیں۔ الطاف حسین
 Posted on: 10/15/2015
ایک سازش کے تحت مسلمانوں کے اندر خوفناک دہشت گرد گروپ قائم کئے جارہے ہیں۔ الطاف حسین
دہشت گرد گروپ اسلامی ممالک میں قتل و غارتگری کررہے ہیں اور مسلمانوں کو تقسیم در تقسیم کرکے انہیں تباہ کررہے ہیں
مشرق وسطیٰ کے ممالک کے بعد افغانستان اور اب پاکستان میں بھی داعش کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں
میں نے پاکستان میں داعش کی آمد کا انکشاف کیاتو بعض وزراء نے اس سے انکارکیا لیکن آئی جی سندھ نے داعش کے نیٹ ورک کاواضح الفاظ میں اعتراف کیا
یہ امرانتہائی افسوسناک ہے کہ پنجاب میں لشکرجھنگوی اور دیگر مذہبی انتہاپسندوں کیلئے نہ صرف نرمی اختیارکی گئی بلکہ تحفظ بھی دیا گیا
کراچی میں آپریشن کے نام پر ایم کیوایم کے کارکنوں اورعہدیداروں کو تو گرفتار کیا جارہا ہے لیکن مذہبی انتہا پسند گروہوں اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی ہے
ایم کیوایم سے قبل کراچی میں شیعہ سنی فساد ہوتے تھے لیکن ایم کیوایم کی جدوجہد اور میری تبلیغ کے نتیجے میں یہاں اب شیعہ سنی فساد نہیں ہوتا
ہم عوام کے درمیان اتحاد و بھائی چارے اورانسانیت کی فلاح وبہبود کیلئے کام کریں تواللہ تعالیٰ بھی ہم سے راضی ہوجائے گا
علمائے کرام کسی کو کافر قرارنہ دیں، اپنی تقاریر میں ایسی کوئی بات نہ کہیں جس سے کسی بھی فقہ یامسلک کے ماننے والوں کی دل آزاری ہو
لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں ایم کیوایم کے زیراہتمام علمائے کرام کے ایک اجتماع سے خطاب
کراچی ۔۔۔ 15 اکتوبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ملت اسلامیہ کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش ہورہی ہے جس کے تحت مسلمانوں کے اندر خوفناک دہشت گردگروپ قائم کئے جارہے ہیں جواسلامی ممالک میں قتل وغارتگری کررہے ہیں اورمسلمانوں کوتقسیم درتقسیم کرکے انہیں تباہ کررہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات آج لال قلعہ گراؤنڈعزیزآبادمیں ایم کیوایم کے زیراہتمام علمائے کرام کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔یہ اجتماع فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے سلسلے میں منعقدکیاگیاجس میں شیعہ سنی ،ودیگر فقہوں اورمسالک سے تعلق رکھنے والے جید علمائے کرام ، مشائخ ،زاکرین،آئمہ کرام،دینی ومذہبی تنظیموں کے نمائندوں نے بڑی تعدادمیں شرکت کی ۔ جناب الطا ف حسین نے اسلامی ممالک خصوصاً مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تمام اسلامی ممالک میں کہیں القاعدہ، کہیں طالبان ، کہیں داعش اورکہیں کسی اورنام سے آپس کی لڑائیاں ہورہی ہیں، مسلمان مارے جارہے ہیں اور ہر جگہ تباہی وبربادی ہورہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ سب کچھ ایک بین الاقوامی سازش ہے جس کے تحت مسلمانوں کے اندر خوفناک دہشت گردگروپ قائم کئے جارہے ہیں جواسلامی ممالک میں دہشت گردی اور قتل وغارتگری کررہے ہیں اورمسلمانوں کوتقسیم درتقسیم کرکے انہیں تباہ کررہے ہیں۔