Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کل بھی مسلح فوج کا احترام کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں۔ الطاف حسین


کل بھی مسلح فوج کا احترام کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں۔ الطاف حسین
 Posted on: 8/6/2015 1
کل بھی مسلح فوج کا احترام کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں۔ الطاف حسین
رینجرز، پولیس اور تمام قومی اداروں کی عزت اوراحترام کرتے ہیں
ہم اناپرست نہیں ہیں، ہماری بات سنی جائے، ہماری شکایات کاازالہ کیاجائے اور لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھاجائے
وزیراعظم نوازشریف، وزیرداخلہ چوہدری نثار اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے اپیل کرتے ہیں کہ لاپتہ اور گرفتارشدگان کو فی الفور رہا کروائیں
جنرل راحیل شریف خصوصی طورپر ان مظلوموں کی فریادیں سنیں اور انہیں انصاف دلائیں
اسپیکر قومی اسمبلی ایازصادق صاحب کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے میرے جذبات سے قومی اسمبلی کے ایوان کو آگاہ کیا
لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں ایم کیوایم کے شہید، اسیر اور لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ کے اجتماع سے ٹیلی فون پر خطاب
لندن ۔۔۔ 6 اگست 2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ہم کل بھی مسلح فوج کااحترام کرتے تھے اورآج بھی کرتے ہیں ،ہم رینجرز، پولیس اور تمام قومی اداروں کی عزت اوراحترام کرتے ہیں۔فوج ، رینجرزاورپولیس ہماری ہے ،اس کے افسران ، جوان اور ان کے بھائی بچے، ہمارے بھائیوں اوربچوں کی طرح ہیں ۔ ہم اناپرست نہیں ہیں، ہمارایہی کہنا ہے کہ ہماری بات سنی جائے، ہماری شکایات کاازالہ کیا جائے، لوگوں کوانصاف فراہم کیاجائے اور لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھاجائے ۔ وزیراعظم نوازشریف، وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایم کیوایم کے شہیدکارکنوں کے لواحقین کوانصاف دلائیں اورلاپتہ اور گرفتار شدگان کوفی الفوررہاکروائیں اورانہیں انکے اہل خانہ سے ملوائیں جواپنے پیاروں سے ملنے اورانصاف کی تلاش میں درربدرمارے مارے پھررہے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کوخصوصی طورپرمخاطب کرتے ہوئے کہاہے کہ آپ ان مظلوموں کی فریادیں سنیں اور انہیں انصاف دلائیں۔ ان خیالات کا اظہار جناب الطاف حسین نے جمعرات کو لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں ایم کیوایم کے شہید، اسیروں اور لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ کے اجتماع سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع میں ایم کیوایم کے شہید کارکنان کے لواحقین کے علاوہ لاپتہ اور اسیر کارکنان کے والدین ، بہن بھائی اور بیوی بچوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی ۔ اس موقع پر انتہائی رقت انگیز مناظر دیکھنے میں آئے ۔ شہید،لاپتہ او ر اسیر کارکنان کے اہل خانہ خود پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستانیں بیان کرتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور پھوٹ پھوٹ کررونے لگے ۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب ایم کیوایم کی تحریک وجودمیں آئی اس وقت سے لیکرآج کے دن تک 37سالہ جدوجہدمیں ہزاروں ساتھیوں نے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کیا،تمام ترمظالم ،سازشوں اورمنفی پروپیگنڈوں کے باوجودایم کیوایم آج تک اگرقائم ہے تووہ شہیدوں، حراست کے دوران بہیمانہ تشدد کے باعث معذورہونے ،جھوٹے الزامات میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے اسیروں اور لاپتہ کارکنوں کی قربانیوں کی بدولت قائم ہے۔