Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

حکومت میں شامل ہوں یانہ ہوں،اس بارے میں کارکنان وعوام سے رائے لینے کیلئے تین دن کے اندراندرملک بھر میں ریفرنڈم کرایاجائے ،ایم کیوایم کے قائدالطاف حسین کی رابطہ کمیٹی کوہدایت


حکومت میں شامل ہوں یانہ ہوں،اس بارے میں کارکنان وعوام سے رائے لینے کیلئے تین دن کے اندراندرملک بھر میں ریفرنڈم کرایاجائے ،ایم کیوایم کے قائدالطاف حسین کی رابطہ کمیٹی کوہدایت
 Posted on: 6/17/2013
حکومت میں شامل ہوں یانہ ہوں،اس بارے میں کارکنان وعوام سے رائے لینے کیلئے تین دن کے اندراندرملک بھر میں ریفرنڈم کرایاجائے ،ایم کیوایم کے قائدالطاف حسین کی رابطہ کمیٹی کوہدایت
وزیراعظم نوازشریف فوج ،ایف سی اورتمام ایجنسیوں کوبلاکران سے جواب طلبی کریں کہ یہ لشکرجھنگوی، لشکرطیبہ اور دیگر دہشت گردتنظیموں کے دہشت گرد کیوں نہیں پکڑے جاتے ؟
میرا تجزیہ ہے کہ کوئٹہ کے اسپتال میں دہشت گردی کرنے والے حملہ آوروں میں سے کوئی بھی ہلاک نہیں ہوا بلکہ تمام دہشت گرد فرار ہوگئے یا فرار کرادیئے گئے
فوج ، رینجرز اور ایجنسیاں خدار اایم کیوایم سے دشمنی چھوڑدیں، ہم سے بیٹھ کربات کرلیں، ہم لڑنانہیں چاہتے ، ہم کسی کے دشمن نہیں، ہم ملک سے محبت کرنے والے ہیں
کوئی مجھے برطانیہ سے بیدخل کردے لیکن مجھ سے میری پاکستانیت چھینی نہیں جاسکتی ،الطاف حسین
ایم کیوایم کے تنظیمی ذمہ داروں اورحق پرست ارکان اسمبلی کے اجلاس سے خطاب
تصاویر
لندن۔۔۔17،جون2013ء
متحد ہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطا ف حسین نے رابطہ کمیٹی کوہدایت کی ہے کہ وہ پیپلزپارٹی کی جانب سے ایم کیوایم کو سندھ حکومت میں شمولیت کی دعوت پر کارکنان اورعوام کی رائے حاصل کرنے کیلئے تین روز کے اندراندر ریفرنڈم کرائے تاکہ کارکنان وعوام کی رائے کی روشنی میں مستقبل کالائحہ عمل تیارکیا جاسکے ۔انہوں نے قومی سلامتی کے اداروں سے سوال کیاہے کہ بلوچستان میں فوج، رینجرز،ایف سی اورقومی سلامتی کی کتنی ایجنسیاں ہیں جن پر اربوں کھربوں روپے خرچ ہوتے ہیں پھرآخردہشت گردکس طرح بلوچستان میں وومن یونیورسٹی کی طالبات کی بس کودھماکے سے اڑانے میں کامیاب ہوئے؟دہشت گرد عناصر بولان میڈیکل کمپلیکس میں کیسے داخل ہوگئے؟آخریہ دہشت گردکس طرح کھلے عام دہشت گردی کرتے پھررہے ہیں؟ اگروزیراعظم نوازشریف میں جرات ہے توفوج ،ایف سی اورتمام ایجنسیوں کوبلاکران سے جواب طلبی کریں کہ یہ لشکرجھنگوی، لشکرطیبہ اور دیگر دہشت گردتنظیموں کے دہشت گرد کیوں نہیں پکڑے جاتے ؟ اوران سے ڈٹ کر کہیں کہ اگر وہ دہشت گردی پرقابونہیں پاسکتے توانہیں برطرف کردیاجائے گا ۔ اگر نوازشریف اس جرات کامظاہرہ کریں توالطاف حسین ہرطرح سے انکے ساتھ ہے۔، وہ اپنی جان دیدے گا مگر ان کاساتھ نہیں چھوڑے گا۔ انہوں نے فوج ، رینجرز اور ایجنسیوں سے کہا خدارا ایم کیوایم کے کارکنوں کاقتل بندکردو، خدارا ایم کیوایم سے دشمنی چھوڑدو، آؤ ہم سے بیٹھ کربات کرلو، ہم لڑنانہیں چاہتے ، ہم کسی کے دشمن نہیں، ہم ملک سے محبت کرنے والے ہیں۔یہ بات انہوں نے پیرکی سہ پہر لال قلعہ گراؤنڈعزیزآبادمیں ایم کیو ایم کے تنظیمی ذمہ داروں کے ہنگامی اجلاس سے ٹیلی فون پرخطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اجلاس میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی پاکستان ولندن کے ارکان، حق پرست سینیٹرز، ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کے علاوہ ایم کیوایم کے مختلف شعبہ جات، تنظیمی کمیٹیوں،حیدرآبادسمیت سندھ بھرکے زونوں اور کراچی کے سیکٹرزکے انچارجز وجوائنٹ انچارجز نے شرکت کی ۔ جناب الطاف حسین نے اس موقع پراجلاس کے شرکاء سے سوال کیاکہ ایم کیوایم کوحکومت میں شامل ہوناچاہیے یااپوزیشن ہی میں رہناچاہیے ؟ اس سوال پر اجلاس کے تمام شرکاء نے متفقہ طورپرکہاکہ ایم کیوایم کو اپوزیشن ہی میں رہناچاہیے ۔چاہے ایم کیوایم کوکیسے ہی سخت حالات کاسامنا کیوں نہ کرناپڑے۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے بلوچستان کے شہر زیارت میں قائد ریزیڈنسی پر حملے، ویمن یونیورسٹی کی طالبات کی بس میں ہولناک بم دھماکے اور بولان میڈیکل کمپلیکس میں دہشت گردی کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ذرائع ابلاغ میں کوئٹہ کے اسپتال میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد کے حوالہ سے متضاد اطلاعات نشرہوتی رہیں جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ اسپتال میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی کارروائی میں چار دہشت گردمارے گئے لیکن سرکاری پریس نوٹ میں کہا گیا کہ بولان میڈیکل کمپلیکس میں صرف دو دہشت گرد داخل ہوئے ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان شوریدہ صوبہ ہے جہاں برسوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موجود ہیں لیکن قوم کو اصل حقائق نہیں بتائے جارہے ۔ انہوں نے چیلنج دیتے ہوئے کہاکہ میں کسی پر الزام عائد نہیں کررہا بلکہ اپنا تجزیہ پیش کررہاہوں اگر میرا تجزیہ غلط ہے تو ثبوت وشواہد کی روشنی میں جواب دیا جائے ۔ میرا تجزیہ یہ ہے کہ کوئٹہ کے اسپتال میں دہشت گردی کرنے والے حملہ آوروں میں سے کوئی بھی ہلاک نہیں ہوا بلکہ تمام دہشت گرد فرار ہوگئے یا فرار کرادیئے گئے ۔انہوں نے کہاکہ اگر وفاقی وزیرداخلہ کا مؤقف درست تسلیم کرلیا جائے کہ چاردہشت گرد ماردیئے گئے تو میرا سوال یہ ہے کہ پھرباقی دہشت گرد کدھر چلے گئے ؟ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اسپتال کوچاروں جانب سے گھیرے میں لے رکھاتھا تو پھر یہ دہشت گرد فرارہونے میں کیسے کامیاب ہوگئے ؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں عوام کو حقائق سے آگاہ کرتا ہوں اسکی پاداش میں کہا جائے گا کہ الطاف حسین نے پاکستان کے خلاف بات کردی۔