Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے عام انتخابات 2013ء کیلئے اپنی جماعت کاانتخابی منشور ’’بااختیار عوام ، خوشحال پاکستان ‘‘کے عنوان سے جاری کردیا


متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے عام انتخابات 2013ء کیلئے اپنی جماعت کاانتخابی منشور ’’بااختیار عوام ، خوشحال پاکستان ‘‘کے عنوان سے جاری کردیا
 Posted on: 4/1/2013 1
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے عام انتخابات 2013ء کیلئے اپنی جماعت کاانتخابی منشور ’’بااختیار عوام ، خوشحال پاکستان‘‘ کے عنوان سے جاری کردیا
منشور میں عوام کی خواہشات، توقعات اور امنگوں کی ترجماتی کرتے ہوئے انقلابی اعلانات کئے گئے
اردو میڈیم سرکاری تعلیمی اداروں کو گرامر اور انگلش میڈیم تعلیمی اداروں کی سطح پر لایا جائے گا، مدارس کو قومی سطح پر تعلیمی اداروں کی صف میں لایا جائے گا، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی پالیسی فوری ترتیب دی جائے گی
خواتین کو پارلیمنٹ میں 50فیصد نمائندگی دی جائے گی
ملک میں مقامی حکومتوں کا نظام وضع کیا جائے گا
 نوجوانوں کیلئے وکیشنل سینٹر، ملک کی خارجہ پالیسی آزاد، ہر ضلع میں اولڈ ایج ہوم کا قیام
تصاویر
کراچی ۔۔۔یکم ،اپریل2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے عام انتخابات 2013ء کیلئے اپنی جماعت کاانتخابی منشور ’’بااختیار عوام ‘‘ کے عنوان سے اجراء کردیاگیا اور منشور میں ملک بھر کے مظلوم عوام کی توقعات ، خواہشات اور امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے زندگی کے مختلف شعبوں میں مثبت اور ٹھوس اصلاحات اور اقدامات کرنے کے انقلابی اعلانات کئے گئے ۔اس منشور کا مقصد پاکستان کے عوام کو بااختیار بنا کر اختیارات اور وسائل ان کی دہلیز تک پہنچانا ہیں تاکہ غریب و متوسط طبقے کے مسائل حل ہوں اور ان کا معیار زندگی بلند ہوسکے۔ ایم کیوایم کے انتخابی منشور کا اعلان پیر کے روز ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد میں منعقدہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ز محترمہ نسرین جلیل ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ، اراکین رابطہ کمیٹی ، عام انتخابات 2013کے سلسلے میں قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کاغذات نامزدگیجمع کرانے والے حق پرست امیدواران کے علاوہ ایم کیوایم کے مختلف شعبہ جات کے اراکین بھی موجود تھے ۔یہ انتخابی منشور نہ 
صرف عوام کی آواز ہے بلکہ ایک خوبصورت اور تابناک مستقبل کی بنیاد ہے اور پاکستان کے عوام اپنے حق کو حاصل کرکے اپنی حکمرانی کو حاصل کرلے گی ۔
پریس کانفرنس میں ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ قائد تحریک الطاف حسین کی پینتیس سالہ جدوجہد اور ایم کیو ایم کی انتخابی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ایم کیوایم ملک سے موروثی سیاسی کلچر کوختم کرکے نچلی سطح سے عوام کو سیاسی عمل میں شریک کرنے اورانہیں بااختیار بنانے کی جدوجہد کررہی ہے۔ اسلئے ایم کیوایم نے الیکشن 2013ء کیلئے جوعوامی منشوربنایاہے اس کامحور اورسلوگن ہی ’’بااختیار عوام ‘‘ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ عوامی منشور پاکستان کے کچلے ہوئے، محروم ومظلوم اٹھانوے فیصد عوام کی آواز ہے جو پاکستان کے ہر شہری کو بااختیار بنا کر پاکستان کو باوقار ممالک کی صف میں کھڑا کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے عوام کے مسائل کے حل اور ملک کوترقی وخوشحالی کے راستے پر گامزن کرنے کیلئے جو عوامی منشور ’’بااختیار عوام‘‘ تیار کیا ہے اس کے تفصیلی نکات میں سے خاص خاص نکات واضح کرتے ہوئے تعلیم کے شعبہ کیلئے بتایا کہ دہرا تعلیمی نظام ختم کیاجائیگا اور اردو میڈیم سرکاری تعلیمی اداروں کو گرامر اور انگلش میڈیم تعلیمی اداروں کی سطح پر لایاجائے گا۔  *تعلیم پر اخراجات قومی پیداوار (GDP) کے 2.2 فیصد سے 5% فیصد تک مختص کئے جائیں گے ، جبکہ صوبوں کے مالیاتی بجٹ کا 20فیصد تعلیم کے شعبے کیلئے مختص کیاجائے گا۔* اسکول جانے والے بچوں کو کتابیں، یونیفارم اور سفری سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی۔ *شرح خواندگی میں اضافہ کیلئے 5سے 16 سال کی عمرکے بچوں کیلئے تعلیم مفت اور لازمی قراردی جائے گی اوراس مقصدکیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں گے۔*مدارس کو قومی سطح پر تعلیمی اداروں کی صف میں لایاجائے گا۔
صحت کے شعبہ کیلئے پارٹی منشور بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کوصحت کی بہترسہولتیں فراہم کرنے کیلئے صحت کے شعبہ پر سرکاری اخراجات میں اضافہ کیاجائے گااور اگلے پانچ سال میں کل قومی پیداوار (GDP )کے 0.6فیصد سے بڑھا کر 5فیصد تک لایاجائے گا۔*پورے ملک میں تحصیل، ضلع اور گاؤں /دیہات کی سطح پر اسپتالوں کا قیام عمل میں لایاجائے گا۔*نرسوں، لیڈی ہیلتھ وزیٹرز اور دیگر پیرامیڈیکل اسٹاف کی تربیت کیلئے تربیتی اداروں کا قیام ہر ضلع میں عمل میں لایا جائے گا۔*عوام کیلئے کم قیمت اور رعایتی صحت کی انشورنس اسکیمیں متعارف کروائی جائیں گی۔*اعضاء کی منتقلی اور خرید و فروخت کے خاتمہ کیلئے قانون پر مؤثر طریقے سے عمل کیاجائے گا۔
معیشت کیلئے اپنے منشور کا پروگرام واضح کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ عام آدمی کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے اورمہنگائی پرقابوپانے کے سلسلے میں سرکاری اور نجی سفری ذرائع، تیل ، پیٹرول اور دیگراشیائے صرف کی قیمتوں کو ایک مقررہ مدت میں کم کیاجائے گا۔ *توانائی کے بحران پر قابو پا یاجائے گا اور جاری قرضوں (Circular Debt)کو ختم کیاجائے گا۔*صنعتی شعبوں کی ترقی کیلئے انہیں خصوصی مراعات دی جائیں گی اوران میں سرمایہ کاری کی جائیگی ۔ روزگارکے زیادہ سے زیادہ مواقع پیداکئے جائیں گے۔* No representation without taxation یعنی ’’ بغیر ٹیکسیشن کے کوئی نمائندگی نہیں‘‘ کے اصول پر سختی سے عمل کیاجائے گا۔ زرعی آمدنی پر ٹیکس نافذ کیاجائیگا اوراس ٹیکس کی وصولی کویقینی بنایاجائے گا ۔ *عوام کو بالواسطہ ٹیکس اور دیگر محصولات میں کمی کرکے فائدہ پہنچایاجائے گا۔* معاف کئے گئے تمام قرضے واپس لئے جائیں گے ۔* PIA، پاکستان اسٹیل، پاکستان ریلویز، PEPCO اوردیگراداروں کی انتظامی کارکردگی بہتر بنائی جائے گی۔*شہری مراکز (Urban Centres) میں مائیکرو فنانس سیکٹرمیں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی جائے گی۔ کو آپریٹو فارمنگ میں چھوٹے پیمانے کی کمپنیوں مزدوروں اور ترقی پذیر صنعتوں وغیرہ کو ترقی دی جائے گی۔ * کاٹیج انڈسٹری کے جال کو پورے ملک میں پھیلایاجائے گا۔ *سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے سرکاری و نجی اشتراک پر مبنی نظام تشکیل دیاجائے گا ۔ *صنعتی ترقی کیلئے وَن ونڈو آپریشن کو یقینی بنایاجائیگا۔*چھوٹی اور کاٹیج انڈسٹریز کو مراعات دی جائیں گی جس میں آسان قرضے اور زمینوں کی الاٹمنٹ شامل ہے۔
