Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قوم نے اے آر وائی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا ہے جو کراچی سے کشمیر تک جائے گا، ڈاکٹر خالدمقبول صدیقی


قوم نے اے آر وائی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا ہے جو کراچی سے کشمیر تک جائے گا، ڈاکٹر خالدمقبول صدیقی
 Posted on: 2/25/2015
قوم نے اے آر وائی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا ہے جو کراچی سے کشمیر تک جائے گا، ڈاکٹر خالدمقبول صدیقی 
کراچی کے عوام میڈیا کو اشتہارات دے رہے ہیں اور انہیں ہی تذلیل کا نشانہ بنایا جارہا ہے، ڈاکٹر محمد فاروق ستار 
صحافیوں نے پچھلے ادوار میں صحافتی اقدار کیلئے کوڑے کھائے لیکن آج صحافت پر سیاسی اداکاروں نے قبضہ کرلیاہے ،سید حیدر عباس رضوی
جو لوگ مائنس الطا ف حسین کی باتیں کرتے ہیں وہ جناب الطاف حسین کے چاہنے والوں کے بلند حوصلے دیکھ لیں، قمر منصور 
جناب الطاف حسین ایک نظریہ اور انکے چاہنے والے سیسہ پلائی دیوارہیں ، عبد الحسیب
ایم کیوا یم میں ہزاروں شہداء کا لہو شامل ہے ، مذموم اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے اسے دبایا نہیں جاسکتا، رؤف صدیقی 
متعصب عناصر نے جناب الطا ف حسین اور ایم کیوا یم کو بدنام کرنابندنہ کیا تو عوام ان سے حساب لیں گے، عارف خان ایڈوکیٹ 
صحافت کے نام پرچند متعصب اینکرز اور تجزیہ نگار ایم کیوا یم اور پوری قوم کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، خواجہ اظہار الحسن
اے آر وائی کی جانب سے جناب الطاف حسین اور مہاجرقوم کی ہرزہ سرائی کے خلاف کراچی پریس کلب پر منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے مقررین کا خطا ب 
کراچی ۔۔۔۔25فروری2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب پر نجی نیوز چینل اے آر وائی کی جانب سے ایم کیوا یم اور مہاجروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے پر احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا جس میں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے جوائنٹ انچارج ڈاکٹر نصرت شوکت ، اراکین رابطہ کمیٹی ، حق پرست سینیٹرز اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ، مختلف شعبہ ہائے زندگی اور مذاہب سے تعلق رکھنے والی شخصیات، خواتین ، بچوں ، بزرگوں اور نوجوانوں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی اور اے آر وائی کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ عوام اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینر اُٹھائے ہوئے تھے جن پر مہاجر قوم کی تذلیل پر اے آر وائی کے خلاف سخت نعرے اور مطالبے درج تھے۔احتجاجی مظا ہرے سے خطاب کرتے ہوئے رکن رابطہ کمیٹی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج پاکستا ن میں صحافت کو ریٹنگ کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم اور ہمارے قائد جناب الطاف حسین کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جس پر اے آر وائی کو پوری قوم سے معافی مانگنی ہوگی۔انہوں نے اے آر وائی کے مالکان سے کہاکہ آج پوری قوم کی غیرت کا معاملہ ہے اور اگر معافی نہ مانگی گئی تو قوم نے اے آر وائی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا ہے اور آ ج کراچی سے شروع ہونے والا بائیکاٹ کراچی سے کشمور اور کشمور سے کشمیر تک جائے گا۔رکن رابطہ کمیٹی و حق پرست رکن قومی ا سمبلی ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کہا کہ آج صحافت کے نام پر جو دھبہ لگایا گیا ہے اس کو ملک کے جید صحافی مٹائیں گے تو بہت وقت لگ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آ ج جس طرح جانبدارانہ صحافت کو سامنے لایا گیا ہے اور جس طرح ایم کیوا یم اور ایک طبقے کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے اس پر کراچی کے دوکروڑ سے زائدشہریوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اے آر وائی کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ کراچی کے عوام میڈیا کو اشتہارات دے رہے ہیں لیکن اگر انہیں ہی تذلیل کا نشانہ بنایا جائے گا تو ہم عوام کی عدالت میں اپنا مقدمہ لے جانے میں حق بجانب ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری بہنوں ، بیٹیوں اور شہریوں کیلئے مغلظات استعمال کیے جارہے ہیں لہٰذا میری میڈیا سے اپیل ہے کہ وہ اپنے درمیان سے کالی بھیڑوں کو باہر نکال پھینکیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ مولانا ظفر علی خان اور حاجی عبد الرزاق کے ماننے والے ہمارے ساتھ ہیں ۔