Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

مذہبی انتہاء پسندعناصر ہمارے درمیان موجود ہیں، قائد ایم کیوایم الطاف حسین


مذہبی انتہاء پسندعناصر ہمارے درمیان موجود ہیں، قائد ایم کیوایم الطاف حسین
 Posted on: 1/5/2015 1
مذہبی انتہاء پسندعناصر ہمارے درمیان موجود ہیں، قائد ایم کیوایم الطاف حسین
سفاک انتہاپسند دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے ملک کے ہرشہری کو اپنا بھرپورکردار ادا کرنا ہوگا، الطاف حسین
عوام کو ملک بھر میں محلہ کمیٹیاں بناکر اپنی حفاظت خود کرنی ہوگی، الطاف حسین
سلمان تاثیر شہید کی برسی منانے والوں پر حملہ ،مذہبی انتہاء پسندعناصر کے حملے کا مقصدطالبان دہشت گردوں کے خلاف مسلح افواج کی کارروائی کو ناکام بنانا ہے ،الطاف حسین
آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور مسلح افواج نے طالبان ، داعش اور القاعدہ کے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کاآغاز کیا ہے جو کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے ،الطاف حسین
پاکستان ، حالت جنگ میں ہے اور جنگ کی صورت میں ہرشہری کو اپنی اپنی بساط کے مطابق حصہ لینا چاہئے، الطاف حسین
میں شروع دن سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورکرپٹ سیاسی کلچر کے خلاف ہوں،الطاف حسین
ہمارے لیڈران کی اکثریت بزدل، مکار ، عیار اور منافق ہے جن کے منہ سے طالبان دہشت گرد، بیت اللہ محسود اوراحسان اللہ احسان کا نام نہیں نکلتا،الطاف حسین
سیف اللہ کو قتل کرنے والے جتنے بڑے مجرم ہیں اتنے ہی بڑے مجرم اے این پی کے وہ رہنماء بھی ہیں جوکراچی میں طالبانائزیشن کی تردید کرتے رہے ،الطاف حسین
پختون عوام خدارا !! آپ اے این پی کے ظاہری اورپوشیدہ مقاصد کو سمجھیں اور اپنے دشمن اور ہمدرد میں تمیز کریں، الطاف حسین
دانشور، کالم نگاراوراینکرپرسن، طالبان کے حق میں لکھ اور بول کرقوم کونہ الجھائیں ، الطاف حسین
اگرہم سب طالبان کے ڈراور خوف سے بیٹھ جائیں گے تو پاکستان کا مستقبل روشن نہیں بلکہ تاریک ہوسکتا ہے، الطاف حسین
لندن۔۔۔5، جنوری2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ لبرٹی چوک لاہور میں سلمان تاثیر شہید کی برسی منانے والوں پر حملہ ،مذہبی انتہاء پسندعناصر کے حملے کا مقصدطالبان دہشت گردوں کے خلاف مسلح افواج کی کارروائی کو ناکام بنانا ہے ، مذہبی انتہاء پسندعناصر ہمارے درمیان موجود ہیں اوران سفاک انتہاپسند دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے ملک کے ہرشہری کو اپنا بھرپورکردار ادا کرنا ہوگااور ملک بھر میں محلہ کمیٹیاں بناکر اپنی حفاظت خود کرنی ہوگی۔
مختلف ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے جناب الطا ف حسین نے لبرٹی چوک پر سول سوسائٹی کے افراد پر مسلح حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ لبرٹی چوک لاہور میں صوبہ پنجاب کے شہید گورنر سلمان تاثیر کی برسی کے سلسلے میں مردوخواتین کی بڑی تعداد شمعیں روشن کررہی تھی اورشہید کو خراج عقیدت پیش کررہی تھی کہ مذہبی انتہاء پسند ڈنڈا بردار غنڈوں کے ایک گروپ نے ان پر حملہ کردیا، خواتین سمیت برسی منانے والے تمام افراد کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر لہولہان کردیا،حتیٰ کہ صحافیوں ،فوٹوگرافرز اورکیمرہ مینوں کوبھی نہیں بخشا اورانہیں بھی تشدد کانشانہ بنایا،ان کے کیمرے توڑ دیئے اورسلمان تاثیر شہید کے بدبخت قاتل کی حمایت میں نعرے لگائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس کھلی دہشت گردی کا حکومت پنجاب خصوصاً وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو فوری نوٹس لینا چاہیے تھا لیکن حکومت پنجاب کی جانب