Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اولڈ ٹاؤن کراچی علاقہ غیر ہے یہاں پاکستان کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا، ڈاکٹر فاروق ستار


اولڈ ٹاؤن کراچی علاقہ غیر ہے یہاں پاکستان کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا، ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 6/29/2013
اولڈ ٹاؤن کراچی علاقہ غیر ہے یہاں پاکستان کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا، ڈاکٹر فاروق ستار
جس طرح سے اولڈ ٹاؤن سے سرمایہ نکل رہا ہے، کاروبار تباہ ہورہا ہے ایسی صورتحال ملک اور معیشت کیلئے اچھا شگون نہیں ہے
تاجر و عوام امن و امان، بھتہ خوری کا مستقل حل چاہتے ہیں اور وہ اس سے نجات کیلئے کاروبار بند کرنے اور طویل دھرنا دینے پر بھی تیار ہیں 
بانٹوا گلی میٹھادر میں ہمارے قافلے پر فائرنگ کی گئی اور ہمیں بمشکل اپنی جانیں بچا کر واپسی کا راستہ اختیار کرنا پڑا، ڈاکٹر فاروق ستار
اولڈ ٹاؤن میں حالات کی خرابی کو دو گروہوں کے درمیان لڑائی قرار دیا جارہا ہے جبکہ معاملہ دہشت گردوں کی جانب سے دکانداروں اور کاروباری حضرات پر بھتہ کی وصولی کیلئے پے در پے حملے ہیں
تاجروں نے واضح پیغام دیا ہے کہ ہماری جان اور کاروبار کی حفاظت کا انتظام کیا جائے، بصورت دیگر اعلیٰ حکام، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہمیں بتا دیں تاکہ ہم خود اپنی مدد آپ کے تحت اپنے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھال لیں 
دہشت گردی کی کاروائیاں بڑھ چکی ہے جس سے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں، کوئی مسئلہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن جائے تو اسے روایتی طور پر مرکز اور صوبوں کے درمیان فٹ بال نہیں بنانا چاہئے، ڈاکٹر فاروق ستار 
اولڈ ٹاؤن میں دہشت گردوں کی اپنے قافلے پر فائرنگ اور قاتلانہ حملے کے بعد خورشید بیگم سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی ۔۔۔29، جون 2013ء
قومی اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ا ولڈ ٹاؤن کراچی کا علاقہ غیر ہے ،وہاں پاکستان کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا ، حکومت اور قانون کی کوئی عملداری قائم نہیں ہے ، گزشتہ ایک طویل عرصہ سے اولڈ ٹاؤن کا علاقہ جرائم پیشہ عناصر دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہے ، وہاں کے عوام یرغمالی ہیں ، کاروبار اور تجارت مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے اور خوف و دہشت کا راج ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اولڈ ٹاؤن کراچی کے دورے کے موقع پر گینگ وار کے دہشت گردوں کی جانب سے اپنے قافلے پر فائرنگ اور قاتلانہ حملے کے بعد ہفتہ کی شب ایم کیوایم کے مرکز نائن زیروسے متصل خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آبادمیں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان ڈاکٹر صغیرا حمد ، امین الحق اور حق پرست رکن سندھ اسمبلی کامران حسین بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ اولڈ ٹاؤن کے ایریا میں اور حق پرست رکن سندھ اسمبلی کامران حسین ، تاجروں اور کارکنان کے ہمراہ اپنے حلقہ کا دورہ کررہے تھے کہ ہمیں دورے کو نامکمل چھوڑنا پڑاکیونکہ بانٹوا گلی میٹھادر میں ہمارے قافلے پر فائرنگ کی گئی اور ہمیں مشکل اپنی جانیں بچا کرواپسی کا راستہ اختیار کرنا پڑا ۔انھوں نے کہا کہ حلقہ این اے 248 کے وہ علاقے جو لیاری ٹاؤن میں آتے ہیں وہاں کے کاروباری حضرات باقاعدگی سے بھتہ مافیہ کو ماہانہ بڑی رقم بھتے کی صورت میں دینے کے باوجود ظلم و ستم کا شکار ہیں اور نئے نئے بہانوں سے مزید بھتہ طلب کیے جانے اور نہ دینے پر قتل کردیے جانے کے خوف کا شکار ہیں۔انھوں نے کہا کہ اولڈ ٹاؤن میں حالات کی خرابی کو دو گروہوں کے درمیان لڑائی قرار دیا جارہا ہے جبکہ معاملہ دہشت گردوں کی جانب سے دکانداروں اور کاروباری حضرات پر بھتہ کی وصولی کیلیے پے درپے حملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انکے اپنے حلقے میں جانے کا مقصد گزشتہ روز کھارادر کے علاقے اولڈ ٹاؤن کے محلے میں کئی مقامات پر دہشت گردوں کی فائرنگ ہلاک ہونے والے چار بے گناہ افراد اور متعدد شہریوں کے زخمی ہونے پر جائے وقوعہ کا معائنہ اور شہید افراد کے لواحقین سے ملاقات کرکے اظہار ہمدردی، یکجہتی اور تعزیت کرنا تھا اور وہاں کے دکانداروں، تاجروں اور عوام سے بھی ملاقات کرنی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ابھی ہم وہاں کا دورہ کررہے تھے کہ ہمارے قافلے پر فائرنگ کرکے قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کی گئی اور یہ تاثر دیا گیا کہ گویا یہاں انکا راج ہے اور دیگر کے لیے یہ علاقہ غیر ہے۔