Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کے کارکنان کے ماورئے عدالت قتل اور لاپتہ کئے جانے کے واقعات پر فوری جوڈیشل کمیشن قائم کیاجائے ، رابطہ کمیٹی ارکان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور کنور نوید جمیل


ایم کیوایم کے کارکنان کے ماورئے عدالت قتل اور لاپتہ کئے جانے کے واقعات پر فوری جوڈیشل کمیشن قائم کیاجائے ، رابطہ کمیٹی ارکان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور کنور نوید جمیل
 Posted on: 6/3/2015 1
ایم کیوایم کے کارکنان کے ماورئے عدالت قتل اور لاپتہ کئے جانے کے واقعات پر فوری جوڈیشل کمیشن قائم کیاجائے ، رابطہ کمیٹی ارکان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور کنور نوید جمیل 
کراچی آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے 40کارکنان ماورائے عدالت قتل ، 92مختلف ایجنسیوں کے ہاتھوں گرفتاریوں کے بعد سے تاحال لاپتہ اور 190کاررکنان قتل ہوچکے ہیں ،خالد مقبول صدیقی
ایم کیو ایم کو انتقامی کاروائی کا نشانہ بناتے ہوئے عامر خان کو بھی جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا جارہا ہے ،کنور نوید جمیل 
انسانی حقوق کی تنظیمیں کراچی کے نوجوانوں کے مقدمے کو انسانی حقوق کا مسئلہ سمجھیں اور ان کے کیس کو بھی اٹھائیں ،خالد مقبول صدیقی
کراچی آپریشن کے نام پر کراچی کے بے گناہ لوگوں کو گرفتا ر، لاپتہ اور سرکاری ایجنسیوں کی تحویل میں قتل کیاجارہاہے ،خالد مقبول صدیقی 
کراچی کے لوگوں کو ایم کیوایم کیلئے کام کرنا جرم بنا دیا گیا ہے ، کوئی ایم کیوایم سے وابستہ ہے تو یہی اس کا جرم ہے، آپریشن کوئی بھی ہو وہ قانون اور عدلیہ کے ماتحت ہوتا ہے ، خالد مقبول صدیقی
وسیم دہلوی شہید اور ایم کیوایم کے دیگر کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث افراد پر قتل کا مقدمہ چلایا کر سزا دی جائے اور یہ بھی پتہ چلایا جائے کہ کن کی ایماء پر یہ قاتل پولیس افسران اور اہلکار تعینات کئے گئے ، کنور نوید جمیل 
کراچی آپریشن میں ہونے والی زیادتیوں کے ازالہ کیلئے مانیٹرنگ کمیٹی بار بار مطالبے کے باوجود تشکیل نہیں دی گئی ، خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی ۔۔۔3، جون 2015ء 
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور کنور نوید جمیل نے کہا ہے کہ ایم کیوایم بلدیہ ٹاؤن سیکٹر یونٹ 117کے کارکن وسیم دہلوی کے ماورائے عدالت قتل سے ثابت ہوا کہ ایم کیوایم کے کارکنوں کو دوبارہ لاپتہ کرنے اور ماورائے عدالت قتل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے،یہ سلسلہ دوبارہ شروع کرنے پر ایم کیوایم نے بدھ اور جمعرات کو دو روزہ پرامن یوم سوگ کا اعلان کیا ہے ،ہم یوم سوگ کی حمایت پر تاجروں ، دکاندروں اور کاروباری حضرات کے شکر گزار ہیں ،ایم کیوایم کے 92کارکنان ایسے ہیں جنہیں کراچی آپریشن میں حصہ لینے والی مختلف ایجنسیوں نے گرفتا رکیا ہے اور وہ آج کے دن تک تاحال لاپتہ ہیں ،آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے40کارکنان ماورائے عدالت قتل کئے جاچکے ہیں ان میں سے کسی ایک کارکن کا قاتل تاحال گرفتارنہیں ہوا ہے انہوں نے صدر ، وزریاعظم ، وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کراچی میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات کو بھی دیکھیں ، یہ ان کی ذمہ داری ہے ، عدلیہ کی کراچی کے بچوں کے معاملے میں خاموشی سوالیہ نشان ہے ،ایم کیوایم کے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ کئے جانے کے واقعات پر فوری جوڈیشل کمیشن بنایاجائے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کی شام خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے رکن عارف خان ایڈووکیٹ ، سینیٹرکرنل (ر) طاہر مشہدی اور رکن قومی اسمبلی عبدالوسیم بھی موجود تھے ۔ رابطہ کمیٹی کے ارکان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ پیر اور منگل کی درمیانی شب سادہ لباس پولیس اہلکاروں نے بلدیہ ٹاؤن نمبر 3میں ہمارے کارکن وسیم دہلوی کے گھر پر چھاپہ مارا اور وسیم دہلوی شہید سمیت ان کے دو بھائیوں نعیم اور عادل کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر لے گئے ۔ ان کے اہل خانہ اور ہم ان کے متعلق تمام ایجنسیوں ، پولیس سے معلومات کرتے رہے لیکن سب لاعلمی کااظہار کرتے رہے ۔یہ سلسلہ بہت عرصے سے جاری ہے کہ سادہ لباس میں ملبوس سرکاری اہلکار گھروں میں گھس کر،بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑیوں میں آکر ایم کیوایم کے کارکنان کو گرفتاری کے نام پراغوا ء کرتے رہے ہیں اور ایسے واقعا ت میں درجنوں ساتھی آج تک لاپتہ ہیں یا پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں شہر کے ویرانوں سے ملی ۔ آج وسیم دہلوی شہید جن پر عزیز بھٹی تھانے میں بے تحاشہ تشدد کیا گیا اور جناح اسپتال میں جب ان کی ڈیتھ باڈی لائی گئی اور پوسٹ مارٹم سے ثابت ہوا کہ ان کی شہادت بہیمانہ تشدد کے ذریعے ہوئی ہے جو دل کے دورہ کا سبب بنی ۔ یہ سلسلہ جو کہ کافی عرصے سے جاری ہے اسی لئے ہم نے وسیم دہلوی شہید جیسے شریف اور ملنسار ساتھی کی شہادت پر 2روزہ پرامن یوم سوگ کا اعلان کیا ہے اورہم نے ٹرانسپورٹر ، دکانداروں ، تاجروں سے اپیل کی تھی کہ یوم سوگ میں ہمارا ساتھ دیں ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے ساتھ تعاون کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصے پہلے بھی اسی عزیز بھٹی تھانے میں پولیس کا ایک جعلی ٹارچر سیل برآمد ہوا تھا اور اس کے بعد پولیس اہلکاروں کو معطل بھی کیا گیا تھا اور ان کے افسران و اہلکاروں کے نام میڈیا پرآچکے تھے اورو سیم دہلوی شہید پر دوران حراست تشدد میں جن پولیس افسران اور اہلکاروں کے نا سامنے آئے ہیں انہیں اس قسم کے تشدد میں ملوث ہونے پر پہلے بھی ہٹایا گیا تھا پھر انہیں کس کی ایماء پر دوبارہ تعینات کیا گیا ؟ ان کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی گئی ؟؂ ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ چند ہفتوں میں ہمارے نیو کراچی کے سیکٹر انچارج علی رضا ، گلشن اقبال کے سیکٹر انچارج محمد شاہد ، مرکزی میڈیکل ایڈ کمیٹی کے رکن فرید کو اسی انداز میں اغواء کیا گیا اور آج تک ان کا پتا نہیں چل رہا ہے اور اس کی ایک لمبی فہرست ہے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں جو آپریشن شروع ہوا اس کا مطالبہ ایم کیوایم نے کیا تھا اور ایم کیوایم نے یہ مطالبہ اس لئے کیا تھا لیکن بد قسمتی سے ماضی کے تمام آپریشنوں کی طرح سے اس آپریشن نے بھی شروع ہونے کے تھوڑے ہی دن بعد سیاسی رخ اختیار کرلیا اور پھراس آپریشن کا ٹارگٹ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں بلکہ ایم کیوایم کا خاتمہ ہوگیا یہی وجہ ہے کہ آج بھی ایم کیوایم کے 92کارکنان ایسے ہیں جنہیں کراچی کے آپریشن میں حصہ لینے والی مختلف ایجنسیوں نے گرفتا رکیا ہے اور وہ آج کے دن تک تاحال لاپتہ ہیں اور ہم دکھ کے ساتھ کہتے ہیں کہ مظلوم لوگوں کیلئے واحد سہارا عدلیہ ہوتی ہے لیکن ہمارے ان بے گناہ کارکنوں کو عدلیہ بھی کوئی ریلیف فراہم نہیں کررہی ہے جس سے واضح طور پر اس بات کا اندازہ ہوتا کہ عدلیہ بھی دباؤ کا شکار ہے ۔ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن عامر خان جنہیں 11مارچ 2015ء کو نائن زیرو پر چھاپے کے دوران یہ کہہ کر لے جایا گیا کہ یہ ہمارے مہمان ہیں مگر اب اطلاعات ہیں کہ انہیں بھی جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا جارہا ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایم کیو ایم کو کسی کھلی انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جاہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شروع میں کہا گیا تھا کہ آپریشن میں ہونے والی زیادتیوں کے ازالہ کے لئے ایک مانیٹرنگ کمیٹی قائم کی جائے گی لیکن ہمارے باربارکے مطالبے کے باوجود مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی اورپولیس، رینجرزاورقانون نافذ کرنے والے اداروں کواپنی من مانی اورایم کیوایم کے کارکنوں اورعوام کوزیادتیوں کانشانہ بنانے کی کھلی اجازت دیدی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران وسیم دہلوی کا ماورائے عدالت قتل 40واں واقعہ ہے ،وسیم دہلوی شہید سمیت ایم کیوایم کے 40ایسے کارکنان جنہیں گرفتا رکیا گیا اس کے گواہ اہل محلہ تھے بعد میں ان کی لاشیں ویران جگہوں سے ملی،بہت سے بے گناہ لوگوں کوایم کیو ایم کے کارکن اور ہمدردہونے کی وجہ سے گرفتا رکیا گیا ، ایم کیوایم پاکستان کی تیسری اور سندھ کی سب سے دوسری بڑی جماعت اور کراچی کی سب سے بڑی جماعت ہے اس کا کام کرنا بھی کراچی کے لوگوں کیلئے جرم بنا دیا گیا ہے ۔کراچی میں اس وقت پاکستان کانہیں بلکہ جنگل کاقانون نافذہے ۔کنور نوید جمیل نے کہا کہ شہرکے معصوم نوجوانوں خاص طورپرایم کیوایم کے کارکنوں اورہمدردوں کوپکڑپکڑکرغائب کیاجارہاہے۔ان کے گھروالے دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں مگرکوئی یہ بتانے کے لئے تیارنہیں ہوتاکہ ان کے بچوں کوکس جرم میں گرفتارکیاگیاہے اورکہاں رکھا گیاہے، وہ عدالتوں کے چکرلگائیں تب بھی پولیس ،رینجرزاورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام گرفتارشدگان کے بارے میں کچھ بتانے کے لئے تیارنہیں ہوتے۔انہوں نے کہاکہ ذوالفقارمرزانے اپنی نجی فوج بنائی ، ان میں کھلے عام اسلحہ تقسیم کیا، اس کے مسلح دہشت گردوں نے پولیس اورسرکاری اہلکاروں پر حملوں کے لئے مورچہ بندہوکرکارروائیاں کیں ، تھانوں پر حملہ کیا، پولیس افسران تک کوتشددکا نشانہ بنایالیکن پولیس ،رینجرزنے اس کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اس کوتحفظ کیا لیکن ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں اورذمہ داروں کوگرفتارکیاجارہاہے اورانہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کیاجارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں انسان کے بنیادی حقوق کا تحفظ نہ ہو ،اس کی جان کا تحفظ نہ ہو تو اس کو آزاد ملک نہیں کہا جاسکتا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آزاد وطن میں قانون کو آزاد کرایاجائے اور یہاں پر قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنایاجائے ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ٓاپریشن کے دوران 190کارکنان کا شہید ہونا کراچی میں آپریشن کرنے والے تمام اداروں اور حکومت کیلئے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ ان 190لوگوں میں سے کسی کا قاتل گرفتا رنہیں ہوا ہے ۔ ان کے قاتلوں کو گرفتا رکیاجائے اور وسیم دہلوی سمیت تمام بے گناہ کارکنان جن کی مختلف اداروں کی تحویل میں شہادتیں ہوئی ہیں ان کے قاتلوں کو گرفتا رکیا جائے ، لاپتہ کارکنان جن کی تعداد 92ہے ان سب کو بازیاب کرایاجائے اور اگر ان پر کوئی جرم ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیاجائے ۔، کراچی میں اتنی بڑی تعداد میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں اور بے گناہ لوگ مارے جارہے یہ آپریشن نہیں بلکہ خود بہت بڑی بدمنی ہوگئی ہے کہ کراچی کے بے گناہ لوگوں کو گرفتا رکیاجارہا ہے اور لاپتہ کیاجارہا ہے اور سرکاری ایجنسیوں کی تحویل میں قتل کیاجارہاہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بہت عرصے سے سندھ پولیس نے غیر قانونی طورپر اپنے پرسنل ڈیتھا سکوارڈ بنا رکھے ہیں ،سندھ کی نسل پرست پولیس نہ صرف ایم کیوایم کے کارکنوں ، کراچی کے نوجوانوں کو اپنے تعصب کاشکار کررہی ہے بلکہ شہر کو لوٹ رہی ہے لوگوں کو پکڑ کر ان سے بھتہ لیتی ہے ، ان کی رہائی کے عیوض بھاری رقم وصول کرتی ہے ۔ انہوں نے سندھ پولیس کو متنبہ کیا کہ ایسا نہ ہو کہ کراچی کے عوام کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑے۔ انہوں نے وسیم دہلوی کے لواحقین سے دلی تعزیت کاظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ وسیم وہلوی کو جواررحمت میں جگہ دے ۔
وڈیو
English Viewers

12/7/2016 4:15:11 PM