Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

بول ٹی وی کے صحافیوں اور مختلف شعبوں کے ملازمین اوران کے اہل خانہ کو فاقہ کشی سے بچایاجائے، الطاف حسین


بول ٹی وی کے صحافیوں اور مختلف شعبوں کے ملازمین اوران کے اہل خانہ کو فاقہ کشی سے بچایاجائے، الطاف حسین
 Posted on: 5/29/2015
بول ٹی وی کے صحافیوں اور مختلف شعبوں کے ملازمین اوران کے اہل خانہ کو فاقہ کشی سے بچایاجائے، الطاف حسین
’’بول‘‘ ٹی وی کے ملازمین کوگزارہ الاؤنس دیا جائے، قائد ایم کیوایم الطاف حسین
بول ٹی وی کے ملازمین نے نہ تو ایگزیکٹ کمپنی قائم کی تھی اور نہ ہی وہ اس کے معاملات کے ذمہ دار ہیں ،الطاف حسین
ایگزیکٹ کے خلاف تحقیقات کی سوفیصد تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں، الطاف حسین
آخر ان ملازمین کو کس قصور کی سزا دی جارہی ہے ؟الطاف حسین
ان ملازمین میں سے بیشتر اپنے گھروں کے واحد کفیل ہیں اور موجودہ بحران کی وجہ سے ہزاروں خاندانوں کا معاشی مستقبل تاریک ہوگیا ہے،الطاف حسین
اس وقت کونسا ایسا ٹی وی چینل ہے جس کے پاس عملہ کسی دوسرے ٹی وی چینل سے نہیں بلکہ براہ راست آیاہو؟الطاف حسین کا سوال
تحقیقات کے دوران بول ٹی وی کے ملازمین سے مجرموں جیسا برتاؤ اور خواتین ملازمین تک کو ہراساں کرنا قابل مذمت ہے، الطاف حسین
صحافتی تنظیمیں اور انسانی حقوق کی انجمنیں اس خالص انسانی مسئلہ کو بھرپورانداز میں اٹھائیں، الطاف حسین کی اپیل
بول ٹی وی سے بے روزگارکیے گئے سینئر اور تجربہ کار ملازمین اوران کے اہل خانہ کو فاقہ کشی سے بچایاجائے، وزیراعظم ، وفاقی وزیرداخلہ ، وزیراعلیٰ سندھ اور ایف آئی اے سندھ کے ڈائریکٹرسے الطاف حسین کا مطالبہ
لندن۔۔۔29، مئی2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایگزیکٹ کمپنی کے بارے میں عدالت کی جانب سے حتمی فیصلہ آنے تک ’’بول‘‘ ٹی وی کے ملازمین کوگزارہ الاؤنس دیا جائے اور ہزاروں خاندانوں کو فاقہ کشی سے بچایاجائے ۔یہ بات انہوں نے ایم کیوایم کے مرکز عزیزآباد میں رابطہ کمیٹی اور دیگر شعبہ جات کے ارکان سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ رزق حلال کمانے کیلئے کاروبار کرنا ہرشہری کا آئینی حق ہے ، اس حق کو استعمال کرتے ہوئے شعیب شیخ نامی شخص نے ’’ایگزیکٹ‘‘ کے نام سے ایک کمپنی بنائی جوکہ کئی برسوں سے کام کررہی تھی اور اس کمپنی میں ہزاروں افراد ملازمت کررہے تھے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایگزیکٹ کمپنی کا نام عوام کے علم میں اس وقت آیا جب اس نے یہ اعلان کیا کہ وہ’’بول‘‘ کے نام سے ایک نئے ٹی وی چینل کاآغاز کرنے جارہی ہے جوجدید سائنسی اورتیکنیکی جدتوں کے ساتھ عوام کے سامنے آئے گا۔ اس کمپنی نے جلد ہی دوسرے چینلز میں کام کرنے والے سینئر صحافیوں ، اینکرپرسنز ، پروڈیوسرز ، ڈائریکٹرز ، ایڈیٹرز ، نیوز ریڈرز،رپورٹرز،کیمرہ مین، اسکرپٹ رائٹرز، صوتی وتیکنیکی اثرات دینے والے ، سیٹ ڈیزائنرز، لائٹ مین، کیمرہ مین، میک اپ آرٹسٹ اور تیکنیکی عملے سمیت دیگر افراد کو بھاری معاوضہ پر بھرتی کرنا شروع کردیا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جب سے پاکستان ٹیلی ویژن کے علاوہ پرائیوٹ کمپنیوں کو نجی ٹی وی بنانے کی اجازت ملی ہے اس وقت سے ملک میں 100 کے قریب چھوٹے بڑے نجی ٹی وی چینل قائم ہوچکے ہیں ۔انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ اس وقت کونسا ایسا ٹی وی چینل ہے جس کے پاس سیاسی تجزیہ نگار، نیوز ریڈرز، اینکرپرسنز، رپورٹرز، کیمر ہ مین اور دیگر عملہ کسی دوسرے ٹی وی چینل سے نہیں بلکہ براہ راست آسمان سے آیاہو؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایگزیکٹ کے خلاف تحقیقات ہورہی ہے اور شفافیت کا تقاضہ ہے کہ تحقیقات کی سوفیصد تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں لیکن بول ٹی وی کے ڈھائی ہزار کے لگ بھگ ملازمین جو کسی نہ کسی ٹی وی چینل سے آکربول ٹی وی چینل میں ملازمت کررہے تھے، اس بحران کی وجہ سے ان کا روزگارخطرے میں پڑگیا ہے اورہرگزرتے دن کے ساتھ ان کی مالی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بول ٹی وی سے وابستہ صحافیوں اور ملازمین نے نہ تو ایگزیکٹ کمپنی قائم کی تھی اور نہ ہی وہ اس کے معاملات کے ذمہ دار ہیں ، آخر ان ملازمین کو کس قصور کی سزا دی جارہی ہے؟ انہوں نے کہاکہ بول ٹی وی میں صرف خطیر معاوضہ پانے والے چند ایگزیکٹو ہی شامل نہیں ہیں بلکہ ہزاروں دیگر ملازمین بھی شامل ہیں جن میں رپورٹرز، فوٹوگرافرز،اسکرپٹ رائٹرز، ایڈیٹرز، مختلف شعبوں کے ٹیکنیشنز، ڈرائیورز اور سیکوریٹی کے عملے کے افراد بھی شامل ہیں ۔ ان ملازمین میں سے بیشتر اپنے گھروں کے واحد کفیل ہیں اور موجودہ بحران کی وجہ سے ان ہزاروں خاندانوں کا معاشی مستقبل تاریک ہوگیا ہے ۔یہ اطلاعات بھی ہیں کہ تحقیقات کے دوران ان ملازمین سے جن کا اس پورے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ان کے ساتھ مجرموں جیسا برتاؤ کیاجارہا ہے حتیٰ کہ ادارے کی خواتین ملازمین تک کو ہراساں کیاجارہا ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے اور قابل مذمت ہے ۔ جناب الطاف حسین نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف ، وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان،وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور ایف آئی اے سندھ کے ڈائریکٹرشوکت حیات سے مطالبہ کیا کہ بول ٹی وی کے مختلف شعبوں کے انتہائی سینئر اور تجربہ کار ملازمین، دیگر عملے اوران کے اہل خانہ کو فاقہ کشی سے بچایاجائے اور جب تک اس معاملہ میں عدالت کی جانب سے حتمی فیصلہ نہیں سنایا جاتا ، ان ملازمین کو حکومت کی جانب سے گزارہ الاؤنس دیا جائے ۔جناب الطاف حسین نے صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کی انجمنوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس خالص انسانی مسئلہ کو اپنے اپنے پلیٹ فارم سے بھرپورانداز میں اٹھائیں اور بول ٹی وی چینل کے ملازمین کی مالی مشکلات کے تدارک کیلئے اپنا مثبت کردارادا کریں۔
English Viewers

9/24/2016 7:16:41 PM