Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ظلم کی داستان


ظلم کی داستان
 Posted on: 3/13/2013
تحریر : ارشد حسین
پنجاب کے شہر خوشاب میں ایک سرکاری اسپتال میں چوکیداری کی ملازمت کرنے والا اصفر نامی شخص اور اسکی پانچ صاحبزادیاں ایک انتہائی خستہ ہال مکان میں رہائش پذیر ہیں ،اس بے چارے چوکیدار کی صاحبزادیاں ایک موزی مرض میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے یہ پانچوں بچیاں نہ صرف چلنے پھر نے سے قاصر ہیں بلکہ وہ بستر مرگ پر کسی مسیحا کی منتظر ہیں، اکثر و بیشتر پڑوسی اپنا اخلاقی فرض کامظاہر ہ کر تے ہوئے اس بے کس و مجبور خاندان کی مدد کرتے رہتے ہیں، سوچنے کی بات ہے کہ آج کل کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی مہنگائی میں محض چندہزار روپے میں کس طرح سے گزار ا ہوتا ہوگا پانچ لڑکیاں وہ بھی بے چاری موذی مرض میں مبتلا ان کا کھانا پینا ، کپڑے وغیرہ او ر سب سے بڑھ کر ان کے علان ومعالجہ کا بھی مسئلہ بنا ہوا ہے جو یقیناًاس غریب چوکیدار کیلئے ایک کڑا وقت بھی ہے بلکہ وہ ایک امتحان میں گھر ا ہوا ہے ۔یہ غریب چوکیدار ایک ایسے مکان میں رہتا ہے جس کی چھت بالکل ناکارہ ہوچکی ہے جبکہ دیواریں بھی مکمل طور پر کمزور ہوچکی ہیں شدید گرمی و بارش ہو یا پھر سرد موسم یہ غریب شخص اپنی پانچ بیٹیوں کو لئے اس خستہ ہال گھر میں جس طرح سے رہے رہا ہے یہ وہ ہی جانتا ہے یا پھر اللہ تعالیٰ ۔چند دنوں قبل پنجاب کے شہر خوشاب میں مسلم لیگ ن کا جلسہ منعقد ہوا جس سے نواز شریف صاحب اور دیگر قائدین نے خطا ب کیا ۔اس جلسہ کی پیشگی اطلا ع پر غریب چوکیدار اصفر نے اپنا پروگرام بنا لیا کہ وہ اس جلسے میں ضرور جائے گا کیونکہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے ان الفا ظ سے بہت متاثر تھا کہ وہ اپنے آپ کو وزیر اعلیٰ نہیں بلکہ خادم اعلیٰ کہتے ہیں لہٰذا ان کے بڑے بھائی یقیناًان بے سہارا خاندان کی ضرور مدد کر یں گے اس غریب کی بچیوں اور اس کی قسمت بدلنے کا دن آگیا ۔ وہ کافی پرامید تھا اور عام دنوں کے نسبت اس کے چہرے پر خوشی کے اثار نمایا تھے اس روز وہ اپنے ڈیوٹی کے فرائض انجام دے کر جلد ی گھر آگیا تھا اور جلدی جلدی اپنی صاحبزادیوں کو تیار کر کے ایک گاڑی والے کی خوش آمد کر کے اس کے ہمراہ جلسہ گاہ پہنچ گیا وہ اسٹیج کے بالکل سامنے پہنچ گیا اور وہا ں نواز شریف کے حق میں نعرہ بھی لگا تا رہا اس کے ساتھ اس کی صاحبزادیاں بھی نیچے زمین پر لیٹی اس کے نعروں کا جواب دے رہی تھیں ۔ تھوڑی ہی دیر میں پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف صاحب اسٹیج پر جلوا افروز ہوئے اور دیگر قائد ین بھی ان کے ہمراہ تھے یہ صورتحال دیکھ کر یہ غریب چوکیدار اپنی ایک صاحبزادی کو اٹھاکر نواز شریف کی جانب دوڑپڑا مگر وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے اس بیچارے پر شدید تشدد یہ کہہ کر کیا کہ وہ خود کش ہے وہ دہشت گرد ہے یوں اس کو اور اس کی زمین پڑی ہوئی لاچار و مجبور صاحبزدیوں پر اتنا تشد د کیا کہ وہ بری طر ح زخمی ہوگئیں ۔ اور یہ سب کچھ پنجاب کے خادم اعلیٰ کے بڑے بھائی نواز شریف اور دیگر قائدین کے سامنے ہورہا تھا جبکہ اس وقت وہ اپنی منافقانہ طرز عمل اختیار کر تے ہوئے معصوم عوام سے اظہار ہمدردی جتاتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ ’’میں چاہتا ہوں کہ جو معصوم بچے اور نوجوان وعوام اس وقت ان کے چہروں پر مایوسی ہے وہ احساس محرومی میں مبتلا ہیں ،جبکہ ان کے چہروں پر خوشیاں ہونی چاہیئے تھی، انکے گھروں پر خوشحالی ہونا چاہئے تھی،ان کی غربت کا خاتمہ ہوناچاہئے تھا ، مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ان معصوم چہروں پر افسردگی ہے‘‘۔