Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پہلے تولو پھر بولو


پہلے تولو پھر بولو
 Posted on: 2/26/2013
پہلے تولو پھر بولو
قاسم علی رضاؔ 
بزرگوں کا قول ہے کہ عقل مند سوچ کے بولتا ہے اور بے وقوف بول کے سوچتا ہے، بسااوقات سوچنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتا۔اسی طرح یہ بھی کہاجاتا ہے کہ پہلے تولو پھربولو۔ان اقوال سے ہمیں شعور اورآگہی ملتی ہے اور ان اقوال کی روشنی میں ہم اپنی شخصیت اور معاشرے میں نکھار پیدا کرسکتے ہیں۔ ہم بزرگوں کے اقوال بچپن سے سنتے اور پڑھتے چلے آرہے ہیں لیکن شائد سندھ کے صوبائی وزیرتعلیم پیرمظہرالحق ان اقوال زریں سے ناواقف ہیں اور اگر واقف ہیں تو انہوں نے جان بوجھ کر صوفیوں کی سرزمین سندھ دھرتی کے عوام کے درمیان دانستہ تعصب اور نفرت کی آگ بڑھکانے کی کوشش کی جس کا نتیجہ ملک بالخصوص صوبہ سندھ میں عوامی سطح پر شدید ردعمل کی صورت دیکھنے میں آیا۔موصوف وزیرتعلیم کو اس شدید عوامی ردعمل کی توقع نہیں تھی اور غالباً انہوں نے یہ سوچ رکھا ہوگا کہ وہ تعصب اورنفرت کی جس آگ کو دہکارہے ہیں اس آگ سے ان کے محلات محفوظ رہیں گے لیکن وہ بھول گئے کہ جب آگ بڑھکتی ہے تو سبھی کچھ جلا کر بھسم کردیتی ہے ۔
موصوف وزیرتعلیم نے سندھ یونیورسٹی جامشورو میں کانوکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی نامعقول بات کہہ دی ، گلابی اردو بولنے کا دعویٰ کرنے والے موصوف نجانے کس رنگ کی انگریزی میں گفتگو فرمارہے تھے تاہم ان کی گفتگو کا مرکزی خیال یہ تھاکہ ’’سندھ یونیورسٹی کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں ، سازشی عناصر چاہتے ہیں کہ حیدرآباد شہر کے مخصوص علاقے میں یونیورسٹی قائم کی جائے اور میں اس یونیورسٹی کے قیام کی راہ میں آہنی دیوار بن گیا‘‘ جب اس متعصبانہ بیان پر سندھ کے عوام کی جانب سے شدید ردعمل کیا گیا تو ان کی جانب سے تردید کی گئی جوکہ ’’عذر گناہ بدترازگناہ‘‘ کے مترادف ہے ۔
ہرذی شعور کو حیرت ہے کہ صوبہ کا وزیرتعلیم کسی درسگاہ کے قیام کی مخالفت کیسے کرسکتا ہے ؟ کون نہیں جانتا کہ صوبہ سندھ بالخصوص شہری علاقوں میں اعلیٰ درسگاہوں کی اشد ضرورت ہے ۔اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ ہمارے طلباء مستقبل کے معمار ہیں اور مستقبل کے معماروں کو زیور علم سے آراستہ کرنے کیلئے حیدرآباد سمیت سندھ کے ہر شہر میں یونیورسٹیوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن لگتا ہے کہ بزرگوں کے اقوال سے عدم واقفیت رکھنے والے سندھ کے وزیرتعلیم ، تعلیم اور تعلیمی اداروں کی اہمیت سے بھی واقف نہیں ہیں ۔موصوف وزیرتعلیم سندھ نے ’’عذرگناہ ‘‘ کے ساتھ فرمایا کہ وہ حیدرآباد میں چار یونیورسٹیوں کے قیام کے حامی ہیں لیکن جب عوامی سطح پر ان سے مطالبہ کیا گیا کہ اگر وہ اور ان کی جماعت حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام میں مخلص ہے تو پیرکے روز سندھ اسمبلی کے اجلاس میں حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کا بل لایا جائے لیکن افسوس صد افسوس پیرکو ایک منصوبہ بندی کے تحت سندھ اسمبلی کا کورم پورا نہیں کیا گیا اور اجلاس ملتوی کردیاگیاجو حکمراں وڈیروں ، جاگیرداروں اورتعلیم دشمن عناصر کی نیتوں کو ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے ۔سندھی دانشوروں ، کالم نگاروں اور صحافیوں کو اس منافقانہ اور متعصبانہ عمل کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے۔اہل دانش سوچ رہے ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ کراچی کیلئے اتفاق رائے سے منظور شدہ سندھ پیپلزلوکل گورنمنٹ آرڈی ننس 2012ء راتوں رات واپس لے لیا گیا جس سے سندھ کے ایک مخصوص طبقہ میں شدید بے چینی پیدا ہوئی اس موقع پر صوبائی وزیرتعلیم پیرمظہرالحق نے نفرت انگیز اور شرانگیز بیان دیکر سندھ دشمن قوتوں کے کونسے عزائم کی تکمیل کرنے کی کوشش کی ہے؟ ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین نے اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے فوری طور پر اعلان کیا کہ ایم کیوایم سندھ کی تقسیم نہیں چاہتی اور سندھ کے عوام اپنے اتحاد سے سندھ کی تقسیم کی سازش کوناکام بنادیں گے ۔ اس بیان سے یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر واضح ہوگئی کہ کون سندھ دھرتی میں اتحادویکجہتی اور بھائی چارے کے فروغ کیلئے مخلص ہے اور کونسے عناصر سندھ دھرتی کے عوام میں نفرتیں پیدا کرنے کی سازشیں کررہے ہیں۔پیرمظہرالحق کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ببول بوکر آم حاصل نہیں کرسکتے ، نفرت کریں گے تو نفرت ملے گی اور نفرت کی آگ لگانے والے اس آگ سے خود کوہرگز محفوظ نہ کرپائیں گے ۔

12/10/2016 8:17:21 PM