Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

احساس تحفظ (قائد تحریک جناب الطاف حسین کا فکرانگیز لیکچر)


احساس تحفظ (قائد تحریک جناب الطاف حسین کا فکرانگیز لیکچر)
 Posted on: 6/12/2013
احساس تحفظ
(قائد تحریک جناب الطاف حسین کا فکرانگیز لیکچر)
6، جون 2013ء
میراآپ سب سے سوال ہے ۔۔۔اور وہ سوال یہ ہے کہ حیات کے Survival کیلئے ،حیات کی بقاء کیلئے جہاں ہوا، پانی، خوراک ، وٹامنزاورمنرلز اوردیگر ضروری اشیاء کا عمل دخل ہے وہاں حیات، زندگی ، Survival کیلئے کس اہم بات کا احساس کرنا ضروری ہوتا ہے ؟وہ کون سااحساس ہے جسے ختم کردیا جائے تو صرف وہ احساس ہی ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھSurvival یعنی بقاء، حیات اور زندگی بھی ختم ہوجایا کرتی ہے۔ اس سوال کو مزیدآسان انداز میں اس طرح بیان کیاجاسکتا ہے کہ وہ کون سی Human Instinct یعنی انسانی جبلت یا Living Instinct حشرات الارض کیلئے بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی انسان کیلئے؟۔اس سوال کا جواب ہے ’’احساس تحفظ ‘‘
تمام جانداراجسام ، کیڑے مکوڑوں، چرند ، پرند بشمول انسان، سب میں احساس تحفظ کی حس ہوتی ہے اور یہ حس ان کی جبلت کاحصہ ہوتی ہے۔جاندار اجسام بشمول انسانوں میں اگراحساس تحفظ کی حس کمزورپڑجائے یا کسی بھی وجہ سے ختم ہوجائے تو ان جانداراجسام کا وجود خطرے میں پڑسکتا ہے ۔ مثال کے طورپر پورے ملک میں آگ لگ رہی ہے لیکن میرا گھر چارہزار گز پر مشتمل ہے ۔ٹھوس، گارے ،مٹی، سیمنٹ اور لوہے کی آمیزش سے تیارکردہ قلعہ نماگھر ہے، اس کے گھرکے ایک تہہ خانے میں روپے بھرے پڑے ہوں اور اگر بنک لوٹ لیا جائے تب بھی مجھے اورمیری اولاد کو روپے پیسے کی کمی نہیں ہوگی۔ اگر حالات کے تحت پیسہ بے معنی ہوجائے تو گھرکا دوسرا تہہ خانہ غذائی اجنا س سے بھرا پڑا ہے جوکہ کم ازکم دوسال توچل سکتا ہے۔ ایسی صورت میں انسان میں احساس تحفظ اور بقاء کا احساس ، بقاء کی ضمانت ، Survival کا احساس کمزورپڑسکتا ہے بلکہ ختم بھی ہوسکتا ہے۔
یہ درست ہے کہ پانی وہیں بھرتاہے جہاں گڑھا ہوتا ہے ۔کسی علاقے میں رہنے والے افراد رت جگا یا رات کی ڈیوٹی اس وقت دیا کرتے ہیں جب انہیں اس خطرے کا امکان ہوکہ ان کی آبادی پر چور،ڈاکو، لٹیرے یادشمن حملہ آورہوسکتے ہیں۔ ایسے علاقوں میں رہنے والے اپنے تحفظ کیلئے چوکیداری سسٹم نافذ کرتے ہیں، رت جگا کرتے ہیں۔ جولوگ عام طور پرراتوں کونہیں جاگتے وہ بھی جاگتے ہیں حتیٰ کہ گھرکے افراد بھی باری باری رات کی ڈیوٹی دیتے ہیں۔لیکن جس علاقے کے چاروں طرف قلعہ نما دیواریں بنی ہوں ، بڑا سامضبوط دروازہ ہو ، قلعہ کی دیواریں اتنی بلند ہوں کہ اس پر چڑھنا ہی ممکن نہ ہو ، اس علاقے میں نہ حملہ آوروں کا ڈر ہو،نہ چوروں ،ڈاکوؤں ، لٹیروں اوردشمنوں کے حملے کا ڈر ہو توکیااس لمبی لمبی فصیلوں والے علاقے میں رہنے والے رت جگا کریں گے یا رات کی ڈیوٹی دیں گے؟یقیناًنہیں۔