انہوں نے کہا کہ جب اس علاقے اور حلقہ کا عوامی نمائندہ وہاں جاکر اپنے ووٹرز ، اپنے حلقہ کے عوام سے ملاقات اور رابطہ نہ کرسکے اور اس میں بھی رکاوٹ ڈالی جائے تو یہ پاکستان کے سیاسی جمہوری عمل ، خاص طور پر صوبہ سندھ کی حکومت اور انتظامیہ کے لیے کھلے سوال ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اولڈ ٹاؤن میں بیس بیس موٹر سائیکل سوار آتے ہیں اور خون کی ہولی کھیلتے ہیں جو حق پرست رکن سندھ اسمبلی ساجد قریشی اور انکے بیٹے کے قتل کی طرح کا واقعہ نہیں ہے کہ دہشت گرد ایک دو موٹرسائیکل پر آئے اور قتل کرکے چلے گئے، اولڈ ٹاؤن کا علاقہ پاکستان کی معیشت کا اہم مرکز ہے ، ہول سیل کے کاروبار کیلئے یہ پورے پاکستان میں جانا اورپہنچانا جاتا ہے ، اسی علاقے سے ملحقہ پاکستان کسٹمز ہاؤس بھی ہے اور دیگر بڑے بڑے مالی مراکز بھی اسی علاقے کے قریب واقع ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اگر فی الفور اس علاقے میں امن و امان اوریہاں تجارت اور کاروبارکی مکمل بحالی کیلئے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتی ہے تو یہ ملک کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا اور شاید اس کے بعد واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا اور اب حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ علاقے کے دورے کے دوران دکانداروں ، تاجروں کی جانب سے پوچھے گئے سوال بالکل جائز تھے کہ جب ہم باقاعدگی سے ٹیکس دیتے ہیں ، اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں توقانون نافذ کرنے والے وہاں کیوں موجود نہیں ہوتے اور ان کی موجودگی کے باوجود بھی ایسے واقعات کیسے رونما ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تاجروں ، عوام میں غم وغصہ اور اشتعال ہے ، کاغذی بازار یا صرافہ بازار ہو ان علاقوں میں اتنا بھتہ دینے کے باوجود جس طرح ڈر و خوف ہے ، لوگ جس طرح زندگی بسر کررہے ہیں جس طرح سے سرمایہ وہاں سے نکل رہا ہے اور کاروبار تباہ ہورہا ہے توایسی صورتحال ملک اور معیشت کیلئے اچھا شگون نہیں ہے لہذا اس سلسلے کو اب روکنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ تاجروں نے ہمیں یہ واضح پیغام دیا ہے کہ ہماری حفاظت کاانتظام کیاجائے ،ہمیں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے رحم وکرم پر نہ چھوڑا جائے اور ہمارے کاروبار اور ہماری زندگیوں کو بھی تحفظ دیاجائے بصورت دیگر اعلیٰ حکام ، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہمیں بتا دیں تاکہ ہم خود اپنی مدد آپ کے تحت اپنے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ د اری سنبھال لیں کیونکہ اب پانی سر سے اونچھا ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور کوئی مسئلہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن جائے تو اسے روایتی طور پر مرکز اور صوبوں کے درمیان فٹ بال نہیں بنانا چاہئے ،مرکز اور صوبوں کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے جبکہ وزیراعظم ،صوبائی وزراء کے ساتھ بیٹھیں ، ان حالات کانوٹس لیں، سدباب کریں ، پاکستان کو بحران سے نکالیں امن عامہ کے مسئلے کو فٹ بال بنایا گیا اور دہشت گردوں کی سرگرمیوں کو لگام نہ دی گئی تویہ یہاں پر اور زیادہ افراتفری اور عدم استحکام پیدا کریں گے جس کے نتیجے میں پاکستان اور کمزور ہوگا۔علاوہ ازیں انھوں نے بتایا کہ دورے کے موقع پر انکی ملاقات عبد الستار ایدھی سے بھی ہوئی تھی جس پر انھوں نے انکی عیادت کی اور خیریت دریافت کی۔دریں اثناء حق پرست رکن سندھ اسمبلی محمد کامران حسین نے بتایا کہ اولڈ ٹاؤن میں تاجر طبقے نے اپنے طور پر بینرز آویزاں کردیے ہیں کہ آئے روز کی بھتہ وصولی کی وجہ سے رمضان میں 6بجے کے بعد کاروباروی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتے جوکہ قابل تشویش بات ہے۔

12/8/2016 8:04:12 AM