انہوں نے کہاکہہ مجھے برطانیہ نکال دے توبھی میری پاکستانیت مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز ، پولیس اور دیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے والدین کے سامنے ان کے بچوں کو گرفتارکرکے لاپتہ کیاجارہا ہے اور پھر ان کی لاشیں پھینکی جارہی ہیں۔جن والدین کے بچوں کو گرفتارکرنے کے بعد انکی سربریدہ لاشیں دی جارہی ہیں کیا ان کے دلوں سے پاکستان کے اداروں کیلئے دعائیں نکلیں گی؟قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان سوچیں کہ اگر خدانخواستہ ان کی بچیوں کو بم دھماکے میں قتل کردیا جائے اور ان کے جگرگوشوں کی ناک ،کان اوردیگر اعضاء کاٹ کرلاشیں بھیجی جائیں تو انکے دل پر کیا گزرے گی؟ کیا قومی سلامتی کے ادارے اپنے لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں؟انہوں نے کہا کہ یہ تجزیہ کرنابہت آسان ہے کہ جو پاکستان کا مخالف ہو اس کا یہی انجام ہوتا ہے لیکن جومحض کسی کو شک کی بناء پر گرفتارکرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر قتل کردے انکے بارے میں کیا کہاجائے ۔ یہ کس آئین اور قانون میں لکھا ہے کہ آپ کسی کو گرفتارکرکے عدالت میں پیش کئے بغیرماورائے عدالت قتل کردیں؟جناب الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیوایم غریب اور متوسط طبقہ کے عوام کی جماعت ہے جو ملک میں حق پرستی کا انقلاب لانے کی جدوجہد کررہی ہے ۔ میں قومی سلامتی کے اداروں سے کہتا ہوں کہ خدارا!! اس وقت سے ڈرو جب لوگ باغی ہوجائیں اور الطاف حسین کی اپیلیں بھی سننا چھوڑدیں اورقانون اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ ماضی میں بھی ہمارے 28 کارکنوں کو گرفتارکرکے لاپتہ کردیا گیا اور اب مزید 8 کارکنوں کو گرفتارکرکے لاپتہ کردیا گیا ہے ۔ ہم ان شہید اور لاپتہ کارکنوں کے مکمل کوائف ان کی تصاویر کے ساتھ جلد ہی انصاف کیلئے سپریم کورٹ میں جمع کرائیں گے ، اقوام متحدہ بھی جائیں گے ۔ آخر یہ کہاں کاانصاف ہے کہ سرکاری اہلکار ہمارے ساتھیوں کو آئین وقانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گرفتارکریں ، کسی عدالت میں پیش نہ کریں ، انہیں تشد د کا نشانہ بنائیں اور پھر قتل کرکے انکی لاشیں سڑکوں اور ویرانوں میں پھینک دیں؟ جناب الطاف حسین نے کوئٹہ اور زیارت کے واقعہ پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس سانحہ پر جس قدر افسوس کیا جائے وہ کم ہے ۔ ایک قومی ورثہ کو جلاکر راکھ کردیا گیا۔ کوئٹہ مین میری بچیوں کو ، قوم کی بچیوں کو جلاکر راکھ بنادیا گیا۔ میں اس سانحہ پر غمزدہ ہوں ، اشکبار ہوں اور اللہ کے حضور دعا کرتا ہوں کہ وہ انکی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبرجمیل عطا کرے ۔ان بچیوں کے لواحقین کو نجانے کیسے صبر آئے گا ۔ آخر ان معصوم بچیوں کا کیا قصورتھا؟ فوج، اس کی ایجنسیاں اور ادارے ، پولیس ، ایف آئی اے ، آئی بی آخر کیا کررہے ہیں؟ یہ کیسا مذاق ہے کہ لشکرجھنگوی ، لشکرطیبہ ، جماعت الدعوۃ والے آزاد، قتل کرنے والے آزاداور بچیوں کے اسکول دھماکوں سے اڑانے والے آزاد؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں خوشی سے جلاوطن نہیں ہوں ۔ مجھ پر جتنے قاتلانہ حملے ہوئے اتنے کسی رہنما پر نہیں ہوئے ۔ ملک میں ہونے والے خودکش حملوں میں سب سے پہلا خودکش حملہ مجھ پر کیا گیا ۔جس کے بعد میرے ساتھیوں نے زبردستی مجھے ملک سے باہر بھیج دیا ۔ جلاوطنی کے دوران میرے 70 سالہ بڑے بھائی اور 28 سالہ بھتیجے جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہ تھا، ان کو گرفتارکرکے بے رحمی سے قتل کردیا گیا ، میرے بھتیجے کے سرپر کلہاڑی سے وارکرکے قتل کیا گیا۔ میں چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمد چوہدری سے پوچھتا ہوں کہ اگر خدانخواستہ یہ سانحہ آپ کے ساتھ ہوتا تو آپکے جذبات واحساسات کیا ہوتے ؟جون 1991ء میں لانڈھی میں میجرکلیم کے طمانچہ لگانے پر پوری مہاجرقوم کے خلاف 19، جون1992ء کوفوجی آپریشن شروع کرکے ہزارہا گھر اجاڑ دیئے گئے ، وہ بزرگ جنہوں نے پاکستان بنایا تھا ان کو گرفتارکرکے آنکھوں پر پٹیاں باندھ کرکئی کئی دن تک بھوکے پیاسے مجرموں کی طرح میدانوں میں بٹھایا گیا، ماؤں بہنوں کی بے عزتی کی گئی لیکن اتنے ظلم کے بعد بھی ہم نے پاکستان مردہ باد کا نعرہ نہیں لگایا بلکہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ آج ہمیں اپنا پوری سچائی وایمانداری سے احتساب کرنا ہوگا اوراپنی پالیسیوں کا جائزہ لینا ہوگا ۔ پورے پاکستا ن میں کسی سے بھی پوچھ لیں کہ کیا سندھی، بلوچ اورپختون پاکستان سے خوش ہیں؟کیاافغانستان اور ایران ہم سے خوش ہیں؟ ہم چین کو اپنا دوست کہتے ہیں لیکن کیا وہ خوش ہے؟ہم بوسینیا اور فلسطین سمیت ہرمعاملہ پر سب سے آگے بڑھ کر بولے لیکن کتنے مسلم ممالک نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا ساتھ دیا اور جب جب پاکستان پر برا وقت آیا تو کتنے اسلامی ممالک نے پاکستان کیلئے آواز اٹھائی؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ ان دہشت گردوں نے کتنی مساجد اور مزارات پر حملہ کیا۔ داتا دربار اور پاکپتن جیسے مزارات تک کو نہیں چھوڑا ۔ بچیوں کے اسکولوں ، امام بارگاہوں ، مساجد اور مزاروں کو بم دھماکوں سے اڑادیا۔یہ کون لوگ ہیں جوہمارے ملک میں آگئے ہیں؟ میں نے فوج کو بھی بارہا پیشکش کی کہ سب پاکستانیوں کو اس دہشت گردی کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر لے آؤ، آؤ! ہم سب مل کر ، ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ان دہشت گردوں کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہیں لیکن ہماری پیشکش کے جواب میں الٹا ہمارے لوگوں کی گرفتاریاں شروع کردی گئیں۔ دوروز قبل کٹی پہاڑی پر دہشت گردوں نے رینجرز کی چوکی پر حملہ کردیاجس میں ایک پولیس اہلکارہلاک اوررینجرزکے اہلکارزخمی ہوئے۔ اس سے قبل لیاری میں رینجرز کے اہلکاروں کو قتل کیا گیالیکن وہاں کوئی آپریشن نہیں کیا گیا۔ میجرکلیم کو طمانچہ مارنے پر تو کراچی میں قیامت مچادی جاتی ہے ، بستیوں کے محاصرے کرکے ایک ایک گھر کی تلاشی لی جاتی ہے ،کہا گیاکہ ایم کیوایم کے پاس ایک لاکھ کلاشنکوفیں ہیں، گھروں کوکھودکراسلحہ تلاش کیاجاتاہے اور سینکڑوں کو گرفتارکیا جاتا ہے لیکن جہاں لوگوں کے گلے کاٹے جاتے ہیں ، بسوں اتار کر مہاجروں کی شناخت کرکے ان کواغواء کرکے ، انکے ساتھ بدفعلی کرکے ان کی گردنیں کاٹی جاتی ہیں وہاں کوئی آپریشن نہیں کیا جاتا۔ شیرشاہ میں جن لوگوں نے قتل وغارتگری مچائی انہیں پیپلزپارٹی کی حکومت نے رہا کردیا، ہم چیختے رہے لیکن ہماری ایک نہ سنی گئی ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے حلف اٹھانے کے بعد مسجد میں شکرانے کے نوافل ادا کرنے کے بجائے لیاری میں قاتلوں کے اڈے پر حاضری دی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں کراچی میں بسنے والے تمام مہاجروں ، سندھیوں ، بلوچوں ، پختونوں ، پنجابیوں، بنگالیوں ، میمنوں ، کاٹھیاواڑی ، عیسائیوں، ہندوؤں ،سکھوں ، پارسیوں ، احمدیوں ، بوہریوں ، آغاخانیوں غرض ہرایک زبان بولنے والوں اور ہرمذہب سے تعلق رکھنے والوں سے سوال کرتا ہوں کہ وہ مجھے بتائیں کہ آپ ایم کیوایم اور الطاف حسین کا ساتھ دیں گے یا ان لوگوں کو جو ٹی وی پر آکر ایم کیوایم کے خلاف جھوٹ بولتے ہیں؟ اس پر شرکاء نے با آوازبلند کہا’’ ایم کیوایم اورالطاف بھائی کا‘‘جناب الطاف حسین نے قومی سلامتی کے اداروں سے سوال کیاکہ بلوچستان میں فوج، رینجرز،ایف سی اورقومی سلامتی کی کتنی ایجنسیاں ہیں جن پر اربوں کھربوں روپے خرچ ہوتے ہیں پھرآخردہشت گردکس طرح بلوچستان میں وومن یونیورسٹی کی طالبات کی بس کودھماکے سے اڑانے میں کامیاب ہوئے؟دہشت گردعناصربولان میڈیکل کمپلیکس میں کیسے داخل ہوگئے؟آخریہ دہشت گردکس طرح کھلے عام دہشت گردی کرتے پھررہے ہیں؟ انہوں نے کہاکہ دہشت گرد آزادہیں اورکراچی میں رینجرز اور سیکوریٹی ایجنسیزایم کیوایم کے معصوم وبے گناہ کارکنوں کو گرفتار کررہی ہیں، انہیں سرکاری حراست میں تشددکررہی ہیں، ان کاماورائے عدالت قتل کیاجارہا ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں فوج ،رینجرزاورایجنسیوں کومخاطب کرتے ہوئے کہا خدارا ایم کیوایم کے کارکنوں کاقتل بندکردو، خدارا ایم کیوایم سے دشمنی چھوڑدو، آؤہم سے بیٹھ کربات کرلو، ہم لڑنانہیں چاہتے ، ہم کسی کے دشمن نہیں، ہم ملک سے محبت کرنے والے ہیں۔