Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کے 29ویں یوم تاسیس کے موقع پر خصوصی تحریر 18مارچ کی اشاعت کیلئے انقلاب کا نعرہ اور حقا ئق تحریر ارشد حسین


ایم کیوایم کے 29ویں یوم تاسیس کے موقع پر خصوصی تحریر (18مارچ کی اشاعت کیلئے )  (انقلاب کا نعرہ اور حقا ئق ) تحریر : ارشد حسین
 Posted on: 3/18/2013
(انقلاب کا نعرہ اور حقا ئق )
[email protected] تحریر : ارشد حسین
جوں جوں عام انتخابات کا وقت قریب آرہا ہے ملک بھر کی سیاسی ومذہبی جماعتیں اپنے منشور بھی سامنے لارہی ہی ہیں جبکہ ان کے دعوے بھی ہیں کہ وہ ملک میں تبدیلی لائیں گے اور انقلاب بھی، کسی کا دعویٰ ہے کہ وہ نوجوانوں کو ٹکٹ دیکر ایوانوں میں بھیجے گے، کسی کا دعویٰ کہ سونامی آئے گا ، کوئی کہہ رہا ہے کہ اقتدار میںآکر ملک سے کرپشن کا خاتمہ کر یں گے،ملک کی لوٹی ہوئی رقم واپس لائیں گے ، اقتدار میںآکر ملک کا نقشہ بدل دیں گے ، مہنگائی ،بے روزگاری، گیس و بجلی کی لوڈشیڈنگ ، بدامنی اور دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے ،خواتین کو حقوق دلائیں گے ،تعلیم کو عام کریں گے ،گیس ،پیٹرول کی قیمتیں کم کرائیں گے ،وغیر وغیرہ اور نہ جانے کیا کیا دعوؤں ،وعدؤں اور سہانے خواب کھائے جاتے ہیں ۔ یہ دعوے اور وعدے ان لو گوں کی جانب سے کئے جاتے ہیں جو پہلے بھی اقتدار کے مز ے لوٹ چکے ہوتے ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعدیہ لوگ ملک سے باہر چلے جاتے ہیں اور پھر دوبارہ باری آنے کا انتظار کرتے ہیں اور جب ملک میں عام انتخابات کا دور دورہ ہوتا ہے یہ لوگ دوبارہ واپس آجاتے ہیں ۔ غور طلب یہ ہے کہ جب آپ کسی سرکاری ادار ے میں جائیں تو وہاں مختلف قسم کی نوکریوں کے کیلئے شرائط ہیں مثال کے طور پر چوکیدار کی نوکری کیلئے کم از کم میڑک کا سرٹفکٹ لازمی قرا دیا گیا ہے ، کلرک کیلئے انڑ ہونا ضروری ہے اسی طرح کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن یہ امر انتہائی افسوسنا ک ہے کہ ملک کی صدارت ، وزیر اعظم کا منصب یا پارلیمنٹ کا رکن بننا ہو ۔یہاں کوئی شرط نہیں ہے یعنی کہ ان پڑھ بھی اس منصب پر بیٹھ سکتا ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ ہمارے پارلیمنٹ میں ملک اورعوام کی امنگوں اور خواہاشات کے مطابق کوئی کام نہیں ہوتا اگر کام ہوتا ہے تو وہ سیاست دانوں کے مفاد کا ہوتا ہے ، جس کی مثال یہ ہے کہ جب 2008ء کے عام انتخابات ہوئے تو اس میں اس وقت کے صدر مملکت ریٹائر ڈجنرل پرویز مشرف نے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کیلئے گریجویشن کی شرط لازمی قرا ر دی تھی مگر جب انتخابات کے بعد ملک میں حکوت قائم ہوئی تو اس کی شرط فوری طور پر ختم کر دی گئی جو یقیناًحیر ت کی بات تھی کیونکہ عام انتخابات مکمل ہوچکے تھے اب اس شرط کا اتنی جلد ی خاتمہ کیا معنی رکھتا تھا ،معلوم یہ ہوا کے جناب آصف علی زرداری صاحب کیلئے اس شرط کا خاتمہ کیا گیا کیونکہ موصوف کے پاس ڈگری نہیں تھی جو صدر مملکت کے منصب پر فائز ہوئے ۔یہ بھی اس ملک کا المیہ ہے کہ ملک کا صدر ہی گریجویشن نہ کیا ہو ا ہو اور دیگر ارکان پارلیمنٹ ڈگری یافتہ ، ابھی تھو ڑا ہی عرصہ ہوا تھا کہ عوام کے علم میں یہ بھی آنے لگا کے ہمارے ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد جعلی ڈگری پر مشتمل ہے بلوچستان کے’’ وزیر علیٰ اسلم رئیسائی نے یہ تک کہہ دیا کہ ڈگری ڈگری ہوتی جعلی ہوا اصلی ‘‘ جبکہ جعلی ڈگری رکھنے والوں کیلئے قانون وآئین میں سز ا تجویز کی گئی ہے مگر آئین کی د ھجیا ں بھی بکھری گئیں اور کسی بھی جعلی ڈگری والے کو سز ا نہ دی گئی ۔ اقتدار میں آنے کے بعد حکمرانوں کی جانب سے پورے و قت نوکریوں پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال ابتر ہے لہٰذا مزید بھر تیاں ممکن نہیں ہیں اور حکومت کے خاتمہ کا وقت ہو تو محض چند رو ز میں ہی لاکھوں لوگوں کو روز گار فراہم کر دیا جاتا ہے ، اپنے من پسند افراد کے ٹرانسفر بھی کر دیئے جاتے ہیں حتیٰ کہ اپنی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مفادات میں بل بھی منظور کر لئے یا کروالئے جاتے ہیں ان بلو ں کا حکومتی اور اپوزیشن ارکان کو ہی فائد ہ ہوتا ہے جب ہی ایسے عمل پر کوئی واویلا نہیں مچایا جاتا ۔
متحدہ قومی موومنٹ واحدجماعت ہے جو محض نعرو ،دعویٰ یا وعدہ نہیں کرتی بلکہ اس جماعت نے عملی طور پر ثابت بھی کیا جس نے 1987ء میں ہی سندھ کے شہری علاقوں سے خاندانی اورموروثی سیاست کاخاتمہ کرکے غریب ومتوسط طبقہ کاانقلاب برپاکیا ، کچھ جماعتوں کی جانب سے اگرچہ آج غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والے چندافرادکوپارٹی کاعہدیداربنانامثبت عمل ہے تاہم نسل درنسل اقتدارمیں رہنے اور موروثی سیاست کرنے والے جاگیرداروں اوروڈیروں کواپنی صفوں میں شامل کرکے موروثی نظام ختم نہیں ہوسکتا، ایم کیوایم وہ واحدجماعت ہے جس نے 1987ء میں متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان ڈاکٹرفاروق ستار کوکراچی کامیئراورمتوسط طبقہ کے وکیل رازق خان کو کراچی کاڈپٹی میئراورسندھ اسمبلی کااسپیکربنایا،اسی طرح متوسط طبقہ کے وکیل آفتاب شیخ کوحیدرآبادکامیئراورگنے کارس بیچنے والے رشیداحمدکوپہلے حیدرآبادکاڈپٹی میئر اورپھر1988ء میں ایم این اے بنایا،اسی طرح ایم کیوایم نے کرا چی سے ایک پرچون والے کوایم این اے اور ایک ٹیکسی چلانے والے اعجازاحمد کوایم پی اے بنایا۔1988ء سے اب تک ہونے والے تمام ہی انتخابات میں آج تک ایم کیوایم نے کسی جاگیرداریاوڈیرے کو ٹکٹ نہیں دیابلکہ غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے اورباصلاحیت افرادکو ایوانوں میں بھیجا،ایم کیوایم کے بیشترمنتخب نمائندے آج بھی موٹرسائیکلوں پر سفرکرتے ہیں جبکہ بیشترکے پاس آج تک اپناذاتی گھرنہیں ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہاکہ ایم کیوایم کی صفوں میں کوئی جاگیردار یا وڈیراشامل نہیں ،جن جماعتوں کی صفوں میں موروثی سیاست کرنے والے جاگیرداراوروڈیرے شامل ہوں وہ موروثی نظام ختم نہیں کرسکتیں، اس حقیقت سے بھی منہ نہیں موڑا جاسکتا کہ ایم کیوایم صیح معنوں میں عوامی جماعت ہے اور عوام کے حقو ق کے لئے جدوجہد کر رہی ہے یہی وجہ ہے کہ اس جماعت کے خلاف مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے اسے صفہ ہستی سے مٹانے کیلئے نہ صرف سازشیں کی گئیں بلکہ اس جماعت کے خلاف آپریشن تک کیا جس میں ہزاروں ذمہ داران کارکنان عوامی نمائدوں مرکزی قائد ین تک کو شہید و زخمی کر د یا گیا حتیٰ کہ ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین کے بڑے بھائی ناصر حسین اور جواں سال بھتیجے عارف حسین کو بھی بے دردی سے شہید کر دیا گیا، جس جماعت میں نڈر بہادر حوصلہ رکھنے والے کارکنان اور کرپشن سے پاک اور نیت کے صاف لوگ موجود ہوں تو ایسی ہی جماعت ملک میں تبدیلی لاسکتی ہے اور انقلاب بپا کرسکتی ہیں جبکہ ملک سے موروثی نظام کا خاتمہ بھی ایم کیو ایم کی جانب سے ہی ممکن ہوسکے گا ۔

12/4/2016 2:25:45 PM