احسا س تحفظ ،ایک ایسی جبلت اور ایسا احسا س ہے جو باشعور انسانوں میں اگر موجود نہ ہوتو ان کا مقدر ذلت ، رسوائی اورغلامی بن جایاکرتی ہے اور بالآخر فنا ہونا ان کا نصیب بن جاتا ہے ۔
ہر ذی شعورکے مشاہدے میں صبح شام یہ بات آتی ہوگی کہ مرغی کے انڈوں سے جب چوزے نکلتے ہیں اورکوئی ان چوزوں کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے تو مرغی اپنے بچوں کے تحفظ کیلئے پکڑنے والوں پرحملہ کردیتی ہے۔ غورطلب بات یہ ہے کہ کہاں انسان اور کہاں ایک چھوٹی سی مرغی!!۔ اس مشاہدے پر غورکریں تو بہت کچھ ہے اور غورنہ کریں تو کچھ بھی نہیں ۔اسی طرح بلی بھی ایک چھوٹا سا جانور ہے ، اکثربلی کسی کے گھرمیں گھس کرکونے کھدرے میں بچے دیدیاکرتی ہے اورجب بلی کے بچے ذرا بڑے ہوجائیں اور کوئی انہیں پکڑنے کی کوشش کرے تو بلی کا کیاردعمل سامنے آئے گا؟ بلی کے بچوں کی بات توایک طرف اگرآپ کسی چھوٹے سے پرندے کے گھونسلے میں موجود انڈوں کوہاتھ لگانے کی کوشش کریں تو وہ پرندہ آپ پرحملہ کردے گا۔اب اس بات کوسمجھنے کیلئے ایک تجربہ بھی کیاجاسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس تجربے کے دوران سرپرکوئی ٹوپی نہ پہنی جائے ،وہ تجربہ یہ ہے کہ آپ کسی کوے کومارکر اسے ہاتھ میں لیکر گھومیں یا ایک دوسرے کی طرف اچھالنے کاکھیل کھیلیں یقین جانیں ، چھوٹے سے پرندے کوے آپ کا چلنا پھرنا عذاب کردیں گے ۔اسی طرح آپ بندر، شیریاکسی بھی جانورکے بچے کو گزندپہنچانے کی کوشش کریں تو ان جانوروں کا شدیدردعمل دیکھنے میں آئے گا۔ہرچرندپرند، چوپایا، دوپیروں والا ، اڑنے والا غرض کوئی بھی جانور یاچرند پرند ہوں وہ اپنے پروں ۔۔۔اپنی گود۔۔۔اور اپنے حصار میں بچوں کورکھتے ہیں۔ یہ پر اور گود ان کی فصیلی دیواریں ہوتی ہیں۔یہ ان کی Protective layers ہوتی ہیں۔
اب جوبات میںآپ کو بتانے جارہا ہوں اس کا آپ نے کبھی مشاہدہ نہیں کیا ہوگا۔ ایک ہی قسم کے جانور ، چرند پرندجب ایک دوسرے کے ساتھ مل کررہنا سیکھ لیتے ہیں اورعادی ہوجاتے ہیں اورایک ہی نسل کے ہوتے ہیں، بطخ ہوتو بطخ کے ساتھ اور پرندہوتو پرند کے ساتھ رہتے ہیں لیکن کوئی انکے ڈربے یا گھونسلے میں ان کے انڈے کوہاتھ لگائے تو وہ بھی شدیدردعمل ظاہرکرتے ہیں۔ اسی طرح ماں باپ ہوتے ہیں اپنے بچوں کے تحفظ کیلئے باپ شاید یہ سوچے گاکہ اگر وہ بچانے گیاتو کہیں اس کی جان نہ چلی جائے لیکن ماں یہ کبھی نہیں سوچے گی ، اس کے ذہن میں مرنے کاخیال ہی نہیں آئے گابلکہ وہ یہ سوچے گی کہ کسی بھی طرح وہ اپنے بچوں کو بچالے ۔