جناب الطاف حسین نے حق پرست شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ شہیدوں،اسیروں اورلاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ کوسلام ہے کہ وہ تمام ترمظالم اورمصائب ومشکلات کے باوجودآج تک تحریک سے جڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حق پرستی کی جدوجہد میں ایم کیوایم کے ہزاروں ساتھی شہیدہوگئے جواب واپس نہیں آسکتے۔ ارباب اقتدار اور سیکوریٹی ایجنسیوں کے افسران ذرا سوچیں کہ جس کابیٹا،بھائی ،باپ چلاگیااور سہاگ شہید کردیا گیا ہو اس کے دل پر کیاگزرتی ہے یہ صرف وہی جانتاہے۔ اپنے بیٹے ، بھائی، باپ اور شوہر کے لئے ہرکسی کے وہی جذبات ہوتے ہیں جوکسی دوسرے کے ہوتے ہیں کیونکہ اپنے پیاروں کے بچھڑجانے کا غم سب کاایک جیساہی ہوتاہے اور اس دکھ درد کوسمجھنے کی ضرورت ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہرملک میں اپناقانون ہوتاہے،قیام امن کے لئے پولیس ، تھانے ، عدالتیں اورجیلیں ہوتی ہیں، اگرکوئی فردکسی غیرقانونی عمل میں ملوث ہو،کسی پر کوئی مقدمہ ہویاکوئی کسی مقدمہ میں مطلوب ہوتو اس کیلئے ایک قانون موجودہے، قانون کے مطابق اسے گرفتارکیاجاتاہے،تھانے میں تفتیش کی جاتی ہے، عدالتوں میں چالان پیش کیا جاتا ہے پھراس کاٹرائل کیاجاتاہے ۔اگرملزم پر جرم ثابت ہوجائے تو عدالت ،قانون کے مطابق اسے سزادیتی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ یہ ایک قانونی طریقہ کار ہے،کوئی بھی اس قانونی طریقہ کارکی مخالفت نہیں کرسکتا،ہم بھی قانونی کارروائی کے ہرگزمخالف نہیں لیکن کسی کو صرف اورصرف ایم کیوایم سے وابستہ ہونے کی بنیادپر گرفتار کرنا، گرفتاری کے بعدسرکاری حراست میں بہیمانہ تشددکانشانہ بنانا،عدالت میں پیش کرنے کے بجائے غائب کردینااورحراست میں تشددکرکے ماورائے عدالت قتل کردیناسراسرغلط ہے،اس عمل کو کسی بھی مہذب معاشرے میں جائز قرارنہیں دیاجاسکتا ۔ہمارااعتراض اوراحتجاج اسی بات پر ہے کہ کسی بھی شہری کوگرفتارکرکے ماورائے عدالت قتل کردینامہذب ملکوں میں نہیں ہوتا، کسی ملک کی فوج، رینجرزیا پولیس کو اپنے شہریوں پر ایساظلم وستم نہیں کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز میڈیاکے ذریعہ رینجرزکی جانب سے ایک خط جاری کیاگیاہے جس میں 187 افراد کی فہرست منسلک ہے اورخط میں یہ کہا گیا ہے کہ ایم کیوایم کے ان لوگوں کوقانون کے حوالے کیاجائے جو 1992ء سے آج تک پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہیں۔ آج اس اجتماع میں ایم کیوایم کے شہیدوں،اسیروں اور لاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ موجودہیں جوبرسوں سے انصاف کے منتظرہیں،ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کے پیاروں کو شہیدکردیا گیالیکن انکے قاتلوں کوآج تک گرفتارنہیں کیا گیا،اجتماع میں ان کارکنان کے اہل خانہ بھی موجود ہیں جنہیں گرفتار کرکے لاپتہ کردیاگیا، بہت سے ماورائے عدالت قتل کئے گئے افرادکی تولاشیں مل گئیں جبکہ بہت سے ایسے ہیں جو آج تک لاپتہ ہیں۔چوہدری شجاعت حسین جو 1998ء میں وفاقی وزیرداخلہ کی حیثیت سے سینیٹ کے ایوان مین یہ بیان دے چکے ہیں کہ نصیراللہ بابرکے زمانے میں ایم کیوایم کے بہت سے لوگوں کو مارکراسلام آباد کی مارگلہ کی پہاڑیوں میں دفنادیاگیا تھا، اس پر نہ تو عدالتوں نے کوئی ازخود نوٹس لیااور نہ ہی مظلوموں کو انصاف فراہم کرنے کیلئے کوئی کمیشن تشکیل دیا گیا۔ ان کے پیارے کس سے انصاف طلب کریں؟