شہری ترقی کے شعبے میں ایم کیوایم کے منشور کی اصلاحات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر شہر /ضلع میں واحد انتظامی ادارے کا قیام عمل میں لایاجائے گا جو منتخب شدہ سٹی /ڈسٹرکٹ ناظم کے تحت کام کرے گا۔*تمام شہروں میں ماحول دوست بسیں متعارف کرائی جائیں گی۔*تمام میٹرو پولیٹن شہروں میں پولیس سے ٹریفک کے انتظام کے اختیارات واپس لیکرانہیں شہری /ضلعی حکومتوں کے تحت رکھاجائے گا۔ *شہروں میں کم قیمت رہائشی منصوبوں کی حوصلہ افزائی اور سرمایہ کاری کی جائے گی۔
زراعت کیلئے انہوں نے کہاکہ ملک میں زرعی اصلاحات کی جائینگی اورزمین کی حدمقررکرکے اس حد سے زیادہ زمینوں کو بے زمین ہاریوں میں تقسیم کیا جائے گا۔*متبادل نظام کے ذریعے کسانوں کو انکی دہلیز پر معیاری بیج، کھاد، کیڑے مار ادویات فراہم کی جائیں گی اور دیگر کم مدتی قرضے مہیا کئے جائیں گے ۔اسکے ساتھ ساتھ انہیں کو آپریٹو فارمنگ، کو آپریٹو مارکیٹنگ اور آسان قرضے بھی فراہم کیے جائیں۔ *حکومت کی جانب سے گندم اور گنے کی پیداوارکی مقررکی جانیوالی امدادی قیمت صرف چھوٹے کھاتے داروں کی جائے گی جبکہ آڑھتی اور بڑے زمینداروں (جاگیرداروں) کاکردار ختم کیا جائے گا۔*دیہی علاقوں میں زرعی صنعتیں قائم کی جائیں گی اوراس کیلئے خصوصی مراعات د ی جائے گی۔
بہتر طرزِ حکمرانی کیلئے منشور میں نکات واضح کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تمام خفیہ فنڈز جو صدر ، وزیر اعظم، صوبائی وزرائے اعلیٰ اور سفیروں کے پاس ہیں، ان کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ذریعے آڈٹ کرایاجائے گا۔*ایماندار اور مخلص سرکاری افسران اور عوامی نمائندوں کا تقرر وفاقی اور صوبائی محتسب اور اکاؤنٹنٹ جنرل آفیسر، انسدادِ بد عنوانی ، پبلک اکاؤنٹ کمیٹیز، وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کی مانیٹرنگ کمیٹیوں کے تحت عمل میں لایاجائیگا۔*پولیس کو شہری اور ضلعی حکومت کے زیر انتظام لایاجائے گا۔ *قومی احتساب بیورو کی طرز پرصوبائی احتساب بیورو کے ادارے قائم کئے جائیں گے۔
دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے انہوں نے منشور کے نکات بتاتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ایک قومی پالیسی فوری ترتیب دی جائے گی جس میں منتخب نمائندوں، پولیس، بیوروکریسی اور مسلح افواج کی مشترکہ قیادت سے رائے لی جائے گی۔* ملک کو اسلحے سے پاک کرنے کیلئے اسلحے کی پیداوار، تجارت، غیر قانونی نقل وحمل، درآمد کو روکا جائے گا۔اس سلسلے میں ایم کیوایم کی جانب سے 16جنوری 2011ء کوقومی اسمبلی پیش کیاجانیوالابل فی الفورمنظورکرایاجائے گا۔
خواتین، بچوں اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق پر منشور واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبرکاخاتمہ کیاجائے گا۔خواتین پر گھریلو تشدد، بچوں سے زیادتی، کسی کے جرم کے بدلے کسی کے ساتھ زنا یا پھر مخالف کی خواتین کو برہنہ گلیوں میں گھمانا، بچوں کی شادی، کارو کاری، وِنی، قرآن سے نکاح، تیزاب پھینکنا، بے گار لینا اور چائلڈلیبر کے خلاف مؤثر قانون سازی کی جائے گی اوراس کیلئے سخت سزائیں مقرر کی جائیں گی۔*مظالمکاشکارخواتین کیلئے شیلٹر ہومزقائم کئے جائیں گے۔ * خواتین اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف تمام امتیازی قوانین کو ختم کیاجائے گا۔*خواتین کوروزگارسمیت زندگی کے تمام شعبوں میں مردوں کے مساوی حقوق فراہم کئے جائیں گے۔*خواتین کو پارلیمنٹ میں 50فیصد نمائندگی دی جائے گی۔
