Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

حکومت میں شمولیت ہو یا اپوزیشن میں بیٹھنا ، اس حوالے سے ایم کیوایم نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، تمام آپشنزکھلے ہیں، شعبہ اطلاعات


حکومت میں شمولیت ہو یا اپوزیشن میں بیٹھنا ، اس حوالے سے ایم کیوایم نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، تمام آپشنزکھلے ہیں، شعبہ اطلاعات
 Posted on: 5/25/2013
گزشتہ روز قائد تحریک کے بیان کردہ ایک نقطہ کو غیر واضح اور سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کرنے سے اس کے معنی بدل گئے جس سے یہ تاثر جنم لے رہا ہے کہ ایم کیوایم نے حکومت میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا کوئی حتمی فیصلہ کرلیا ہے
اس ضمن میں جو بھی فیصلہ ہوگا وہ عوام اور کارکنان کی اکثریت کی رائے کی روشنی میں کیا جائیگا
لندن۔۔25مئی 2013ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے شعبہ اطلاعات نے کہا ہے کہ گذشتہ روز قائد تحریک الطاف حسین نے تحلیل شدہ رابطہ کمیٹی ، عارضی رابطہ کمیٹی اور دیگر شعبہ جات کے اراکین سے خطاب کر تے ہوئے اقتدار کے حصول اور انسانی رویو ں پر اسکے عمومی اثرات کے بارے میں ایم کیوایم کی اپنی تاریخ کی روشنی میں تجزیہ پیش کیا تھا تاہم ایم کیوایم شعبہ اطلاعات نے اس لیکچر کی جو خبر جاری کی اس میں قائد تحریک کے بیان کر دہ ایک نقطہ کو غیر واضح اور سیاق وسباق سے ہٹ کر بیان کرنے سے اس کی معنی بدل گئے جس سے یہ تاثر جنم لے رہا ہے کہ ایم کیوایم آنیوالی اگلی حکومت میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا کوئی حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔اعلامیہ کے مطابق یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ قائد تحریک کا خطاب صرف اور صرف ایک تاریخی اور فکری تجزیہ تھا جسکا ایم کیوایم کی موجودہ اور مستقبل کی سیاسی پالیسی سے قطعی کوئی تعلق نہیں ہے ۔اعلامیہ کے مطابق قائد تحریک الطاف حسین اپنے لیکچر میں ، 1978میں اے پی ایم ایس او کے قیام کے بعد سے لے کر آج تک متحدہ قومی موومنٹ کے بعض ذمہ دار ان وکارکنان کے رویوں میں تبدیلی کی وجوہات کا تجزیہ کر رہے تھے ۔ قائد تحریک نے بتایا کہ دراصل طاقت کا آ نا اور کسی ایک ہی بااثر پوزیشن پر بار بار رہنا انسان کو کسی دوسرے رنگ میں شامل کر دیتا ہے ۔انہوں نے پاکستان کے کرپٹ سیاسی کلچر کی مثال بھی دی جس میں عوام کویہ عمومی شکایت ہے کہ الیکشن کے وقت تو قومی وصوبائی اسمبلیوں کے امیدواران گلی گلی جلسے کرتے ہیں لیکن الیکشن جیتنے کے بعد ،اقتدار کے بعد وہ عوام سے اسطرح کٹ جاتے ہیں کہ عوام ان کی شکل اگلے الیکشن کے موقع پر ہی دیکھتے ہیں ۔لو گ جب اقتدار میںآتے ہیں تو ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں ،مصروفیات دیگر نوعیت کی ہوجاتی ہیں کیونکہ اقتدار کے ایوانو ں کا ماحول ہی کچھ اورہوتا ہے اورپھر انسان اسی رنگ میں رنگ کر عوام سے دور ہوجاتا ہے ۔طاقت اور اقتدار ،انسان کو سہل پسند اورعیش طلب بنادیتا ہے یہی وجہ ہے کہ جو لوگ کل تک بسوں اور ویگنو ں میں سفر کرتے تھے وہ ایم این اے ،ایم پی ایز بننے کے بعدبسوں اور ویگنوں میں سفر کرناپسند نہیں کرتے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ تحریک کاہرفرد تحریکی ذمہ داری کو اپنا فرض سمجھ کر ادا کرے اور جیسے ہی انہیں طاقت یا کسی قسم کا اقتدار حاصل ہو تو انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ ان پر برائی کادروازہ کھل گیاکیونکہ خواہشات کی کوئی حد نہیں ہوتی لہٰذا زندگی کے ہرمعاملہ میں میانہ روی اختیار کرکے انسان اپنی خواہشات پرقابو پاسکتا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق خواہ حکومت میں شمولیت ہو یا اپوزیشن میں بیٹھنا ، اس حوالے سے ایم کیوایم نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے تمام آپشنزکھلے ہیں اور اس ضمن میں جو بھی فیصلہ ہوگا وہ عوام اور کارکنان کی اکثریت کی رائے کی روشنی میں کیا جائیگا ۔

12/9/2016 7:35:41 AM