Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ہم نے آزمائش کے وقت میں فوج کا ہر طرح سے بڑھ کر ساتھ دیا پھر بھی ہماری حب الوطنی پر شک کیا جاتا ہے۔ الطاف حسین


ہم نے آزمائش کے وقت میں فوج کا ہر طرح سے بڑھ کر ساتھ دیا پھر بھی ہماری حب الوطنی پر شک کیا جاتا ہے۔ الطاف حسین
 Posted on: 4/17/2015
ہم نے آزمائش کے وقت میں فوج کا ہر طرح سے بڑھ کر ساتھ دیا پھر بھی ہماری حب الوطنی پر شک کیا جاتا ہے۔ الطاف حسین
ہمیں انڈین ایجنٹ کہا جاتا ہے اور ہمارا قتل عام کیا جاتا ہے، آخر ہمارا قصور کیا ہے؟
ایم کیوایم نے کن قومی تنصیبات یا مسلح افواج کے کس ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کیا کہ ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیا جارہا ہے؟
چاہے کتنا ہی ظلم کرلیا جائے ہم اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گے، عوام صبر کریں، اللہ صبر کرنیوالوں کا ساتھ دیتا ہے
مہاجروں کو کالے کلوٹے کہنا سلیم ضیاء بٹ کی متعصبانہ اور نسل پرستانہ سوچ کا اظہار ہے 
وزیراعظم نوازشریف اورمسلم لیگ ن کے رہنما سلیم ضیاء کے اس بیان پر مہاجرعوام سے معافی مانگیں ورنہ عوام اس متعصبانہ اور نسل پرستانہ بیان پر بھرپور احتجاج کریں گے
جماعت اسلامی اورتحریک انصاف والے مسلسل دھاندلی کا شور مچارہے ہیں اس کامطلب ہے کہ انہوں نے ابھی سے اپنی شکست کو تسلیم کرلیا ہے
جناح گراؤنڈ عزیزآباد میں جمع ہونے والے عوام کے ایک بہت بڑے اور پرجوش اجتماع سے خطاب
کراچی ۔۔۔ 17 اپریل 2015 ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم بانیان پاکستان کی اولادیں ہیں جنہوں نے لاکھوں جانیں دے کر پاکستان بنایا،جن کے سامنے ان کے جوان بیٹوں کوذبح کردیاگیا لیکن انہوں نے سرنہیں جھکایااور ’’ بٹ کے رہے گاہندوستان، لے کے رہیں گے پاکستان‘‘ کے نعرے لگائے،ہم نے آزمائش کے وقت میں فوج کاہرطرح سے بڑھ کرساتھ دیا، ان کی حمایت میں ریلی نکالی پھربھی ہماری حب الوطنی پر شک کیاجاتاہے،ہمیں انڈین ایجنٹ کہا جاتا ہے اور ہماراقتل عام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ چاہے کتناہی ظلم کرلیاجائے ہم اپنی جدوجہد سے دستبردارنہیں ہوں گے۔ جناب الطاف حسین نے مسلم لیگ ن کے رہنماسلیم ضیاء بٹ کی جانب سے مہاجروں کیلئے ’’کالے کلوٹے ‘‘ کالفظ استعمال کرنے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ مہاجروں کوکالے کلوٹے کہناسلیم ضیاء بٹ کی متعصبانہ اور نسل پرستانہ سوچ کااظہارہے ،وزیراعظم نوازشریف اورمسلم لیگ ن کے رہنماؤں کوچاہیے کہ وہ سلیم ضیاء کے اس بیان کافوری نوٹس لیں اورمہاجرعوام سے معافی مانگیں ورنہ عوام اس متعصبانہ اور نسل پرستانہ بیان پر بھرپوراحتجاج کریں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار آج جناح گراؤنڈ عزیزآبادمیں جمع ہونے والے عوام کے ایک بہت بڑے اورپرجوش اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا جن میں نوجوانوں اوربزرگوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں کی تعدادمیں خواتین اوربچے بھی شامل تھے۔پنڈال کے شرکاء کی جانب سے وقفے وقفے سے جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے جاتے رہے اور جناب الطاف حسین سے والہانہ عقیدت ومحبت کا اظہار کیاجاتا رہا۔اس موقع پر خواتین اور بچوں کا جوش وخروش قابل دید تھا۔ اپنے خطاب میں جناب الطا ف حسین نے کہاکہ سپریم کورٹ نے تمام جماعتوں میں عسکری ونگز کاذکر کیالیکن صرف ایم کیوایم کے مرکزنائن زیروپرچھاپہ ماراگیااورایم کیوایم کے لوگوں کوہی گرفتارکیا جارہا ہے ۔