جس وقت نوازشریف صاحب یہ کلمات اداکر رہے تھے ان کی نگاہ متعدد بار پولیس کی جانب سے اس ظلم و بربریت پر بھی پڑی جسے وہ دانستہ طور پر مسلسل نظر انداز کرتے رہے ،جبکہ غریب چوکیدار بار بار کہہ رہا تھا کہ وہ نواز شریف سے ملنا چاہتا ہے وہ غریبوں کے حقو ق کی بات کر رہے ہیں، وہ ہمیں انصاف فراہم کریں گے، ہماری مدد فرمائیں گے ، میری بچیوں کا سرکاری خرچ پر علاج کرائیں گے ،مگر پولیس والوں نے اس غریب کی ایک نہ سنی اور اسے مسلسل تشدد کانشانہ بناتے رہے بلکہ دیگر عوام کی بھی دھلائی کرتے رہے یہ صورتحال دیکھ کر جلسہ کے حاضرین میں جس کی بھی نگا ہ اس ظلم وبربریت پر پڑی دیکھنے والے ہر شخص کی آنکھ نم تھی اور ان کے منہ سے یہی جملے سنے گئے کہ’’ لعنت ہے ایسے لیڈر پر جو اپنے سامنے معصوم اور بے کس لوگوں کو پٹتے ہوئے دیکھے اور اپنی منافقانہ باتے کرتا رہے‘‘ بلا آخر وہ غریب چوکیدار اپنی معصوم بیٹیوں کو مایو س نگاہوں سے دیکھنے لگا اتنے میں میڈیا کے مختلف کیمرہ مین اور رپورٹر حضرات وہان پہنچ گئے اور ان کی جانب سے دریافت کرنے پر اس بیچارے نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ بہت غریب ہے اپنا گزر بسر اور بچیوں کو دو وقت کی روٹی مشکل سے کھلاتا ہے ،آج کے جلسہ میںآنے کا مقصد نوازشریف کو درخواست دینا تھا مگر اسے وہاں تک نہیں جانے دیا بلکہ نوازشریف صاحب کی نگاہ بھی ہمارے اوپر پڑی مگر وہ اس حقائق کو دیکھتے ہوئے بھی عوام کے حقوق اور احساس محرومی ،ناانصافی کی باتیں کر تے رہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ جومجھ غریب اور میری لاچار و بے کس بچیوں کے ساتھ کیا گیا وہ انصاف تھا ؟اس نے کہا کہ میری بچیاں پہلے ہی معذور ہیں وہ زمین پر پڑی تھیں اس کے باوجود پولیس نے انہیں شدید تشدد کانشانہ بنایا وہ بھوکی پیاسی ہیں ہم تو مدد لینے آئے تھے مگر مزید زخم لیکر جارہے ہیں مایوسی اور احساسی محرومی اپنے دامن میں لیجارہے ہیں ، اس مو قع پر تشدد زدہ لڑکیوں نے بتایا کہ ہم لوگوں نے آج صبح کا ناشتہ بھی نہیں کیا اور دوپہر کا کھا نا بھی نہیں کھا یا جبکہ ہمارے بابا چھ ،سات لاکھ روپے کے قرض دار ہیں ہم بہت امید لیکر یہاں آئے تھے مگر جو سلوک ہمارے ساتھ ہوا ہے ہم اس پر دعا گو ہیں کہ اللہ کسی کو محتاج نہ کر ے اور ایسے منافق سیاست دانوں کو ہدایت دے جو کہتے کچھ اور ہیں کرتے کچھ اور ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک کے سیاسی ومذہبی رہنماء آخر کب تک غر یب عوام کا مذاق الڑاتے رہیں گے؟ کب تک اپنی منافقانہ سیات کے ذریعے ان کے جذبات سے کھیلتے رہینگے؟ اور کب تک جھوٹے دعوؤں اور وعدوں کے ذریعے انہیں سبزباغ دکھا تے رہیں گے ؟ یقیناًیہ ایک اصفر کی کہانی نہیں تھی بلکہ ناجانے کتنے غریب لوگ اپنے قائد ین کے پاس انصاف کی غر ض سے آتے ہیں اور نہ جانے کتنے ہی لوگ اپنے ان رہنماؤں کی جانب سے انصاف ملنے کے منتظر ہوتے ہیں، مگر انہیں معلو م نہیں کہ اس ملک کے سیاسی ومذہبی رہنما ء ان کے ساتھ سنگین مذاق کر رہے ہیں تبدیلی کے نعرہ اور حقوق دلانے کے بلند و بانگ دعوؤں کے ذریعے انہیں سہانے خواب تو دکھا تے ہیں، مگر حقائق یہی ہیں کہ اندھیر ے میں رکھنا اس عوام کا مقدر بنا دیا گیا ہے ۔

12/9/2016 3:21:25 PM