توانائی کے حوالے سے ڈاکٹر فاروق ستار نے بتایا کہ *فوری طور پر کم قیمت اور زیادہ گیس اور بجلی کی فراہمی کے منصوبوں کی تکمیل ممکن بنائی جائے گی جن کا تعلق ایران، قطر اور مشرق وسطیٰ کی ریاستوں سے ہے۔ *مائع قدرتی گیس (LNG) کے پلانٹس اور درآمد شدہ گیس پروسیسنگ پلانٹس کو تیزی سے قائم کیاجائے گا ۔*سی این جی پالیسی پر نظر ثانی کی جائے گی اور سی این جی کی قیمتوں کو پیٹرول اور گیس کی قیمتوں کے ساتھ بتدریج کم کیاجائے گا تاکہ سی این جی سیکٹر کو توسیع دی جاسکے۔ *تیل اور گیس دریافت کرنے کے لیے کام کی رفتار تیز کی جائے گی ۔*توانائی کے بحران پرقابوپانے کیلئے توانائی کے متبادل ذرائع جیسے ونڈانرجی، شمسی توانائی اور گیس کی توانائی کواستعمال کیاجائے گااوراس مقصدکیلئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔
لوکل گورنمنٹ سسٹم کانفاذ اور خودمختاری پر منشور کے نکات واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ *بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسر ی ہوتے ہیں لہٰذاملک میں مقامی حکومتوں کا نظام وضع کیاجائے گا اور اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح پر منتقل کیاجائے گا اور مقامی حکومتوں کو مکمل خودمختاری دی جائے گی۔* مقامی حکومتی نظام کے انتخابات پاکستان میں عام انتخابات کے تین ماہ کے اندر اندر کرائے جائیں گے۔ * تمام اسکولوں اور کالجز جو کہ انٹرمیڈیٹ تک ہوں گے، ان کو صوبائی حکومت سے نکال کر مقامی حکومتوں کے تحت لایاجائے گا۔ ٹاؤن کی سطح کے اسپتال بھی ضلعی اور مقامی حکومتوں کے ماتحت ہوں گے۔ * کمیونٹی پولیسنگ کا مؤثر نظام تشکیل دیاجائے گا۔
نوجوانوں کیلئے منشور کے انقلابی نکات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کیلئے ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز قائم کئے جائیں گے اور میٹرک سے فارغ التحصیل طلبہ وطالبات کو داخلہ دیاجائے گا۔ * نوجوانوں کو بااختیاربنانے کیلئے ہر ضلع میں نوجوانوں کی ترقی کے مراکز قائم کئے جائیں گے *انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بڑے شہروں میں تحقیقی جامعات قائم کی جائیں گی۔ *وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شہر اور پارکس قائم کئے جائیں گے ۔
سمندر پار پاکستانیز کے مسائل کے ایم کیوایم کے منشور کے نکات بتاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ * آئینی ترمیم کرکے دہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کے انتخابات میں حصہ لینے پر عائدپابندی ختم کی جائے گی ۔*سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کے آئینی حق کویقینی بنایاجائے گا۔
خارجہ پالیسی کیلئے منشور کے نکات بتاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک کی خارجہ پالیسی آزاداورخودمختارہوگی ۔ پڑوسی ممالک سمیت تمام ممالک سے قریبی، دوستانہ اور قابل احترام تعلقات قائم کئے جائیں گے۔ تمام علاقائی تنازعات علاقائی تنظیموں اور مذاکرات کے مسلمہ ذریعے حل کئے جائیں گے ۔ *مسئلہ کشمیر کو با معنی، پر خلوص اور قابل احترام مذاکرات کے ذریعے کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیاجائیگا۔ 