جب ہم نے اس پر احتجاج کیاتوکہاجاتاہے کہ لیاری گینگ واراورطالبان کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ لیاری کے گینگسٹر تو اغوابرائے تاوان اوربھتہ کی وارداتیں کرتے تھے اورطالبان کے دہشت گردوں نے جی ایچ کیو، نیول بیس ، کامرہ ایئربیس اور سیکوریٹی فورسز کے ہیڈکوارٹرزپر حملے کئے تھے ، ان کے خلاف کارروائی کاتوجوازبنتاہے لیکن ایم کیوایم نے کن قومی تنصیبات یا مسلح افواج کے کس ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کیاکہ ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیاجارہاہے ؟ انہوں نے کہاکہ مہاجروں نے پاکستان کوبنایا، پاکستان کی تعمیرکی لیکن آج بھی مہاجروں کے ساتھ دوسرے تیسرے درجے کے شہری جیساسلوک کیاجاتاہے ، انہیں نفرت وعصبیت کانشانہ بنایاجاتاہے۔ کچھ عرصہ قبل پیپلزپارٹی کے رہنما ذوالفقارمرزانے مہاجروں کے بارے میں کہاکہ ’’ مہاجربھوکے ننگے آئے تھے ‘‘ ۔ کل مسلم لیگ ن کے رہنما سلیم ضیاء بٹ نے ایک ٹی وی ٹاک شومیں مہاجروں کو ’’کالے کلوٹے غیرملکی ‘‘ کہا ۔ جب سلیم ضیاء نے مہاجروں کوکالے کلوٹے کہاتومجھے وہ مائیں بہنیں یادآئیں جنہوں نے تحریک پاکستان کی جدوجہدکے دوران اپنی عزتیں بچانے کیلئے کنووں میں کودکرجانیں دیدیں۔ انہوں نے کہاکہ مہاجروں کوکالے کلوٹے کہناسلیم ضیاء بٹ کی متعصبانہ اورنسل پرستانہ سوچ کااظہارہے۔ انہوں نے کہاکہ صرف میں ہی نہیں بلکہ تمام مہاجر مائیں ،بہنیں، نوجوان، بزرگ اوربچے وزیراعظم نوازشریف سے یہ سوال کرتے ہیں کہ پاکستان بنانے والے مہاجروں کو گالیاں دینا کیا پاکستان کے خلاف اورغداری کاعمل نہیں ہے؟ وزیراعظم نوازشریف اورمسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ سلیم ضیاء کے اس بیان کافوری نوٹس لیں اورمہاجرعوام سے معافی مانگیں ورنہ عوام اس متعصبانہ اور نسل پرستانہ بیان پر بھرپور احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ جب الطا ف حسین کاپیغام کراچی سے نکل کرسندھ کے دیہات، پنجاب، سرحد،بلوچستان ، گلگت بلتستان اورملک بھرمیں پھیلااورپنجابی، پختون، بلوچ، سندھی، کشمیری، سرائیکی، گلگتی بلتستانی اوردیگرقومیتوں کے لوگ جوق درجوق ایم کیوایم میں شامل ہونے لگے توایم کیوایم دشمنوں کوخوف ہوگیا کہ اگرایم کیوایم اسی طرح پورے ملک میں پھیل گئی تو الطاف حسین پاکستان کوقائداعظم کے خوابوں کے مطابق بنادے گااسی لئے ایم کیوایم کوختم کرنے کی سازشیں شروع کردی گئیں۔چاہے کتنی ہی سازشیں کرلی جائیں لیکن آنے والے دنوں میں لوگ دیکھیں گے کہ ایم کیوایم کاپرچم ملک کے کونے کونے میں لہرائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی بھی دشمن سے نہ کل ڈراتھااورنہ ہی آج ڈرتاہوں۔ اگر مجھے اپنے مقصدکی خاطر جان بھی دینی پڑی تومیں جان دیدوں گامگرحق بات کہنا نہیں چھوڑوں گا۔جناب الطاف حسین نے کہاجماعت اسلامی والے الیکشن پرپیسے خرچ کرنے کے بجائے کسی خیراتی ادارے کو دیدیں کیونکہ آپ کایہ پیسہ ضائع ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی اورتحریک انصاف والے مسلسل دھاندلی کا شور مچارہے ہیں اس کامطلب ہے کہ انہوں نے ابھی سے اپنی شکست کوتسلیم کرلیاہے۔