survival of the fittest کے نظریہ کے تحت ہرطاقتور جانور اپنے سے کمزور جانورکو کھاجاتا ہے ، بڑی مچھلی ، چھوٹی مچھلیوں کوکھاجاتی ہے لیکن اس کے باوجود چھوٹی مچھلیاں بھی آج تک زندہ ہیں اوران کو کھانے والی بڑی مچھلیاں بھی زندہ ہیں کیونکہ اگرچھوٹی مچھلیاں اپنے سے طاقتوراوربڑی مچھلی کامقابلہ نہیں کرسکتیں تو چھپ کر خود کومحفوظ بنانے کے طریقے اختیارکرلیتی ہیں اور اس طرح اپنی بقاء کا سامان کرلیتی ہیں۔اس کامطلب یہ ہے کہ ہرنوع کے جانوروں ، پرندوں اورحشرات الارض نے اپنی بقاء کیلئے کوئی نہ کوئی سسٹم بنارکھا ہے اورجس ذی روح نے یہ حفاظتی حصار بنارکھے ہیں وہ آج تک محفوظ ہے اور جنہوں نے حفاظتی حصار نہیں بنایا ان کے مجسمے عجائب گھروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تحفظ کیلئے ان جانوروں کابھی کوئی تو طریقہ ہوگا ۔چیونٹی ایک انتہائی چھوٹی سی جاندار ہے لیکن آج تک ختم نہیں ہوسکی کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ منظم کمیونی کیشن سسٹم اگر کسی جانوربشمول حشرات الارض میں ہے تو وہ چیونٹی کا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ چیونٹیاں رستہ بتانے پر مامورہوتی ہیں، کچھ حملہ آوروں پر نگاہ رکھتی ہیں، کچھ غذالیکر بلوں میں جاتی ہیں یعنی رسد اور حفاظت کا کام ایک ساتھ کیاجاتا ہے ۔ رسد لے جانے والی چیونٹیوں کوانفارمیشن دینے والی گارڈ چیونٹیاں مسلسل آگاہ کرتی رہتی ہیں کہ وہ اپنا کام کرتی رہیں انہیں کوئی خطرہ نہیں ہے ۔
اس حقیقت سے بھی کوئی انکارنہیں کرسکتاکہsurvival of the fittest کے نظریے کے تحت ہربڑی مچھلی ،چھوٹی مچھلیوں کو کھاجاتی ہے یہ المیہ ہے یا حقیقت اس سے کوئی منکر نہیں ہے ، کوئی انکارکرنے والا نہیں ہے۔ اسی طرح ہرطاقتور قوم اپنے سے کمزورقوم کو کھاجاتی ہے۔ان حقائق کے باوجود یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کمزورسے کمزور جانوربھی آج تک کیسے زندہ ہیں جبکہ ان کو کھانے والے بھی زندہ ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کمزورسے کمزور جانور بھی اس لئے زندہ ہیں کہ انہوں نے نہ صرف جینے کے سلیقے سیکھ لئے ہیں بلکہ احساس تحفظ کے تحت اپنے حفاظتی اقدامات اورانتظامات کرنا بھی سیکھ لئے ہیں۔اگر ان سے طاقتور دشمن ، ان پر حملہ آورہو اور وہ ایک ایک کرکے جیسے ایم کیوایم کے کارکن مررہے ہیں ، مرتے رہیں تو پندرہ ہزار سے سولہ ہزار ہوجائیں گے، بیس ہزار ہوجائیں گے اور ایک وقت آئے گا ملین تک ہوجائیں گے اور ایک وقت آسکتا ہے کہ اگر بقیہ میں تحفظ کا احساس نہ ہوا تو صفحہ ہستی سے ہی مٹ جائیں گے۔ 
آپ کویہ سن کرتعجب ہوگا کہ جب کسی بیکٹیریا کومارنے کی دوا ایجاد ہوجاتی ہے تو وہ بیکٹیریا اپنی بقاء کیلئے اپنا جینیٹک کوڈ تبدیل کرلیتا ہے اس طرح کل تک جو دوا اس کی موت کاسبب بنتی تھی وہ جینیٹک کوڈ کی تبدیلی کے بعد بے اثرہوجاتی ہے ۔یہ بیکٹیریاعرف عام میں تو ایک shellنما خول بنالیتے ہیں جس کو Spore Core کہتے ہیں ۔Spore Core اس دوا کواندر گھسنے نہیں دیتا ، اگر کسی طریقے سے دوا اس خول کوتوڑدے توبیکٹیریا اپنے جینیٹک میک اپ کے اندر ایسی تبدیلی لاتے ہیں کہ ان کی شکل وہیئت تو ویسی ہی رہتی ہے لیکن جینیٹک کوڈ میں تبدیلی سے وہ دوا بے اثرہوجاتی ہے اوربیکٹیریا۔۔۔ یا viruses اس دوا کے عادی ہوجاتے ہیں اورنتیجتاً دوا بے اثر ہوجاتی ہے۔