رکن رابطہ کمیٹی سید حیدر عباس رضوی نے کہا کہ آج کا دن پاکستان کی صحافتی تاریخ کا ایک اہم دن ہے اور آج ہمیں اس احتجاجی مظاہرے کے ذریعے صحافت اور اداکاری و مکاری میں فرق کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں نے پچھلے ادوار میں صحافت کی بقاء و سلامتی اور صحافتی اقدار کیلئے کوڑے کھائے اور صعوبتیں برداشت کی ہیں لیکن آج صحافت پر سیاسی اداکاروں نے قبضہ کرکے خبر کو شوبزنس میں تبدیل کیا اور اپنے ذاتی ایجنڈے لیکر ایسے عناصر نے صحافتی اقدار کے علمبردار صحافیوں کو دیوار سے لگا دیاہے۔انہوں نے کہا کہ جو میڈیا، اخبار ، رسائل اور جرائد کے وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگیاں جیلوں میں گزاریں آج صحافت کا یہ حال دیکھ کر پردہ پوش ہوگئے ہیں اور صحافت سے لاعلم لوگ ظلم و زیادتی کے خلاف قوم کو متحد کرنے کے بجائے قو منتشر کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نام نہاد اینکر پرسنز اور زرد صحافت کا نام لیکر کام کر نے والوں کے متعصبانہ اعمال کی سزا صحافیوں کو بھگتنی پڑ رہی ہیں جنہوں نے پاکستان کے کسی سیاسی لیڈر کی کردار کشی سے دریغ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین اور انکی جماعت کو نام نہاد اینکرز اور صحافیوں نے ہمیشہ بدنام کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ لوگ ریٹنگ بڑھانے کی سیاست کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیوا یم پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافتی تنظیموں کا دروازہ کھٹکھٹائے گی اور ان سے مطالبہ کر ے گی کہ وہ صحافت کے مہذب پیشے کو بدنام کرنے والی کالی بھیڑوں کواس شعبہ سے باہر نکالیں ۔انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید سے مطالبہ کیاکہ وہ پوری قوم اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر مہاجر قوم اور جناب الطاف حسین کو گالی دینے کا سختی سے نوٹس لیں۔انہوں نے حکومت سے مبشر لقمان پر پابندی لگانے کا مطالبہ اور ایم کیوا یم کی جانب سے اے آر وائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔رکن رابطہ کمیٹی قمر منصور نے کہا کہ ہمیں آج تک مہاجر اور بے وطن کہہ کر پکارا جارہا ہے لیکن اب ہمیں اپنے مہاجر ہونے پر فخر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشر ے کے وہ لوگ اور ادارے کہا ں ہیں جو مظلوموں کا اور جمہوریت کا راگ ا لاپتے ہیں ،پاکستان کو دنیا بھر میں زرد صحافت کی وجہ سے بدنام کیا جارہاہے اور چند متعصب و مفاد پرست لوگ صحافت کے مہذب طبقے کا لبادہ اوڑھ ملک کو بدنام کرنے کے اس عمل میں شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میڈیامیں موجود مفاد پرستوں میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ زرد صحافت کو بے نقاب کرنے کیلئے ایک ٹیکر چلائیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مغلظات دی جارہی ہے ہیں لیکن اگر ہم اپنے دفاع کیلئے ایک لفظ کہیں گے تو عوام سے کہا جائے گا کہ آزادی صحافت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مبشر لقمان زردصحافت کا علمبردار ہے جس نے صحافت کے نام پر ملک کے تمام جاری ہے۔۔۔اداروں اور سیاسی جماعتوں کو اپنی مغلظا ت کا نشانہ بنایا ہواہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام ٹیلی ویژن اداروں کو سب سے زیادہ مالی و اخلاقی تعاون فراہم کرتے ہیں لیکن انہیں ہی طعنوں اور مغلظات کہی جارہی ہیں۔ انہو ں نے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ مائنس الطا ف حسین کی باتیں کرتے ہیں وہ جناب الطاف حسین کے چاہنے والوں کے بلند حوصلے دیکھ لیں۔ رکن رابطہ کمیٹی عبد الحسیب نے کہا کہ جناب الطاف حسین اور انکے چاہنے والے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے جس کو ریاستی جبرکے ذریعے بھی ختم نہیں کیا جاسکا کیونکہ الطاف حسین صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک ذہنیت اور نظریے کا نام ہے۔انہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین کی محبت اور انکے نظریے کو بچانے کیلئے ہزاروں لوگوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں اور آج بھی لاکھوں لوگ انکے نظریے کو بچانے کیلئے مر مٹنے کو تیا ر ہیں ۔ رکن رابطہ کمیٹی عارف خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جناب الطاف حسین کو عوامی محبت اور عزت عطا کی ہے اوراگر متعصب عناصر نے جناب الطا ف حسین اور ایم کیوا یم کو بدنام کرنے کاسلسلہ بند نہ کیا تو عوام ان سے حساب لیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیوا یم کے کارکنان میڈیا ٹرائل سے نہیں گھبراتے اور اپنے قائد کیلئے ہر قربانی دینے کو تیا رہیں جس کی چھوٹی سے مثال آج پریس کلب پر ہونیوالا یہ احتجاجی مظاہرہ ہے ۔ سندھ اسمبلی میں حق پرست ڈپٹی پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ایم کیوا یم اور جناب الطاف حسین کے چاہنے والے پاکستان میں مظلوموں اور محروموں کے ساتھ ہونیوالے ہر ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور انہوں نے مظلوموں کو اپنے حق کیلئے جدوجہد کرنے کا حوصلہ دیا ہے،انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج صحافت کے خلاف نہیں بلکہ چند متعصب و اقرباء پرور لوگوں کے خلاف ہے جو تواتر کے ساتھ ایم کیوا یم کو اپنی بے جا تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیوا یم اور جناب الطاف حسین پاکستان میں آزادی اظہار کے علمبردار ہیں لیکن مہاجرقوم اور ایم کیوا یم کی تذلیل کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔انہوں نے کہا کہ چند نام نہاد اینکر پرسنز اور تجزیہ نگار صحافت کے لبادے میں لفافہ صحافت کرکے پاکستان میں لوگوں کو زبان و رنگ کی بنیاد پر لڑوا رہے ہیں اور جناب الطاف حسین ملک کے واحد رہنما ہیں جو ان متعصب عناصر کو بے نقاب کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیوا یم نے بد ترین ریاستی آپریشن کا مقابلہ کیا ہے چند متعصب اینکر اور تجزیہ نگار ایک مرتبہ پھر ایم کیوا یم اور پوری قوم کے خلاف سازشوں کے تانے بانے بن رہے ہیں لیکن اب ایم کیو ایم کے خلاف غیر ضروری و جانبدارانہ تنقیدبرداشت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 92ء میں بھی زرد صحافت کے ذریعے ایم کیو ایم اور مہاجروں کے خلاف ملک بھر میں زہر افشانی کی گئی لیکن ایم کیوا یم ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک قومی جماعت بن کر ابھری ہے آج بھی ایم کیو ایم اور مہاجرقوم کو دبانے کی کوششیں بری طرح ناکام ہوں گی۔انہوں نے وفاقی حکومت ،پیمرا اور اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ زرد صحافت کرنے والوں کے اساسوں کی تحقیقات کروائیں ۔حق پرست رکن صوبائی اسمبلی رؤف صدیقی نے کہا کہ زرد صحافت کے ذریعے ایم کیوا یم اور جناب الطاف حسین کو ختم نہیں کیا جاسکتا ۔انہوں نے کہا کہ قوم کا ایک ایک بچہ صحافت کے نام پر اپنا ایجنڈا نافذ کرنے والوں کو جانتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود دیگر جماعتیں اپنے خلاف بات کرنے پر صحافتی اداروں میں توڑ پھوڑ کرتے ہیں لیکن جناب الطاف حسین کی امن پسند تعلیمات ہیں کہ ایم کیوا یم اور مہاجر قوم نے اپنی تذلیل کے باوجود کسی صحافتی ادارے کو نقصان نہیں پہنچایا ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوا یم میں ہزاروں شہیدوں کا لہو شامل ہے اور اس کو مذموم اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے دبایا نہیں جاسکتا ۔انہوں نے اے آر وائی کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافت کے نام پر نفرت اور تعصب کے بیج بونے والے اینکر پرسنز کے خلاف کارروائی کریں ۔احتجاجی مظاہرے سے حق پرست رکن قومی اسمبلی کشور زہرہ ،حق پرست رکن سندھ اسمبلی ناہید شاہد اور مفتی شمیم نے بھی اظہار خیال کیا اور مہاجر قوم کے خلاف ہرزہ سرائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
 
 
 

12/3/2016 1:45:13 PM