جناب الطاف حسین نے وزیراعظم میاں نوازشریف کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے اپنے پہلے دورحکومت میں فوج کے ایک میجرکوتھپڑمارنے کی پاداش میں 19جون 1992ء کوایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیا، پوری مہاجرقوم کوریاستی مظالم کانشانہ بنایاگیالیکن لیاری میں جرائم پیشہ عناصرنے رینجرزکے جوانوں کواغواکرکے بیدردی سے ذبح کردیا ان کے خلاف اب تک کیا کیا گیا؟ کوئٹہ میں طالبات کی بس میں دھماکہ کیاگیا، بولان میڈیکل کمپلیکس میں دہشت گردی کی گئی ،اس پر وزیراعظم نوازشریف کیاکرنے جارہے ہیں؟ اگر وزیراعظم میں جرات ہے توفوج ،ایف سی اورتمام ایجنسیوں کو بلاکر ان سے جواب طلبی کریں کہ یہ لشکرجھنگوی، لشکرطیبہ اوردیگردہشت گردتنظیموں کے دہشت گرد کیوں نہیں پکڑے جاتے ؟اوران سے ڈٹ کر کہیں کہ اگر وہ دہشت گردی پرقابونہیں کرسکتے توانہیں برطرف کردیاجائے گا۔اگرنوازشریف اس جرات کامظاہرہ کریں توالطاف حسین ہرطرح سے ان کے ساتھ ہے، وہ اپنی جان دیدے گامگران کاساتھ نہیں چھوڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ میاں نوازشریف کے دوسرے دورحکومت میں حکیم سعید کے قتل کاالزام ایم کیوایم پر لگایاگیااورسندھ میں گورنر راج نافذ کرکے ایم کیوایم کے خلاف ایک بارپھر آپریشن کیاگیاجسکے دوران ایم کیوایم کے کارکنوں کوبڑے پیمانے پر گرفتارکیاگیا اورایک معصوم کارکن فصیح جگنوکوگرفتارکرنے کے بعدماورائے عدالت قتل کردیاگیا لیکن آج تک ہمیں انصاف نہیں مل سکا۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ آج جنرل پرویزمشرف جیل میں ہیں اوران کے خلاف آئین توڑنے پرآرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ کی بات ہورہی ہے۔انہوں نے سوال کیاکہ جب جنرل پرویز مشرف نے یہ سب کچھ کیااس وقت فوج کے جن دیگرجرنیلوں اورسپریم کورٹ کے جج صاحبان نے ان کاساتھ دیاان کے خلاف کارروائی کی بات کیوں نہیں ہوتی؟انہوں نے کہاکہ کراچی کے بارے میں ہمیشہ متعصبانہ اقدامات کئے جاتے ہیں، کراچی میں الیکشن کے اعلان کے بعد غیرآئینی طورپرحلقہ بندیاں کرائی گئیں،آخرچیف جسٹس سپریم کورٹ نے یہ غیرقانونی کام کیسے ہونے دیا؟ جناب الطاف حسین نے اس موقع پراجلاس کے شرکاء سے سوال کیاکہ ایم کیوایم کوحکومت میں شامل ہوناچاہیے یااپوزیشن ہی میں رہناچاہیے ؟ اس سوال پر اجلاس کے تمام شرکاء نے متفقہ طورپرکہاکہ ایم کیوایم کواپوزیشن ہی میں رہناچاہیے ۔چاہے ایم کیوایم کوکیسے ہی سخت حالات کاسامنا کیوں نہ کرناپڑے۔ جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کوہدایت کی کہ وہ پیپلزپارٹی کی جانب سے ایم کیوایم کو سندھ حکومت میں شمولیت کی دعوت پر عوامی آراء کیلئے پاکستان بھر میں تین روز کے اندراندر ریفرنڈم کرائے ، ملک بھر میں موجود ایم کیوایم کے کارکنان اور عوام اپنے نام اور پتہ کے ساتھ رائے دیں کہ ایم کیوایم حکومت میں شامل ہو یا اپوزیشن میں رہے تاکہ ایم کیوایم ، عوام کی رائے اور مشوروں کوسامنے رکھتے ہوئے مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کرسکے ۔






12/8/2016 6:04:27 PM