ان مشاہدات اور تجربات کوتحریکی جدوجہد کے زاویئے سے دیکھا جائے کہ ایم کیوایم کے کارکنان پر ان سے طاقتور دشمن حملہ آورہوتے رہے ، ایم کیوایم کے کارکنان ایک ایک کرکے شہید ہوتے رہے ، شہداء کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے،ہم کلمہ شہادت پڑھتے رہیں ، تعزیت کرتے رہیں،شہداء کی مغفرت کی دعائیں کرتے رہیں ۔ہمارے شہداء کی تعداد اسی طرح بڑھتی رہے اورہم نے اپنی بقاء کے تحفظ کا احساس نہ کیا تو ہم صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی ہاتھ پیر اوردماغ دیا ہے اگرایک چھوٹی سی چیونٹی اپنی بقاء کا سامان کرسکتی ہے تو ہم کیوں نہیں کرسکتے لیکن اس کیلئے ہمارے اندر بھی احساس تحفظ کا ہونا لازمی ہے ۔اگرہمارے اندر احساس تحفظ ہوتا تو ہم سے طاقتور دشمن ہم پر حملہ آورضرورہوتالیکن وہ کامیاب نہیں ہوپاتا۔
تحریکی ساتھیوں کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ فلسفہ سے دنیا تبدیل نہیں ہوتی بلکہ حقیقت کو تسلیم کرنے اور عملیت پسندی کامظاہرہ کرنے سے تبدیل ہوتی ہے۔ عملیت پسندی کے بغیریہ فلسفہ نامکمل ہوگا۔ 
مشاہدہ کریں اورغورکریں کہ خواہ چیونٹی ہویا مرغی ، کبوتریابطخ ۔۔۔جب ان کے بچے دانہ چگتے ہیں تو انہی کے قبیلے کے چند جانور ڈیفنس لائن بناکر دورکھڑے رہتے ہیں، کسی کامشرق کی جانب رخ ہوتاہے ، کسی کامغرب، کسی کاجنوب اورکسی کاشمال کی جانب رخ ہوتا ہے کہ اگر کوئی کہیں سے کوئی حملہ آور ہوا تو پہلے میں جھپٹوں گا ، میرے بچے بھاگ جائیں گے اور جو حفاظت والے ہیں وہ میرے ساتھ آجائیں گے۔ اسی طرح حفاظت کرتے ہیں۔نہیں ہو تو دیکھ لینا مشاہدات میں ۔ یہ تم بھی دیکھتے ہو ، یہ سارے مناظر تمہاری آنکھ سے بھی گزرتے ہیں ،فرق یہ ہے کہ تم غوروفکر نہیں کرتے جبکہ میں یہ سب دیکھتا ہوں ، غوروفکر کرتا ہوں کہ یہ جانور ۔۔۔ان میںیہ عقل کیسی ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچے دانہ چگ رہے ہیں ، ان سے دس دس گز کے یا دس دس فٹ کے فاصلے پر دورکھڑے ہوکے ان کی حفاظت کرو Can you believe it? ،اگر آپ کے اندر احساس تحفظ نہیں ہے اور یاد رکھئے وہ جوبوڑھے بوڑھے ، جوان جوان دور رہ کر اپنے بچوں کی حفاظت کرتے ہیں تو وہ اپنی نسل کی بقاء کی حفاظت کرتے ہیں اور ہم بوڑھے ، ہم جوان اگر اپنی آنے والی نسلوں کی بقاء کی حفاظت کریں تو ہم مرسکتے ہیں مگر اپنی نسل،اپنے نام اوراپنی جین( gene )کو برقراررکھ سکتے ہیں۔



12/8/2016 1:53:39 AM