Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

وہ 29ویں شب .. (گلنار آفرین)۔


وہ 29ویں شب    .. (گلنار آفرین)۔
 Posted on: 8/8/2015 1
وہ رات کیسی رات تھی
وہ کیسی 29ویں شب تھی
جو آنسو ؤں میں بہے گئی
جو درد بن کے رہ گئی
وہ لوگ کون لوگ تھے ؟
جو 29ویں شب آئے تھے
جو وردیوں کی دھوپ میں
شب سیا ہ لائے تھے
ستم کے آسمان کو
سر وں پہ یوں اٹھا ئے تھے
کہ اس گھڑی ،فلک کی آنکھ لگ گئی
مسرتوں کی زندگی
شب الم سے جڑ گئی
وہ لوگ کون لوگ تھے ؟
جو ڈھارہے تھے یو ں ستم
انہیں اٹھا کے لے گئے
جوپڑھ رہے نماز تھے
خدا سے ہم کلام تھے
تھے بے قصور و بے خطا
ظلم وستم کی انتہا ،ماہ تمام ڈھ گیا
کیا نام دیں انہیں بھلا
وہ کون تھے وہ کون تھے ؟
وہ نفرتوں کی آگ میں
دست ستم کے تیر تھے
اور زندگی کے باغ میں
دست اجل کو لائے تھے
پھر یوں ہوا کہ بام و در
لہو لہوسے ہوگئے
سارے دیئے بجھا دیئے
شمع ستم جلا گئے
وہ کون تھے ،وہ کون تھے ؟
تاریخ گواہ ہے کہ
معمار اس وطن کے ہیں
بنیاد ہیں زمین کے ہم
ورق ورق لکھی ہوئی
لہو سے وہ عبارتیں
شہادتوں کے سلسلے
وہ ہجرتوں کے قافلے
سب کچھ بھلا کے رکھ دیا
سب پہ سیاہی پھیر دی
پھر لکھیں گے خون سے
ہم نئے جنو ن سے
یہ بات اب سنیں ذرہ
جو پاسباں وطن کہ ہیں
غدار انہیں مت کہو
ہم جسم وجاں وطن کے ہیں
غداریوں کے دھوپ میں
ہم سائباں وطن کے ہیں
غدار ہمیں مت کہیں
تاریخ گواہ ہے کہ ہم
معمار اس وطن کے ہیں
ہم نے انہیں بھی گل کہا
جو خار اس وطن کے ہیں
غدار ہمیں مت کہیں
مجر م ہمیں بنائیں مت
ہم پاسباں وطن کے ہیں
جو وردیوں کے دھوپ میں
جو 29ویں شب آئے تھے
شب سیاہ لائے تھے
وہ کون تھے وہ کون تھے ؟

9/29/2016 3:25:32 AM