Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

(کوئی بے حسی سی بے حسی ہے !) تحریر: طار ق جاوید


(کوئی بے حسی سی بے حسی ہے !) تحریر: طار ق جاوید
 Posted on: 3/5/2013 1
(کوئی بے حسی سی بے حسی ہے !)
تحریر: طار ق جاوید 
کراچی میں سانحہ عباس ٹاؤن 3مارچ کو ہوا ۔ جس میں 50کے لگ بھگ انسان قتل ہوگئے 150سے زاید زخمی ہیں معلو م نہیں ان میں سے بھی کتنے موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا ہیں !میر ی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام شہد اء کے درجات بلند کر ے اور زخمیوں کو زندگی بخشے اور انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے ۔(آمین )قابل غور بات یہ ہے کہ اتنے بڑے قومی سانحہ پر کراچی پر اپنا حق جتانے والی تمام سیاسی اور مذہبی تنظیمیں تعزیت اور ان کے غم میں شریک ہونے کے بجائے ٹرین مارچ میں مصروف رھیں ۔ سندھ حکومت مکمل طور پر غائب رہی ،کوئی دو آنسوبہانے تک نہ آیا عباس ٹاؤن میں ابلیس کا رقص جاری رہا اور حکومتی ذمہ داران اپنی خر مستیوں میں مصروف رہے۔ آج تین دن گزرنے کے باوجود کوئی حکومتی ذمہ دار چاہے سیاسی ہو یا انتظامی متاثرین کو پوچھنے تک نہیں آیا۔اس میں حیر ان ہونے کی بات نہیں ہے کیوں کہ کراچی کی تاریخ گواہ ہے کہ خواہ 14دسمبر 1986ء کو قصبہ علیگڑھ میں سینکڑوں مہاجروں کا قتل عام ہو یا حیدر آباد میں 30دسمبر 1988ء میںآدھے گھنٹے کے اندر سرعام درجنوں مہاجر وں کو شہید کر دیا جائے یا1987ء میں نارتھ کراچی کی خواجہ اجمیر نگری اور گرین ٹاؤن شاہ فیصل کالونی کے واقعات جن میں سینکڑوں مہاجر وں کو زندگی سے ہاتھ دھو نا پڑے اور اس کے علاوہ درجنوں واقعات پر کبھی بھی کسی نے ان افسوناک واقعات پر آواز نہیں اٹھائی بلکہ قاتلوں کوپشت پناہی حاصل رہی جس کی وجہ سے آج تک ان واقعات میں ملوث کوئی دہشت گر د نہیں پکڑا گیا ۔ تین روز قبل کا سانحہ عباس ٹاؤن مہاجر وں کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ ان کو نا کر دہ گناہوں کی سز ا کب تک ملتی رہے گی اور ان کے بزرگوں نے 20لاکھ سے زاید انسانی جانوں کی قربانی دے کر اور ماؤں بیٹوں کی عزتیں پامال کر اکر جو وطن عزیز بنا یا اسے بنانے کی سزا ان کی نسلوں کو کب تک بھگتنی پڑے گی ۔ قوم کے لیڈران ہو ں یا حکمران یا اپوزیشن کے لیڈران ایم کیوایم کے علا وہ کسی نے جائے وقو عہ کا دورہ تو دور کی بات ،بے حسی کا یہ عالم ہے کہ اتنے بڑے سانحہ کو روز کا معمول گردانتے ہوئے شہید ہونے والوں کے حق میں ایک آواز تک نہ اٹھی صر ف ایم کیوایم کے رہنماء، ارکان اسمبلی، کارکنا ن اور ذمہ داران شہداء کے لواحقین کی دل جوئی کیلئے موجود رہے اور آج تک انکی مدد کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔
اتنے بڑے سانحہ پر قومی سیاسی رہنماؤ ں کی جانب سے جس بے حسی کا مظاہر ہ کیا جارہا ہے وہ ایک مردہ قوم کی علامت ہے اگر کوئی سمجھتا ہے کہ غیر وں کی آگ میں کود کر اپنے آپ کو جلانے کا کیا فائد ہ وہ یاد رکھیں کہ یہ آگ کل ان کے گھر وں تک بھی پہنچ سکتی ہے ۔میں نے غیر وں کی آگ اس لئے کہا کہ کیونکہ المیہ یہ ہے کہ آج تک مہاجروں کو فرزند زمین تسلیم ہی نہیں کیا گیا میں ان نا م نہاد لیڈورں کو متنبہ کر تا ہوں کہ اگر مہاجروں کے ساتھ بے حسی کا یہ رویہ یونہی جاری رہا تو یا د رکھیں تاریخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی اور آپ کی ’’ داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں‘‘۔

12/7/2016 2:14:45 PM