سے مسلح حملہ آوروں کے خلاف فوری طورپرکوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور حکومت پنجاب سے اللہ اوررسول ؐ کا واسطہ دیکر مطالبہ کیا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کی جائے ، سلمان تاثیر شہید کی برسی منانے والوں پر حملہ کرنے والوں کو ہرقیمت پرگرفتارکیا جائے ، ان کے مقدمات خصوصی عدالتوں میں چلائے جائیں اور انہیں کڑی سے کڑی سزا دی جائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور مسلح افواج نے طالبان ، داعش اور القاعدہ کے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کاآغاز کیا ہے جو کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے ،مذہبی انتہاء پسند عناصر کی جانب سے مسلح افواج کی اس کارروائی کو ناکام بنانے کیلئے بہت سے منصوبے بنائے گئے ہیں اور لبرٹی چوک لاہور میں سلمان تاثیر شہید کی برسی منانے والوں پر مسلح حملہ بھی ان منصوبوں کا حصہ ہے۔انہوں نے کہاکہ سرکاردوعالم ؐ نے ہمیشہ اعتدال پسندی کا درس دیا، آپ ؐ کی جانب سے صحابہ کرامؓ کو ہدایت کی جاتی تھی کہ جنگ کے دوران بھی خواتین اور بچوں پر ہاتھ نہ اٹھانااورکسی پھل داریا سایہ داردرخت کو نہیں کاٹنا جبکہ مذہب کا نام لیکر ملک بھر میں قتل وغارتگری کرنے والے طالبان دہشت گرد قتل وغارتگری کے ذریعہ اپنی خودساختہ شریعت کوپاکستان اور اس کے عوام پرمسلط کرنا چاہتے ہیں ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ لبرٹی چوک لاہور میں مسلح حملہ آوروں کا نہتے شہریوں پر حملہ اس بات کاثبوت ہے کہ مذہبی انتہاء پسند عناصر ہمارے محلوں، گلیوں اور شہروں میں ہمارے درمیان موجود ہیں ، ان سفاک دہشت گردوں سے نمٹناصرف مسلح افواج کا ہی کام نہیں ہے بلکہ یہ حکومت اور پولیس کا بھی فرض ہے ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک بھر میں امن پسند شہریوں پر مشتمل امن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں تاکہ ہماری صفوں میں چھپے ہوئے مذہبی انتہاء پسندوں سے نمٹا جاسکے اوران دہشت گردوں کے کسی بھی حملہ کوناکام بنایاجاسکے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج پاکستان ، حالت جنگ میں ہے اور جنگ کی صورت میں ہرشہری کو اپنی اپنی بساط کے مطابق حصہ لینا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ ایک جانب سرحدوں پر بھارت کی جانب سے پاگل پن کامظاہرہ کیاجارہا ہے ،بھارت ،سرحد ی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی کرکے مستقل پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بمباری کررہا ہے اور ہماری مسلح افواج بھارتی جارحیت کا بھرپورجواب دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان کی مسلح افواج ملک کے مختلف علاقوں میں طالبان دہشت گردوں کے خلاف نبردآزما ہے ۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاکر بھارت چاہتا ہے کہ سرحدوں پر جارحیت کامظاہرہ کرکے پاک فوج کی توجہ طالبان دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن سے ہٹادی جائے تاکہ طالبان دہشت گرد ،اسکولوں، مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں، مزارات اور قومی تنصیبات پر حملے کرتے رہیں۔ جناب الطاف حسین نے ملک بھر کے امن پسند اور اعتدال پسند عوام کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ مذہبی انتہاء پسندعناصر طالبان، القاعدہ اور داعش کے خلاف جاری فوجی آپریشن کو ناکام بنانا چاہتے ہیں ، انہوں نے عوام سے دریافت کیاکہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ مذہبی انتہاء پسند دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ناکام ہو؟ پورے ملک میں طالبان کا قبضہ ہوجائے ؟ اور کیامذہبی انتہاء پسندوں کے خلاف جاری آپریشن بند کردیا جائے ؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگر ملک بھرکے عوام کا جواب نفی میں ہے تو مذہبی انتہاء پسندوں کے خلاف پوری قوم کو میدان عمل میں آکر اپنا کردار ادا کرنا ہوگااورنبی کریم ؐ کی تعلیمات کے مطابق اپنی حفاظت خود کرنی ہوگی۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میرے خلاف ملک بھر میں منفی پروپیگنڈہ کیاگیا لیکن میں نہ کسی بھی قومیت کے خلاف نہیں ہوں،میں کل بھی ملک کی دولت لوٹنے والے کرپٹ جاگیرداروں ، وڈیروں ، سرمایہ داروں اور سرداروں کے خلاف تھا اور آج بھی ان کے خلاف ہوں،میں شروع دن سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورکرپٹ سیاسی کلچر کے خلاف ہوں،اگرمیرے ہاتھ میں ملک کا انتظام حکومت آجائے تو میں صرف تین دن کی ملٹری کورٹس لگاکر قومی دولت لوٹنے والے جاگیرداروں اوروڈیروں کے خلاف مقدمہ چلاؤں گا اگر وہ بے گناہ ہوئے تو بری ہوجائیں گے اور اگر مجرم ثابت ہوئے تو انہیں سرعام سزا دی جائے گی۔ جناب الطاف حسین نے سیاسی رہنماؤں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ان لیڈران کی اکثریت بزدل، مکار ، عیار اور منافق ہے جن کے منہ سے طالبان دہشت گرد، بیت اللہ محسود اور احسان اللہ احسان کا نام نہیں نکلتا،یہ عناصر لال مسجد کے ملا عبدالعزیز کی حمایت کرتے ہیں جو طالبان کو بگڑے بچے اوراپنا بھائی بیٹاقراردیتا ہے، اگر ان کے اندر حق بات کہنے کی جرات نہیں ہے تو انہیں قیادت نہیں کرنی چاہیے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر سیف اللہ آفریدی کے سفاکانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ آج اے این پی کے ایک اور رہنماء کومذہبی انتہاء پسندوں نے شہید کردیااوراب تک اے این پی کے تین ضلعی صدور شہید کیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سیف اللہ کو قتل کرنے والے جتنے بڑے مجرم ہیں اتنے ہی بڑے مجرم اے این پی کے وہ رہنماء بھی ہیں جو کراچی میں طالبانائزیشن کی تردید کرتے رہے ، میرے خدشات کا مذاق اڑاتے رہے اور قوم کوگمراہ کرتے رہے کہ طالبانائزیشن کی بات کرکے الطاف حسین لسانیت اور خوف وہراس پھیلارہا ہے اورپختونوں کو کراچی سے نکالنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ غریب پختونوں کو بہکانے والے اے این پی کے یہ عناصر خود اسلام آباد میں سکون کی زندگی گزاررہے ہیں اورانہوں نے غریب پختونوں کو سفاک طالبان دہشت گردوں کے رحم وکرم پرچھوڑ دیا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کراچی میں رہائش پذیرپختون عوام سے کہاکہ خدارا !! آپ اے این پی کے ظاہری اورپوشیدہ مقاصد کو سمجھیں اور اپنے دشمن اور ہمدرد میں تمیز کریں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ملک بھر کے دانشوروں، تجزیہ نگاروں، کالم نویسوں،نیوز ریڈرز اور اینکرپرسنز کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ طالبان کے حق میں لکھ اور بول کرقوم کونہ الجھائیں اور آدھا سچ بولنے کے بجائے کھل کر طالبان دہشت گردوں کی حمایت یا مخالفت کریں۔وقت کاتقاضا ہے کہ وہ سچے لکھاریوں کی طرح کھل کربات کریں ، اگرہم سب طالبان کے ڈراور خوف سے بیٹھ جائیں گے تو پاکستان کا مستقبل روشن نہیں بلکہ تاریک ہوسکتا ہے اور مصلحت پسندی کے عمل سے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جناب الطاف حسین نے دنیا بھرمیں مقیم مسلمانوں کو 12 ربیع الاول کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس مبارک دن کے صدقے پاکستان کی حفاظت فرمائے، ملک کودرپیش مشکلات اورخطرات سے نجات دلائے اور ملک بھرکے عوام پر اپنا کرم فرمائے ۔(آمین)

12/10/2016 8:18:25 PM