جناب الطاف حسین نے اپنے تعلیمی اور تحریکی سفر کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہاکہ میری خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں لیکن مسلسل غوروفکر میں غرق رہنے کے باعث میں اپنی تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دے سکا اوراتنے نمبرحاصل نہ کرسکا کہ ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کرسکوں، اس کے بعد میں نے اسلامیہ سائنس کالج میں بی ایس سی میں داخلہ لیا جہاں میں نے وہ مضامین چنے جن کا کسی نہ کسی طورسے ڈاکٹری سے تعلق تھا۔ بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد میں نے جامعہ کراچی کے شعبہ فارمیسی میں داخلہ حاصل کرلیا اور پھر اپنی تعلیم کے حصول میں مشغول ہوگیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ عملی زندگی میں بارہا ایسے مواقع آئے جب کسی نہ کسی انداز میں مجھ سے میرے باپ دادا کی جائے پیدائش ، شناخت، پہچان اور قومیت پوچھی جاتی تھی۔ جب میں پوچھنے والے سے کہتا تھا کہ میرے باپ دادا انڈیا میں پیدا ہوئے تھے او ر وہ ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے تو مجھ کہاجاتا تھا کہ ’’اچھا تم مہاجر ہو‘‘ جس پر میں کہا کرتا تھا کہ میں پاکستان میں پیدا ہوا ہوں ، میں نے ہجرت نہیں کی اور میں پاکستانی ہوں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1964ء کے صدارتی انتخابات میں مہاجروں نے محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی جس کی پاداش میں ایوب خان نے کامیابی کے بعد فتح جشن منایا اور سرحد سے اپنے حمایتیوں کو لاکراپنے بیٹے گوہر ایوب کی سربراہی میں مہاجروں پر حملے کرائے جن میں مکانوں ، دکانوں کوآگ لگائی گئی اور مہاجروں کو گولیاں مارکرشہید کیاگیا۔ اس وقت میں بہت چھوٹا تھا اورمہاجرآبادیوں پر حملوں کے خوف کے باعث اپنے بڑوں کے ساتھ میں بھی جاگاکرتا تھا اور جب ہمیں یہ اطلاع ملتی کہ ہماری آبادی پر پٹھان حملہ کرنے آرہے ہیں تو ہم بجلی کے کھمبے بجاکر لوگوں کو چوکنا کیاکرتے تھے ۔اس وقت پورے محلے کے افراد کے پاس صرف ڈنڈے ہواکرتے تھے اور صرف ایک گھرایسا تھا جہاں صرف ایک بندوق تھی لیکن کارتوس بھی صرف ایک ہی تھا۔ میں اپنے بڑوں سے سوال کیاکرتا تھا کہ یہ کون لوگ ہیں اور ہمیں کیوں ماررہے ہیں ، آخر ہمارا گناہ اورقصورکیا ہے ؟ لیکن کوئی مجھے تسلی بخش جواب نہیں دیتا تھا۔ جناب الطاف حسین نے مزید کہاکہ اس کے بعد ذوالفقارعلی بھٹو کا دورحکومت آیا تو انہوں نے صوبہ سندھ میں شہری آبادی کیلئے 40 فیصد اور دیہی آبادی کیلئے 60 فیصد کے تناسب سے کوٹہ سسٹم نافذکردیا ، اس کے بعد سندھی زبان کوسرکاری زبان قراردینے کیلئے سندھ اسمبلی میں لینگوئج بل پاس کیا گیا ، اس وقت ممتاز بھٹو سندھ کے وزیراعلیٰ تھے ، لسانی بل کے معاملہ پر سندھ میں ہنگامے پھوٹ پڑے ، لاڑکانہ ،خیرپور، جیکب آباد سمیت پورااندرون سندھ مہاجروں سے تشدد کے ذریعہ خالی کرادیا گیااور یہ لٹے پٹے قافلے دوبارہ ہجرت کرکے میرپورخاص، نواب شاہ، حیدرآباد اور کراچی میں آباد ہونے پر مجبورہوئے ۔ ایوب خان کے زمانے میں مہاجربستیوں پر حملے کرائے گئے ، ذوالفقارعلی بھٹو کے زمانے میں مہاجروں کا قتل عام کیا گیاان ادوارمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکارموجود تھے۔1979ء میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں سمری ملٹری کورٹ سے مجھے جھوٹے الزام میں 9 ماہ قید اور 5 کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔ اس کے بعد 1986ء میں قصبہ کالونی اور علیگڑھ کالونی میں پہاڑیوں سے اتر کرآنے والوں نے حملے کیے ، میں اس وقت کراچی سینٹرل جیل میں اسیر تھا، اس زمانے میں سہراب گوٹھ پر آپریشن کیاجارہا تھا اور کراچی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود تھے، 30، ستمبر1988ء کوحیدرآباد میں شام پانچ بجے دس گاڑیوں میں سوار مسلح دہشت گرد وں نے اندھادھند فائرنگ کرکے 200 سے زائدافراد کو شہیدکردیا ، اس وقت بھی پولیس اوردیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود تھے لیکن مہاجروں کو بچانے کوئی نہیں آیا۔ 