Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جنرل راحیل شریف براہ مہربانی 15 منٹ نکال کر مجھ سے بات کرلیں ،الطاف حسین


جنرل راحیل شریف براہ مہربانی 15 منٹ نکال کر مجھ سے بات کرلیں ،الطاف حسین
 Posted on: 9/12/2015
جنرل راحیل شریف براہ مہربانی 15 منٹ نکال کر مجھ سے بات کرلیں ،الطاف حسین
میں آپ کوپاکستان کوغیرمستحکم کرنے کا نہیں بلکہ پاکستان کوبچانے کا فارمولا دوں گا ، الطاف حسین
تحریک آزادی اور تحریک پاکستان کی بڑی بڑی ہستیوں کے نام تاریخ کے اوراق سے غائب کردیئے گئے، الطاف حسین
ایم کیوایم کے دفاتراور کارکنوں کے گھروں پر ہزاروں چھاپے مارے گئے لیکن پولیس یارینجرزسےہمارے کارکنوں کاکوئی مقابلہ نہیں ہوا ، الطاف حسین
جبکہ پولیس یارینجرز لیاری ، اتحاد ٹاؤن، منگھوپیر اور سہراب گوٹھ کے علاقوں میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کیلئے گئے توان کاکالعدم تنظیموں سے مقابلہ ہوا، الطاف حسین
میں نے نہ تو ملک کی سلامتی کے خلاف کوئی بات کی اورنہ ہی فوج کودھمکیاں دیں لیکنمجھ پر غلط الزامات لگاکرپابندیاں لگائی گئی ہیں، الطاف حسین
ہم پرچاہے کیسی ہی پابندیاں کیوں نہ عائدکردی جائیں لیکن ہم سر نہیں جھکائیں گے، الطاف حسین
لال قلعہ گراؤنڈ کراچی اور حیدرآباد میں منعقدہ کارکنان کے اجلاس سے وڈیولنک کے ذریعہ خطاب 
لندن۔۔۔12، ستمبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے درخواست کی ہے کہ براہ مہربانی 15 منٹ نکال کر مجھ سے بات کرلیں ، میں آپ کوپاکستان کوغیرمستحکم کرنے کا نہیں بلکہ پاکستان کوبچانے کا فارمولا دوں گا ۔یہ بات انہوں نے لال قلعہ گراؤنڈ کراچی اور حیدرآباد میں منعقدہ کارکنان کے اجلاس سے وڈیولنک کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وڈیو لنک کے ذریعہ جناب الطاف حسین کو دیکھتے ہی اجلاس کے شرکاء نے جناب الطاف حسین کا پرجوش استقبال کیااور کافی دیرتک فلک شگاف نعرے لگاکر ان سے والہانہ عقیدت ومحبت کا اظہارکیا۔ 
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے تحریک پاکستان کے جید اکابرین اور زعماء کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ تحریک پاکستان ، برصغیر کے مسلم اقلیتی صوبوں کے زعماء نے چلائی اورپاکستان انہی جیداکابرین کی دن رات کی جدوجہد کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا لیکن تحریک آزادی اور تحریک پاکستان کی بڑی بڑی ہستیوں کے نام تاریخ کے اوراق سے غائب کردیئے گئے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ قوم کو تاریخی حقائق سے آگاہ کیاجاناچاہیے اور تاریخی حقائق کو مسخ نہیں کرناچاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو اصل تاریخ سے آگاہی ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ ٹی وی ٹاک شوز میں کہاجاتا ہے کہ الطاف حسین نے ایسے جملے کہے جنہیں دہرایا بھی نہیں جاسکتا اور اگرمیں کوئی بات نصیحت یا خوف خدا دلانے کی غرض سے کرتا ہوں تواسے دھمکی تصورکرلیاجاتا ہے جوکہ صریحاً غلط ہے ، اگر کسی کے سننے میں فرق آجائے تو اس میں میرا کیا قصور ہے ؟ جناب الطاف حسین نے گزشتہ دوروز کے دوران ایم کیوایم کے پانچ کارکنوں کی شہادت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ 10 ستمبر کی شام کو مسلح دہشت گردوں نے گھر میں گھس کر ایم کیوایم کے کارکن آفتاب حسین کو شہید کردیا اور پھر جعلی مقابلے میں ایم کیوایم کے چارکارکنان محمد عدیل، زوہیب اللہ ، کاشف خلیل اور محمد شاہد کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا جنہیں اپریل اور مئی 2015ء میں گرفتارکیاگیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ماورائے عدالت قتل پر ایم کیوایم کے بیان پر رینجرز کی جانب سے کہاگیا کہ متحدہ کا بیان جھوٹا ہے ، میں یہ نہیں کہتا کہ رینجرز والے جھوٹ بول رہے ہیں اور نہ یہ کہہ رہاہوں کہ میں صدفی صد سچ بول رہا ہوں ، اس حوالہ سے تحقیقات جاری ہیں اور یہ عدالت میں ثابت ہوجائے گا لہٰذا اس پر میں کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں 25 برسوں سے لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزاررہا ہوں ، 19، جون1992ء کو جب ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیاگیا تو کہاگیا کہ ایم کیوایم والوں کے پاس ایک لاکھ کلاشنکوفیں ہیں اور کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کیلئے آپریشن کیاجارہا ہے۔ اس آپریشن کے آغاز سے قبل یہ جھوٹ بول کر بہکایا گیا کہ یہ آپریشن 72 بڑی مچھلیوں کے خلاف کیاجائے گا ، ایم کیوایم کی مرکزی کمیٹی کے رہنما اس بہکاوے میں آگئے لیکن واحد الطاف حسین تھا جو اس بہکاوے میں نہیں آیااورمیں نے واضح کردیا تھا کہ 72 بڑی مچھلیوں کے خلاف آپریشن کی بات محض ڈرامہ ہے ، ان بااثر مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنے کی کوئی جرات بھی نہیں کرے گا اور یہ آپریشن صرف اور صرف ایم کیوایم کے خلاف ہی ہوگا۔ انہوں نے مزید کہاکہ میں نے گزشتہ دنوں اپنے خطاب میں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار سے کہاتھا کہ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ قومی اسمبلی میں ان 72 بڑی مچھلیوں کی فہرست دوبارہ پیش کریں ۔ انہوں نے شرکاء سے دریافت کیا کہ کیا چوہدری نثارعلی نے وہ فہرست قومی اسمبلی میں پیش کی؟ جس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر جواب دیا ’’ جی نہیں‘ ‘انہوں نے کہا کہ کیا 19، جون1992ء کے آپریشن میں حقیقی دہشت گردوں کو فوجی ٹرکوں پر بٹھاکرلایا گیااور ایم کیوایم کے تمام دفاترپر حقیقی دہشت گردوں کا قبضہ کرادیا گیاتھا جس پر میں نے تمام ساتھیوں کو ہدایت دی تھی کہ کوئی حقیقی دہشت گردوں کا سامنا نہ کرے اور جسے جہاں جگہ ملے وہ روپوشی میں چلے جائے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ایم کیوایم پر ایک لاکھ کلاشنکوفوں کا الزام لگایاگیاتھا لیکن جس کے پاس ایک لاکھ کلاشنکوف ہوتیں کیا وہ روپوشی کا درس دیتا؟ انہوں نے سینئر کارکنان سے کہاکہ آپ قسمیہ بتائیں کہ 92 ء کے آپریشن سے 99ء میں نوازشریف کی دوسری حکومت کے خاتمہ تک ایم کیوایم کے کارکنان نے کسی ایک جگہ بھی فوج سے مزاحمت کی ؟جس پر سینئر کارکنان نے جواب دیا ’’بالکل نہیں‘‘
جناب الطا ف حسین نے سوال کیاکہ آپریشن کے دوران دومرتبہ میرے گھرنائن زیروپر چھاپہ ماراگیا ،دیگردفاترپر چھاپے مار ے گئے لیکن کسی ایک جگہ بھی پولیس یارینجرزسے ہمارے کارکنوں کاکوئی مقابلہ نہیں ہوا جبکہ پولیس یارینجرز لیاری ، اتحاد ٹاؤن، منگھوپیر اور سہراب گوٹھ کے علاقوں میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کیلئے گئے توان کاکالعدم تنظیموں سے مقابلہ ہوا۔ انہوں نے سوال کیاکہ آج کراچی میں 21ہزار مدرسے قائم ہیں ، انہیں کس نے قائم کیا ہے؟ان مدرسوں اور کالعدم تنظیموں کی سپورٹ کون کرتارہا؟ پیپلزامن کمیٹی کس نے تشکیل دی؟جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ برائے مہربانی 15منٹ نکال کرالطاف حسین سے بات کرلیں، میں آپ کوپاکستان بچانے کافارمولا دوں گا۔اگر آپ کوپاکستان کوبچاناہے اورمضبوط ومستحکم بناناہے توپانچ کروڑ مہاجروں کودیوارسے لگانے کے بجائے ان سے بات کیجئے ، ان کی شکایتوں کاازالہ کیجئے، انہیں ان کاحق دیجئے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب ایم کیوایم کے خلاف آپریشن شروع ہوااورنائن زیروپرچھاپہ ماراگیاتوپیپلزپارٹی کے بعض رہنماخوش ہوکراس کی حمایت کررہے تھے اوراسے درست اورجائزقراردے رہے تھے لیکن آج جب بات ان کے دروازے تک آئی ہے تووہ انہیں تکلیف ہورہی ہے۔کل آپریشن کودرست کہنے والے آج کہاں غائب ہوگئے ہیں؟جناب الطا ف حسین نے پیمرا کی جانب سے ان کے خطابات، بیانات اورانٹرویوزٹی وی پر نشرکرنے اوراخبارات میں شائع کرنے پر پابندعائد کرنے کے اقدام کوکڑی تنقیدکانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ میں نے نہ تو ملک کی سلامتی کے خلاف کوئی بات کی اورنہ ہی فوج کودھمکیاں دیں لیکن مجھ پر غلط الزامات لگاکرپابندیاں لگائی گئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ میراصرف یہی کہناہے کہ جس طرح میرے ساتھیوں کوگرفتارکرنے کے بعد انہیں انسانیت سوز تشدد کانشانہ بناکرشہید کیاجارہاہے، اگرمجھ پر الزامات لگانے والوں کے عزیزوں کے ساتھ خدانخواستہ ایساہی عمل ہوتاتوان کے دل پرکیاگزرتی ؟انہوں نے کہاکہ ملک میں قانون کامعیاردہراہے، ایم کیوایم کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جارہی ہے ، اس کی فلاحی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جارہی ہے ، اس کے فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کو عطیات اورقربانی کی کھالیں جمع کرنے پر پابندی عائدکردی گئی ہے جبکہ دیگرجماعتوں حتیٰ کہ کالعدم تنظیموں تک کوعطیات جمع کرنے کی آزادی ہے۔ساری پابندیاں ایم کیوایم کے لئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم پرچاہے کیسی ہی پابندیاں کیوں نہ عائدکردی جائیں لیکن ہم سر نہیں جھکائیں گے۔
تصاویر

12/6/2016 1:56:46 PM