فلاحی ریاست کا تصور ایم کیوایم کے منشور میں بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایم کیوایم پاکستان کو قائد اعظم محمد علی جناح اور بانیانِ پاکستان کے تصورات کے مطابق ایک فلاحی ریاست بنائے گی جس میں ہر شہری کو بلا امتیاز و رنگ و نسل ، مذہب ، جنس اور عقیدہ آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی ہر ضلع میں بوڑھے لوگوں کے لیے اولڈ ایج ہوم بنائے جائیں گے۔*جسمانی یا ذہنی طور پر معذور افراد کیلئے تعلیم، ملازمت کے حصول تک ترقی کے مراکز میں اضافہ کیاجائے گا ۔.*جسمانی طور پر معذور افراد کیلئے قومی اسمبلی میں مخصوص نشستیں متعارف کروائی جائیں گی۔*معذورافرادکی ہرجگہ باآسانی رسائی کیلئے سہولتوں کانظام وضع کیاجائے گا۔قبل ازیں ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ غریب ومتوسط طبقہ سے جنم لینے والی واحد جماعت ہے۔ایم کیوایم ہی وہ جماعت ہے جو ملک میں برسوں سے رائج فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کیلئے جدوجہد کر رہی ہے اور قائد تحریک الطاف حسین کے فلسفہ حقیقت پسندی و عملیت پسندی کے تحت پاکستان کو قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے تصورات کے مطابق ایک ایسی فلاحی ریاست  بنانے کیلئے کوشاں ہے جہاں ملک کے تمام عوام کو رنگ ، نسل،زبان،علاقہ، عقیدہ،فقہ ، مذہب اورتمام ترامتیازات سے بالاترہوکرمساوی حقوق حاصل ہوں اورسب کو عزت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی آزادی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہرالیکشن کے موقع پر تمام ہی سیاسی ومذہبی جماعتیں اپنامنشوراورپروگرام پیش کرتی ہیں اورعوام سے خوش کن وعدے بھی کئے جاتے ہیں لیکن اصل امتحان برسراقتدارآنے کے بعد اپنے منشوروپروگرام پر عمل کرنا اوروعدے پورے کرناہوتاہے۔ہرجماعت نے غریب عوام سے ووٹ لئے اورغریب عوام کی بات ۔ اگرپورے ملک پر کئی بارحکمرانی کرنے والی سیاسی جماعتوں نے اپنے منشورپرعمل کیا ہوتا تو آج ملک کے عوام اس حال کونہ ہوتے، آج ملک کی یہ حالت نہ ہوتی۔ایم کیوایم واحدجماعت ہے جس نے غریبوں کی حکمرانی کے نعرے نہیں دیئے بلکہ غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے نوجوانوں کوسینیٹ اورقومی وصوبائی اسمبلی میں بھیج کرملکی سیاست میں عملاً انقلاب برپاکیا۔آج بھی کوئی عوامی جماعت اگر صحیح معنوں میں غریب عوام کے حقوق کے حصول اورانہیں معاشرے میں انکااصل مقام دلانے کیلئے عملی جد وجہد کررہی ہے تووہ ایم کیوایم ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ سمجھتی ہے کہ ملک کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کی حالت اسی وقت بدل سکتی ہے کہ جب وہ اپنی صفوں سے قیادتیں نکال کرایوانوں میں بھیجیں گے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ مسائل وہی حل کرسکتاہے جومسائل کوسمجھتاہو اورمسائل کووہی سمجھ سکتاہے جس نے خودان مسائل کاسامنا کیاہو۔ جنہوں نے مسائل جھیلے ہی نہ ہوں وہ نہ تو مسائل سمجھ سکتے ہیں اورنہ ہی حل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’ یہ ‘‘بااختیار عوام ‘‘ کے منشور میں موجودچندنکات بیان کئے گئے ہیں جبکہ عوام کے مسائل کے حل ، ملک کے نظام کی بہتری اورملک کی ترقی کیلئے دیگرتفصیلی اقدامات کئے جائیں گے جن کی تفصیل منشور کے کتابچے میں موجود ہیں۔ ایم کیوایم کا یہ انتخابی منشور عوام کے مسائل کے حل کیلئے نتیجہ خیز ثابت ہوگا جس میں صر ف مسائل کا احاطہ نہیں، بلکہ مسائل کا مؤثر حل بھی تجویز کیا گیا ہے۔ ایم کیوایم عوام کو بااختیار بنانے کی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور اس یقین کے ساتھ کہ 11مئی 2013ء کو ملک کے عوام ا یم کیوایم کو اپنا قیمتی ووٹ دے کر کامیاب بنائیں گے تاکہ وہ عوام کے مسائل کو حل کرسکے اور غریب اور متوسط طبقے کی اُس آواز کی ترجمانی کریں گے جس کی بنیادپرہی وہ صبح طلوع ہوگی جب حقوق سے محروم اور کچلے ہوئے عوام اپناحق حکمرانی حاصل کرتے ہوئے اپنے خوبصورت اور تابناک مستقبل کی بنیاد رکھیں گے۔

12/7/2016 4:10:39 PM