کونساایساملک ہے جہاں قتل وغارتگری کے واقعات نہ ہورہے ہوں، عراق، مصر، لیبا،شام ہرجگہ فساداورجنگ ہے، مراکش جوکہ ایک پرامن تفریحی ملک تھاوہاں بھی کچھ دنوں پہلے چندمسلح افرادنے درجنوں غیرملکی مغربی سیاحوں کوفائرنگ کرکے قتل کردیا۔انہوں نے کہاکہ جب اس طرح کی خبریں مغربی ممالک میں آتی ہیں تو وہاں مسلمانوں کے نام ، پاسپورٹ اورچہرے دیکھ کرانہیں مشکوک نگاہوں سے دیکھاجاتاہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ سوویت یونین افغانستان سے نکلاتواس کا شیرازہ بکھر گیاتھالیکن روس نے دوبارہ اپنی طاقت کومنظم کرناشروع کردیاہے، یوکرین کے بعدمشرق وسطیٰ کے خطہ میں بھی روس کے قدم دوبارہ بڑھ رہے ہیں اورشام کے حوالے سے ایک جنگ کی صورتحال پیداہورہی ہے۔امریکہ کی جانب سے اس صورتحال پر احتجاج بھی کیاگیالیکن وہ کوئی قبضہ ختم نہیں کراسکا۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کے بعد افغانستان میں بھی داعش کی سرگرمیاں بڑھی ہیں اوروہاں داعش اورطالبان میں لڑائی ہوئی۔افغانستان کے بعدپاکستان میں بھی داعش کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ہمارے ہاں بدقسمتی سے عوام کوخواب غفلت میں رکھا جاتاہے جس سے ملک وقوم کونقصان پہنچتاہے۔ میں نے کئی سال قبل کراچی میں طالبان کے خطرے سے آگاہ کیااوربتایاکہ کراچی میں طالبان فاٹاکے بعدکراچی میں اپنے گڑھ قائم کررہے ہیں تواس سے نہ صرف انکارکیاگیابلکہ یہاں تک کہاگیاکہ یہ سب جھوٹ ہے، الطاف حسین عوام میں خوف وہراس پھیلارہاہے لیکن جب طالبان کی جانب سے کراچی میں دہشت گردی کی بڑی بڑی کارروائیاں کی گئیں توپھرحکومت کے وزراء اورسرکاری اداروں نے کراچی میں طالبان کی موجودگی اوراس کے پھیلے ہوئے نیٹ ورک کااعتراف کیا۔ کچھ عرصہ قبل میں نے پاکستان میں داعش کی آمدکاانکشاف کیاتواس موقع پر بھی موجودہ حکومت کے بعض وزراء نے اس سے انکارکیا لیکن دوروزقبل آئی جی سندھ نے سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے اس بات کاواضح الفاظ میں اعتراف کیا کہ سندھ میں داعش کانیٹ ورک موجودہے اورسانحہ صفورا میں ملوث دہشت گردداعش کیلئے کام کررہے تھے اوریہ کہ داعش کے رابطے لشکرجھنگوی سے بھی ہیں۔ گزشتہ روزکراچی کے ایک اورپولیس آفیسر راجہ عمرخطاب نے بھی میڈیاپر اس حقیقت کااعتراف کیاکہ کراچی اورسندھ میں داعش کانیٹ ورک موجود ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آئی جی سندھ تواس بارے میں اعتراف کررہے ہیں لیکن آئی جی پنجاب ببانگ دہل یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں داعش کاکوئی وجودنہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ امرانتہائی افسوسناک ہے کہ پنجاب میں لشکرجھنگوی اوردیگرمذہبی انتہاپسندوں کیلئے نہ صرف نرمی اختیارکی گئی بلکہ تحفظ بھی دیا گیا۔ انہیں صوبائی حکومت کی جانب سے باقاعدہ پیسہ بھی دیاجاتارہاہے۔