حالیہ آپریشن کے دوران گرفتارکئے گئے متعددکارکنان آج تک لاپتہ ہیں جن کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے در در مارے مارے پھررہے ہیں، آخرلوگوں کوگرفتارکرکے غائب کردیناکہاں کا انصاف ہے؟اگرصلح صفائی میں اس طرح سے فیصلے ہونے لگیں تو میرے خیال میں کوئی بھی صلح پر نہیں پہنچ سکے گا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم اناپرست نہیں ہیں، ہمارایہی کہنا ہے کہ ہماری بات سنی جائے، ہماری شکایات کا ازالہ کیاجائے،لوگوں کوانصاف فراہم کیاجائے اور لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھاجائے ۔پانچ روز قبل ایم کیوایم کے 12 کارکنان کو جامشورو سے گرفتارکیاگیا جو ایک شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے حیدرآباد جارہے تھے ۔ ان میں سے چارکارکنان وہمدرد آج تک لاپتہ ہیں اور آج کے اجلاس کے انتظامات کرنے والے دوکارکنان کو رینجرز نے کورنگی کے علاقے سے گرفتار کرلیا۔ میرا سوال ہے کہ کیا شہداء، لاپتہ اوراسیرکارکنوں کے اہل خانہ کو گاڑیوں میں سوارکرانا کوئی گناہ ہے ؟جناب الطاف حسین نے کہا کہ ہم کل بھی مسلح فوج کااحترام کرتے تھے اورآج بھی کرتے ہیں۔گزشتہ روز اسپیکرقومی اسمبلی سردارایازصادق صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے یہی کہاکہ ہم کل بھی فوج کااحترام کرتے تھے،آج بھی کرتے ہیں،ہم رینجرزاورپولیس کابھی احترام کرتے ہیں،ہم تمام قومی اداروں کی عزت اوراحترام کرتے ہیں،فوج ، رینجرزاورپولیس ہماری ہے ،اس کے افسران ، جوان اور ان کے بھائی بچے، ہمارے بھائیوں اوربچوں کی طرح ہیں ۔ میں اسپیکرقومی اسمبلی ایازصادق صاحب کاشکرگزار ہوں کہ انہوں نے میرے جذبات سے قومی اسمبلی کے ایوان کوآگاہ کیا۔جناب الطاف حسین نے اجلاس کے تمام شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ اپنے پیاروں سے بچھڑنے پر جس دکھ اور کرب سے گزررہے ہیں میں اس دکھ اور کرب کو اچھی طرح سمجھ سکتاہوں، میں نے 37 برس غریبوں ، محروموں اور مظلوموں کے حقوق کی جدوجہد کی اورآج کے دن تک کررہاہوں لیکن ٹی وی ٹاک شوز میں ہرجگہ ایک ہی مطالبہ کیاجارہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ، مہاجروں کے خلاف ہرظلم بند کردے گی ، کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی بندکردیاجائے گا اگر ایم کیوایم کو الطاف حسین کے بغیرچلایاجائے ۔ آپ اللہ کوگواہ بناکر بتائیں کہ کیاقوم کو بچانے کیلئے آپ الطاف حسین کی قربانی نہیں دے سکتے؟ جس پر اجتماع کے شرکاء نے یک زبان ہوکر کہا’’ہرگز نہیں‘‘ ، ’’ہم اپنی آخری سانس تک آپ کے ساتھ ہیں‘‘ اس موقع پر پورا پنڈال ، ہم نہ ہوں ، ہمارے بعد۔۔۔الطاف الطاف کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ مجھے جلاوطنی کی زندگی گزارتے ہوئے 25 برس ہوگئے لندن کے ساتھی گواہ ہیں کہ میں اپنے سگے بہن بھائیوں سے بھی نہیں ملااور اپنے ساتھیوں کے ساتھ اکیلے زندگی گزاررہاہوں ، اس جدوجہد میں میرے 66 سالہ بڑے بھائی ناصر حسین اور 28 سالہ بھتیجے عارف حسین کوشہید کردیا گیا، میرے پورے خاندان کو دربدر کردیاگیا لیکن میں نے کسی حکومتی پیشکش کو قبول نہیں کیا، نہ کسی زمینی طاقت کے آگے اپنا سرجھکایااور نہ آخری سانس تک جھکاؤں گا۔ جناب الطاف حسین نے شہداء کے لواحقین ، اسیر، لاپتہ ، معذوراور زخمی کارکنان کے اہل خانہ سے دریافت کیا کہ جس دن تحریک آپ سے کہے کہ بذریعہ ٹرین اسلام آباد پہنچو تو کیا آپ اسلام آباد جانے کیلئے تیارہوگے ؟ اس پر اجلاس کے تمام شرکاء نے بلند آواز سے جواب ’’ہم تیارہیں‘‘جناب الطاف حسین نے کہاکہ 187کارکنان کی فہرست دینے کے بجائے ان افراد کے نام پتہ ہمیں فراہم کیے جائیں ،اگروہ کسی جرم میں ملوث ہیں تو ہم انہیں آپ کے حوالہ کریں گے لیکن پھر اس اجلاس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے بیٹوں، بھائیوں ، والد اور شوہروں کے قاتلوں کو بھی عدالت کے کٹھہرے میں لانا ہوگا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ٹی وی چلا چلاکرکہہ رہے ہیں کہ الطاف حسین نے ڈیلاس میں اتنی سخت تقریرکردی،اس کابدلہ رینجرزاورفوج کراچی میں لے رہی ہیں، اس سے ایم کیوایم کے رہنماڈرگئے۔انہوں نے کہاکہ نائن زیروپرچھاپوں اور گرفتاریوں اورتمام ترمصائب ومشکلات کے باوجودکئی رابطہ کمیٹی کے ارکان اورذمہ داران نائن زیروپر تنظیمی خدمات انجام دے رہے ہیں،میں انہیں خراج تحسین پیش کرتاہوں۔انہوں نے کہاکہ اسلام آبادمیں سازش ہورہی ہے کہ کچھ لوگوں کوخریدکرایک نئی ایم کیوایم بنائی جائے۔انہوں نے حاظرین سے سوال کیاکہ اگرایساہواتوآپ کیاکریں گے؟ اس پر حاظرین نے ایک آوازہوکرجواب دیا’’ہم آپ کے ساتھ ہیں‘‘ ۔ انہوں نے کہاکہ چاہے کیسی ہی سازش کرلی جائے، چاہے کوئی بھی بک جائے ،مجھے یقین ہے کہ تحریک کے شہیدوں، اسیروں اورلاپتہ ساتھیوں کے اہل خانہ الطاف بھائی کاساتھ نہیں چھوڑیں گے اورٹی وی پرکئے جانیوالے منفی اورزہریلے پروپیگنڈے کاشکار نہیں ہوں گے۔ جناب الطاف حسین نے شہیدوں، لاپتہ اوراسیرکارکنوں کے اہل خانہ سے کہاکہ وہ اپنے بیٹوں ، بھائیوں اورشوہروں کی تفصیلات تحریر کریں تاکہ اس کوپرنٹ کرواکراسے انسانی حقوق کے اداروں تک پہنچایاجائے اور انہیں بتایاجائے کہ ایم کیوایم کے کارکنوں اورحق پرست عوام کے ساتھ کیا ظلم ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے کہا جاتا ہے کہ انصاف کیلئے عدالتوں سے رجوع کریں،جب عدالتیں ہماری سنتی نہیں توہم انصاف کیلئے کہاں جائیں ؟ انہوں نے کہاکہ میں آصف زرداری کی طرح نہیں کہہ سکتاجنہوں نے جرنیلوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کی لیکن ان کوتوچھوڑ دیا گیا لیکن مجھے نشانہ بنایاجارہاہے۔اجتماع میں موجود شہیدوں کے لواحقین ، اسیراورلاپتہ کارکنوں کے بیوی بچوں، بوڑھے ماں باپ اور بہن بھائیوں نے جب جناب الطاف حسین کواپنے پیاروں کی شہادت، ان کی گرفتاریوں اورلاپتہ ہونے کے واقعات رو روکرسنائے توجناب الطاف حسین ان کی باتیں سنکر خود بھی رو پڑے ۔ انہوں نے رندھی ہوئی آوازمیں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ان مظلوموں کی فریادیں سنیں اوردیکھیں کہ لوگوں پر کیسا کیسا ظلم ہورہاہے۔خدارا انہیں انصاف دلائیں۔انہوں نے دعاکرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ توہمیں انصاف فراہم کراورہماری غیب سے مدد فرما۔ جناب الطاف حسین نے وزیراعظم نوازشریف، وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے اپیل کی کہ وہ ایم کیوایم کے شہیدکارکنوں کے لواحقین کوانصاف دلائیں اورلاپتہ اور گرفتار شدگان کوفی الفوررہاکروائیں اورانہیں انکے اہل خانہ سے ملوائیں جواپنے پیاروں سے ملنے اورانصاف کی تلاش میں درربدرمارے مارے پھررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں سہاگنوں کے شوہروں، بچوں کے باپ،بوڑھے والدین کوان کے بیٹوں اوربھائیوں سے ملانے کیلئے کوششیں کرتارہوں گا۔ انہوں نے وکلاء کمیٹی سے بھی کہاکہ وہ لاپتہ ساتھیوں کے اہل خانہ انصاف کودلانے کے لئے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں اوراس سلسلے میں بھرپورکوشش کریں۔جناب الطاف حسین نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ عطیات جمع کرائیں تاکہ مظلوموں کو انصاف کی فراہمی کیلئے وکلاء کی خدمات حاصل کی جاسکیں۔ 

10/1/2016 3:40:38 AM