Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اتحاد بین المسلین اور اتحاد بین المذاہب کے لئے اس وقت تک عملًا کوششیں کرتا رہوں گا جب تک میرے جسم میں ایک بھی سانس باقی ہے۔الطاف حسین


اتحاد بین المسلین اور اتحاد بین المذاہب کے لئے اس وقت تک عملًا کوششیں کرتا رہوں گا جب تک میرے جسم میں ایک بھی سانس باقی ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 7/20/2013
اتحاد بین المسلین اور اتحاد بین المذاہب کے لئے اس وقت تک عملًا کوششیں کرتا رہوں گا جب تک میرے جسم میں ایک بھی سانس باقی ہے۔الطاف حسین
حضرت بی بی زینبؓ نے یزیدیت کے آگے سرنہ جھکا کر اسلام کا نام بلند کر دیا۔
دہشت گردوں نے ان کے مزار پر حملہ نہیں کیا ہے بلکہ ملت اسلامیہ کی وحدت اور اتحاد پر حملہ کیا ہے۔
آج مسلمانوں کو یہ سوچنا ہو گا کہ وہ کون سی قوتیں ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے درمیان اتنی نفرتیں پھیلادی ہیں کہ بعض لوگ اولاد رسول ؐ کی نشانیوں تک کو نشانہ بنارہے ہیں
جناب الطاف حسین کی ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین سے گفتگو
لندن۔۔۔20 جولائی2013 ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ شام میں حضرت بی بی زینبؓ کے مزار پرجو حملہ ہوا ہے اس سے مجھے شدید صدمہ پہنچا ہے۔سیدہ بی بی زینبؓ نبی آخر الزمان کی نواسی ،خاتون جنت حضرت فاطمتہ الزھراؓ کی بیٹی اور حضرت علی کرم اللہ وجہ کے جگر کا ٹکڑا تھیں۔ دہشت گردوں نے ان کے مزار پر حملہ نہیں کیا ہے بلکہ ملت اسلامیہ کی وحدت اور اتحاد پر حملہ کیا ہے۔ جناب الطاف حسین نے یہ بات ہفتہ کی صبح ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں اپنی جدوجہد کے پہلے روز سے شیعہ سنی اتحاد کا داعی رہا ہوں اورخواہ میرے خلاف کتنی ہی سازشیں کر لی جائیں مگر میں اتحاد بین المسلین اور اتحاد بین المذاہب کے لئے اس وقت تک عملاً کوششیں کرتا رہوں گاجب تک میرے جسم میں ایک بھی سانس باقی ہے۔انہوں نے کہا کہ گلگت اور ہزار وال میں شیعوں کا قتل ہو یا کوئٹہ میں اہل تشیع پر بموں سے حملے ہوں، عباس ٹاؤن کا سانحہ ہو یا جامع کلاتھ بم دھماکہ، صرف ایم کیو ایم ہی وہ واحد جماعت تھی جس نے نہ صرف ان سانحات پر آواز اٹھائی بلکہ اس کے کارکنان نے ان سانحات کے متاثرین کے لئے عملا جدوجہد بھی کی۔جب جامع کلاتھ پر بم دھماکہ ہوا تو اس دہشت گردی میں صرف شیعہ ہی نہیں بلکہ ایم کیو ایم کے سنی کارکن بھی بڑی تعداد میں شہید ہوئے ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ آج مسلمانوں کو یہ سوچنا ہو گا کہ وہ کون سی قوتیں ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے درمیان اتنی نفرتیں پھیلادی ہیں کہ بعض لوگ اولاد رسول ؐ کی نشانیوں تک کو نشانہ بنارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حضرت بی بی زینبؓ نے یزیدیت کے آگے سرنہ جھکا کر اسلام کا نام بلند کر دیا۔خاتون ہوتے ہوئے انہوں نے مظالم کا بہادری سے مقابلہ کیا اور مسلمانوں کی رہنمائی کی۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ ایمان ہے کہ محشر کے روز آنحضرتؐ ہماری شفاعت کے لئے موجود ہوں گے جبکہ حضرت فاطمتہ الزھرا ؓ خاتون جنت کہلاتی ہیں ۔اولاد رسولؐ کا بہت بڑا مقام ہے لیکن جب میں یہ بات کرتا ہوں تو بعض افراد خفا ہو جاتے ہیں اور میرے بارے میں غلط فہمیاں پھیلاتے ہیں۔ کوئی میرے بارے میں کتنے ہی الزامات لگائے لیکن میں الزامات لگانے والوں سے یہ کہوں گا کہ تم رسول اللہؐ کو مانے بغیر مسلمان نہیں ہو سکتے اور رسول اللہ ؐ کی اولاد کو مانے بغیر تم اللہ اور اس کے رسول ؐ سے سچی محبت کے دعویدارنہیں ہو سکتے۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ رسول اللہؐ کے دشمنوں نے یہ باتیں کہیں کہ آپؐ کی کوئی اولاد نرینہ نہیں لہٰذا ان کی نسل ہی آگے نہیں چلے گی لیکن آج نہ صرف پوری دنیا میں رسول اللہ ؐ کے نام لیوا موجود ہیں بلکہ سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اولاد کی پیدائش میں مرد و عورت کا برابر کا حصہ ہوتا ہے۔اگر ہم سائنس کو نکال بھی دیں تب بھی تو رسول اللہ ؐ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کے شوہر حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہی تھے جو آنحضرتؐ کے سگے چچا زاد تھے اور آپؐ کا خون تھے۔جناب الطاف حسین نے آنحضرتؐ کے شجرہ نسب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہؐ کے والد حضرت عبداللہ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے والد ابو طالب دونوں حضرت عبدالمطلب کی اولاد تھے اور آنحضرتؐ کی بیٹی حضرت فاطمہؓ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شادی ہوئی اور حضرت فاطمہؓ کے بطن سے حضرت زینبؓ نے جنم لیا یعنی حضرت زینب حضرت عبداللہ کی پڑ نواسی ، آنحضرتؐ کی نواسی اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت فاطمہؓ کی اولاد تھیں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں نے یہ پوری تفصیل اس لئے بیان کی ہے کہ تمام مسلمان جان سکیں کہ حضرت زینبؓ کا نبی کریم ؐ سے کیا رشتہ تھا اور کس طرح ان پر ہونے والا حملہ تمام مسلمانوں پر حملہ ہے۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ میری جان اللہ کی امانت ہے اور جب تک میری ایک بھی سانس باقی ہے میں اتحاد بین المسلمین اور اتحاد بین المذاہب کے لئے کوشاں رہوں گا۔بہت سے لوگ میری بات سے اتفاق کرتے ہیں جبکہ کچھ مخالفت بھی کرتے ہیں لیکن مجھے مخالفت کی پرواہ نہیں اور میں جب تک زندہ ہوں سچ بولتا رہوں گا۔

12/3/2016 9:35:29 AM