1990ء میں پکاقلعہ آپریشن کیا گیا ، درجنوں افراد کوگولیاں مارکر شہید کیا گیا ، ان کی تدفین تک کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ان شہداء کو پکا قلعہ میں ہی سپردخاک کرناپڑا۔ شہداء کا تذکرہ کرتے ہوئے جناب الطاف حسین اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور پھوٹ پھوٹ کررونے لگے ، انہوں نے رندھی ہوئی آواز میں کہاکہ حق پرستانہ جدوجہد کے دوران ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنان کو شہید کردیا گیا، شہداء سے قبرستان بھرگئے تو علیحدہ سے شہداء قبرستان بنانا پڑا وہ بھی شہداء سے بھرگیا، اس وقت بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے، عدالتیں ، انسانی حقوق کی انجمنیں اور وکلاء کی تنظیمیں موجود تھیں لیکن مہاجروں پر ظلم کے خلاف کسی نے آواز نہیں اٹھائی ۔اس ظلم وبربریت کا کسی عدالت نے ازخودنوٹس نہیں لیا۔مجھ پر کئی مرتبہ قاتلانہ حملے ہوئے لیکن جب مجھ پرہینڈ گرینیڈ سے حملہ کیا گیا تو ساتھیوں نے کہ ہم گولیوں کے سامنے آکر آپ کو بچاسکتے ہیں لیکن بم دھماکے سے محفوظ نہیں رکھ سکتے لہٰذا آپ بیرون ملک چلے جائیں اوروہاں رہ کر ہماری رہنمائی کریں لہٰذا 1992ء میں ، میں لندن آگیااوریہاں بھی دن رات تحریک کے کاموں میں مصروف رہا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ حق پرستی کی جدوجہد کے دوران میرے اعصاب توڑنے کیلئے 1995ء میں میرے 66 سالہ بڑے بھائی ناصر حسین اور 28 سالہ بھتیجے عارف حسین کو گرفتارکرکے انہیں وحشیانہ تشدد کانشانہ بناکر شہید کردیا گیااور پھر کلہاڑی کے وار سے عارف حسین کے سرکے دوٹکڑے کردیے گئے ۔اس ظلم وبربریت پر میں نے اللہ تعالیٰ سے صرف یہی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہمت اور حوصلہ دے ، اللہ کاکرم ہے کہ یہ ظلم وستم بھی مجھے توڑ نہ سکا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجر ، بانیان پاکستان کی اولادیں ہیں لیکن پہلے ہمیں مکڑ،تلیر، مٹروے، بھیا اور مہاجر کہاگیا، جنرل ایوب خان کی جانب سے کہاگیا کہ مہاجروں کو سمندر میں پھینک دیاجائے ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مہاجروں کے گھروں پر چھاپے مارتے تو بزرگوں اورخواتین کی بے حرمتی کی جاتی تھی اور انہیں اندرا گاندھی کی اولاد، را کے ایجنٹ، بھارتی ایجنٹ کہاگیا، بزرگوں اورنوجوانوں کوگرفتارکرنے کے بعد برہنہ کردیا جاتا اور پھرقمیضوں سے ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کرانہیں کھلے میدان میں جنگی قیدیوں کی طرح بٹھادیا جاتا تھا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم بانیان پاکستان کی اولادیں ہیں جنہوں نے لاکھوں جانیں دے کر پاکستان بنایا،جن کے سامنے ان کے جوان بیٹوں کوذبح کردیاگیا لیکن انہوں نے سرنہیں جھکایااور ’’ بٹ کے رہے گاہندوستان، لے کے رہیں گے پاکستان‘‘ کے نعرے لگائے،ہم نے آزمائش کے وقت میں فوج کاہرطرح سے بڑھ کرساتھ دیا، ان کی حمایت میں ریلی نکالی پھربھی ہماری حب الوطنی پر شک کیاجاتاہے،ہمیں انڈین ایجنٹ کہا جاتاہے اورہماراقتل عام کیاجاتاہے۔انہوں نے کہاکہ چاہے کتناہی ظلم کرلیاجائے ہم اپنی جدوجہد سے دستبردارنہیں ہوں گے ۔ انہوں نے عوام سے کہاکہ وہ صبرکریں کیونکہ اللہ تعالیٰ صبرکرنے والوں کاساتھ دیتاہے ۔جناب الطاف حسین نے ٹی وی اینکرپرسنز اور تجزنہ نگاروں سے کہاکہ وہ ایم کیوایم پر تنقیدضرورکریں لیکن ایم کیو ایم پر جھوٹے الزامات اورمہاجروں کو گالیاں دینے اور متعصبانہ کلمات ادا کرنے سے گریز کریں ۔





تصاویر

12/9/2016 8:58:10 PM