ایسے اقدامات کاہی نتیجہ ہے کہ آج یہ مذہبی انتہاپسندی اوردہشت گردی اس قدر بڑھ گئی ہے اورکراچی میں بھی طالبان کے بعدداعش بھی خودروپودے کی طرح پیداہورہے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کراچی میں آپریشن کے نام پر ایم کیوایم کے کارکنوں اورعہدیداروں کوتوگرفتارکیاجارہاہے لیکن مذہبی انتہا پسند گروہوں اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ میں نے اس صورتحال پر احتجاج کیاتو میرے خطابات اوربیانات نشرکرنے پر پابندی عائد کردی گئی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ملک کی واحد سیاسی جماعت اور میں ملک کاواحدلیڈرہوں جوبرسوں سے عوام میں اس بات کی تبلیغ کرتارہا کہ عوام’’ لکم دینکم ولی الدین ‘‘ اور ’’ لااکراہ فی الدین ‘‘ پرعمل کریں ، آپس میں مذہبی رواداری اورفرقہ وار انہ ہم آہنگی کی فضاء کوپروان چڑھائیں، جزاوسزاکا اختیاراپنے ہاتھ میں نہ لیں، یہ حق صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کاہے اوروہی روزمحشراس بات کافیصلہ کرے گاکہ کون جنتی ہے اورکون جہنمی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم سے قبل کراچی میں عوامی سطح پر شیعہ سنی فسادہوتے تھے لیکن ایم کیوایم کی جدوجہداورمیری برسوں کی تبلیغ کے نتیجے میں یہاں اب کوئی شیعہ سنی فساد نہیں ہوتا،عوام کولڑانے کیلئے یہاں فرقہ وارانہ بنیادوں پرعلمائے کرام ،زاکرین،ڈاکٹروں،اساتذہ اوردیگرشعبوں سے تعلق رکھنے والے افرادکی ٹارگٹ کلنگ کی گئی لیکن چونکہ عوام ان سازشوں کواچھی طرح سمجھ چکے ہیں اسلئے یہاں اب کوئی شیعہ سنی فسادنہیں ہوتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان بڑی قربانیوں کے نتیجے میں وجودمیں آیاہے ، ہمیں چاہیے کہ ہم اس کی بقاء اوراس کی مضبوطی اورعوام کے درمیان اتحادوبھائی چارے اورانسانیت کی فلاح وبہبود کیلئے کام کریں تواللہ تعالیٰ بھی ہم سے راضی ہوجائے گا ۔ انہوں نے علمائے کرام سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے فقہ یامسلک کی بات ضرور کریں لیکن کسی کو کافر قرارنہ دیں اور اپنی تقاریراورخطبات میں ایسی کوئی بات نہ کہیں جس سے کسی بھی فقہ یامسلک کے ماننے والوں کی دل آزاری ہو۔ہم سب اللہ تعالیٰ کے ماننے والے ہیں، چاہے ہم کسی بھی طرح عبادت کرتے ہوں، ہمارے سراللہ تعالیٰ کے آگے ہی جھکتے ہیں، ہماری عبادتوں کامقصداللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرناہے، اس سے بڑی کوئی ذات نہیں،وہی ہم سب کامالک اوروہی روزجزاکامالک ہے۔ انہوں نے علمائے کرام سے اپیل کی کہ وہ علاقوں کی سطح پر امن کمیٹیاں قائم کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوارصورتحال میں یہ کمیٹیاں امن وامان اوربھائی چارہ قائم رکھنے میں اپناکرداراداکریں۔خطاب کے بعدتمام علمائے کرام ، مشائخ اورزاکرین نے جناب الطاف حسین سے فرداًفرداًگفتگوکی، ان کے خیالات سے اتفاق کیا۔علمائے کرام نے اجتماع کے انعقادپر جناب الطاف حسین اوررابطہ کمیٹی کو مبارکباد پیش کی اورمذہبی رواداری اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کے سلسلے میں ان کے کرداراورجدوجہدپرانہیں خراج تحسین پیش کیا۔ 



9/29/2016 8:27:56 PM